918

سوال_کیا مرد و عورت کے لیے سر کے بالوں کا جوڑا بنانا درست ہے؟ اور کیا بالوں کا جوڑا باندھ کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-142”
سوال_کیا مرد و عورت کے لیے سر کے بالوں کا جوڑا بنانا درست ہے؟ اور کیا بالوں کا جوڑا باندھ کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

Published Date:13-11-2018

جواب۔۔۔!!
الحمدللہ۔۔۔

🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافع,
حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔
(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر-646)

🌷عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ انہوں نے عبد اللہ بن حارث کو نماز پڑھتے دیکھا، اور ان کا سر پیچھے کی جانب جُوڑے کی وجہ سے بڑھا ہوا تھا،
تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور بالوں کے جُوڑے کو کھول دیا،
چنانچہ جب عبد اللہ بن حارث نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہنے لگے: “میرے سر کو کیوں چھیڑ رہے تھے؟!”
تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ایسی حالت میں نماز پڑھنے والے شخص کی مثال اس جیسی جس کے ہاتھ بندے ہوئے ہوں،
(صحیح مسلم:492)

🌷مناوی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں:
“حدیث کے عربی الفاظ: “معقوص” یعنی سر کے بالوں کو جمع کر کے جُوڑا بنا یا ہوا تھا۔
“مکتوف” اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ہاتھوں کو کندھوں کیساتھ باندھ دیا گیا ہو؛ ا س کے مکروہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ: اگر بال کھلے ہوئے نہ ہوں تو وہ زمین پر نہیں لگیں گے، تو اس طرح وہ اپنے تمام اعضا کیساتھ نماز میں حاضر متصور نہیں ہوگا، جس طرح ہاتھوں کو کندھوں کیساتھ باندھ دیا جائے تو وہ بھی سجدہ کی حالت میں زمین پر نہیں لگیں گے۔
ابو شامہ کہتے ہیں کہ: یہ عمل اسی وقت مکروہ ہوگا جب عورتوں کی طرح سر کے بالوں کا جوڑا بنا لیا جائے گا”
“فيض القدير” (3/6)

*نماز میں بالوں کا جوڑا بنانے سے روکنے کی حکمت یہ ہے کہ بال بھی نمازی کیلئے سجدہ کرتے ہیں، چنانچہ اسی وجہ سے حدیث میں بالوں کا جوڑا بنانے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ “مکتوف “ہے، یعنی جس طرح اگر اس کے ہاتھ کندھوں سے بندھے ہوئے ہوں تو وہ سجدہ میں ہاتھ زمین پر نہیں لگا سکے گا، اسی طرح اگر بال باندھ دیئے جائیں تو وہ بھی زمین پہ نہیں لگیں گے،*

🌹اس لیے فقہائے کرام نماز میں بالوں کا جُوڑا بنانے کو متفقہ طور پر مکروہ سمجھتے ہیں، جُوڑا بنانے کا مطلب یہ ہے کہ بالوں کی چٹیا کو سر کے ارد گرد لپیٹ لیا جائے، یا چٹیا اکٹھی کر کے گُدی کے پیچھے اکٹھی کر دی جائے، یہ عمل مکروہ تنزیہی ہے، چنانچہ اگر کسی نے اسی طرح نماز پڑھ لی تو اس کی نماز درست ہوگی،
(مگر آئندہ احتیاط کرے)
(الموسوعة الفقهية_ 26/ 109)

*مرد یا عورت اپنے بالوں کی چٹیا یا میڈھیاں بنا سکتے ہیں،بشرطیکہ مقصد غیر مسلم کی مشابہت نہ ہو اور چٹیا یا بالوں کی میڈھیوں کیساتھ نماز بھی پڑھ سکتے ہیں،لیکن بالوں کا جوڑا یعنی چٹیا کو گول کر کے سر کے اوپر ایک جگہ جمع کر لیا جائے یا چٹیا کو سر کے ارد گرد لپیٹ لیا جائے یہ مکروہ ہے؛ اس لیے بھی کہ اگر عورت بازار جائيگى تو اس حالت ميں يہ بےپردگى ميں شامل ہوگا، كيونكہ اس كے عبايا كے پيچھے زینت کی علامت ظاہر ہو رہى ہوگى، اور يہ بےپردگى اور فتنہ كے اسباب ميں بھی شامل ہو گی،*

جیسا کہ حدیث میں ہے،

🌷فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،
جہنمیوں کی دو قسميں ايسى ہيں جنہيں ميں نے ابھى تک نہيں ديكھا:
وہ لوگ جن كے پاس گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے اور وہ لوگوں كو مارتے پھريں گے،
اور
وہ عورتيں جنہوں نے لباس تو پہنا ہوا ہو گا ليكن وہ ننگى ہونگى، لوگوں كى طرف مائل ہونے والى اور لوگوں كو اپنى طرف مائل كرنے والى ہونگى،
ان كے سر بختى اونٹوں كى کہان کی طرح ایک طرف جھکے ہونگے،وہ جنت ميں داخل نہيں ہونگى اورنہ ہى جنت كى خوشبو پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو تو اتنى اتنى مسافت سے آ جاتى ہے”
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_2128)
(یعنی زینت ظاہر کرنے کے لیےسر کے بالوں کا جوڑا بنایا ہو گا)

🌹اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:
سر كے بالوں كا جوڑا بنانے كا حكم كيا ہے، يعنى بالوں كو سر كے اوپر جمع كرنے كا حكم كيا ہے ؟
شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:
” اگر تو بال سر كے اوپر جمع كيے جائيں تو اہل علم كے ہاں يہ ممانعت يا تحذير ميں شامل ہے،
اس ليے اگر تو بال اوپر ہوں تو اس ميں ممانعت ہے، ليكن اگر مثال كے طور پر بال گردن پر ہوں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر عورت نے بازار جائيگى تو اس حالت ميں يہ بےپردگى ميں شامل ہوگا، كيونكہ اس كے عبايا كے پيچھے علامت ظاہر ہو رہى ہوگى، اور يہ بےپردگى اور فتنہ كے اسباب ميں شامل ہو گى اس ليے جائز نہيں”
(ماخوذ از: فتاوى المراۃ المسلمۃ جمع و ترتيب الشيخ المسند ( 218 )

*ان تمام احادیث اور سلف صالحین کے اقوال سے پتہ چلا کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے بالوں کا جوڑا بنا کے نماز پڑھنا درست نہیں، وہ چاہے ویسے بنائیں یا گرمی کی وجہ سے، پہلے کا بنا ہو یا نماز کے وقت بنائے ہر حالت میں اس پر ممانعت کا اطلاق ہو گا،صحیح احادیث اسی مفہوم کا تقاضا کرتی ہیں اور صحابہ کرام سے بھی یہی مفہوم منقول ہے،اسی طرح عام حالات میں جوڑا جہاں عورت کے لیے بے پردگی کا باعث ہے وہیں مرد کے لئے عورتوں سے مشابہت کا خطرہ بھی،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شیطان کے بیٹھنے کی جگہ بھی قرار دیا ہے،*

*لہٰذا۔۔۔ مرد و خواتین کو بالوں کا جوڑا بنانے سے ہر صورت بچنا چاہیے،نا نماز کے اندر بنائیں اور نا نماز کے باہر*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

*بالوں میں وگ لگانا کیسا ہے؟ کیا مصنوعی بال لگوانا جائز ہیں؟ دیکھیں سلسلہ نمبر-141*

*مصنوعی دانت لگوانے کے بارے کیا حکم ہے؟ کیا سونے چاندی وغیرہ کے دانت لگوا سکتے ہیں؟ دیکھیں سلسلہ نمبر-33*

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں