270

سوال_ شوہر مجھے غیر محرموں کے سامنے بے پردگی کا حکم دیتا ہے، کیا میرے لیے اسکی بات تسلیم کرنا واجب ہے؟ نیز شوہر، والدین یا اساتذہ وغیرہ کی اطاعت کا کیا حکم ہے؟

سلسلہ سوال و جواب نمبر-206″
سوال_ شوہر مجھے غیر محرموں کے سامنے بے پردگی کا حکم دیتا ہے، کیا میرے لیے اسکی بات تسلیم کرنا واجب ہے؟ نیز شوہر، والدین یا اساتذہ وغیرہ کی اطاعت کا کیا حکم ہے؟

Published Date:11-2-2019

جواب:
الحمدللہ:

(اول)

*اللہ تعالیٰ نے عورت پر چہرے سمیت پورے بدن کا پردہ واجب کیا ہے،سوائے محرم مردوں اور بچوں وغیرہ کے، اور مجبوراً کچھ ظاہری زینت جسکو چھپانا ممکن نہیں اسکو ظاہر کرنے کی رخصت دی ہے*

اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں!!

🌹 اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا‌ وَلۡيَـضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ‌ۖ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اٰبَآٮِٕهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآٮِٕهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآٮِٕهِنَّ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِى الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ‌ۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُـعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ‌ ؕ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
ترجمہ:
اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے،
اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ
(سورہ النور،آئیت نمبر-31)

(عورت کے شرعی پردے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیں سلسلہ نمبر-180)

___________&_________

(دوم)

*شوہر کے بیوی پر بہت حقوق ہیں اور
گناہ و زیادتی کے علاوہ ہر کام میں شوہر کی اطاعت ضروری ہے:*

حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لیے شوہر کو ہی اسکی جنت اور جہنم کہا ہے،

📚مسند احمد اور مستدرك حاكم ميں حصين بن محصن سے مروى ہے،
وہ بيان كرتے ہيں كہ ان كى پھوپھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس كسى ضرورت كے تحت گئى جب اپنے كام اور ضرورت سے فارغ ہوئيں تو تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان سے دريافت كيا:

كيا تمہارا خاوند ہے ؟
تو انہوں نے جواب ديا: جى ہاں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

” تم اس كے ليے كيسى ہو ؟
تو انہوں نے عرض كيا: ميں اس كے حق ميں كوئى كمى و كوتاہى نہيں كرتى، مگر يہ كہ ميں اس سے عاجز آ جاؤں اور نہ كر سكوں.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

” تم خيال كرو كہ تم اپنے خاوند كے متعلق كہاں ہو، كيونكہ وہ تمہارى جنت اور جہنم ہے ”
(مسند احمد حديث نمبر_ 19003)
امام منذرى رحمہ اللہ نے الترغيب و الترھيب ميں اس كى سند كو جيد قرار ديا ہے اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے بھى صحيح الترغيب و الترھيب
حديث نمبر _1933 )
ميں اسے جيد كہا ہے.

اس حديث كا معنى يہ ہے كہ: بيوى اگر خاوند كا حق ادا كرتى ہے تو خاوند بيوى كے جنت ميں داخل ہونے كا سبب ہوگا اور اگر خاوند كے حقوق ميں كوتاہى كريگى تو خاوند اس كے ليے آگ ميں جانے كا سبب بنے گا،
__________&________

(سوم)

*شوہر ہو یا اساتذہ یا والدین یا وقت کا حاکم یا کوئی بھی صاحب اختیار ان سب کی اطاعت انکے ماتحتوں کے لیے واجب ہے، لیکن یہ اطاعت اس وقت تک واجب ہو گی جب تک وہ نیکی یا بھلائی کے کام کا حکم دیں گے اگر ان میں سے کوئی بھی برائی یا اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو پھر اسکی اطاعت نہیں کی جائے گی، *

📚 اللہ نے فرمایا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ
اے اہل ایمان اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر (صاحب اختیار/صاحب معاملہ) کی اطاعت کرو۔
(سورہ النساء :آئیت نمبر- 59)

اولی الامر سے مراد ہر وہ شخص ہوتا ہے جو کسی بھی معاملہ میں صاحب اختیار ہے۔ جب آپ اسکے دائرہ اختیار میں ہیں تو اس وقت آپ کے لیے اسکی اطاعت معروف کاموں میں واجب ہوگی۔ رعایہ پر ملک کے حکمران کی اطاعت, ملازمین پر اپنے افسروں کی اطاعت, اولاد پر والدین کی اطاعت, طلبہ پر اپنے اساتذہ کی اطاعت ,بیوی پر اسکے شوہر کی اطاعت اولی الامر کی اطاعت ہونے کی وجہ سے واجب ہے،

*لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی نافرمانی یا گناہ و زیادتی کا حکم دے تو انکی اطاعت واجب نہیں بلکہ گناہ کے کاموں میں کسی کی بات نا ماننا واجب ہے*

📚کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى المَرْءِ المُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ ،
مسلمان آدمی پر سننا اور اطاعت کرنا اس وقت تک واجب ہے جب تک اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیا جاتا‘ خواہ اسے پسند ہو یا نہ۔ لیکن جب اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اسکے لیے سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں ہے۔ (صحیح البخاری: حدیث نمبر- 7144)

📚ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
گناہ کے کاموں میں کوئی اطاعت نہیں ہے، بلکہ اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہوتی ہے
(صحیح بخاری حدیث نمبر_7257)

📚اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: مخلوق کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی نا فرمانی نہیں کی جاسکتی،
(مسند احمد:ج1/ص131_1098)

اور شوہر کا یہ کہنا کہ ” تم پر میری بات ماننا لازمی ہے ” یہ ٹھیک ہے ، اللہ تعالی نے بھی اسی کا حکم دیا ہے، لیکن ۔۔ اگر اللہ کا حکم شوہر یا والدین کے حکم کے مخالف ہو ، یا وہ کسی ایسی بات کا حکم کریں جو احکامِ الہی سے متصادم ہو تو ہر مؤمن پر اللہ کے حکم کو مقدم کرنا واجب ہے، اسی لئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (گناہ کے کاموں میں کوئی اطاعت نہیں ہے، بلکہ اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہوتی ہے

📚اسی طرح “سعودی فتاویٰ کمیٹی لکھتی ہے کہ
“جن لوگوں کی اطاعت کرنا واجب ہے، ان میں والدین، خاوند، اور حکمران شامل ہیں: لیکن انکی اطاعت کیلئے یہ قید لگائی گئی ہے کہ یہ گناہ کے کاموں میں نہیں ہوگی؛ کیونکہ مخلوق کی اطاعت کرتے ہوئے خالق کی نا فرمانی نہیں کی جا سکتی” انتہی
(الموسوعة الفقهية “_ 28 / 327 )

📚شیخ فوزان حفظہ اللہ کہتے ہیں:
“ایک خاتون کو اللہ تعالی کی اطاعت کے ضمن میں خاوند اور اپنے والدین کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ والد یا خاوند کی اطاعت کرتے ہوئے خالق کی نافرمانی لازم آئے تو یہ جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (اطاعت نیکی کے کاموں میں ہی ہوگی)بخاری، اور ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : (مخلوق کی اطاعت کرتے ہوئے خالق کی نافرمانی نہیں ہو سکتی)احمد” انتہی
( المنتقى من فتاوى الشيخ الفوزان ” ( 1 / 265 ، 266 ) سوال نمبر: 161)

*لہذا شوہر کا بیوی کو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کا حکم دینا ایک ظلم عظیم ہے، اور بیوی کے لیے شوہر کی اطاعت اس بات میں واجب نہیں اور نا ہی بیوی کو اس معاملے میں شوہر کی بات ماننی چاہیے کیونکہ بے پردگی ایک صریح گناہ ہے،*

بيوى كو چاہیے کہ شوہر کو سمجھائے ، اللہ کا خوف دلائے، اگر شوہر پھر بھی باز نا آئے تو بیوی کو اختيار حاصل ہے يا تو وہ يہ اميد ركھتے ہوئے كہ اس كا خاوند صحيح ہو جائيگا اور اس كى اصلاح ہو جائيگى اس ظلم پر صبر و تحمل سے كام لے لیکن پردہ نا چھوڑے، اور شوہر کو سمجھاتی رہی تا کہ اسکی اصلاح ہو جائے، اور یا پھر وہ طلاق لے سکتی ہے،

اور اس كے ليے يہاں ممكن ہے كہ وہ اپنے خاندان كے عقل و دانش ركھنے والے رشتہ داروں سے اپنے معاملہ ميں مشورہ كرے، يا تو اس كى حالت كى اصلاح ہو جائيگى اور اس كى زندگى بہتر گزرنے لگے گى، اور يا پھر وہ اپنے ليے صبر يا طلاق ميں سے كوئى ايک اختيار كر لے،

كيونكہ طلاق سے اجتناب كا حكم تو اس وقت ہے جب طلاق كا كوئى شرعى سبب نہ ہو. اور یہاں ایک شرعی سبب اسکے پاس موجود ہے،

ليكن اگر عورت خاوند كى جانب سے حاصل ہونے والى اذيت و ظلم پر صبر كر كے اپنی عصمت و گھر كى حفاظت كرتى ہے اور اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے پردہ کرتی رہتی ہے تو يہ اس كے طلاق لينے سے بہتر اور اچھا ہے، اور اسکے لیے ان شاءاللہ اس میں اجر عظیم ہو گا،

*ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ایسی تمام بہنوں کو استقامت دے اور دین پر قائم رہتے ہوئے صبر کی توفیق سے نوازے، اور اس دنیاوی تکلیف کے بدلے انکے لیے جنت کا راستہ آسان بنا دے ،آمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

⁦🏷️⁩کیا عورت پر چہرے کا پردہ واجب ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-180)

⁦🏷️⁩کیا عورت سیر و تفریح یا جاب وغیرہ کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-186)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں