1,233

سوال_ کیا امیر معاویہ (رض) خود بھی اور اپنے گورنروں کے ذریعے بھی حضرت علی (رض) کو گالیاں دلواتے تھے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-188″
سوال_ کیا امیر معاویہ (رض) خود بھی اور اپنے گورنروں کے ذریعے بھی حضرت علی (رض) کو گالیاں دلواتے تھے؟

Published Date:11-1-2019

جواب:
الحمدللہ:

*جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر جمعہ کے دن ہم تاریخ اسلام کے مشہور واقعات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیے جانے والے اعتراضات اور انکے جوابات پڑھتے ہیں،پچھلے سلسلہ جات نمبر*
87٫88،92٫96٫102 131،133٫134، 139،145،151،156,166
*میں سب سے پہلے ہم نے تاریخ کو پڑھنے اور اور جانچنے کے کچھ اصول پڑھے پھر یہ پڑھا کہ خلافت کی شروعات کیسے ہوئی؟ اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رض کی خلافت اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا، اور یہ بھی پڑھا کہ واقعہ فدک کی حقیقت کیا تھی؟ اور یہ بھی پڑھا کہ حضرت عمر فاروق رض کو کس طرح خلیفہ ثانی مقرر کیا گیا،اور حضرت عمر فاروق رض کے دور حکومت کے کچھ اہم مسائل کے بارے پڑھا ،کہ انکے دور میں فتنے کیوں نہیں پیدا نہیں ہوئے اور ،حضرت خالد بن ولید رض کو کن وجوہات کی بنا پر سپہ سالار کے عہدہ سے ہٹا کر ابو عبیدہ رض کی کمانڈ میں دے دیا،اور خلیفہ دوئم کی شہادت کیسے ہوئی، اور پھر سلسلہ 133٫134 میں ہم نے پڑھا کہ تیسرے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی تھی؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس موقع پر بے انصافی ہوئی؟ اور دور عثمانی کی باغی تحریک کیسے وجود میں آئی؟ انہوں نے کس طرح عثمان رض کو شہید کیا اور صحابہ کرام نے عثمان رض کا دفاع کیسے کیا؟اور پھر سلسلہ نمبر-139 میں ہم نے پڑھا کہ باغی تحریک نے کس طرح عثمان غنی رض پر الزامات لگائے اور انکی حقیقت بھی جانی، اور پھر سلسلہ_145 میں ہم نے پڑھا کہ عثمان غنی رض کو شہید کرنے کے بعد فوراً صحابہ نے باغیوں سے بدلہ کیوں نا لیا؟ چوتھے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟*
*کیا صحابہ کرام سے زبردستی بیعت لی گئی؟اور کیا علی رض باغیوں سے بدلہ لینے کے حق میں نہیں تھے؟اور کیا علی (رض) نے عثمان رض کے قاتلوں کو خود حکومتی عہدے دیے تھے؟ اس ساری تفصیل کے بعد سلسلہ نمبر-151 میں ہم نے جنگ جمل کے بارے پڑھا کہ وہ جنگ* *باغیوں کی منافقت اور دھوکے کہ وجہ سے ہوئی تھی، جس میں باغیوں کی کمر تو ٹوٹی مگر ساتھ میں بہت سے مسلمان بھی شہید ہوئے، اور پھر سلسلہ نمبر_156 میں ہم نے جنگ صفین کے بارے پڑھا کہ جنگ صفین کیسے ہوئی،اسکے اسباب کیا تھے، اور پھر مسلمانوں کی صلح کیسے ہوئی اور پھر سلسلہ نمبر-166 میں ہم نے جنگ صفین کے بعد واقع تحکیم یعنی مسلمانوں میں صلح کیسے ہوئی، کون سے صحابہ فیصلہ کرنے کے لیے حکم مقرر کیے گئے اور حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنھما کے مابین تعلقات کیسے تھے،*
*اور پھر پچھلے سلسلہ نمبر-171 میں ہم نے یہ پڑھا کہ خوارج کیسے پیدا ہوئے اور باغی جماعت میں گروپنگ کیسے ہوئی؟
خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟*
*حضرت علی نے خوارج سے کیا معاملہ کیا؟خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟اور بالآخر مصر کی باغی پارٹی کا کیا انجام ہوا؟* اور سلسلہ نمبر 176 میں ہم نے پڑھا کہ حضرت علی (رض) کیسے شہید ہوئے؟ حضرت علی (رض) کی شہادت کے وقت صحابہ کرام اور باغیوں کے کیا حالت تھی؟حضرت علی( رض) کی شہادت پر صحابہ کے تاثرات کیا تھے؟حضرت علی(رض) کے دور میں فرقوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟حضرت علی (رض) کی خلافت کس پہلو سے کامیاب رہی؟حضرت علی (رض) کے دور میں بحران کیوں نمایاں ہوئے؟ اور اسی طرح پچھلے سلسلہ نمبر 181 میں ہم نے پڑھا کہ حضرت علی رض کی شہادت کے بعد خلیفہ کون بنا؟ حضرت حسن اور معاویہ رض کا اتحاد کن حالات میں ہوا؟
اس کے کیا اسباب تھے اور اس کے نتائج کیا نکلے؟اور کیا معاویہ رض نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا تھا؟اور حضرت معاویہ کی کردار کشی کیوں کی گئی؟ معاویہ پر کیا الزامات عائد کیے گئے اور ان کا جواب کیا ہے؟ اور حضرت معاویہ نے قاتلین عثمان کی باغی پارٹی کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟*

آج کے سلسلے میں ان شاءاللہ ہم پڑھیں گے کہ
*کہ کیا حضرت امیر معاویہ (رض) خود حضرت علی (رض) پر سب وشتم کرتے اور اپنے گورنروں سے بھی کرواتے تھے؟*

ہمارے معاشرے میں شیعوں اور کم علم اہلسنت علماء کی وجہ سے یہ جھوٹی بات بہت پھیل چکی ہے کہ معاویہ (رض) حضرت علی (رض) پر سب شتم کرتے اور کرواتے تھے،

*پہلے باغیوں راویوں کے اس جھوٹ کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ مودودی صاحب کی کتاب خلافت و ملوکیت بنی،اور آج کے دور میں ایک نیم رافضی مولوی علی مرزا جہلمی جو اس طرح کے جھوٹ پھیلا کر صحابہ پر اور ان میں سے بھی خاص کر معاویہ رض پر اپنا بغض نکالتا ہے*

مولانا مودودی نے اپنی مشہور زمانہ متنازعہ کتاب ” خلافت و ملوکیت ” میں کاتب وحی ، جلیل القدر صحابی ،ام المؤمنین حبیبہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا کے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ گھناؤنا الزام عائد کیا کہ ان کے دورِخلافت میں علی رضی اللہ عنہ اور آل بیت پر سب و شتم کی بدعت ایجاد ہوئیں ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کو حکم دیا تھا کہ وہ خطبے میں علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کریں،

*مودودی صاحب لکھتے ہیں!!!!*

”ایک اور نہایت مکروہ بدعت معاویہؓ کے عہد میں شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرِ منبرعلیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے ـ حتٰی کے مسجد نبوی میں منبر رسول پر عین روضہ نبوی کے سامنے اللہ کے نبی کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں ـ اور علیؓ کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے سنتے تھے ـ کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا شریعت تو درکنار انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا ـ اور خاص طور پر جمعہ کے خطبے کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین واخلاق کے لحاظ سخت گھناؤنا فعل تھا ـ عمربن عبدالعزیز نے آکر اس روایت کو بدلا”(خلافت و ملوکیت ص: 147)

*مودودی صاحب کے مطابق گویا معاویہؓ اور دوسرے ان کے کئی صحابی گورنر ، دین واخلاق اور شریعت تو در کرنا ، انسانی اخلاق سے بھی عاری تھے*

انا للہ وانا الیہ راجعون

افسوس اتنا سنگین اور گھناؤنا الزام عائد کرنے سے پہلے جن مضبوط دلائل کی ضرورت تھے ـ اس کا اہتمام نہیں کیا گیا اور انتہائی مبالغہ آمیزی کے ساتھ رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا ہے ـ
مولانا مودوی نے اس کتاب پر جن کتابوں کے حوالے دئیے ہیں ان میں کسی میں ادنیٰ اشارہ بھی اس امر کے ثبوت میں نہیں ملتا کہ معاویہؓ برسرِ منبر علیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے
دوسرا الزام کہ انھوں نے اپنے تمام گورنروں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا ـ یہ بھی افترا کے ضمن میں آتا ہے ، اس کا کوئی ثبوت بھی محولہ صفحات میں نہیں،

*مولانا کے دئیے ہوئے حوالوں میں تین افراد کا نام ملتا ہے جو ایسا کرتے تھے*

🌹ان میں سے ایک گورنر ولید بن عبدالملک کے زمانے کے ہیں ،
جو یمن کے گورنر تھے ـ
یہ واقعہ 90ھـــ کے ہیں جو یمن کے گورنر تھے ـ
یہ واقعہ 90ھــ یعنی معاویہؓ کی وفات سے تیس سال بعد کا ہے ، انہیں بھی معاویہؓ کے گورنروں میں شمار کرنا تعجب خیز امر ہے ، نیز ان صاحب کے متعلق وہیں یہ صراحت بھی ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت صوبے کے ایک حاکم کوبھی ایسا کرنے کا حکم دیا لیکن اس نے ایسا کرنے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ بَرملاکہا ” جو علیؓ پر طعن کرتا ہے وہ ملعون ہے
“(البداية والنهاية ج 8،ص 80)

🌹دوسرے صاحب جو ایسا کرتے تھے وہ مروان ہیں ، جو واقعی معاویہؓ کے مقرر کردہ گورنر تھے لیکن محولہ صفحات میں کہیں بھی یہ نہیں کہ معاویہؓ نے انہیں علیؓ پر سب و شتم کا حکم دیا تھا ، ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ روایات یہ بات ملتی ہے کہ مروان اپنے زمانہ گورنری میں علیؓ پر سب و شتم کرتے تھے ( ان روایات کی حقیقت بھی آگے آ رہی ہے کہ وہ سب و شتم کیا تھا ) ظاہر ہے ، اگریہ صحیح ہے تو معاویہؓ کے حکم سے نہیں بلکہ از خود ایسا کرتے تھے ـ جس پر واضح قرینہ یہ ہے کہ معاویہؓ نے انہیں معزول کر کے ان کی جگہ سعید بن العاص کو مقرر کیا ـ انہوں نے کبھی علیؓ پر سب و شتم نہیں کیا
(البداية والنهاية ج 8،ص 84)

اگر معاویہؓ کی طرف سے گورنروں کویہ حکم ہوتا تو یہ بعد کے گورنر سعید بن العاص بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوتے

اور دوسری بات بعض علمائے اہل سنت نے صراحت کی ہے کہ مروان کے متعلق جو اس قسم کی روایات آتی ہیں کہ وہ علیؓ پر یا اہل بیت پر سب و شتم کرتے تھے ـ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ـ لم یصح شی من ذلک
(تطهير الجنان .ص 54)

🌹تیسرے صاحب جن پر علیؓ پر سب و شتم کا الزام منسوب ہے ، مولانا کے دیے ہوئے حوالوں کی رو سے مغیرہ بن شعبہؓ ہیں ـ یہ وہ واحد گورنر ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ معاویہؓ نے ان کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا، ( اسکی تفصیل بھی آگے آ رہی ہے ان شاءاللہ )

*مودودی صاحب کے الزامات ذکر کرنے کے بعد اور باغی راویوں کی روائیتیں ذکر کرنے سے پہلے کچھ باتیں سمجھنے والی ہیں،آپ ذرا خود سوچیں اور غور کریں…….!!!!!!*

تاریخ کے باغی راویوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت عائد کی ہے کہ ان کے زمانے میں وہ اور ان کے مقرر کردہ گورنر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے خطبہ کے دوران معاذ اللہ گالیاں دیا کرتے تھے۔ اس تہمت کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ بنو امیہ کے خلاف نفرت پیدا کر کے اپنی پارٹی کے نوجوانوں کو مشتعل کیا جائے۔ اس تہمت کا جھوٹ صرف اتنی سی بات سے واضح ہو سکتا ہے کہ اگر آج کے دور میں کوئی خطیب کسی بھی صحابی کے بارے میں یہ حرکت کرے تو کیا سننے والے اسے چھوڑ دیں گے؟ ہمارے ہاں تو اس مسئلے پر بارہا کشت و خون کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس دور میں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی اولاد موجود تھی اور ان کے زمانے میں یہ حرکت کی گئی تو کیا یہ حضرات معاذ اللہ ایسے غیرت مند تھے کہ انہوں نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس وقت ان کی غیرت کہاں چلی گئی تھی؟

کیا ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ آزادی اظہار کے اس دور میں اگر کوئی حکمران یہ رسم جاری کرے کہ جمعہ کے خطبوں میں منبر پر کھڑے ہو کر اپوزیشن کے فوت شدہ راہنماؤں کو گالیاں دی جائیں؟ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کا رد عمل کیا ہو گا؟ کیا اس طرح وہ حکمران بغیر کسی مقصد کے اپنے خلاف مزاحمتی تحریک پیدا نہ کرے گا؟ ہم کسی بھی ایسے حکمران کے بارے میں یہ تصور نہیں کر سکتے جس میں عقل کا ذرا سا بھی شائبہ ہو۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے غیر معمولی تدبر، حلم اور سیاست کو ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ کیا ان سے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ جنگ کی جس آگ کو انہوں نے اپنے حلم اور تدبر سے ٹھنڈا کیا تھا، وہ اسے ایک لایعنی اور فضول حرکت سے دوبارہ بھڑکا دیں۔ پھر یہ حرکت پورے عالم اسلام کی مساجد میں عین جمعہ کے خطبے میں انجام دی جائے اور اس کے رد عمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی کی غیرت جوش نہ مارے اور کوئی مزاحمتی تحریک تو کجا یا کم از کم تنقید ہی ان حضرات کی جانب سے سامنے نہ آئے۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب و شتم محض باغی راویوں کے ذہنوں میں تھا، جسے انہوں نے اپنے زمانے کے باغیوں کو بھڑکانے کے لیے روایات کی شکل میں بیان کیا۔

ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ عربی میں لفظ ’’سبّ‘‘ کا مطلب صرف گالی دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ زیادہ وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص ، دوسرے کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر تنقید کرے اور اپنے دلائل پیش کرے، تو اسے بھی ’سبّ‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ اس طرح کا ’سبّ‘ ہمارے ہاں بہت سے لوگ ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں اور کوئی برا نہیں مانتا،

🌹 صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران لوگوں کو ایک تالاب کا پانی پینے سے منع فرمایا۔ دو افراد نے اس حکم کی نافرمانی کی تو آپ نے ان پر ’سبّ‘ فرمایا۔
( مسلم، کتاب الفضائل،)

ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی شخص یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ آپ نے انہیں معاذ اللہ گالیاں دی ہوں گی۔ اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ آپ نے ان پر تنقید فرمائی ہو گی اور انہیں اپنی اصلاح کا کہا ہو گا۔

ممکن ہے کہ کسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پالیسی پر تنقید کی ہو، تو ان راویوں نے ا س پر یہ بہتان گھڑ لیا کہ وہ معاذ اللہ حضرت علی کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو کیا ہم حضرت حسن، حسین اور حضرت علی کے دیگر بیٹوں سے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ خاموشی سے سنتے رہتے؟

یہاں ہم وہ روایات بیان کر رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان راویوں نے بات کا بتنگڑ بنا کر اسے کیا سے کیا کر دیا ہے،

*حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کے دو گورنر ہیں، جن کے بارے میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف منبر پر سب و شتم کرتے تھے۔ ایک مروان بن حکم اور دوسرے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ۔ ان دونوں سے متعلق روایات کا ہم جائزہ لیتے ہیں*

*کیا مروان بن حکم نے سب و شتم کیا؟*

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر مروان بن حکم نے اپنے خطبے میں “ابو تراب” کہہ کر کیا تو اسے ان باغیوں نے “سب و شتم” قرار دے دیا۔
صحیح بخاری کی روایت ہے: ⁦

🌹عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے روایت بیان کی، ان سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے اور ان سے ان کے والد نے کہ : ایک شخص حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ” امیر مدینہ (مروان بن حکم کے خاندان کا کوئی شخص) منبر پر کھڑے ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سبّ کر رہے ہیں۔ ”
انہوں نے پوچھا : “وہ کیا کہتے ہیں؟”
بولا: “وہ انہیں ابو تراب کہہ رہے ہیں۔” سہل یہ سن کر ہنس پڑے اور بولے:
“واللہ! یہ نام تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا اور انہیں اس نام سے زیادہ کوئی اور نام پسند نہ تھا۔ ”
میں (ابو حازم) نے ان سے پوچھا: “ابو عباس، یہ کیا معاملہ ہے؟” وہ بولے: علی، فاطمہ کے گھر میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور مسجد میں سو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ فاطمہ) سے پوچھا: “آپ کے چچا زاد کہاں گئے؟” وہ بولیں: “مسجد میں۔” آپ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ان (حضرت علی) کی چادر ان کی پیٹھ سے الگ ہوئی ہے اور مٹی سے ان کی کمر بھری ہوئی ہے۔ آپ نے ان کی کمر سے مٹی جھاڑ کر دو مرتبہ فرمایا:
“ابو تراب (مٹی والے!) اب اٹھ بھی جاؤ۔”
( بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث نمبر-3703)

صحیح مسلم میں اس روایت کا ایک مختلف ورژن بیان ہوا ہے:

🌹قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز بن ابی حازم سے، وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مروان کے خاندان کا ایک آدمی مدینہ منورہ میں کسی سرکاری عہدے پر مقرر کیا گیا۔ اس نے حضرت سہل بن سعد کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں۔ حضرت سہل نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس عہدے دار نے حضرت سہل سے کہا: “اگر آپ انکار کر رہے ہیں تو یہی کہہ دیجیے کہ ابو تراب پر اللہ کی لعنت ہو۔” حضرت سہل فرمانے لگے: “علی کو تو ابو تراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہ تھا۔ جب انہیں اس نام سے پکارا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ” وہ عہدے دار حضرت سہل سے کہنے لگا: “یہ بتائیے کہ ان کا نام ابو تراب کیوں رکھا گیا۔”
( مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2409
۔۔۔ (اس کے بعد حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے وہی بات سنائی جو اوپر بیان ہوئی ہے۔)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مروان کے خاندان کا ایک شخص ، جس کا نام معلوم نہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا۔ روایت میں نہ تو اس کا نام مذکور ہے اور نہ ہی اس کا عہدہ۔ یہ تو واضح ہے کہ وہ گورنر نہیں تھا۔ پھر اس نے اپنے بغض کا اظہار برسر منبر نہیں بلکہ نجی محفل میں کیا۔ اس دور میں چونکہ ناصبی فرقے کا ارتقاء ہو رہا تھا، اس وجہ سے ایسے لوگوں کی موجودگی کا امکان موجود ہے۔ تاہم یہ نہ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ گورنر تھا اور نہ ہی کوئی اور اہم عہدے دار۔ کسی چھوٹے موٹے عہدے پر فائز رہا ہو گا اور اس کے زعم میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کروانے چلا تھا لیکن حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے منہ توڑ جواب دے کر خاموش کر دیا،

کیا حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے سب و شتم کیا تھا؟*

پہلی روایت:

🌹امام طبری نے کہا:
قال هشام بن مُحَمَّد، عن أبي مخنف، عن المجالد بن سعيد، والصقعب ابن زهير، وفضيل بن خديج، والحسين بن عُقْبَةَ المرادي، قَالَ: كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، فَاجَتْمَعَ حديثهم فِيمَا سقت من حديث حجر ابن عدي الكندي وأَصْحَابه: أن مُعَاوِيَة بن أَبِي سُفْيَانَ لما ولي الْمُغِيرَة بن شُعْبَةَ الْكُوفَة فِي جمادى سنة إحدى وأربعين دعاه، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فإن لذي الحلم قبل الْيَوْم مَا تقرع العصا… وَقَدْ أردت إيصاءك بأشياء كثيرة، فأنا تاركها اعتمادا عَلَى بصرك بِمَا يرضيني ويسعد سلطاني، ويصلح بِهِ رعيتي، ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تَتَحَمَّ عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَـانَ والاستغفار لَهُ، والعيب عَلَى أَصْحَاب علي، والإقصاء لَهُمْ، وترك الاستماع مِنْهُمْ، وبإطراء شيعة عُثْمَـان رضوان اللَّه عَلَيْهِ، والإدناء لهم، والاسماع مِنْهُمْ فَقَالَ الْمُغِيرَة: قَدْ جربت وجربت، وعملت قبلك لغيرك، فلم يذمم بي دفع وَلا رفع وَلا وضع، فستبلو فتحمد أو تذم قَالَ: بل نحمد إِنْ شَاءَ اللَّهُ

امیر معاویہ رضی االلہ عنہ نے 41ھ میں جب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو والی کوفہ بنایا تو انہی بلا بھیجا حق تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد کہا عاقل کو بار بار متبہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔ ہاں ایک امر کا ذکر کیئے بغیر میں نہیں رہ سکتا۔ علیجواب رضی اللہ عنہ کو گالی نہ دینے میں، ان کی مذمت نہ کرنے میں اور عثمان ضی اللہ عنہ کے لیئے طلب مغفرت رحم کرنے میں پھر اصحاب علی کی عیب جوئی کرنے میں ان کو اپنے سے دور رکھنے میں، ان کی بات نہ سننے میں اس کے برخلاف شیعہ عثمان رضی اللہ عنہ کی ستائش کری میں ان سے مل کر رہنے میں، ان کی بات مان لینے میں تم کو تامل نہیں کرنا چاہیئے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس سے پہلے اور لوگوں کو آزما چکا ہوں وہ بھی مجھے آزما چکے ہیں اور حاکم رہ چکا ہوں۔ کسی کو نکال دینے میں، اکھاڑ پھینکنے میں، گرا دینے میں مجھ پر کبھی الزام نہیں آیا۔ تم بھی مجھے آزما لو یا تو تم مجھ سے خوش ہو گے یا ناراض ہو گے پھر کہا ان شاء اللہ خوش ہو گے۔
(تاریخ طبری ج5 ص 254،253)

تحقیق:
یہ روایت موضوع ہے۔
هشام بن محمد بن السائب الكلبي
امام دارقطنی نے کہا: متروک
امام ذھبی نے کہا: اس کی کسی نے توثیق نہیں کی
امام ابن عساکر نے کہا: رافضی ہے ثقہ نہیں
لُوط بن يحيى أبو مِـخْنَـف
مشہور کذاب اور رافضی شیعہ ہے۔

*غالی راوی ابو مخنف نے تاریخ طبری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دعوی کیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سب و شتم کرتے تھے لیکن ساتھ خود ہی ان کے الفاظ نقل کر کے اپنا بھانڈہ خود ہی پھوڑ دیا ہے روایت یہ ہے*

🌹ابو مخنف نے صقعب بن زہیر سے روایت کی اور انہوں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا: مغیرہ کے بعد ایسا کوئی حاکم ہمارا نہیں ہوا، اگرچہ ان حکام کی نسبت جو پہلے گزرے تھے، یہ نیک شخص تھے۔ مغیرہ نے سات برس چند ماہ معاویہ کے گورنر کے طور پر کوفہ میں حکومت کی ہے اور بڑے نیک سیرت، امن و عافیت کے خواہش مند تھے۔ مگر علی کو برا کہنا اور ان کی مذمت کرنا، قاتلان عثمان پر لعنت اور ان کی عیب جوئی کرنا، اور عثمان کے لیے دعائے رحمت و مغفرت اور ان کے ساتھیوں کی تعریف کو انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا۔

اس کی چند سطروں بعد ابو مخنف ہی نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا وہ خطبہ بیان کر دیا ہے، جس کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر مشتمل تھا۔ خطبے کے الفاظ خود ابو مخنف کے الفاظ میں ہم یہاں درج کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر عربی جاننے والے تمام حضرات خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا سب و شتم کیا گیا ہے:

🌹كان في آخر إمارته قام المغيرة فقال في علي وعثمان كما كان يقول، وكانت مقالته: اللهم ارحم عثمان بن عفان وتجاوز عنه، وأجزه بأحسن عمله، فإنه عمل بكتابك، واتبع سنة نبيك صلى الله عليه وسلم، وجمع كلمتنا، وحقن دماءنا، وقتل مظلوما؛ اللهم فارحم أنصاره وأولياءه ومحبيه والطالبين بدمه! ويدعو على قتلته. فقام حجر بن عدي فنعر نعرة بالمغيرة سمعها كل من كان في المسجد وخارجا منه.
مغیرہ نے اپنی امارت کے آخری زمانے میں خطبہ پڑھا اور علی و عثمان کے بارے میں وہ جو بات ہمیشہ کہتے تھے، وہ اس انداز میں کہی: “اے اللہ! عثمان بن عفان پر رحمت فرمائیے ۔ ان سے درگزر فرمائیے اور نیک اعمال کی انہیں جزا دیجیے۔ انہوں نے آپ کی کتاب پر عمل کیا اور تیرے نبی کی سنت کا اتباع کیا۔ انہوں نے ہم لوگوں میں اتفاق رکھا اور خونریزی نہ ہونے دی اور وہ ناحق شہید کیے گئے۔ اے اللہ! ان کے مدد گاروں، دوستوں، محبوں اور ان کے خون کا قصاص لینے والوں پر رحم فرمائیے ۔ ” اس کے بعد آپ نے قاتلین عثمان کے لیے بددعا کی۔ یہ سن کر حجر بن عدی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے مغیرہ کی جانب دیکھ کر ایک نعرہ لگایا۔ جو لوگ بھی مسجد میں اور اس کے باہر تھے، انہوں نے اس نعرے کو سنا۔
( طبری۔ 4/1-83)

اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس چیز کو ان باغی راویوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم قرار دیا ہے، وہ دراصل قاتلین عثمان کے لیے بددعا تھی۔ ان باغیوں کی کوشش یہ رہی ہے کہ کھینچ تان کر حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت میں ملوث کر دیا جائے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے پر ہونے والی لعنت و ملامت کا رخ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے اور یہ مشہور کر دیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گورنر معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کیا کرتے تھے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تاریخی کتب میں جہاں جہاں ایسی روایتیں پائی جاتی ہیں جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کا ذکر ہے، وہ سب کی سب ابو مخنف یا ان کی پارٹی کے لوگوں کی روایت کردہ ہیں۔ ایسی ہر روایت کی سند کو دیکھ کر اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گورنر ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبروں پر برا بھلا کہتے تو یہ ایسی بات تھی کہ جسے ہزاروں آدمی سنتے۔ ان ہزاروں میں سے کم از کم پچاس سو آدمی تو اسے آگے بیان کرتے۔ پھر ان پچاس سو افراد سے سن کر آگے بیان کرنے والے بھی سینکڑوں ہوتے جو کہ سو سال بعد ہزاروں ہو جاتے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سوائے اس ایک ابو مخنف اور ان کی پارٹی کے چند لوگوں کے، کوئی بھی شخص یہ روایات بیان نہیں کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب انہی لوگوں کی گھڑی ہوئی داستان ہے۔

ہاں یہ بات قرین قیاس ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گورنر خطبات میں قاتلین عثمان کی باغی پارٹی کے مکر و فریب اور برائی کو بیان کرتے ہوں گے تاکہ لوگ ان سے محتاط رہیں اور ان کے پراپیگنڈا کا شکار نہ ہوں۔ اس گروہ کی مذمت میں وہ سخت باتیں بھی کہتے ہوں گے، انہیں لعنت ملامت بھی کرتے ہوں گے اور ان کے لیے بددعا بھی کرتے ہوں گے۔ اس سب کا مقصد یہی رہا ہو گا کہ باغی پارٹی کے پراپیگنڈا کا توڑ کیا جائے۔ ابو مخنف کی اوپر بیان کردہ روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے خود پر کی گئی تنقید کا ملبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ڈال دیا تاکہ خلفاء اور ان کے گورنروں سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جائیں اور ان کے خلاف مزید باغی تحریکیں منظم کی جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ!
قاتلینِ عثمان کے سلسلے میں علیؓ نے جوغیر واضح طرزِ عمل اختیار کیا تھا ـ اکابرصحابہؓ کی ایک معقول تعداد اسے پسند نہیں کرتی تھی ، جن میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ مطہرہؓ ،طلحہؓ ، زبیرؓ اور معاویہؓ نمایاں تھے ـ معاویہؓ نے فی الواقع یہ حکم دیا تھا تو اس مطلب یہی تھا کہ علیؓ کی اس پالیسی کی وضاحت کرتے رہنا ـ اس لیے ساتھ انہوں نے علیؓ کے طرفداروں کے عیوب کی نشاندہی کرنے کے بھی تاکید کی کیونکہ ایک شرپسند گروہ علیؓ کا نام لے کر انتشار و تخریب کی روش اختیار کئے ہوئے تھا ـ خود علیؓ کی حیات میں ان کی خلافت پر جو لوگ چھائے ہوئے تھے ، وہ وہی باغی تھے ، جنہوں نے عثمانؓ کو شہید کیا تھا ـ یہ لوگ چونکہ علیؓ کی زندگی میں بھی ان سے متعلق رہے اور ان کی شہادت کے بعد بھی بظاہر ان کی عقیدت و محبت کا دم بھرتے رہتے تھے ـ اس بناء پر ان کی مذمت کو راویوں نے علیؓ کی مذمت کو مستلزم سمجھ لیا ،

مزید براں اس الزام کی تغلیط خود علیؓ کے قریب ترین اعزاز و اقارب کے طرزِ عمل سے ہو جاتی ہے ـ

🌹تاریخ میں نمایاں طور پر موجود ہے کہ حسنؓ ، حسینؓ ، علیؓ کے بیٹے ، عبد اللہ بن جعفرؓ ، عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ معاویہؓ و یزید سے ہزارواں بلکہ لاکھوں روپے کے باقاعدہ سالانہ وظائف اور ہر آمدو رفت کے موقع پر الگ عطیات و تحائف وصول کرتے تھے ـ علیؓ کے ایک اور صاحبزادے ” محمد بن حنفیہ ” یزید کے پاس جا کر قیام کرتے ـ عبدالمطلب بن ربیعہ دمشق میں ہی جا کر اقامت پذیر ہوگئے تھے ـ ان کے اور یزید کے مابین خوشگوار تعلقات کا اندازا اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مرتے وقت انہوں نے یزید کو اپنا وصی بنایا ـ حسینؓ کے صاحبزادے زین العابدین کا یزید کے ساتھ تعلق کا یہ حال تھا کہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ،اسی طرح ان کا تعلق یزید کے بعد بننے والےخلفاء مروان اور عبدالملک بن مروان کے ساتھ رہا۔
(البداية والنهاية ج 8،ص 37،41،137,138,150،151،213،214،230،233،258،ج9، ص104،106)

یہ سمجھنا بہت ہی مشکل ہے کہ یہ تمام حضرات ایمانی غیرت اور خاندانی حمیت سے عاری تھے ـ ان کے خاندان کے سربراہ اور معزز ترین فرد علیؓ پر پوری مملکت میں ” سب و شتم کی بوچھاڑ ” ہوتی رہی ـ لیکن ان میں سے کسی نے معاویہؓ سے جا کر یہ نہیں کہا کہ آپ کے حکم سے یہ کیا بیہودگی ہو رہی ہے یا کم ازکم بطور احتجاج ان سے اپنے تعلقات منقطع اور وظائف لینے سے انکار کر دیا ہوتا ـ کچھ اور نہیں تو یہ تو وہ کر ہی سکتے تھے ،اور ایسی صورت میں ان کے ایمان ، کردار اور خاندانی غیرت کی طرف سے ایسا کرنا ضروری تھا ـ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا تو اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو وہ لوگ ہی اتنی اخلاقی جرات ، ایمانی غیرت اور خاندانی عصبیت و حمیت سے نعوذ باللہ عاری تھے ،
یا یہ سب وشتم والا تمام افسانہ ہی طبع زاد ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں،

پہلی صورت جس کوقبول ہو وہ سب و شتم کا افسانہ صحیح سمجھتا ہے،

ہمارے نزدیک دوسری صورت ہی قابل قبول اور قرین صحت ہے،

مروان بن حکم سے متعلق طبری کی یہ روایت بھی قابل غور ہے:

🌹علی بن حسین رضی اللہ عنہما نے مروان کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا کہ جس زمانے میں بنو امیہ مدینہ سے نکالے گئے تھے، انہوں نے مروان کے مال و متاع کو اور ان کی بیوی ام ابان بنت عثمان رضی اللہ عنہ کو لٹنے سے بچا لیا تھا اور اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ پھر جب ام ابان طائف کی طرف روانہ ہوئیں تو علی بن حسین نے ان کی حفاظت کے لیے اپنے بیٹے عبداللہ کو ان کے ساتھ کر دیا تھا۔ مروان نے اس احسان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
(طبری۔ 4/1-263)

اس روایت میں 63ھ/ع683 میں ہونے والی اہل مدینہ کی بغاوت کا ذکر ہے۔ جب اہل مدینہ نے یزید کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے مدینہ میں مقیم بنو امیہ پر حملے کیے۔ اس موقع پر حضرت علی بن حسین زین العابدین رضی اللہ عنہما سامنے آئے اور انہوں نے مروان اور ان کی اہلیہ کو گھر میں پناہ دی۔ اگر مروان بن حکم ، برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے، تو کیا انہی حضرت علی کے پوتے زین العابدین انہیں اپنے گھر میں پناہ دیتے؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دو بیٹیوں کی شادیاں مروان کے دو بیٹوں معاویہ اور عبدالملک سے ہوئیں۔ اس کے علاوہ آپ کی متعدد پوتیوں کی شادیاں مروان کے گھرانے میں ہوئی۔
(ابن حزم، جمہرۃ الانساب العرب۔ 38, 87۔)

*اگر مروان بن حکم نے ایسی حرکت کی ہوتی تو پھر کم از کم یہ رشتے داریاں ہمیں نظر نہ آتیں*

*صحیح مسلم کی روایت کا مفہوم کیا ہے؟*

باغیوں کے پراپیگنڈا سے متاثر بعض لوگ اس ضمن میں صحیح مسلم کی یہ روایت پیش کرتے ہیں:

🌹حضرت معاویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو امیر بنایا تو ان سے پوچھا: “آپ کو کس چیز نے منع کیا کہ آپ ابو تراب پر تنقید نہ کریں؟” انہوں نے کہا: “تین ایسی باتیں ہیں کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں، ان کے سبب میں انہیں برا نہیں کہتا۔ میرے نزدیک ان میں سے ایک بات بھی سرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری ہے۔

1۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا جب آپ نے کسی غزوے پر جاتے ہوئے علی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ علی نے کہا: ‘یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے بچوں اور خواتین کے پاس چھوڑے جا رہے ہیں؟’ آپ نے فرمایا: ’کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ کی مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کی موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد نبوت ختم ہو گئی؟‘

2۔ میں نے یوم خیبر، آپ کو یہ فرماتے سنا: ‘کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔’ ہم لوگ یہ سن کر انتظار میں رہے (کہ وہ کون ہو گا۔) پھر آپ نے فرمایا: ‘علی کو بلاؤ۔’ انہیں بلایا گیا تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔ آپ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں پر لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا۔ اللہ تعالی نے علی کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔

3۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
“(اے پیغمبر!) آپ فرمائیے کہ آؤ، ہم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو بلا لائیں اور تم اپنوں کو۔۔۔” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا: “اے اللہ! یہ میرے اہل و عیال ہیں۔”
(مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2404)

اس روایت سے باغیوں کے پراپیگنڈا سے متاثر بعض لوگ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ حضرت معاویہ، حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو ترغیب دلا رہے تھے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کریں۔ یہ مطلب وہی نکال سکتا ہے جو ان حضرات کے کردار سے واقف نہ ہو۔ روایت کے ایک ایک لفظ سے حضرت سعد کی حضرت علی رضی اللہ عنہما کے لیے محبت ٹپک رہی ہے۔ اگر حضرت معاویہ کا مقصد انہیں ترغیب دلانا ہوتا تو وہ انہیں کوئی سخت جواب دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ کا مقصد حضرت علی پر تنقید کی ترغیب نہ تھا بلکہ آپ یہ استفسار فرما رہے تھے کہ جب حضرت سعد نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کا ساتھ نہیں دیا، تو پھر آپ کی حضرت علی کی پالیسی کے بارے میں رائے کیا تھی، کیا آپ اس پر تنقید کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے وضاحت کی کہ میری رائے ان کے بارے میں بہت اچھی تھی تاہم ساتھ نہ دینے کی وجوہات کچھ اور تھیں،

*ان تمام تر حقائق کے باوجود الزام کی صحت پر ہی اگر کسی کو اصرار ہو ، تو اس کو یاد رکھنا چاہے کہ تاریخ میں تو یہ بات بھی درج ہے کہ اس سب و شتم کا آغاز معاویہ (رض) سے نہیں ، بلکہ علی (رض) کی طرف سے ہوا ہے*

🌹ابو مخنف بیان کرتے ہیں کہ،
خود علیؓ نے سب سے پہلے اس کا آغاز کیا ہے ـ کتبِ تاریخ میں موجود ہے کہ تحکیم کے بعد علیؓ نے معاویہؓ ،عمروبن العاصؓ وغیرہ پر لعنت کی بوچھاڑ کردی ـ صبح کی نماز میں علیؓ بایں طور پر دعائے قنوت پڑھتے :”ائے اللہ ! معاویہ، عمروبن العاص ، ابوالاعور السلمی ، حبیب ، عبدالرحمن بن خالد ،ضحاک بن قیس اور ولید ان سب پر لعنت فرما”معاویہؓ کو جب یہ اطلاع پہنچی تو اسکے جواب میں انہوں نے قنوت میں علیؓ ، ابن عباسؓ ، حسنؓ ، حسین ؓ پر لعنت کہنی شروع کردیـ
(طبري : 3/2-67)
الكامل ،ج3، 333)
ابن خلدون ج2، ص-1117)

ابو مخنف نے یہ بیان کیا ہے کہ لعنت بھیجنے کے اس سلسلے کا آغاز معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے ہوا تھا،
*ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ابو مخنف کا جھوٹ ہے اور اس نے ایسا کر کے ان تمام حضرات کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے بارے میں اپنے بغض کا اظہار کیا ہے۔ نہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بدگمانی کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے حالت نماز میں لعنت بھیجنے کے عمل کا آغاز فرمایا ہو گا اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جوابی کاروائی کے طور پر ایسا کیا ہو گا۔ یہ سب ابو مخنف جیسے باغی راویوں کی اپنی ایجاد ہے اور اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ رہا ہو گا کہ ان بزرگوں سے اپنی نسل کے لوگوں کو بدظن کر کے اپنی باغی تحریک کو تقویت دی جائے،*

*تاریخ کے اگلے سلسلہ میں ان شاءاللہ ہم پڑھیں گے کہ امیر معاویہ (رض) پر اور کیا کیا الزام لگائے گے اور انکی حقیقت کیا ہے؟*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں