625

سوال_دور عثمانی میں باغی تحریک نے حضرت عثمان (رض) پر کیا الزامات لگائے؟اور کیا وہ الزامات سچے تھے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-139”
سوال_دور عثمانی میں باغی تحریک نے حضرت عثمان (رض) پر کیا الزامات لگائے؟اور کیا وہ الزامات سچے تھے؟

Published Date:9-11-2018

جواب:
الحمدللہ:

*جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر جمعہ کے دن ہم تاریخ اسلام کے مشہور واقعات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیے جانے والے اعتراضات اور انکے جوابات پڑھتے ہیں،پچھلے سلسلہ جات نمبر
( 87٫88،92٫96٫102 131،133٫134 )
میں ہم نے تاریخ کو پڑھنے اور اور جانچنے کے کچھ اصول اور خلافت کی شروعات کیسے ہوئیں؟ اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رض کی خلافت اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا اور یہ بھی پڑھا کہ حضرت عمر فاروق رض کو کس طرح خلیفہ ثانی مقرر کیا گیا،اور حضرت عمر فاروق رض کے دور حکومت کے کچھ اہم مسائل کے بارے پڑھا ،کہ انکے دور میں فتنے کیوں نہیں پیدا نہیں ہوئے اور ،حضرت خالد بن ولید رض کو کن وجوہات کی بنا پر سپہ سالار کے عہدہ سے ہٹا کر ابو عبیدہ رض کی کمانڈ میں دے دیا،اور خلیفہ دوئم کی شہادت کیسے ہوئی، اور پھر پچھلے سلسلہ 133٫134 میں ہم نے پڑھا کہ تیسرے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی تھی؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس موقع پر بے انصافی ہوئی؟ اور دور عثمانی کی باغی تحریک کیسے وجود میں آئی؟ انہوں نے کس طرح عثمان رض کو شہید کیا اور صحابہ کرام نے عثمان رض کا دفاع کیسے کیا؟*

🌷اس سلسلہ نمبر-139 میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ خلافتِ کے تیسرے دور میں جو باغی تحریک اٹھی، انہوں نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر کیا الزامات لگائے؟

*باغی پارٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف الزامات کی ایک چارج شیٹ مرتب کی اور اسی کو بنیاد بنا کر پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ یہی چارج شیٹ انہوں نے اپنی تاریخی روایات میں بھی داخل کر دی تاکہ اس کی مدد سے صحابہ کرام کو بدنام کر دیا جائے۔ یہی روایات چونکہ طبری وغیرہ میں موجود ہیں، اس وجہ سے مناسب ہے کہ ان الزامات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔ الزامات یہ تھے:*

*الزامات یہ تھے*

*حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عمر سے قصاص نہ لے کر دین کی خلاف ورزی کی ہے*

*حضرت عثمان رض نے اپنے رشتے داروں کو اعلی عہدے دیے ہیں*

*یہ گورنر ظلم کرتے ہیں، ان کا کردار اچھا نہیں ہے اور یہ گورنر طلقاء میں شامل ہیں*

*حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سرکاری خزانے میں سے اپنے اقرباء پر خرچ کرتے ہیں*

*حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دین میں نئی نئی بدعات نکالی ہیں جیسے مکہ میں انہوں نے قصر کی بجائے پوری نماز پڑھی اور لوگوں کو قرآن مجید کے ایک سرکاری نسخے پر اکٹھا کر دیا ہے*

*حضرت عثمان نے چراگاہوں کو اپنے لیے خاص کر لیا ہے*

*اکابر صحابہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں*

مناسب رہے گا کہ اس موقع پر ہم وہ پوری روایت نقل کر دیں جس میں باغیوں نے آپ کے خلاف چارج شیٹ مرتب کی تھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کے سامنے ان کے ایک ایک اعتراض کو لے کر اس کا جواب دیا تھا:

🌷(جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا توحضرت عثمان) نے اہل کوفہ اور اہل بصرہ کو خطوط لکھے اور “صلوۃ جامعہ” کا اعلان کرایا۔ (واضح رہے کہ صلوۃ جامعہ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ مدینہ کی پوری آبادی مسجد میں حاضر ہو کر مشورے میں شریک ہو۔) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ نے حمد و ثنا کے بعد ان لوگوں کے حالات سے انہیں مطلع کیا اور وہ دونوں (حضرات جو باغیوں کا جائزہ لینے گئے تھے) کھڑے ہو گئے۔ سب صحابہ نے متفق ہو کر یہ کہا: “آپ ان سب کو قتل کر دیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہوتے ہوئے اپنے یا کسی اور شخص کے لیے پروپیگنڈا کرے، تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، تم اسے قتل کر دو۔” حضرت عمر بن خطاب نے بھی فرمایا ہے: “میں ایسے شخص (جو پروپیگنڈا کر کے اپنی حکومت کا اعلان کرے) کو کوئی رعایت نہیں دیتا ہوں ۔ اسے مار دینا چاہیے اور میں اس کام میں تمہارا شریک ہوں۔”
یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم انہیں معاف کرتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں اور اپنی کوشش کے مطابق انہیں دیکھتے رہیں گے۔ ہم کسی سے دشمنی نہیں رکھیں گے جب تک وہ کسی حد شرعی کے گناہ کا مرتکب نہ ہو یا کھلے کفر کا اظہار نہ کرے۔ ان لوگوں نے ایسی باتوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ اسی طرح جانتے ہیں جیسے آپ لوگ جاتے ہیں مگر وہ مجھے اس لیے یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ناواقف لوگوں کے سامنے ان کی اشاعت کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں:

1۔ “میں نے سفر میں پوری نماز پڑھی حالانکہ وہ اس صورت میں قصر کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایسے شہر (مکہ) میں تھا جہاں میرے اہل و عیال تھے، اس لیے میں نے پوری نماز پڑھائی۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟” لوگوں نے کہا: جی ہاں۔

2۔ “وہ لوگ (باغی) کہتے ہیں کہ میں نے چراگاہ کو مخصوص کیا۔ میں نے واللہ اپنے لیے کوئی چراگاہ مخصوص نہیں کی ۔ مجھ سے پہلے بھی چراگاہیں مخصوص کی گئیں۔ میں نے چراگاہ کو کسی ایک مخصوص آدمی (کے جانوروں) کے لیے مخصوص نہیں کیا تاکہ اہل مدینہ اس پر غالب نہ آ سکیں۔ پھر انہوں (سرکاری چرواہوں) نے رعایا میں سے کسی کو نہیں روکا بلکہ ان چراگاہوں کو مسلمانوں کے صدقات (بیت المال کے مویشیوں) کے لیے مخصوص کر رکھا ہے تاکہ کسی کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ نہ ہو اور کسی کو ان میں نہیں روکا ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو دو سواریوں کے علاوہ میرے پاس کوئی مویشی نہیں ہے۔ نہ بکریاں ہیں اور نہ بھیڑیں اور نہ کوئی اور جانور۔ جب میں خلیفہ مقرر ہوا تھا تو اس وقت اہل عرب میں سب سے زیادہ بھیڑ بکریاں اور اونٹ میرے پاس تھے مگر اب حج کی سواری کے لیے دو اونٹوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟ ” لوگوں نے کہا : جی ہاں۔

3۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کئی کتابوں میں تھا، میں نے اسے ایک کر دیا ہے۔ قرآن کریم ایک ہے جو خدائے واحد کی طرف سے نازل ہوا۔ میں اس معاملے میں ان لوگوں (سابقہ خلفاء) کا تابع ہوں۔ کیا ایسا ہی ہے؟” لوگوں نے کہا: “جی ہاں۔ بے شک۔ ” پھر وہ مطالبہ کرنے لگے کہ ان باغیوں کو قتل کیا جائے۔آپ نے مزید فرمایا۔

4۔ “یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے حکم (بن ابی العاص) کو واپس بلا لیا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جلا وطن کر دیا تھا۔ حکم مکہ کے باشندے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ سے طائف جلا وطن کیا، پھر حضور ہی نے انہیں واپس بلا لیا۔ اس طرح یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جنہوں نے انہیں جلا وطن کیا اور پھر واپس بلا لیا ۔ کیا ایسا ہی ہے؟ ” لوگوں نے کہا: “بے شک۔”

5۔ “یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نوجوانوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ میں نے انہی افراد کو حاکم بنایا ہے جو اہلیت رکھتے ہیں اور لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جو ان گورنروں کی عمل داری میں رہتے ہیں اور ان کے شہروں کے باشندے ہیں۔ مجھ سے پہلے بھی کم عمر شخص کو حاکم بنایا گیا تھا۔ (یاد کیجیے جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ (بن زید) کو افسر بنایا تھا تو اس وقت آپ پر اس سے زیادہ اعتراض کیا گیا تھا، جو مجھ پر اعتراض کیے جا رہے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟” لوگوں نے کہا: “جی ہاں۔ بے شک۔ یہ لوگ ایسے اعتراضات کرتے ہیں جنہیں وہ ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔”

6۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی سرح کو مال غنیمت میں سے خاص عطیہ دیا۔ میں نے انہیں مال غنیمت کے خمس کا خمس (1/25) حصہ انعام کے طور پر دیا تھا (کیونکہ انہوں نے بڑے معرکے میں غیر معمولی فتح حاصل کی تھی۔) یہ ایک لاکھ کی رقم تھی۔ ایسے احکام ابوبکر اور عمر نے بھی جاری کیے تھے۔ جب فوج نے اس بات کو ناپسند کیا تو میں نے یہ رقم واپس لے کر انہی میں تقسیم کر دی تھی حالانکہ یہ ابن ابی سرح کا حق نہیں تھا؟ کیا یہی بات ہے؟” لوگوں نے کہا: “جی ہاں۔”

7۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں مال دیتا ہوں۔ جہاں تک گھر والوں کی محبت کا تعلق ہے تو ان کی وجہ سے میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ صرف ان کے حقوق ادا کیے ہیں اور صرف اپنے مال ہی سے انہیں عطیات دیے ہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک مسلمانوں کا مال اپنی ذات یا کسی اور کو دینے کے لیے حلال نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر کے زمانے میں اپنی ذاتی ملکیت میں سے بہت زیادہ خیرات کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں کفایت شعار اور کنجوس تھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری عمر فنا ہو رہی ہے اور یہ تمام سرمایہ میں گھر والوں کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔ اس زمانے میں یہ ملحد ایسی باتیں بنا رہے ہیں۔ واللہ! میں نے کسی شہر میں سے اضافی مال حاصل نہیں کیاجس کی وجہ سے لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع ملا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میں یہ مال انہی کو لوٹا دیتا تھا اور میرے پاس صرف پانچواں حصہ ہی پہنچتا تھا اور اس میں سے بھی کوئی چیز میں نے اپنے لیے کبھی نہیں رکھی۔ مسلمان اس مال کو وہاں کے لوگوں میں تقسیم کرتے تھے، میرا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ اللہ کے مال میں سے ایک پائی بھی ضائع نہیں کی گئی اور میں صرف اپنے ذاتی مال میں سے گزر اوقات کرتا ہوں۔

8۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو زمینیں دیں۔ ان زمینوں میں مہاجرین و انصار کے وہ لوگ شریک ہیں جنہوں نے انہیں فتح کیا۔ لہذا جو شخص ان فتوحات کے مقام پر رہتا ہے، وہ اس کا مالک ہے اور جو اپنے اہل و عیال کے پاس آ گئے، تو ان کے ساتھ وہ زمینیں منتقل نہیں ہوئیں۔ اس لیے میں نے اس قسم کی زمینوں کے بارے میں غور کیا تو اصل مالکوں کی اجازت اور مرضی سے عرب کی زمنیوں کے ساتھ ان کا تبادلہ کیا گیا۔ اس طرح یہ زمینیں انہی لوگوں کے قبضہ میں ہیں، میرے قبضے میں نہیں۔
(راوی کہتے ہیں کہ)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اور زمینیں بنو امیہ میں تقسیم کر دی تھیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس میں عام حصہ دار بنایا تھا۔ اس تقسیم کا آغاز انہوں نے ابو العاص کی اولاد سے کیا تھا۔ چنانچہ (ابو العاص کے بیٹے) حکم کی اولاد میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار دیے، اس طرح ان سب نے کل ایک لاکھ کی رقم حاصل کی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی رقم دی تھی۔ اس کے علاوہ بنو عاص، بنو عیص اور بنو حرب میں اپنے مال کو تقسیم کر دیا تھا۔
(طبری،398 397 /1)

*نئی باتیں نکالنے والے اعتراض کا شافی جواب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود ہی دے دیا۔ آپ پر یہ نئی باتیں نکالنے کا اعتراض کیا گیا تھا کہ آپ نے مکہ میں پوری نماز پڑھی تھی اور مدینہ کی بعض چراگاہوں کو بیت المال کے مویشیوں کے لیے خاص کر دیا تھا۔ اس کا جواب تو آپ دے چکے ہیں۔ بقیہ اعتراضات پر مزید تفصیلات ہم یہاں فراہم کر رہے ہیں*

1_ *عبیداللہ بن عمر سے قصاص*

🌷جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ہرمزان اور ابو لؤلؤ فیروز کو کھسر پھسر کرتے دیکھا تھا۔ عبدالرحمن کو دیکھ کر فیروز تیزی سے چلا تو اس کے لباس میں سے ایک دو شاخہ خنجر گر گیا۔ اس وقت انہوں نے خیال نہ کیا لیکن اگلے روز جب اسی خنجر سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا تو انہیں یہ واقعہ یاد آیا اور انہوں نے سب کے سامنے بیان کر دیا۔ یہ سن کر حضرت عمر کے جواں سال بیٹے عبیداللہ کو جوش آیا اور انہوں نے جا کر ہرمزان اور اس کے ایک ساتھی جفینہ کو قتل کر دیا۔ لپیٹ میں فیروز کی ایک بیٹی بھی آ گئی اور وہ بھی قتل ہو گئی۔

عبیداللہ، عبداللہ بن عمر کے چھوٹے بھائی تھے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر ہرمزان اور جفینہ اس سازش میں شریک بھی تھے، تو اس کی باقاعدہ تحقیقات کی جاتیں۔ تفتیش کر کے اگر ہرمزان پر جرم ثابت ہوتا تو انہیں سزا دی جاتی، ورنہ بری کر دیا جاتا لیکن عبیداللہ یہ سن کر اپنے ہوش و حواس میں نہ رہے اور انہوں نے جا کر ان تینوں کو قتل کر دیا۔ وہ تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ مدینہ کی آبادی کے تمام غیر عرب باشندوں کو قتل کر دیں گے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اور صہیب رضی اللہ عنہما نے انہیں بمشکل قابو کیا اور لا کر گھر میں قید کر دیا۔ اس وقت تک خلیفہ کا انتخاب نہیں ہوا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد یہ مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوا۔ انہوں نے بجائے خود فیصلہ کر نے کے ایک جیوری کے سامنے یہ مقدمہ پیش کیا جس میں تمام جلیل القدر صحابہ، مہاجرین اور انصار شامل تھے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کا جرم بہرحال ثابت تھا۔ بعض صحابہ، جن میں حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما شامل تھے، کی رائے یہ تھی کہ عبیداللہ کو قصاص میں قتل کیا جائے۔ دیگر لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ ان کی نفسیاتی حالت کے پیش نظر ان پر قصاص کی سزا نافذ نہ کی جائے۔ جرم کرتے وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے اور جب آدمی جنون کی سی کیفیت میں ہو، تو اس پر شرعی احکام کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ابھی کل ہی حضرت عمر شہید ہوئے ہیں اور آج ان کے جواں سال بیٹے کو قتل کر دینا مناسب نہ ہو گا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ واقعہ اس وقت ہوا ہے جب کوئی خلیفہ موجود نہ تھا۔ اس جیوری کی اکثریت کا موقف مانا گیا اور عبید اللہ پر قصاص کی بجائے دیت کی سزا نافذ کی گئی۔ ان کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ دیت ادا کر سکتے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جائیداد کا بڑا حصہ قرض چکانے میں نکل چکا تھا۔ حضرت عثمان نے اس مسئلے کا حل یہ کیا کہ اپنی ذاتی جیب سے ان کی دیت ادا کر دی۔
(طبری۔ 23H/3/1-272)

*اس مقدمے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے قصاص کی سزا نافذ نہ کر کے ایک غلط کام کیا۔ یہ اعتراض خاص کر ان باغیوں نے اٹھایا تھا جنہوں نے آپ کو شہید کیا تھا۔ یہ اعتراض کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ حضرت عثمان کی اپنی رائے قصاص لینے ہی کی تھی۔ پھر جو فیصلہ ہوا جو جیوری کی اکثریت نے کیا جن میں تمام مہاجرین و انصار شامل تھے۔ طبری ہی کی ایک اور روایت کے مطابق ، جیوری کے اس فیصلے سے قبل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کے بیٹے قماذبان کو قصاص لینے کی اجازت دے دی تھی۔*

🌷قماذبان اپنے والد (ہرمزان) کے قتل کا حال اس طرح بیان کرتے ہیں: اہل عجم مدینہ میں ایک دوسرے سے ملتے رہتے تھے۔ ایک دن فیروز میرے والد کے پاس سے گزرا، اس کے ہاتھ میں دو شاخہ خنجر تھا۔ (میرے والد) نے اسے پکڑا اور پوچھا: “تم اس ملک میں اس کا کیا کرو گے؟” وہ بولا: “میں اسے استعمال کروں گا۔” ایک آدمی (عبدالرحمن بن ابی بکر) نے اسے اس حالت میں دیکھا تھا۔جب حضرت عمر پر حملہ ہوا تو اس شخص نے کہا: “میں نے اس (قاتل) کو ہرمزان کے ساتھ دیکھا تھا۔ اس نے یہ خنجر فیروز کو دیا تھا۔ ” لہذا عبیداللہ نے آ کر انہیں (میرے والد کو) قتل کر دیا۔
جب حضرت عثمان خلیفہ بنے تو انہوں نے مجھے (قماذبان کو) بلایا اور مجھے اس کا اختیار دیتے ہوئے کہا: “میرے بیٹے! یہ تمہارے والد کا قاتل ہے اور تم ہم سے زیادہ اس پر حق رکھتے ہو۔ جاؤ اور اسے قتل کر دو۔” میں اسے (عبیداللہ) کو ساتھ لے گیا۔ اس وقت اس مقام کا ہر شخص میرے ساتھ تھا مگر وہ سب مجھ سے اس کے بارے میں کچھ مطالبہ کر رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: “کیا میں اسے قتل کر دوں؟” وہ بولے: “ہاں۔” انہوں نے عبید اللہ کو برا بھلا کہا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: “کیا آپ لوگ اسے قتل کرنے سے منع کرتے ہیں؟” وہ بولے: “نہیں۔” انہوں نے پھر عبیداللہ کو برا بھلا کہا۔
میں نے اللہ کی رضا کے لیے انہیں چھوڑ دیا اور ان لوگوں (مسلمانوں) کی خاطر انہیں رہا کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے مجھے اوپر اٹھا لیا۔ واللہ! میں لوگوں کے سروں اور ہاتھوں (کندھوں) پر سوار ہو کر گھر پہنچا۔
(طبری ۔ 3/1-276)

اس روایت سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قصاص ہی کا حکم جاری کیا تھا لیکن جب قماذبان نے خود عبیداللہ کو معاف کر دیا تو حکومت نے بھی انہیں معاف کر دیا۔ قماذبان نے عبیداللہ کو معاف کر کے جس اعلی کردار کا ثبوت دیا کہ وہ ایک مخلص مسلمان تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے والد ہرمزان کسی سازش میں شریک نہ تھے بلکہ اتفاقاً ہی فیروز سے ان کی ملاقات ہو گئی جس میں اس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا۔ ہمیں بھی ہرمزان کے بارے میں حسن ظن ہی رکھنا چاہیے۔ ہاں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ بارہ برس بعد باغیوں نے اس انتقام کو از سر نو لینے کی کوشش کیوں کی۔ ممکن ہے کہ وہ فتنہ برائے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہوں تاکہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑے اور ان کے مقاصد پورے ہوں یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وہ اپنے ایرانی ساتھیوں کو خوش کرنا چاہتے ہوں جن کے نزدیک حضرت عمر کا قاتل فیروز ایک ہیرو کی حیثیت رکھتا تھا۔

*یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ جب مقتول کے وارث نے قاتل کو معاف کر دیا تھا تو پھر جیوری بٹھانے کی ضرورت کیا تھی؟*

اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ عبیداللہ نے ایک مرکب جرم کا ارتکاب کیا تھا جس میں دو جرائم تھے: ایک تو قتل اور دوسرے قانون کو ہاتھ میں لینا۔ قتل کا قصاص مقتول کے وارثوں کا حق تھا جسے انہوں نے معاف کر دیا۔ قانون کو ہاتھ میں لینا ایسا جرم تھا جس کی سزا ابھی باقی تھی۔ مہاجرین و انصار کی جیوری کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا اور ان کی اکثریت نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ یہ جرم حالت جنون میں ہوا ہے، اس وجہ سے قصاص کی بجائے دیت کی سزا نافذ کی جائے۔ چونکہ عبیداللہ کے پاس مال نہ تھا، اس وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ دیت اپنی جیب سے ادا کر کے معاملے کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے سلجھا دیا۔

*عثمان رض پر دوسری تہمت اقربا پروری کی لگائی گئی*

باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا کہ انہوں نے عہدوں کی تقسیم میں اقرباء پروری سے کام لیا اور میرٹ کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے اپنے ان رشتہ داروں کو گورنر بنا دیا، جو اسلام کے ساتھ مخلص نہ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو فتح مکہ کے بعد مجبوراً اسلام لائے تھے اور عہدوں کے اہل نہ تھے۔ بعد کے ادوار میں جو لوگ باغیوں کے اس پراپیگنڈا سے متاثر ہوئے، انہوں نے بھی اسی قسم کی باتیں کہیں۔

عہد جاہلیت ہی سے بنو امیہ سیاسی مناصب پر فائز چلے آ رہے تھے کیونکہ ان میں اس کی صلاحیت تھی۔ مکہ ایک شہری ریاست تھا،
بعثت نبوی کے زمانے میں بنو امیہ مکہ کے اہم سیاسی مناصب پر فائز تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت پیش کی تو بنو امیہ کے نیک دل لوگ آگے بڑھ کر ایمان لائے جن میں حضرت عثمان اور خالد بن سعید رضی اللہ عنہما نمایاں تھے۔بنو امیہ کے لوگوں کی تقرری خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد عہدوں پر کی تھی کیونکہ یہ اس کے اہل تھے۔ آپ نے اکیس سالہ اموی نوجوان عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا، مشہور اموی سردار ابو سفیان کو نجران ، ان کے بیٹے یزید بن ابی سفیان کو تیماء ، خالد بن سعید کو صنعاء (یمن)، عمرو بن سعید کو تبوک، حکم بن سعید کو وادی القری، اور ابان بن سعید رضی اللہ عنہم کو بحرین کا گورنر مقرر فرمایا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی بنو امیہ کے لوگوں کو اہم عہدے دیے کیونکہ ان میں اس کی صلاحیت موجود تھی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اقرباء پروری کے اس الزام کے جواب میں ہم پہلے ایک تفصیل پیش کریں گے جس میں عہد عثمانی کے تمام عہدے داروں کے نام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم ایک ایک شخص کا جائزہ لے کر یہ بیان کریں گے کہ اس کی تقرری کیسے ہوئی وہ کس قبیلہ سے تھا؟ یہ معلومات ہم تاریخ طبری کے اس مقام سے نقل کر رہے ہیں، جہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا باب مکمل ہوتا ہے۔ ان میں اکثر لوگ اس وقت گورنر تھے جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے،
(طبری۔ 3/1-480۔ )
(مزید تفصیلات ابن سعد، ابن عبد البر وغیرہ کی کتابوں میں ان عہدے داروں کے ناموں کے تحت دیکھی جا سکتی ہیں)

🌷 *صوبہ حجاز و یمن کےعہدیداران* 🌷

1.عبداللہ بن حضرمی
علاقہ_ مکہ
یمن کا ایک قبیلہ

2.قاسم بن ربیعہ ثقفی
علاقہ_ طائف
قبیلہ بنو ثقیف

3.یعلی بن امیہ تیمی
علاقہ یمن
قبیلہ بنو تیم (قریش)

4. عبداللہ بن ربیعہ الغنری
علاقہ الجند
قبیلہ بنو مخزوم (قریش)

5. خالد بن عاص مخزومی
علاقہ مکہ
قبیلہ بنو مخزوم (قریش)

6. عبداللہ بن حارث بن نوفل
علاقہ مکہ
قبیلہ بنو ہاشم (قریش)

🌷*صوبہ عراق و ایران کے عہدیداران*🌷

7. عبداللہ بن عامر
علاقہ بصرہ
قبیلہ بنو امیہ
حضرت عثمان نے مقرر کیا

8.سعد بن ابی وقاص
علاقہ کوفہ
قبیلہ بنو زہرہ
حضرت عمر نے مقرر کیا

9. ولید بن عقبہ بن ابی معیط
علاقہ الجزیرہ۔ کوفہ
قبیلہ بنو امیہ
حضرت عمر و عثمان نے مقرر کیا

10۔ سعید بن عاص
علاقہ کوفہ
قبیلہ بنو امیہ
حضرت عمر نے مقرر کیا

11.ابو موسی اشعری
کوفہ
قبیلہ بنو اشعر (یمن)
حضرت عمر و عثمان نے مقرر کیا

12. جریر بن عبداللہ بجلی
علاقہ قرقیسیا
قبیلہ بنو بجیلہ

13. اشعث بن قیس الکندی
علاقہ آذر بائیجان
قبیلہ بنو کندہ

14.عتیبہ بن النہاس
علاقہ حلوان
قبیلہ نامعلوم

15. مالک بن حبیب الیربوعی
علاقہ ماہ
قبیلہ بنو تمیم

16. سعید بن قیس
علاقہ رے (موجودہ تہران)
قبیلہ ایرانی

17. سائب بن اقرع
علاقہ اصفہان
بنو ثقیف

18. نسیر
علاقہ ہمدان
قبیلہ ایرانی

19. جیش
علاقہ ماسبدان
قبیلہ ایرانی

20.حکیم بن سلامہ الخرامی
علاقہ موصل
قبیلہ بنو خرام

21.عبداللہ بن مسعود
بیت المال کوفہ
قبیلہ حلیف بنو مخزوم

22.عقبہ بن عمرو
بیت المال کوفہ
قبیلہ انصار

23.جابر بن فلان المزنی
کلیکٹر عراق
قبیلہ بنو مزینہ

24.سماک انصاری
کلیکٹر عراق
قبیلہ انصار

25.قعقاع بن عمرو
کمانڈر کوفہ
قبیلہ بنو تمیم

🌷*صوبہ مصر کے عہدیداران*🌷

26. عمرو بن عاص
علاقہ مصر
قبیلہ بنو مخزوم
حضرت عمر نے مقرر کیا

27.عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
علاقہ مصر
قبیلہ بنو عامر
حضرت عمر نے مقرر کیا

🌷*صوبہ شام کے عہدیداران*🌷

28.معاویہ بن ابی سفیان
علاقہ شام
قبیلہ بنو امیہ
حضرت عمر نے مقرر کیا

29۔ عبدالرحمن بن خالد بن ولید
علاقہ حمص، الجزیرہ
قبیلہ بنو مخزوم (قریش)

30. حبیب بن مسلمہ فہری
علاقہ قنسرین
قبیلہ بنو فہر (قریش)

31.ابو الاعور بن سفیان سلمی ذکوانی
علاقہ اردن
قبیلپ بنو ذکوان

32.علقمہ بن حکیم کنانی
علاقہ فلسطین
قبیلہ بنو کنانہ

33. عبداللہ بن قیس فزاری
ساحلی علاقے
قبیلہ بنو فزارہ

34. ابو درداء
قاضی دمشق
قبیلہ بنو خزرج (انصار)

🌷*دار الحکومت کے عہدیداران*🌷

35.علی، طلحہ، زبیر، سعد رضی اللہ عنہم
مرکزی کابینہ

36.مروان بن حکم
کاتب خلیفہ
قبیلہ بنو امیہ
حضرت عثمان نے مقرر کیا

37.زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
قاضی مدینہ اور بیت المال (وزیر خزانہ)
قبیلہ بنو خزرج (انصار)

38. مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب
عہدہ قاضی
قبیلہ بنو ہاشم

39. عبد اللہ بن ارقم
بیت المال (وزیر خزانہ)
قبیلہ بنو زہرہ (قریش)

40.عبداللہ بن قنفذ
پولیس چیف
قبیلہ بنو تیم (قریش)

*عہدیداران کی اس لسٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کل چھ افراد بنو امیہ یعنی عثمان رض کے قبیلہ کے نظر آتے ہیں۔ اب ہم ان حضرات کے کارناموں کی تفصیل بیان کرتے ہیں جس سے اندازہ ہو گا کہ ان کی تقرری کس نے کی اور اس کے اسباب کیا تھے؟ ان میں سے بھی چار کی تقرری حضرت ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں ہو چکی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا کہ ان کی پرفارمنس کے اعتبار سے انہیں پروموشن دی جو کہ کسی بھی سول سروس یافوج کا عام معمول ہے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان گورنروں کی پرفارمنس کیا تھی، جس کی بنیاد پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے متعلق فیصلے کیے*

*ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ*

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ سول ایڈمنسٹریشن ان کی تقرری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی تھی جن کی مردم شناسی ضرب المثل ہے۔ حضرت عمر نے انہیں “الجزیرہ” کا حاکم مقرر کیا تھا جو کہ شمالی عراق میں دجلہ و فرات کی زرخیز وادی کو کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس علاقے کا بہترین انتظام کیا اور اس سے متعلق کوئی شکایت بھی تاریخ کی کتب میں موجود نہیں ہے۔ یہاں سے آگے بڑھ کر انہوں نے شمال میں آرمینیا کے متعدد علاقے فتح کیے۔ طبری کے مطابق وہ جب جہاد کے لیے روانہ ہوتے تھے تو دور دراز مقامات تک پہنچ جاتے تھے ، کسی چیز میں کوتاہی نہ کرتے تھے اور ایسے انتظامات کرتے تھے کہ دشمن ان کے مقابلے پر آنے سے احتراز کرتا تھا۔
( طبری۔ 3/1-309)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا تبادلہ کر کے انہیں کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ طبری کی روایت کے مطابق جب یہ کوفہ آئے تو لوگوں کی مقبول ترین شخصیت بن گئے کیونکہ ان کا سلوک نرم تھا۔ پانچ سال تک ان کا طرز عمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنےگھر میں دروازہ نہیں بنایا تاکہ کسی شخص کو بھی گورنر تک اپنی بات پہنچانے میں مشکل نہ ہو۔
( طبری۔ 3/1-285۔)
اس کردار کے گورنر کے تبادلے پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔

🌷حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض کیا گیا کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کی جگہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو کیوں مقرر فرمایا؟ اس کا واقعہ یوں تھا کہ حضرت سعد نے بیت المال سے ذاتی ضروریات کے لیے کچھ قرض لیا اور اسے وقت پر ادا نہ کر سکے۔ جب بیت المال کے سربراہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مطالبہ کیا تو حضرت سعد نے مزید مہلت مانگی۔ اس پر ان کے مابین کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور لوگ اکٹھے ہو گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو مدینہ بلوا لیا۔ واضح رہے کہ اس دور میں “معزولی” کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ ایک شخص کو بالکل ہی تمام معاملات سے الگ کر دیا جائے بلکہ اس کا مطلب تبادلہ (Transfer) ہوتا تھا جو کہ آج بھی فوجی اور سول ایڈمنسٹریشن میں عام معمول ہے۔ حضرت عثمان نے حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی بجائے دار الحکومت میں ذمے داریاں دے دیں اور کوفہ میں ولید بن عقبہ کو مقرر کر دیا،
( طبری۔ 3/1-285 )

بعض لوگوں حضرت عثمان پر زبان طعن دراز کرتےہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ولید کو الجزیرہ کے غیر اہم علاقے سے ہٹا کر کوفہ جیسے مرکزی مقام کا عہدہ دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ سول اور فوجی ایڈمنسٹریشن میں تبادلے ایک عام معمول ہے اور عہدے داروں کو ضرورت کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔ ولید بن عقبہ کے بارے میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ وہ کوفہ کی محبوب ترین شخصیت تھے اور ان کے کردار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پانچ سال تک گھر کا دروازہ نہیں لگایا تاکہ کسی سائل کو ان تک رسائی میں مشکل نہ ہو۔ جب کوفہ میں باغی تحریک نے قدم جمانے شروع کیے تو ان کے بعض لوگوں نے ایک شخص ابن حیسمان الخزاعی کو قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ گورنر کے پاس پیش ہوا اور صحابی ابو شریح رضی اللہ عنہ کی گواہی پر فیصلہ ہوا جو واقعے کے عینی شاہد تھے۔ ولید نے معاملے کو حضرت عثمان کے پاس لکھ بھیجا جنہوں نے قصاص میں قاتلوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا اور اس سزا کو نافذ کر دیا گیا۔ اب ان قاتلوں کے باپوں اور دیگر وارثوں نے گورنر کے خلاف محاذ بنا لیا۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ دعوتی ذہن رکھتے تھے اور غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے تھے۔ ان کی دعوت سے ایک عیسائی شاعر ابو زبید نے اسلام قبول کیا تھا اور اکثر ان کے ساتھ رہتا تھا۔ باغیوں نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ ابو زبید کے ساتھ مل کر شراب پیتے ہیں۔ انہوں نے پورے شہر میں یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔

جب یہ بات بیت المال کے سربراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: “جو ہم سے کوئی عیب چھپائے، ہم اس کی پردہ دری نہیں کرتے اور اس کی ٹوہ نہیں لگاتے۔
( طبری۔ 3/1-309)

ولید نے اس پر انہیں بلا کر سرزنش کی کہ آپ کا جواب مناسب نہ تھا۔ ایسا جواب تو مشتبہ افراد کے بارے میں دیا جاتا ہے، جبکہ میرا معاملہ تو آپ کے سامنے ہے۔ اس پر ان کے مابین کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔ باغیوں میں سے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شکایت کی تو آپ نے فرمایا: “تم بدگمانی کرتے ہو اور مسلمانوں میں غلط باتیں پھیلاتے ہو اور بغیر اجازت کے چلے آتے ہو، واپس چلے جاؤ۔” ان لوگوں نے اب سازش تیار کی اور چونکہ ولید کے گھر پر دروازہ نہ تھا، اس وجہ سے رات کے وقت ان کی انگوٹھی چرا لائے اور مدینہ آ کر باقاعدہ مقدمہ پیش کیا کہ ہم نے ولید رضی اللہ عنہ کو شراب نوشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ان کی انگوٹھی اتار لائے اور انہیں علم نہیں ہو سکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ولید کو طلب کیا اور ان سے فرمایا: “جھوٹے گواہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
اے میرے بھائی! تم صبر کرو۔” اس کے بعد انہوں نے ولید پر شراب کی سزا نافذ کی کیونکہ عدالت میں فیصلہ ظاہری گواہی پر ہوتا ہے۔
(طبری۔ 3/1-314)

*طبری ہی کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب نوشی کا یہ واقعہ سرا سر جھوٹ تھا اور محض حضرت ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کروانے کے لیے گھڑا گیا تھا۔کوفہ کے یہ شرپسند اسی طرح سے حضرت عمر کے زمانے میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما پر بدکاری کی تہمت لگوا کر انہیں معزول کروانے کی کوشش کر چکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قتل کے واقعے کے بعد باغی تحریک کے لیے کوفہ میں پنپنا مشکل ہو رہا تھا، چنانچہ انہوں نے الزام تراشی کے ذریعے ایک کمزور گورنر لانا چاہا تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں لیکن ان کے لیے مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس نئے گورنر کو مقرر کیا، وہ بھی نہایت ہی بیدار مغز تھے۔ ہماری مراد سعید بن عاص رحمہ اللہ سے ہے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے*

🌷ولید بن عقبہ کے بارے میں ایک اور جھوٹی روایت وضع کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو عبد المصطلق کی طرف صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تو یہ صدقات وصول کیے بغیر واپس آ گئے اور آ کر کہہ دیا کہ یہ لوگ تو جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ۔ إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ. “اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تصدیق کر لیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے فعل پر نادم ہو جاؤ۔”
(سورہ الحجرات 49:6)

یہ روایت بھی محض ولید کی کردار کشی کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اس کی سند میں متعدد مسائل موجود ہیں۔ یہ روایت مسند احمد بن حنبل میں آئی ہے اور اس کی سند یوں بیان ہوئی ہے: حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا محمد بن سابق حدثنا عيسى بن دينار حدثنا أبي أنه سمع الحرث بن ضرار الخزاعي قال۔ ان راویوں کے ناموں پر غور کیجیے تو اس میں تین راوی نمایاں ہیں:

·محمد بن سابق ایسے راوی ہیں جن کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے پر ائمہ جرح و تعدیل میں اختلاف ہے۔ بعض ماہرین انہیں ثقہ اور بعض ضعیف بلکہ منکر قرار دیتے ہیں۔ ان میں ابن المدینی، ابو حاتم اور یحیی بن معین شامل ہیں۔
(ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 7574۔ 6/157)

· دوسرے راوی عیسی بن دینار ہیں جو کہ اسپین کے قاضی تھے۔ ان کے حالات کی زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہے کہ یہ کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔

· تیسرے راوی ان کے والد دینار ہیں جن کا پورا نام معلوم نہیں ہے۔ میزان الاعتدال میں دینار نام سات راویوں کے حالات ملتے ہیں اور وہ سب کے سب ضعیف یا متروک ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب ابو عمر دینار تھے جو بنو امیہ کے خلاف اٹھنے والے مختار ثقفی کی پولیس میں شامل تھے۔ اگر یہ دینار یہی صاحب تھے تو پھر واضح ہے کہ یہ روایت انہوں ہی نے گھڑی ہو گی۔
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 2694۔ 3/48

🌷 *اس کے برعکس مسند احمد کی روایت کے مطابق ولید بن عقبہ خود فرماتے ہیں کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر چند لڑکوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ آپ نے سب کے سر پر دست مبارک پھیرا سوائے ولید کے کیونکہ ان کے سر میں خوشبو دار تیل لگا تھا۔ پھر آپ نے ان سب کے لیے دعا فرمائی۔ اب اگر ولید، فتح مکہ کے موقع پر لڑکے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑکے کو کیسے صدقات کی وصولی جیسے ذمہ دارانہ کام کے لیے بھیج سکتے تھے۔ اس کے بعد انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ قضاعہ سے صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا جو ان پر اعتماد کی علامت ہے۔ اگر یہ روایت درست ہوتی تو حضرت ابوبکر انہیں اسی کام پر نہ بھیجتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ اہم جنگی خدمات انجام دیتے رہے اور انہوں نے انہیں الجزیرہ کا گورنر بنا دیا۔ باغیوں کو چونکہ حضرت ولید سے خاص بغض تھا، اس وجہ سے انہوں نے یہ روایت وضع کی ہے*

🌷ابن جریر طبری، جو مورخ کے علاوہ بڑے رجحان ساز مفسر بھی ہیں، نے اپنی تفسیر میں اس آیت کریمہ کے تحت یہ واقعہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہوا ہے اور وہاں رجلا (ایک شخص) کے الفاظ ہیں اور ولید بن عقبہ کا نام نہیں ہے۔ اس کے بعد طبری نے متعدد اسناد سے نقل کی ہیں لیکن ان اسناد کی حیثیت یہ ہے کہ ان میں راویوں کے نام بس مختصر سے دیے ہوئے ہیں جس کے باعث یہ سراغ لگانا ممکن نہیں ہے کہ ان میں سے کون سا راوی کس درجے میں قابل اعتماد ہے،
( ابن جریر طبری۔ تفسیر الجامع البیان فی تاویل القرآن۔ زیر آیت 49:6۔
مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔ www.almeshkat.net

*سعید بن عاص رحمہ اللہ*

🌷سعید بن عاص رحمہ اللہ کے جو حالات طبری نے لکھے ہیں، ان کے مطابق یہ یتیم تھے اور ان کی پرورش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ دمشق میں مقیم تھے اور بیمار تھے۔ حضرت عمر نے ان کے بارے میں پوچھا اور پھر انہیں بلا بھیجا۔ یہ مدینہ آ کر تندرست ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: “میرے بھتیجے! مجھے تمہاری قابلیت اور صلاحیت کی خبر ملی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دو، اللہ تمہیں ترقی دے گا۔” پھر حضرت عمر نے انہیں شادی کا مشورہ دیا۔
سعید بن عاص نے سیدہ ام کلثوم بنت علی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور اس وقت ایک لاکھ درہم بطور مہر دیے۔ اس رشتے پر حضرت علی، حسن اور ام کلثوم تیار تھے البتہ حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو کچھ اعتراض تھا۔ حضرت حسن نے اس شادی پر اصرار کیا مگر سعید نے کہا: ’’میں ایسے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا جسے حسین پسند نہ کرتے ہوں۔‘‘ انہوں نے منگنی ختم کر دی اور ایک لاکھ درہم بھی واپس نہ لیے۔ اس سے ان کی شرافت اور اہل بیت کے ساتھ ان کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے
( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ 1809) شخصیت نمبر 2274

🌷سعید کی ملاقات ایک چشمے پر کچھ بے سہارا خواتین سے ہوئی۔ یہ ان کے حالات سے بہت متاثر ہوئے اور ان میں سے ایک سے انہوں نے شادی کر لی اور دیگر بے سہارا خواتین میں سے ایک سے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور ایک سے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہما نے شادی کر لی۔ سعید کے چچا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ (دادا پوتے کا نام ایک ہی تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین صحابہ میں سے تھے اور انہوں نے زبردست خدمات انجام دی تھی۔ سعید نے بھی اپنے چچا کے نقش قدم پر بہترین خدمات انجام دیں۔ انہوں نے طبرستان کے جہاد میں قیادت کی اور کامیاب رہے۔ انہوں نے جارجیا اور طبرستان کا وسیع علاقہ فتح کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ان کا شمار بھی مشہور لوگوں میں ہونے لگا تھا۔
(تاریخ طبری۔ 3/1-314)

اس تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعید بن عاص رحمہ اللہ کی تقرری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی تھی اور وہ اپنی پرفارمنس سے انہیں متاثر کر چکے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تو ان کا محض تبادلہ کیا تھا اور ان کی صلاحیتوں کے پیش نظر انہیں ایک مشکل صوبے “کوفہ” کی گورنری دی تھی جو کہ اس وقت تک باغی تحریک کا گڑھ بن چکا تھا،

*عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ*
🌷یہ بھی ایک جلیل القدر صحابی تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے۔ ان پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو اسلام لا کر مرتد ہو گئے تھے اور جن کے بارے میں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم دیا تھا۔ حضرت عثمان نے انہیں سمجھایا تو یہ ایمان لے آئے اور پھر حضرت عثمان کی کوششوں سے ہی انہیں معافی ملی۔
( نسائی۔ کتاب تحریم الدم۔ حدیث 4067)

اس کے بعد یہ مخلص مومن رہے اور انہوں نے خلفائے راشدین کے زمانے میں بہترین ایمان کا مظاہرہ کیا۔ ویسے بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو معاف فرما دیں تو پھر کسے اعتراض کی گنجائش ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن سعد کو اس فوج کا افسر مقرر کیا تھا ، جو مصر پر حملہ آور ہوئی تھی۔ فتح کے بعد انہیں بالائی مصر (جنوبی مصر) کا گورنر مقرر فرمایا تو انہوں نے آگے بڑھ کر شمالی سوڈان کا علاقہ بھی فتح کر لیا جو ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں زیریں مصر (شمالی مصر) کا گورنر مقرر کیا اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا کہ وہ اس منصب کے حق دار تھےاور لیبیا تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ فسطاط شہر چونکہ باغی تحریک کا مرکز بن چکا تھا اور حضرت عبداللہ نے ان پر کچھ سختی کی تھی، اس وجہ سے ان باغیوں نے آپ کو خاص ہدف بنا کر آپ پر تنقید کی۔

*عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ*

یہ بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے وہ واحد شخص تھے جنہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گورنر مقرر کیا اور ایسا ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے ہوا۔ اس وقت ان کی عمر محض 25 سال تھی، ابن عامر نوجوانی ہی میں نہایت ہی سادہ طرز زندگی کے عادی تھے ۔ دن کو روزہ اور رات کو عبادت ان کا معمول تھا۔ ابن عامر ایک صالح نوجوان تھے اور اپنے ساتھ ہمیشہ نیک لوگوں ہی کو رکھا کرتے تھے۔ دوران جہاد آپ کہا کرتے تھے: “مجھے عراق کی کسی چیز پر حسرت نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہاں دوپہر کی گرمی میں مؤذنوں کی آوازیں اکٹھی گونجتی ہیں اور اسود بن کلثوم (جیسے دیندار) ساتھی۔”
(طبری۔ 31H/3/1-341)

صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ گورنر بننے کے بعد انہوں نے فتوحات کی رفتار تیز کر دی۔ 31/651 میں انہوں نے موجودہ مشرقی ایران اور مغربی افغانستان کا بڑا حصہ انہوں نے فتح کیا جن میں طوس، بیورو، نسا اور سرخس شامل تھے جبکہ مرو شہر کے باشندوں نے صلح کر لی۔ اس کے بعد انہوں نے خراسان بھی فتح کیا۔ سجستان کی فتح بھی ابن عامر ہی کا کارنامہ تھی جس میں موجودہ افغانستان اور پاکستان کے بعض حصے شامل تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا: “کسی اور کے ہاتھوں اتنے علاقے فتح نہیں ہوئے جتنے آپ کے ہاتھوں ہوئے ہیں۔ ان میں فارس، کرمان، سجستان اور تمام خراسان کا علاقہ شامل ہے۔ ” ابن عامر نے جواب دیا: “نہایت ضروری ہے کہ میں (ان کامیابیوں پر) اللہ کا شکر اس طرح ادا کروں کہ اسی مقام پر احرام باندھ کر عمرہ ادا کروں۔” اس طرح وہ نیشا پور (شمال مشرقی ایران) سے احرام باندھ کر چلے اور عمرہ ادا کیا۔ اس سے ان کے زہد و تقوی کا اندازہ ہوتا ہے کہ اتنا طویل راستہ احرام کی پابندیوں میں بسر کیا۔ اس کے بعد جب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اسے پسند نہیں فرمایا کیونکہ یہ حد سے تجاوز تھا اور فرمایا: “کاش! آپ اسی میقات سے احرام باندھتے جہاں سے سبھی مسلمان احرام باندھتے ہیں۔”
( طبریً ۔ 3/1-355)

اس کے بعد بھی خراسان کے علاقے سے متعدد بغاوتیں اٹھتی رہیں جنہیں ابن عامر ہی فرو کرتے رہے۔ چونکہ انہوں نے حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اٹھنے والی باغی تحریک کے خلاف زبردست اقدام کیے، اس وجہ سے باغیوں نے انہیں بھی خاص طور پر نشانہ بنایا۔

*مروان بن حکم رحمہ اللہ*

ان کے بارے میں یہ اختلاف ہے کہ یہ صحابی ہیں یا تابعی۔ ان کے والد حکم بن ابی العاص کو ان کی اسلام دشمنی کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں جلا وطن کر دیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نہایت نرمی کے ساتھ اپنے قبیلے اور خاندان کے لوگوں کو اسلام میں لانے کا شوق تھا، اس وجہ سے انہوں نے ان کی سفارش کی اور یہ اسلام قبول کر کے مکہ واپس آ گئے۔ مروان ایک بڑے عالم اور عبادت گزار آدمی تھے اور ان کی تربیت براہ راست اکابر صحابہ کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ امام مالک نے موطاء میں مروان کے متعدد عدالتی فیصلوں کو بطور “سنت ثابتہ” درج کیا ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مروان کو کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا البتہ ان سے کتابت کی خدمات لیتے رہے۔ سرکاری خطوط اور فرامین وغیرہ ان سے لکھواتے ۔ ظاہرہے کہ یہ کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے جس پر اعتراض ہو سکے۔ بعض حضرات نے انہیں حضرت عثمان کا سیکرٹری کہا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ مروان کو زیادہ سے زیادہ حضرت عثمان کا “پرسنل سیکرٹری” کہا جا سکتا ہے نہ کہ “سیکرٹری آف دی اسٹیٹ۔” ان کی ملازمت کی نوعیت کلیریکل نوعیت کی تھی کہ حضرت عثمان جو فیصلہ لکھوانا چاہیں، ان سے لکھوا لیں۔ انہیں کوئی انتظامی اختیارات حاصل نہ تھے، جس سے وہ فائدے اٹھا سکتے۔

جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو مروان ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پرجوش حامی بن کر ابھرے۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تلوار کے ذریعے باغیوں کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔ باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں یہ شدید زخمی بھی ہوئےجو کہ ان کے خلوص کا ثبوت ہے۔

طبری کی روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ان پر تنقید موجود ہے۔ یہ تنقید بھی ان کے حد سے بڑھے جوش سے متعلق ہے ورنہ بعد میں خود حضرت علی کی دو بیٹیوں کی شادیاں مروان کے دو بیٹوں سے ہوئیں۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔ چونکہ بعد میں مروان خود ایک سال کے لیے خلیفہ بنے اور ان کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں میں خلافت منتقل ہوئی جن کے خلاف باغی مسلسل تحریک چلاتے رہے، اس وجہ سے ان کے خلاف روایتیں وضع کر کے ان کی کردار کشی کی گئی۔

*معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما*

باغی راویوں نے جس ہستی کو سب سے زیادہ شدید تنقید اور تہمتوں کا نشانہ بنایا ہے ، وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بے مثال حکمت و دانش سے باغی تحریک کو کچل کر رکھ دیا تھا۔ کچھ تفصیل ہم نے ہچھلے سلسلوں میں پڑھی ہے اور اس کی مزید تفصیل ہم آگے حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے متعلق سلسلہ جات میں بیان کریں گے ان شاءاللہ،

🌷حضرت معاویہ کے بارے میں یہ الزام تراشی کی جاتی ہے کہ وہ ایک بڑے اسلام دشمن کے بیٹے تھے اور دل میں اسلام سے بغض رکھتے تھے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے چند برس اسلام دشمنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگوں کی قیادت کی لیکن فتح مکہ کے موقع پر وہ مسلمان ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نجران کا گورنر مقرر فرمایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو سفیان دل سے مسلمان ہو چکے تھے ورنہ انہیں ایک اہم اور حساس علاقے کا گورنر کیوں بنایا جاتا جہاں کی آبادی کی اکثریت عیسائی تھی۔ ویسے بھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاف فرما دیں، اس کے خلاف کسی بدزبانی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ حضرت معاویہ اور ان کے بڑے بھائی یزید رضی اللہ عنہما، عہد نبوی کی جنگوں یعنی بدر، احد اور خندق وغیرہ کے زمانے میں ابھی بچے تھے اور ان کا کسی جنگ میں کسی کردار کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ یہ تذکرہ ضرور ملتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد آپ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے تاکہ آپ کی تربیت اسلامی ماحول میں ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کاتب مقرر فرمایا اور آپ قرآن مجید کی وحی کی کتابت بھی کرتے رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شمالی عرب میں “تیماء” کا گورنر مقرر فرمایا جو کہ ایک سرحدی شہر تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قیصر روم سے جو جنگیں ہوئیں، ان میں یزید ایک بڑی فوج کے کمانڈر تھے اور معاویہ ان کے تحت افسر تھے۔ فتح کے بعد حضرت ابوبکر نے شام کا گورنر یزید کو مقرر کیا اور معاویہ ان کے نائب تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یزید نے وفات پائی تو ان کی جگہ معاویہ کو شام کا گورنر مقرر کیا گیا۔ شام وہ سرحدی علاقہ تھا جو مسلمانوں نے قیصر روم کی افواج سے حاصل کیا تھا۔ قیصر اس علاقے کو واپس لینا چاہتا تھا اور اس پر لشکر کشی کے منصوبے بناتا تھا۔ حضرت معاویہ نے اپنی بے مثال شجاعت اور حکمت سے قیصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا اور اس کے متعدد علاقوں میں مزید فتوحات حاصل کر کے موجودہ ترکی کا بھی چالیس فیصد علاقہ فتح کر لیا۔ اس طرح قیصر کی حکومت اب موجودہ ترکی کے ساٹھ فیصد علاقے تک محدود رہ گئی۔
حضرت عمر اپنے کسی گورنر سے کم ہی مطمئن ہوتے تھے اور اکثر ان کا تبادلہ کیے رکھتے تھے لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایسی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ حضرت عمر اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے انہیں نہ صرف ان کے عہدے پر برقرار رکھا بلکہ ان کے زیر نگیں علاقوں میں بھی اضافہ کرتے چلے گئے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں شام کا صوبہ شمال مشرق میں دریائے فرات سے لے کر مغرب میں دریائے نیل تک پھیلا ہواتھا۔ موجودہ شام، لبنان، فلسطین اور اردن کے پورے پورے ممالک صوبہ شام کا حصہ تھے جبکہ عراق اور ترکی کے بعض حصے بھی اسی صوبے میں شامل تھے۔شام ایک غیر معمولی صوبہ تھا کیونکہ اس کی سرحدیں بازنطینی ایمپائر کے ساتھ لگتی تھیں جس کا سربراہ قیصر روم تھا۔ قیصر کی کوشش تھی کہ کسی طرح اپنے مقبوضات واپس لے لے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ شام پر کسی غیر معمولی صلاحیتوں والے گورنر کو مقرر کیا جاتا ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو 20/642 میں یہاں کا گورنر مقرر کیا۔ شام میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی آباد تھے۔ یہاں کی عیسائی آبادی چونکہ ان کے اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھتی تھی اور رومن چرچ نے انہیں مرتد قرار دے رکھا تھا، اس وجہ سے ان کی حمایت مسلمانوں کے لیے تھی۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام کی مسلم اور غیر مسلم آبادی کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ سبھی آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آپ سے بے پناہ محبت کرنے لگے۔ ملکی دولت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ ہوا کرتی تھی اور ہر شخص کو اس کا حق ملتا تھا۔حضرت معاویہ نے حضرت عمر سے بارہا ایک مضبوط بحریہ (Navy) تیار کرنے کی اجازت طلب کی لیکن آپ نے بحری جنگ کے خطرات کے سبب یہ اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت عثمان نے اپنے دور میں اس شرط پر اس کی اجازت دی کہ کسی سپاہی کو بحریہ میں شمولیت پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحیرہ روم کے ساحلوں پر جہاز رانی کی ایک بہت بڑی صنعت قائم کی جس سے بے شمار لوگوں کو روزگار ملا اور ملک خوشحال ہوا۔ مسلم نیوی نے بحیرہ روم پر قیصر روم کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ جلد ہی جزیرہ قبرص (Cyprus) فتح ہو گیا اور ایک مہم قیصر کے دار الحکومت قسطنطنیہ کے لیے روانہ ہوئی۔ دوسری طرف موجودہ ترکی کے مشرقی علاقے میں جنگ بندی کی سی کیفیت تھی۔

اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے مقرر کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا پروری کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے صرف اتنا کیا کہ حضرت معاویہ کی ذمہ داریوں میں اس طرح اضافہ کیا کہ انہوں نے جو علاقے فتح کیے، وہ انہی کے تحت رہنے دیے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ علاقے مرکزی دار الحکومت سے اتنے دور تھے کہ مرکز کے لیے انہیں کنٹرول کرنا مشکل تھا۔ اس کے برعکس دمشق سے ان علاقوں کو اچھی طرح کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب ان علاقوں میں ایسا حسن انتظام کیا کہ قیصر روم کو یہاں کوئی کامیابی بھی حاصل نہ ہو سکی۔ حضرت عثمان کے زمانے میں باغی تحریک کو بصرہ، کوفہ اور مصر میں قدم جمانے کا موقع ملا لیکن شام میں اسے ذرہ برابر بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی جو کہ حضرت معاویہ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس پوری تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بنو امیہ کے صرف ایک شخص کو مقرر کیا اور وہ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے اپنی فتوحات اور حسن انتظام سے ثابت کیا کہ ان کی تقرری ٹھیک میرٹ پر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بقیہ چار گورنر ولید بن عقبہ، عبداللہ بن سعد، سعید بن عاص اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سول سروس میں داخل کر چکے تھے اور یہ حضرات اپنے کارناموں کے سبب پروموشن پا کر گورنر کے عہدوں پر پہنچے۔ گورنر بننے سے پہلے اور اس کے بعد انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ان کی پروموشن بھی ٹھیک میرٹ پر ہوئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی باغیوں کے اعتراض کے جواب میں یہی بات کی تھی:

🌷”یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نوجوانوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ میں نے انہی افراد کو حاکم بنایا ہے جو اہلیت رکھتے ہیں اور لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جو ان گورنروں کی عمل داری میں رہتے ہیں اور ان کے شہروں کے باشندے ہیں۔ مجھ سے پہلے بھی کم عمر شخص کو حاکم بنایا گیا تھا۔ (یاد کیجیے جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ (بن زید) کو افسر بنایا تھا تو اس وقت آپ پر اس سے زیادہ اعتراض کیا گیا تھا، جو مجھ پر اعتراض کیے جا رہے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟” لوگوں نے کہا: “جی ہاں۔ بے شک۔ یہ لوگ ایسے اعتراضات کرتے ہیں جنہیں وہ ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔”
( طبری۔ 35H/3/1/397-398)

ان پانچ افراد کے علاوہ بقیہ جتنے بھی گورنر تھے، ان میں سے کسی کا تعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں سے نہیں تھا

*کیا اکابر صحابہ کی بجائے طلقاء کو آگے بڑھایا گیا؟*

ان پانچ افراد کے علاوہ بقیہ جتنے بھی گورنر تھے، ان کا کوئی تعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں سے نہیں تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اکابر صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ “طلقاء” کو دی۔ طلقاء وہ لوگ تھے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔ یہ لفظ ان حضرات کے لیے ایک اعزاز کا باعث تھا جسے بعد میں لوگوں نے بطور طعنہ استعمال کیا۔ اعزاز اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توبہ قبول فرمائی تھی اور انہیں معاف کر دیا تھا۔ اس کے بعد کسی شخص کو ان کے بارے میں زبان طعن دراز کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ تمام افراد کو طلقاء نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ فتح مکہ کے موقع پر ابھی بچے تھے۔ ان کے والدین اور دیگر اعزا نے جب اسلام قبول کیا تو اس کے بعد ان کی پرورش اسلامی ماحول میں ہوئی اور وہ سچے اور پکے مسلمان بنے۔ بعد میں انہوں نے اپنے طرز عمل سے خود کو سچا مسلمان ثابت کیا۔ مناسب ہو گا کہ ایک ایک کر کے ان کے والدین کا بھی جائزہ لیا جائے۔

· ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے والد عقبہ طلقاء میں شامل تھے اور فتح مکہ کے موقع پر انہیں امان دی گئی تھی۔ ولید فتح مکہ کے موقع پر ابھی بچے تھے۔

· سعید بن عاص بن سعید بن عاص بن امیہ کا باپ عاص بن سعید جنگ بدر میں مارا گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ سعید بن عاص اپنے دادا کے اور ان کے والد، اپنے دادا کے ہم نام تھے۔ ان کی پرورش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی جو یتیموں کی پرورش کا خاص شوق رکھتے تھے۔ سعید کے دو چچا خالد بن سعید اور عمرو بن سعید رضی اللہ عنہما سابقون الاولون صحابہ میں شامل تھے۔

· عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کا تعلق بنو امیہ سے نہیں تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ بچے تھے۔

· عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو امیہ سے نہیں بلکہ بنو عامر بن لوئی سے تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کر دیا۔ ہاں یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی ضرور تھے۔

· مروان بن حکم بن ابی العاص کے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلا وطن کر دیا تاہم اس کے بعد یہ ایمان لائے اور انہیں معاف فرما دیا۔ مروان کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ صحابی ہیں یا تابعی۔ اگر صحابی بھی ہیں تو بھی یہ فتح مکہ کے موقع پر ابھی بچے تھے۔

· معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے والد فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور اس کے بعد مخلص مسلمان ثابت ہوئے۔ حضرت معاویہ اس وقت نوجوان تھے اور مسلمانوں کے خلاف کبھی کسی جنگ میں شریک نہ ہوئے تھے۔ ہم آگے چل کر بیان کریں گے کہ حضرت معاویہ نے صلح حدیبیہ کے وقت اسلام قبول کر لیا تھا تاہم اس کا اظہار فتح مکہ کے موقع پر کیا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے عبداللہ بن سعد کے، کسی اور شخص کو طلقاء میں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب مخلص مسلمان تھے جن کی پرورش اکابر صحابہ کے ہاتھوں ہوئی۔

*اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکابر صحابہ کی بجائے ان نوجوانوں کو گورنر کیوں مقرر کیا گیا تھا*

اگر ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور 23-35ھ/ع643-655 کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اکابر صحابہ عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ جو صحابی، عہد نبوی میں چالیس برس کا ہو گا، وہ اس زمانے میں لازماً 60-65 برس کا ہو چکا ہو گا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ نوجوان نسل کو آگے لایا جائے تاکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی سرحدوں کا موثر اور مضبوط انتظام کیا جائے۔ اکابر صحابہ نے اپنا تجربہ اس نسل تک منتقل کیا اور پھر اس نسل نے ذمہ داریاں سنبھال لیں اور بزرگ صحابہ نے پلاننگ جیسے کام اپنے ذمہ لے لیے۔

ایسا نہیں تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی مرضی سے گورنر مقرر فرما دیتے تھے اور عوام کی رائے کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا تھا۔ آپ کے تمام مقرر کردہ گورنر لوگوں کی رائے کے مطابق ہی مقرر کیے جاتے اور اگر کسی شہر کے لوگ اپنے گورنر کو پسند نہ کرتے تو اسے تبدیل کر دیا جاتا۔

🌷 امام بخاری، اپنی کتاب ’’تاریخ الصغیر‘‘ میں روایت کرتے ہیں:
حدثني محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا حصين بن نمير ثنا جبير حدثني جهيم الفهري: جہیم الفہری کہتے ہیں کہ اس معاملے کا میں گواہ ہوں۔ عثمان نے کہا: ’’ہر اس شہر کے لوگ کھڑے ہو جائیں جو اپنے گورنر کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں اسے معزول کر دوں گا اور اس شخص کو گورنر مقرر کروں گا جسے وہ پسند کریں گے۔‘‘ اہل بصرہ نے کہا: ’’ہم عبداللہ بن عامر سے خوش ہیں۔‘‘ انہوں نے انہیں مقرر کیے رکھا۔ اہل کوفہ نے کہا: ’’سعید بن عاص کو ہٹا کر ابو موسی (اشعری) کو مقرر کر دیجیے۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اہل شام نے کہا: ’’ہم معاویہ سے خوش ہیں۔‘‘ انہوں نے انہیں برقرار رکھا۔ اہل مصر نے کہا: ’’ابن ابی سرح کو ہٹا کر عمرو بن عاص کو مقرر کیجیے۔‘‘ حضرت عثمان نے ایسا ہی کیا۔
( بخاری۔ التاریخ الصغیر۔ روایت نمبر 334۔ مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔)

یہ غالباً اس زمانے کا واقعہ ہے جب باغی تحریک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔ اس تبادلے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے چارج لینے سے پہلے ہی حضرت عثمان شہید ہو گئے تھے۔

*بیت المال میں کرپشن کی تہمت*

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر باغیوں نے یہ الزام عائد کیا کہ آپ نے سرکاری اموال کی تقسیم میں اقرباء پروری سے کام لیا اور اپنے رشتہ داروں کو دولت دی۔ یہی الزام بعض تاریخی روایات میں بھی نقل ہو گیا ہے۔ اس بات میں تو شبہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر باغیوں نے یہ الزام لگایا لیکن اس کی حقیقت کیا ہے، اس پر بھی ہم یہاں گفتگو کریں گے۔

حضرت عثمان نے اس الزام کا جواب کیا دیا؟
🌷یہ الزام سراسر جھوٹ تھا اور اس کا جواب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود دیا۔
حدثني عبد الله بن أحمد بن شبوبه، قال: حدثني أبي، قال: حدثني عبد الله، عن إسحاق بن يحيى، عن موسى بن طلحة: (حضرت عثمان نے اہل مدینہ کے سامنے ایک خطبہ دیاجس میں فرمایا:) ان لوگوں (باغیوں ) نے ایسی باتیں کی ہیں جنہیں وہ بھی اسی طرح جانتے ہیں جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں۔ مگر وہ اس وجہ سے ان کا تذکرہ کر رہے ہیں تاکہ ناواقف لوگوں کے سامنے پراپیگنڈ ا کر سکیں۔ ۔۔۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی سرح کو مال غنیمت میں سے خاص عطیہ دیا۔ میں نے انہیں مال غنیمت کے خمس کا خمس (1/25) حصہ انعام کے طور پر دیا تھا جو کہ ایک لاکھ کی رقم تھی۔ ایسے احکام ابوبکر اور عمر نے بھی جاری کیے تھے۔ جب فوج نے اس بات کو ناپسند کیا تو میں نے یہ رقم واپس لے کر انہی میں تقسیم کر دی تھی حالانکہ یہ ابن ابی سرح کا حق نہیں تھا؟ کیا یہی بات ہے؟”
لوگوں نے کہا: “جی ہاں۔”
یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں مال دیتا ہوں۔ جہاں تک گھر والوں کی محبت کا تعلق ہے تو ان کی وجہ سے میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ صرف ان کے حقوق ادا کیے ہیں اور صرف اپنے مال ہی سے انہیں عطیات دیے ہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک مسلمانوں کا مال اپنی ذات یا کسی اور کو دینے کے لیے حلال نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر کے زمانے میں اپنی ذاتی ملکیت میں سے بہت زیادہ خیرات کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں کفایت شعار اور کنجوس تھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری عمر فنا ہو رہی ہے اور یہ تمام سرمایہ میں گھر والوں کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔ اس زمانے میں یہ ملحد ایسی باتیں بنا رہے ہیں۔ واللہ! میں نے کسی شہر میں سے اضافی مال حاصل نہیں کیاجس کی وجہ سے لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع ملا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میں یہ مال انہی کو لوٹا دیتا تھا اور میرے پاس صرف پانچواں حصہ ہی پہنچتا تھا اور اس میں سے بھی کوئی چیز میں نے اپنے لیے کبھی نہیں رکھی۔ مسلمان اس مال کو وہاں کے لوگوں میں تقسیم کرتے تھے، میرا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ اللہ کے مال میں سے ایک پائی بھی ضائع نہیں کی گئی اور میں صرف اپنے ذاتی مال میں سے گزر اوقات کرتا ہوں۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو زمینیں دیں۔ ان زمینوں میں مہاجرین و انصار کے وہ لوگ شریک ہیں جنہوں نے انہیں فتح کیا۔ لہذا جو شخص ان فتوحات کے مقام پر رہتا ہے، وہ اس کا مالک ہے اور جو اپنے اہل و عیال کے پاس آ گئے، تو ان کے ساتھ وہ زمینیں منتقل نہیں ہوئیں۔ اس لیے میں نے اس قسم کی زمینوں کے بارے میں غور کیا تو اصل مالکوں کی اجازت اور مرضی سے عرب کی زمنیوں کے ساتھ ان کا تبادلہ کیا گیا۔ اس طرح یہ زمینیں انہی لوگوں کے قبضہ میں ہیں، میرے قبضے میں نہیں۔
(راوی کہتے ہیں کہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اور زمینیں بنو امیہ میں تقسیم کر دی تھیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس میں عام حصہ دار بنایا تھا۔ اس تقسیم کا آغاز انہوں نے ابو العاص کی اولاد سے کیا تھا۔ چنانچہ (ابو العاص کے بیٹے) حکم کی اولاد میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار دیے، اس طرح ان سب نے کل ایک لاکھ کی رقم حاصل کی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی رقم دی تھی۔ اس کے علاوہ بنو عاص، بنو عیص اور بنو حرب میں اپنے مال کو تقسیم کر دیا تھا۔
( طبری۔ 3/1-396)

اس روایت سے واضح ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سرکاری مال کی ایک پائی بھی اپنے کسی رشتے دار کو نہیں دی بلکہ ان کی کفالت ہمیشہ اپنے مال سے کی۔ انہوں نے تو بیت المال سے اپنی خدمات کے عوض تنخواہ بھی کبھی وصول نہیں کی۔ آپ کو صلہ رحمی کا شوق تھا، اس وجہ سے آپ اپنا ذاتی مال اپنے غریب رشتے داروں کو دیا کرتے تھے اور متعدد یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ باغیوں نے اس بات کو پکڑ کر یہ پراپیگنڈا کیا کہ آپ سرکاری مال کو اپنے رشتے داروں پر لٹا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں آپ نے مذکورہ تقریر فرمائی اور اس میں اس اعتراض کا نہ صرف جواب دیا بلکہ اہل مدینہ سے اس کی تصدیق بھی کروائی۔ اگر حضرت عثمان، بیت المال میں سے اپنے رشتے داروں کو کچھ دیتے تو یہ بات اہل مدینہ سے ہرگز چھپی نہ رہتی کیونکہ بیت المال کی ذمہ داری حضرت زید بن ثابت اور عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہما کے سپرد تھی اور عطیات کی تقسیم کا کام رات کی تاریکی میں نہیں ہوتا تھا بلکہ مسجد نبوی میں یہ کام سب کے سامنے ہوا کرتا تھا۔ پھر بیت المال سے کسی کو کوئی رقم دے دینا محض خلیفہ کی صوابدید پر نہ ہوتا تھا بلکہ یہ سب مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہوتا تھا۔ ہر سال بیت المال کے اکاؤنٹس کی کلوزنگ ہوتی اور سارا حساب لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔ اس وجہ سے اگر اس میں کوئی بدعنوانی ہوتی تو اہل مدینہ فوراً اعتراض کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المال میں خرد برد کا یہ الزام سراسر جھوٹ تھا۔

*بیت المال میں کرپشن سے متعلق روایات کی پوزیشن کیا ہے؟*

اس موضوع پر ہم نے تاریخ کی تینوں قدیم ترین کتب میں ایسی روایتیں تلاش کی ہیں جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ الزام لگایا گیا ہو اور ہمیں کل 16 روایتیں ایسی مل سکی ہیں جن میں یہ الزام موجود ہے۔ ان روایتوں کا تجزیہ اس جدول میں دیا گیا ہے:

تاریخ کی کتابوں میں
بیت المال سے متعلق ٹوٹل روایات یہ ہیں،

ابن سعد (168-230/784-845) میں ٹوٹل اس بارے 2 روایات ہیں اور دونوں کا روای
محمد بن عمر الواقدی ہے جو ناقابل اعتماد ہے،

بلاذری (d. 279/893) میں ٹوٹل اس بارے 13 روایات ہیں، جس میں واقدی: 9۔ ابو مخنف: 3۔ محمد بن حاتم بن میمون اور حجاج اعور: 1 ، یعنی یہ 13 روایات بھی ناقابل اعتماد راویوں کی ہیں،

طبری (224-310/838-922) میں ایک ہی روایت ہے اور وہ بھی واقدی: 1 سے جو کے ناقابل اعتماد راوی یے،

یعنی اس بارے تاریخ کی کتب میں 16 روایات ہیں اور سب کی سب ناقابل اعتماد راویوں سے ہیں،

مناسب رہے گا کہ اگر آپ تاریخ روائیتوں کی چھان بین کے اصولوں پر پہلے سلسلہ جات میں ایک بار پھر نظر ڈال لیجیے اور پھر ان روایتوں پر غور کیجیے۔ آپ کے سامنے ایک عجیب بات آئے گی ۔ بلاذری نے جو 13روایتیں نقل کی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب ابن سعد سے نقل کی ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ابن سعد کی “الطبقات الکبری” میں ان میں سے صرف دو روایتیں ہی موجود ہیں، بقیہ روایتیں ابن سعد کی اپنی کتاب میں غائب ہیں لیکن بلاذری انہیں ابن سعد ہی کے حوالے سے لکھ رہے ہیں۔ مناسب رہے گا کہ یہاں ہم ان روایتوں کی سند اور روایت کا خلاصہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ان روایات کا ماخذ کیا ہے۔ روایتوں کی سند میں خط کشیدہ ناموں کو غور سے دیکھیے:

1. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن أبيها: حضرت عثمان نے کہا: ابوبکر اور عمر اس مال کے معاملے میں خود پر اور اپنے رشتے داروں پر سختی کرتے تھے جبکہ میرا خیال ہے کہ اس میں صلہ رحمی سے کام لینا چاہیے۔

2. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، حدثني محمد بن عبد الله عن الزهري: حضرت عثمان چھ سال تک محبوب ترین شخصیت رہے۔ پھر انہوں نے اپنے رشتے داروں کو عہدے دیے، مروان کو افریقہ کا خمس دیا اور اپنے رشتے داروں کو مال دیا اور اسے صلہ رحمی قرار دیا۔ انہوں نے انہیں بیت المال سے قرضے دیے، اس پر لوگوں نے ان پر تنقید کی۔

3. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن محمد بن عبد الله الزهري: حضرت عثمان گھوڑوں کی زکوۃ میں سے کچھ لے لیا کرتے تھے۔

4. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن أسامة بن زيد بن أسلم، عن نافع مولى الزبير، عن عبد الله بن الزبير: حضرت عثمان نے مروان بن حکم کو غنیمت کا پانچواں حصہ دیا۔

5. حدثني عباس بن هشام الكلبي، عن أبيه، عن لوط بن يحيي أبي مخنف عمن حدثه: ابو مخنف نے کسی شخص سے یہ روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ، حضرت عثمان کے رضاعی بھائی اور مغرب کے گورنر تھے۔ انہوں نے 27 ہجری میں افریقہ میں جہاد کیا اور مروان بن حکم ان کے ساتھ تھے۔ مروان نے ایک لاکھ یا دو لاکھ دینار میں غنیمت کا پانچواں حصہ خرید لیا۔ انہوں نے حضرت عثمان سے بات کی تو انہوں نے یہ انہیں تحفے میں دے دیا۔ اس پر لوگوں نے آپ پر تنقید کی۔

6. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة: مروان نے مدینہ میں گھر بنایا اور لوگوں کی دعوت کی اور کہا: “واللہ اس گھر کی تعمیر میں میں نے مسلمانوں کے مال میں سے ایک درہم بھی خرچ نہیں کیا۔ ” اس پر مسور نے کہا: اگر آپ کھانا کھائیں اور چپ رہیں تو یہ آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ آپ نے ہمارے ساتھ افریقہ میں جہاد کیا اور آپ کے پاس مال، لونڈی غلام اور ساتھی سب سے کم تھے۔ پھر ابن عفان نے آپ کو افریقہ کا خمس دیا اور آپ کو صدقات پر مقرر کیا تو آپ نے مسلمانوں کے مال سے لے لیا۔ ”

7. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عبد الله بن جعفر، عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن أبيها: حضرت عثمان کے پاس اونٹوں کے صدقات آئے تو انہوں نے اسے حارث بن حکم بن ابی العاص کو تحفے میں دے دیا۔

8. حدثني محمد بن حاتم بن ميمون، حدثنا الحجاج الأعور، عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس: حضرت عثمان نے حکم بن ابی العاص کو قضاعہ سے صدقات وصول کرنے بھیجا جو کہ تین لاکھ درہم کی رقم دی۔ جب وہ لے کر آئے تو حضرت عثمان نے یہ رقم انہی کو دے دی۔

9. قال أبو مخنف والواقدي في روايتهما: حضرت عثمان نے سعید بن عاص کو کو ایک لاکھ درہم دیے تو علی، زبیر، طلحہ، سعد اور عبد الرحمن بن عوف نے ان پر تنقید کی۔

10. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن ابن أبي سبرة، عن أشياخه، قالوا: ابن ابی سبرہ نے اپنے استادوں سے روایت کی اور انہوں نے کہا: جب بارش ہوئی تو حضرت عثمان نے کچھ لوگوں کو صدقات وصول کرنے بھیجا۔ انہوں نے ذمہ داری ان لوگوں کو تفویض کی اور انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ اس پر نہ تو آپ نے انہیں تبدیل کیا اور نہ ہی ان سے باز پرس کی۔ اس پر لوگوں کو آپ کے خلاف جرأت ہوئی اور انہوں نے ان عہدے داروں کے کام کو آپ سے منسوب کیا۔

11. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن زيد بن السائب، عن خالد مولى أبان بن عثمان: مروان نے تیس اونٹ مدینہ میں بیچے تو اعلان کروایا کہ امیر المومنین انہیں خریدنا چاہتے ہیں جبکہ حضرت عثمان انہیں خریدنا نہیں چاہتے تھے۔

12. حدثني محمد بن سعد عن الواقدي، عن عيسى بن عبد الرحمن، عن أبي إسحاق الهمداني: حضرت علی نے حضرت عثمان سے شکایت کی کہ آپ کو حضرت عمر نے کہا تھا کہ بنو امیہ اور بنو ابو معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کیجیے گا۔

13. قال أبو مخنف في إسنادة: حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت کو ایک لاکھ درہم دیے تو اسلم بن اوس ، جس نے حضرت عثمان کو بقیع میں دفن ہونے سے روکا تھا، نے یہ اشعار پڑھے: “۔۔۔ انہوں نے مروان کو ظالمانہ طور پر خمس دیا۔”
(بلاذری۔ 6/138-149)

14. ذكر محمد بن عمر (الواقدي) أن عبد الله بن جعفر حدثه عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن أبيها: حضرت عثمان نے حکم بن ابی العاص کو صدقات کے اونٹ دیے۔ جب یہ بات حضرت عبد الرحمن بن عوف تک پہنچی تو انہوں نے یہ واپس لے کر لوگوں میں تقسیم کر دیے۔
( طبری۔ 3/1-418)

آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ 14میں سے 13روایتیں یا تو محمد بن عمر الواقدی کی روایت کردہ ہیں یا پھر ابو مخنف کی۔ ان دونوں حضرات کے بارے میں ہم اس تاریخی سلسلے میں جگہ جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ کسی درجے میں قابل اعتماد راوی نہیں ہیں۔ روایت نمبر 8 میں البتہ سند میں نہ تو واقدی ہیں اور نہ ابو مخنف۔ اس کی سند میں محمد بن حاتم بن میمون (d. 235/850)ہیں جن کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ یحیی بن معین اور ابن المدینی نے انہیں کذاب قرار دیا ہے۔
(ذہبی۔ میزان الاعتدال_ راوی نمبر 7336۔ 6/94)

دوسرے راوی حجاج الاعور ہیں جن کا پورا نام حجاج بن علی ہے۔ ان صاحب کے حالات نامعلوم ہیں البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ ابو مخنف کے استاذ تھے۔
(ذھبی میزان الاعتدال ،راوی 1475۔ 2/203)

ابن سعد کی طبقات میں ان میں سے صرف دو روایتیں نقل ہوئی ہیں اور دونوں کی دونوں واقدی سے مروی ہیں۔ طبری میں اس سلسلے میں صرف ایک ہی روایت ہے جو کہ واقدی سے مروی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے کی تمام روایات کا کُھرا (Trail) واقدی یا ابو مخنف ہی پر جا کر ختم ہوتا ہے۔

*کیا افریقہ کے خمس میں سے ابن ابی سرح اور مروان کو کچھ دیا گیا؟*

اس ضمن میں دو روایتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک تو وہی روایت جس کا ذکر اوپر ہوا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو افریقہ کے مال غنیمت کے خمس کا خمس عطا کیا تھا۔ دوسری روایت کے مطابق یہ خمس مروان بن حکم کو دے دیا تھا۔

ان روایات کی وضاحت سے پہلے مناسب یہ ہوگا کہ خمس کا قاعدہ بیان کر دیا جائے۔ قرآن مجید کا اس معاملے میں حکم یہ ہے:

🌷وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِنْ كُنتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ.
اگر آپ اللہ پر ایمان رکھتے ہوں تو جان لیجیے کہ جو کوئی چیز آپ کو مال غنیمت میں ملے، اس کا پانچواں حصہ (1/5) اللہ، اس کے رسول، آپ کے رشتے داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔(الانفال 8:41)

چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اور حکومت کی ذمہ داریوں سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ آپ اپنے معاش کا انتظام کر لیں، اس وجہ سے یہ قانون بن گیا کہ جنگوں کے دوران مسلمانوں کو دشمن افواج سے جو مال غنیمت ملے، اس کا 4/5 فوج میں تقسیم کر دیا جائے اور اس کا خمس یعنی 1/5 مرکزی حکومت کو بھیجا جائے۔ اس خمس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال ،یتیموں، مساکین اور مسافروں پر خرچ فرماتے۔ آپ کے اہل و عیال کو بھی اس میں سے جو کچھ ملتا، وہ بھی اس کا بیشتر حصہ اپنی ضروریات کی بجائے انہی یتیموں اور مساکین پر خرچ کرتے۔ اس خمس کا خمس یعنی 1/25 حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی فنڈ قرار پایا جسے آپ اللہ تعالی کی ہدایت کے مطابق خرچ کرتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہی خمس مرکزی حکومت کو ملنے لگا جس کی حیثیت ایک Benevolent Fund کی ہو گئی۔ چونکہ اب قیصر و کسری کے خزانے فتح ہو رہے تھے، اس وجہ سے خمس کی مقدار بھی بہت زیادہ ہونے لگی اور اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانے لگا۔امام شافعی نے کتاب الام میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خمس کے خرچ کا طریقہ یہ طے فرمایا کہ اس خمس کا خمس یعنی 1/25 حصہ حکمران کا صوابدیدی فنڈ ہو گا۔
( محمد بن ادریس الشافعی۔ کتاب الام۔ قسم الفئي والغنيمة، الوجه الثالث۔ نمبر 1843۔ ص 5/315۔ المنصورۃ : دار الوفا۔ www.waqfeya.com)

خمس کے بقیہ چار حصے یتیموں، مساکین اور دیگر کمزور طبقات پر خرچ ہونے لگے۔ اس طرح سے مال غنیمت میں دشمن افواج سے جو بھی اموال ملتے، ان کا 24/25 مسلمانوں پر تقسیم ہو جاتا اور 1/25 خلیفہ کے حصے میں آتا۔ اس رقم کو بھی خلفاء بالعموم امت کے مفاد میں خرچ کرتے تھے اور کبھی اس ضمن میں بعض کمانڈروں کو بطور انعام دے دیا کرتے تھے۔

🌷حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ ترغیب دلائی تھی کہ اگر وہ لیبیا اور تیونس کے علاقے کو فتح کر لیں تو مال غنیمت کا 1/25 حصہ انہیں ملے گا۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ مہم سر کر لی جس میں بے پناہ مال غنیمت ملا۔
کمانڈر عبداللہ اس 1/25 کے حقدار ٹھہرے جو کہ ایک لاکھ درہم کےقریب بنتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ رقم دی تو ان کی فوج کو یہ بات پسند نہ آئی۔ فوج کے مورال کو بچانے کے لیے حضرت عثمان نے انہیں وہ رقم واپس کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ رقم ان کی فوج پر تقسیم کر دی گئی۔
( طبری۔ 3/1-396)

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کسی تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کیا اور رقم واپس کرنے کے بعد بھی اسی طرح تن دہی سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس سے ان کے خلوص نیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

*حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے افریقہ کی فتوحات کا پورا خمس مروان بن حکم کو دے دیا تھا۔*

یہ بھی محض ایک تہمت ہے۔ علامہ ابن خلدون (732-808/1332-1405)بیان کرتے ہیں:
🌷ابن زبیر نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ مدینہ بھیجا جسے مروان نے پانچ لاکھ دینار میں خرید لیا۔ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے مروان کو عطا کیا تھا، یہ بات درست نہیں ہے
( ابن خلدون۔ تاریخ۔ فتح افریقہ کا باب۔ 2/574۔ بیروت: دار الفکر 2000)

*باغیوں کو پراپیگنڈا کے لیے بہانہ چاہیے تھا، انہوں نے مروان کی اس خریداری کو عطیہ بنا دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے۔ اگر انہیں اس کا موقع نہ بھی ملتا تب بھی انہوں نے کوئی اور اعتراض کر دینا تھا۔ اوپر بیان کردہ روایات میں آپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ مروان کو افریقہ کا خمس دیے جانے کی روایت ابو مخنف ہی سے مروی ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کا صحابہ کرام سے بغض مشہور ہے اور یہ اسی باغی تحریک کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے تھے جو آپ کے خلاف اٹھی تھی*

*کیا حضرت عثمان کا لائف اسٹائل شاہانہ تھا؟*

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ وہ نرم اور عمدہ غذا کھاتے تھے جبکہ ان کے پیشرو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کھانا نہایت سادہ ہوتا تھا۔ اس کا جواب آپ نے کیا دیا:

🌷عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قریش کے جو لوگ بوڑھے ہو جاتے تھے، وہ نرم کھانا پسند کرتے تھے۔ ایک رات میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہایت عمدہ پکا ہوا کھانا کھایا ۔ اس سے پہلے میں نے اس سے زیادہ عمدہ کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس میں بکری کے پیٹ کا گوشت بھی تھا اور اس کے علاوہ دودھ اور گھی بھی تھا۔ عثمان نے پوچھا: “آپ کے خیال میں یہ کھانا کیسا ہے؟” میں نے کہا: “یہ سب سے عمدہ کھانا ہے جو میں نے کھایا ہے۔” اس پر عثمان نے فرمایا: “اللہ تعالی عمر بن خطاب پر رحم کرے ، کیا آپ نے ان کے ساتھ بھی اس قسم کا کھانا کھایا تھا؟” میں نے کہا: “ہاں! مگر جب میں اپنا لقمہ منہ کی طرف لے جاتا تھا تو وہ لقمہ میرے ہاتھ سے نکل پڑتا تھا۔ اس میں نہ تو گوشت تھا اور نہ دودھ۔ سالن میں البتہ کچھ گھی ہو تا تھا۔ ”
عثمان نے فرمایا: “آپ سچ کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمر نے اپنے جانشینوں کے کام کو مشکل کر دیا ہے۔ وہ اشیائے خور ونوش میں سے معمولی چیز استعمال کرتے تھے۔ مگر میں جو کھانا کھاتا ہوں، وہ مسلمانوں کے مال کو خرچ کر کے نہیں کھاتا ہوں بلکہ اپنے ذاتی مال سے کھاتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال دار تھا اور تجارت میں سب سے زیادہ محنت کرتا تھا۔ میں ہمیشہ سے اچھا کھانا کھاتا رہا ہوں اور اب تو ایسی عمر کو پہنچ گیا ہوں کہ سب سے عمدہ کھانا مجھے مرغوب ہے۔ اس معاملے میں کسی کی حق تلفی نہیں کرتا ہوں۔
(طبری۔ 3/1-459)

*اکابر صحابہ کا عدم اطمینان*

*باغی راویوں نے اپنی روایتوں میں کوشش کی ہے کہ ایسا تاثر پیش کیا جائے جس سے ظاہر ہو کہ اکابر صحابہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسیوں سے خوش نہ تھے۔ ایسا کر کے وہ اپنی بغاوت کو جسٹی فائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جبکہ حقیقت ان باغیوں کی باتوں کے برعکس ہے،تاریخ میں ایسی روایات بھری ہوئی ہیں جن کے مطابق جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اکابر صحابہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کیا۔ انہوں نے باغیوں کے الزامات کے جواب دیے اور حضرت عثمان کی سکیورٹی کے لیے اپنے جواں سال بیٹوں کی جان خطرے میں ڈالی۔ ان میں سب سے نمایاں حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم تھے۔ پھر جب آپ کو شہید کر دیا گیا تو انہی صحابہ نے قاتلین کے خلاف زبردست رد عمل ظاہر کیا۔ اگر اکابر صحابہ مطمئن نہ ہوتے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایسا زبردست رد عمل ظاہر نہ کرتے۔ تمام اکابر صحابہ نہ صرف حضرت عثمان سے مطمئن تھے بلکہ ان کی پالیسی سازی میں خود بھی شریک تھے۔ یہاں ہم چند صحابہ کے ارشادات کو نقل کر رہے ہیں جس سے ان کی رائے کا اندازہ ہوتا ہے*

*اکابر صحابہ کی عثمان رض سے ناراضگی کے متلعق تاریخ کی اولین کتب میں بیان ہونے والی ایسی 19 روایتیں ہمیں مل سکی ہیں جن کی تفصیل کو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے*

ابن سعد (168-230/784-845)
میں ٹوٹل 1 روایت ہے اس بارے، وہ بھی ناقابل اعتماد راوی قنافہ عقیلی سے ہے،

بلاذری (d. 279/893) میں ٹوٹل 16 روایات ہیں جن میں سے واقدی: 8۔
ابو مخنف: 4۔ ہشام کلبی: 1۔ بہز بن اسد: 2۔ نامعلوم: 1 سے مروی ہیں، یعنی تمام روایات ہی ناقابل اعتماد راویوں کی ہیں،

طبری (224-310/838-922) میں ٹوٹل اس بارے ص روایات ہیں جن میں سے
واقدی: 1۔ سیف بن عمر: 1 یعنی دونوں روایات ہی ناقابل اعتماد راویوں کی ہیں،

*یعنی باغیوں کے اس پروپیگنڈا کو ثابت کرنے والی ٹوٹل 19 روایات ہیں جو کہ سب کی سب ناقابل اعتماد راویوں سے مروی ییں،*

🌷طبری نے مختلف جلیل القدر صحابہ کے الفاظ نقل کیے ہیں جو انہوں نے خلیفہ مظلوم کی شہادت کی اطلاع سننے پر کہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:
“اللہ عثمان پر رحم کرے اور ہمیں خیر و عافیت عطا فرمائے۔ ” کچھ لوگوں نے عرض کیا: ” اب یہ (باغی) لوگ پریشان ہو رہے ہیں۔ ” اس پر آپ نے یہ آیت پڑھی: “یہ لوگ شیطان کی طرح ہیں کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر اختیار کر لو۔ پھر جب و ہ کافر بن جاتا ہے تو شیطان کہتا ہے: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
(طبری۔ 3/1-448)

🌷حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ عثمان پر رحم کرے اور ان کا مددگار رہے۔ ” لوگوں نے بتایا: “یہ لوگ اب پریشان ہو رہے ہیں۔” فرمایا: “انہوں نے سازش کی اور جو وہ چاہتے تھے، وہ پورا نہیں ہو سکا۔ ان کے لیے ہلاکت ہے۔ ” پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔”وہ نہ وصیت کر سکتے ہیں اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
(طبری۔ 3/1-448)

🌷حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا:
یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں اکارت گئیں۔ حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔” پھر فرمایا: “اے اللہ! انہیں اپنے کاموں میں پریشان کر کے رکھ دے اور پھر انہیں اپنی گرفت میں لے لے۔
(طبری ۔ 3/1-448)

🌷سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
لوگ عثمان پر تہمتیں لگاتے تھے اور ان کے گورنروں کو مجرم قرار دیتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ ہمارے پاس آتے اور عمال کے حالات بیان کر کے ہم سے مشورہ طلب کرتے۔ ان کی ظاہری گفتگو سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ اصلاح کے طلب گار اور نیک لوگ ہیں۔ لیکن جب ہم حالات کی چھان بین کرتے تو ہمیں عثمان نہایت متقی اور ان الزامات سے بری نظر آتے۔ وہ لوگ، جو ان کی شکایات کرتے تھے، وہ تقوی کے بھیس میں فاجر اور کذاب نظر آتے۔ ان کا ظاہر کچھ ہوتا اور باطن کچھ اور۔ان لوگوں نے جب اس دھوکہ اور فریب سے قوت مہیا کر لی تو مدینہ پہنچ کر عثمان کو ان کے گھر میں محصور کر لیا اور انہیں شہید کر کے ایک حرام خون کو حلال کر لیا۔ پھر انہوں نے اس مال کو لوٹا جس کا لینا حرام تھا اور بغیر کسی جواز کے مدینۃ الرسول کی بے حرمتی کی۔ وہ جس چیز کے طلب گار ہیں، وہ آپ لوگوں کے لیے مناسب نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ قاتلین عثمان سے قصاص لیجیے اور اللہ عزوجل کے حکم کو قائم کیجیے۔*
🌷اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: أَلَمْ تَرَى إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنْ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ “کیا آپ ان لوگوں کو، جنہیں کتاب دی گئی تھی، نہیں دیکھتے کہ جب انہیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ کتاب اللہ کے مطابق ان کا فیصلہ کیا جائے تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر کر اور اعراض کر کے چل دیتا ہے۔”(آل عمران 3:23)
(طبریً ۔ 36H/3/2-68)

*صحابہ کرام کی اس محبت کے بعد اب ہم ان چند روایات کو پیش کر رہے ہیں جن سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اکابر صحابہ ، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن نہ تھے۔ اس کے ساتھ ہی ہم ان روایتوں کا روایت اور درایت کے اصولوں کے تحت جائزہ لیں گے۔*

*کیا حضرت عمر کو اپنے بعد کوئی خدشہ تھا؟*

بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خدشہ تھا کہ آپ کے بعد قبائلی عصبیتیں نہ اٹھ کھڑی ہوں۔ اس وجہ سے آپ خاص کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں محتاط تھے۔ اس ضمن میں وہ ایک من گھڑت روایت پیش کرتے ہیں جسے بلاذری نے نقل کیا ہے اور وہیں سے یہ آگے پھیلی ہے۔ اس کے بعد ابن عبد البر نے “الاستیعاب” میں اسے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس میں کسی راوی نے خاصا مرچ مصالحہ لگا دیا ہے۔

ابن عبد البر کی روایت کچھ یوں ہے:

🌷حدثنا عبد الوارث بن سفيان قراءة منى عليه من كتابى وهو ينظر فى كتابه قال، حدثنا أبو محمد قاسم بن أصبغ، حدثنا أبو عبيد بن عبد الواحد البزار، حدثنا محمد بن أحمد بن ايوب، قال قاسم وحدثنا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ حدثنا سليمان بن داود قالا حدثنا إبراهيم بن سعد حدثنا محمد بن إسحاق عن الزهرى عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس:
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، آپ کہتے ہیں: میں ایک دن حضرت عمر کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ آپ نے ایک گہری سانس لی اور مجھے ایسا لگا کہ کہیں آپ کی پسلیاں نہ چٹخ گئی ہوں۔ میں نے کہا: “سبحان اللہ! امیر المومنین! بخدا یہ تو کوئی بڑی بات ہے جس کے سبب آپ نے ایسی سانس بھری ہے۔” وہ بولے: “افسوس! ابن عباس! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کروں۔ ” میں نے عرض کی: “یہ کیا بات ہوئی؟ آپ کو اختیار حاصل ہے کہ کسی قابل اعتماد شخص کو اس (خلافت) کے لیے نامزد کر دیں۔” فرمایا: “آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے صاحب یعنی علی رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔” میں نے کہا: “جی ہاں! میں یہ ان کی اسلام میں سبقت، ان کے علم، ان کی قرابت اور ان کی دامادی کے سبب کہتا ہوں۔” فرمایا: “ہاں، وہ ایسے ہی ہیں لیکن ان میں ظرافت بہت ہے۔”
میں نے عرض کیا: “عثمان کے بارے میں خیال ہے؟” فرمایا: “واللہ! اگر میں نے انہیں نامزد کر دیا تو وہ ابو معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیں گے کہ وہ ان کے معاملے میں اللہ کی نافرمانی کریں۔ واللہ! اگر میں نے ایسا کیا تو وہ یہی کام کریں گے۔ پھر لوگ ان پر پل پڑیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔”
میں نے کہا: “طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟” فرمایا: “ارے وہ خود پرست! اس (خلافت) کا مقام ان سے کہیں ارفع ہے، خدا نہ کرے کہ امت محمدی کے معاملات میں ان جیسے مغرور شخص کے سپرد کروں۔”
میں نے کہا: “زبیر بن عوام ؟” کہنے لگے: “وہ تو لوگوں کو صاع (پیمانوں) سے ناپ ناپ کر دیں گے۔”
میں نے کہا: “سعد بن ابی وقاص کے بارے میں کیا خیال ہے؟” فرمایا: “وہ اس کام کے نہیں، وہ تو بس اس کام کے ہیں کہ سواروں کا دستہ لے کر جنگ کریں۔”
میں نے کہا: “اور عبدالرحمن بن عوف؟” فرمایا: “آدمی اچھے ہیں مگر یہ کام ان کے بس کا نہیں۔ واللہ! ابن عباس! اس کام (خلافت) کے لائق تو بس وہ ہے جو طاقتور ہو مگر تند خو نہ ہو۔ نرم رو ہو مگر کمزور نہ ہو۔ سخی ہو مگر اسراف نہ کرتا ہو۔ کنٹرول کرنا جانتا ہو مگر بخل کے بغیر۔ ” ابن عباس کہتے ہیں: “واللہ عمر ایسے ہی تھے۔”( ابن عبد البر (368-463/979-1071)۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ 2/59، باب علی)

اس روایت کی سند اور متن دونوں ہی میں مسائل ہیں۔ روایت کا لفظ لفظ پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا گھڑنے والا سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے، شوری کے بقیہ تمام صحابہ سے شدید بغض رکھتا ہے۔ اس وجہ سے اس نے اپنے بغض کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے ادا کروانے کی کوشش کی ہے۔ حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے چونکہ باغی تحریک کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی، اس وجہ سے ان کے بارے میں خاص بغض اس روایت کے الفاظ میں ٹپک رہا ہے۔

متن کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک تو یہ روایت، ان صحیح اور مستند روایتوں کے بالکل مخالف تصویر پیش کرتی ہے جن کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شوری کو متعین کرتے ہوئے فرمایا تھا:

🌷آپ کے سامنے وہ جماعت ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی انہی میں سے ہیں مگر میں انہیں اس شوری میں شامل نہیں کروں گا۔ ان لوگوں میں سے علی اور عثمان تو بنو عبد مناف میں سے ہیں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں۔) عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہیں۔ زبیر بن عوام آپ کے حواری اور پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ اور انہی میں طلحۃ الخیر بن عبیداللہ بھی ہیں۔
( طبری۔ 3/1-254)

اور دوسری بات راوی نے اوپر والی روایت کو گھڑتے ہوئے حضرت عثمان کے بارے میں حضرت عمر کے جو الفاظ نقل کیے ہیں، ان سے خود اس کی تردید ہو جاتی ہے۔
الفاظ یہ ہیں: ” واللہ! اگر میں نے انہیں نامزد کر دیا تو وہ ابو معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیں گے کہ وہ ان کے معاملے میں اللہ کی نافرمانی کریں۔ واللہ! اگر میں نے ایسا کیا تو وہ یہی کام کریں گے۔ پھر لوگ ان پر پل پڑیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔”

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عثمان نے تو ابو معیط کی اولاد میں سے کسی کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ صرف ایک ولید بن عقبہ بن ابی معیط تھے جن کی تقرری خود حضرت عمر نے کی تھی، نہ کہ حضرت عثمان نے۔ ان کے علاوہ حضرت عثمان نے ابو معیط کے کسی بیٹے یا پوتے کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ رضی اللہ عنہم

🌷اب ہم سند کو دیکھتے ہیں۔
ابن عبد البر (368-463/979-1071)نے اس کی یہ سند بیان کی ہے: حدثنا عبد الوارث بن سفيان قراءة منى عليه من كتابى وهو ينظر فى كتابه قال، حدثنا أبو محمد قاسم بن أصبغ، حدثنا أبو عبيد بن عبد الواحد البزار، حدثنا محمد بن أحمد بن ايوب، قال قاسم وحدثنا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ حدثنا سليمان بن داود قالا حدثنا إبراهيم بن سعد حدثنا محمد بن إسحاق عن الزهرى عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس۔

1۔ عبدالوارث بن سفیان جن سے ابن عبد البر نے روایت کی ہے، کے حالات نامعلوم ہیں اور یہ معلوم نہیں کہ وہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔

2۔ سلیمان بن داؤد نام کے بہت سے راوی ہیں جن میں سوائے ایک کے سبھی ضعیف ہیں۔ میزان الاعتدال میں اس نام کے آٹھ راویوں کا ذکر ملتا ہے جو کہ نمبر 3451-3458 پر درج کیے گئے ہیں۔
ان میں سے پہلے سلیمان بن داؤد خولانی ہیں جو کہ ضعیف ہیں۔ دوسرے سلیمان بن داؤد الیمامی ہیں اور وہ بھی ضعیف اور متروک ہیں۔ تیسرے ابو داؤد سلیمان بن داؤد طیالسی (d. 204/819) ہیں جو کہ ثقہ ہیں لیکن بکثرت غلطیاں کرتے ہیں۔ چوتھے سلیمان بن داؤد المنقری الشاذکونی (d. 234/848) ہیں جو کہ نہایت ہی ضعیف اور متروک الحدیث ہیں اور ان پر جھوٹ گھڑنے کا الزام بھی ہے۔ پانچویں سلیمان بن داؤد القرشی ہیں جن کے احوال کا علم نہیں ہے۔ چھٹے سلیمان بن داؤد الجزری ہیں جو کہ متروک ہیں۔ ساتویں سلیمان بن داؤد بن قیس المدنی ہیں جن کے ثقہ ہونے پر تنقید کی گئی ہے۔ آٹھویں سلیمان بن داؤد مولی یحیی بن معمر ہیں جن کے حالات معلوم نہیں ہو سکے۔

اس میں سے سب سے زیادہ چانسز اس بات کے ہیں اس روایت کے اصل راوی الشاذکونی ہیں جو کہ سخت ضعیف ہیں اور ان پر جھوٹ گھڑنے کا الزام ہے۔

3۔روایت کی سند میں محمد بن احمد بن ایوب ہیں۔ اس نام کے کسی راوی کا ذکر رجال کے انسائیکلو پیڈیاز میں نہیں ملتا۔ میزان الاعتدال میں محمد بن احمد نام کے ساٹھ راویوں کا ذکرملتا ہے جو کہ نمبر 7139-7198 تک ہیں مگر اس میں محمد بن احمد بن ایوب نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ان کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایک اور صاحب احمد بن محمد بن ایوب ضرور ہیں جنہیں متروک اور کذاب قرار دیا گیا ہے۔ ان کا ذکر نمبر 535 پر موجود ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کاتب نے احمد بن محمد بن ایوب کی جگہ محمد بن احمد بن ایوب لکھ دیا ہو۔

🌷بلاذری نے اس کی سند یوں بیان کی ہے: حدثنا محمد بن سعد، حدثنا الواقدي، عن محمد بن عبيد الله الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس: اس سند میں پہلے واقدی ہیں جن کا کذاب ہونا مشہور ہے۔ دوسرے راوی محمد بن عبید اللہ الزہری ہیں جنہیں ابو حاتم نے منکر الحدیث قرار دیا ہے۔ یحیی بن معین کہتے ہیں کہ ان کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ابن عدی کا کہنا ہے کہ وہ کوفہ کی باغی پارٹی کے ممبر تھے
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 7910۔ 6/246)

*اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اوپر ذکر کردہ روایت جس میں عمر رض، عثمان رض پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اس روایت کی کوئی سند بھی قابل اعتماد نہیں *

*کیا حضرت علی، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن تھے ؟*

طبری نے ایسی چند روایتیں نقل کی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی پالیسیوں سے مطمئن نہ تھے۔ جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:
🌷قال محمد بن عمر: وحدثني عبد الله بن محمد، عن أبيه:
“میں بار بار آپ کو مشورہ دیتا رہا ہوں اور ہر موقع پر ہماری گفتگو ہوتی رہی ہے۔ ہر موقع پر آپ مروان بن حکم، سعید بن عاص، ابن عامر اور معاویہ کے مشوروں پر عمل کرتے رہے اور میرے مشورے کی مخالفت کرتے رہے۔” عثمان نے فرمایا: “اب میں آپ کی ہر بات مانوں گا اور ان کی بات کو تسلیم نہیں کروں گا۔”۔۔۔ کیا آپ مروان سے مطمئن ہیں؟ وہ آپ کی عقل اور دین کو خراب کر کے چھوڑے گا۔ اس کے سامنے آپ ایک سواری کے اونٹ کی طرح ہیں ، وہ جس طرف چاہتا ہے، آپ کو ہنکا دیتا ہے۔ بخدا! مروان عقل مند اور دیندار نہیں ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آپ کو ہلاکت کی طرف لے جائے گا۔ جہاں سے آپ نکل نہیں سکیں گے۔ اب میں اس کے بعد آپ کو مشورہ دینے کے لیے کبھی نہیں آؤں گا کیونکہ آپ مغلوب اور لاچار ہو گئے ہیں۔
( طبری۔ 3/1-409, 414)

یہ باتیں جن روایتوں میں نقل ہوئی ہیں، وہ سب کی سب محمد بن عمر الواقدی کی روایت کردہ ہیں اور واقدی کی کذب بیانی اور جھوٹ پر محدثین کی آراء ہم نقل کر چکے ہیں۔ واقدی کا معاملہ یہ تھا کہ یہ صاحب ہر طرح کی رطب و یابس روایات اکٹھی کر کے ان سے ایک کہانی بناتے اور بیان کر دیتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ باغی راویوں کی روایتوں کو بھی واقدی نے اسی طرح سے درج کر دیا ہو۔ واقدی اس روایت کو عبداللہ بن محمد سے روایت کر رہے ہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ عبداللہ، حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں اور انہیں ماہرین جرح و تعدیل جیسے ابن المدینی، ابو حاتم اور ابن خزیمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ ان کا حافظہ کمزور تھا۔
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی 4541۔ 4/175)

*درایت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حضرت علی، اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے مطمئن نہ ہوتے تو ان کی حفاظت کے لیے اس درجے میں بے چین کیسے ہوتے کہ اپنے جواں سال بیٹوں کو انتہائی خطرے کی حالت میں خلیفہ کی حفاظت پر مامور کرتے*

*کیا حضرت طلحہ، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن تھے ؟*

بعض تاریخی روایتوں میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت نہیں کی بلکہ درپردہ باغیوں کی مدد کی۔ ہمارے نزدیک یہ باتیں اس ڈس انفارمیشن کا حصہ ہیں جو باغی تحریک نے پھیلائیں اور حضرت علی اور طلحہ رضی اللہ عنہما پر الزامات عائد کیے۔ جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ باغی چاہتے تھے کہ جب وہ حضرت عثمان کو شہید کریں تو اس کا الزام حضرت علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم پر آ جائے۔ اس طرح مقصد باغیوں کا پورا ہو اور بدنامی ان حضرات کے حصے میں آئے۔

اس الزام کی تردید اس بات سے ہو جاتی ہے کہ حضرت طلحہ نے حضرت عثمان کی حفاظت پر اپنے جواں سال بیٹے محمد بن طلحہ کو مامور کیا جو اپنے ساتھی حسن، حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کے ساتھ خلیفہ کے گھر کا پہرہ دیتے رہے۔ شہادت عثمان کے بعد اس باغی تحریک کے خلاف حضرت طلحہ نے زبردست تحریک پیدا کی اور جنگ جمل میں انہی باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے انہوں نے اپنی اور اپنے بیٹے کی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اپنی شہادت سے پہلے یہ تاریخی الفاظ کہے:
“اے اللہ! میری جان کا بدلہ عثمان کو دے دیجیے تاکہ وہ خوش ہو جائیں۔”
(طبری۔ 3/2-146)

*حضرت طلحہ کے بیٹے محمد بن طلحہ بھی اسی جنگ میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے۔ جو شخص حضرت عثمان کے لیے اپنی اور اپنی اولاد کی جان پیش کر دے ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ معاذ اللہ باغیوں کے مدد گار تھے، ایک نہایت ہی لایعنی بات ہے*

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کتب تاریخ میں جو روایات آئی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے:

1۔ سب سے مشہور روایت وہ ہے جو بلاذری نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور اسی کو دیگر مورخین نے بھی درج کیا ہے۔ یہ ایک طویل روایت ہے جس میں انہوں نے نہایت تفصیل سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اکابر صحابہ، جن میں حضرت علی، طلحہ ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم شامل ہیں، کی ان غیر معمولی کاوشوں کا ذکر ہے جو انہوں نے خلیفہ کے دفاع میں کیں۔ اس روایت میں بعض جملے ایسے ہیں جن سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط تاثر دیا گیا ہے کہ وہ حضرت عثمان کے خلاف تھے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی مجبوراً ہی آپ کی حفاظت پر مامور کیا تھا۔ اس روایت کی سند کو دیکھیے تو وہ یہ ہے: هشام بن عمار الدمشقي، محمد بن عيسى بن سميع، محمد بن أبي ذئب، الزهري، سعيد بن المسيب۔
( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/186)

🌷 اس روایت کے بارے میں مشہور محدث ابن عدی کا تبصرہ ہم یہاں درج کر رہے ہیں:
ابن عدی کہتے ہیں: (محمد بن عیسی بن سمیع ) سے روایت کرنے میں حرج نہیں ہے البتہ حضرت عثمان کی شہادت کی روایت میں ان پر تنقید کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ روایت دراصل اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ سے لی ہے جو کہ ضعیف راویوں میں سے ایک ہیں اور اسے ابن ابی ذئب کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اس طرح انہوں نے تدلیس (کمزور راوی کا نام چھپانا اور یہ امپریشن دینا کہ روایت قابل اعتماد ہے) سے کام لیتے ہوئے اسماعیل کو حذف کر کے اسے ابن ابی ذئب سے منسوب کر دیا ہے۔
صالح جزرہ کہتے ہیں: ہشام بن عمار نے ابن سمیع اور ابن ابی ذئب کے توسط سے حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ بیان کیا۔ میں نے ہر طریقے سے یہ کوشش کر لی کہ وہ “حدثنا ابن ابی ذئب” کا لفظ استعمال کریں لیکن انہوں نے انکار کیا اور محض “عن” کا لفظ ہی کہتے رہے۔ [لفظ ‘عن’ ایک ذو معنی لفظ ہے جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ایک راوی نے اپنے استاذ سے روایت بذات خود حاصل کی ہے یا کسی کے توسط سے اس تک یہ پہنچی ہے۔ اس کے برعکس لفظ ‘حدثنا’ ایک متعین لفظ ہے جو صرف اسی صورت میں بولا جاتا ہے جب راوی اپنے استاذ سے براہ راست اس حدیث کو سنے۔]
صالح بن محمد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عیسی کے نواسے محمود نے بتایا کہ میرے نانا کی کتاب میں یہ روایت اسماعیل بن یحیی کی وساطت سے ابن ابی ذئب سے مروی ہے۔ صالح کہتے ہیں کہ اسماعیل روایتیں گھڑتے تھے ۔ جب یہ بات میں نے محمد بن یحیی الذہلی کو بتائی تو وہ بولے: “اللہ ہی ہے جو مدد فرمائے۔”
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 8039۔ 6/289)

واضح رہے کہ اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ کے بارے میں تمام ماہرین جرح و تعدیل متفق ہیں کہ یہ صاحب جھوٹے ترین راویوں میں سے ایک تھے
( ذہبی میزان الاعتدال، راوی نمبر 967۔ 1/415)

اس روایت میں انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ دفاع عثمان میں حضرت طلحہ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم کے کردار کو کم سے کم سطح پر پیش کیا جائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کردار کو نمایاں کیا جائے۔

2۔ بلاذری نے دوسری روایت ابو مخنف کے حوالے سے بیان کی ہے جس کے مطابق معاذ اللہ حضرت طلحہ نے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کا پانی بند کر دیا تھا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت غضب ناک ہوئے اور انہوں نے خود پانی پہنچوایا۔
( بلاذری۔ 6/188)

ایک اور روایت میں حضرت طلحہ کی حضرت عثمان سے معذرت نقل کی گئی ہے اور جواب میں حضرت عثمان کی شکایت نقل کی گئی ہے کہ جناب آپ نے میرے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکائی اور اب خود ہی اس پر معذرت کر رہے ہیں۔
( بلاذریً ۔ 6/196)

*ان دونوں روایتوں کی جو سند بلاذری نے بیان کی ہے وہ یہ ہے: وقال أبو مخنف وغيره۔ ہمارے خیال میں اس سند پر تبصرے کی ضرورت نہیں ہے کہ ابو مخنف کا صحابہ کرام سے بغض معروف ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان سے قصاص کی تحریک چلائی تو ان لوگوں نے خاص طور پر آپ کو بدنام کرنے کی کوشش کی کہ ان حضرت نے خود ہی بغاوت برپا کی اور اب خود ہی قصاص کے دعوے دار بن گئے ہیں*

3۔ تیسری روایت ایک طویل قصہ ہے جو ابن شہاب الزہری (58-124/677-741) سے مروی ہے۔ اس میں شہادت عثمان کا پورا قصہ تفصیل سے بیان ہوا ہے اور اس میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پانی بند کر دینے کا ذکر ہے۔ اس روایت کی سند بلاذری نے یوں بیان کی ہے: حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، عن يونس بن يزيد الأيلي، عن الزهري۔ یہ سند منقطع ہے کیونکہ زہری 58ھ/ع677 میں اس وقت پیدا ہوئے جب شہادت عثمان کو 23 برس گزر چکے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے یہ روایت کس سے حاصل کی ہے اور وہ شخص کس درجے میں قابل اعتماد تھا۔ زہری سے اس روایت کو یونس بن یزید الایلی نے روایت کیا ہے جن کا حافظہ کمزور تھا اور انہیں احمد بن حنبل نے ضعیف قرار دیا ہے۔
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 9932۔ 7/320)

*زہری سے جتنی منفی روایات مروی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب ایلی ہی نے روایت کی ہیں*

4۔ چوتھی روایت طبری نے واقدی کے حوالے سے نقل کی ہے۔ اس کے مطابق حضرت طلحہ نے معاذ اللہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کو محصور کرنے کا حکم جاری کیا اور اس پر حضرت عثمان نے ان کے خلاف بددعا کی۔ روایت کی سند یہ ہے: قال محمد (بن عمر الواقدي): وحدثني إبراهيم بن سالم، عن أبيه، عن بسر بن سعيد، قال: وحدثني عبد الله بن عياش بن أبي ربيعة۔ سند کو دیکھنے پر اس روایت کا جھوٹ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے مرکزی راوی واقدی ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو ابراہیم بن سالم سے روایت کیا ہے جو کہ منکر (سخت ضعیف) روایتوں کے لیے مشہور ہیں۔
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ ۔ راوی نمبر 95۔ 1/152)

*غرض یہ کہ جتنی بھی تاریخی روایتوں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے باغیوں کا ساتھ دیا، ان سب کی سند میں کوئی نہ کوئی ایسے مشکوک راوی موجود ہیں جو جھوٹ نقل کرنے میں مشہور ہیں یا پھر ان راویوں کے نام نامعلوم ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باغیوں نے اکابر صحابہ کے خلاف ڈس انفارمیشن کی مہم چلائی تھی تاکہ خلیفہ کو شہید کرنے کا الزام ان پر آئے، یہ تاریخی روایتوں میں شامل ہو گئی۔ حضرت طلحہ، خلیفہ مظلوم کے خلاف کسی بھی اقدام سے بری تھے اور انہوں نے اپنی اور اپنے جواں سال بیٹے کی جان دے کر اس الزام کو اپنے خون سے دھو دیا اور انہی قاتلین عثمان کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔*

*اگر روایتوں ہی پر اعتماد کرنا ضروری ہو تو ہم یہاں چند اور روایتیں پیش کر رہے ہیں جن میں حضرت عثمان اور حضرت طلحہ کے گہرے تعلقات نمایاں ہوتے ہیں:*

🌷وحدثني عمر، قال: حدثنا علي، عن إسحاق بن يحيى، عن موسى ابن طلحة: موسی بن طلحہ کا بیان ہے کہ حضرت طلحہ نے حضرت عثمان کے پچاس ہزار دینے تھے۔ ایک دن حضرت عثمان مسجد میں آئے تو حضرت طلحہ نے کہا: “آپ کا مال حاضر ہے، اسے لے لیجیے۔” انہوں نے جواب دیا: “ابو محمد! یہ تو آپ ہی کا مال ہے اور آپ کی مروت اور شرافت کا صلہ ہے۔
( طبری۔ ۔ 35H/3/1-462)

🌷وأما سيف، فإنه روى فيما كتب به إلي السري، عن شعيب، عنه، عن أبي حارثة وأبي عثمان ومحمد وطلحة: (شہادت عثمان کے بعد ) جب آدھی رات ہوئی تو مروان، زید بن ثابت، طلحہ بن عبید اللہ، علی، حسن، کعب بن مالک اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے گھر پہنچے۔ جنازے کے مقام پر خواتین اور بچے بھی پہنچے۔ یہ سب حضرات ، عثمان کے جنازے کو لائے اور مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر وہاں سے وہ بقیع میں انہیں لے گئے اور دفن کر دیا،
( طبری۔ ۔ 35H/3/1-474)

*کیا حضرت عبد الرحمن، حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن تھے ؟*

باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف جوپراپیگنڈا کیا، اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اکابر صحابہ حضرت عثمان کی پالیسیوں سے مطمئن نہ تھے۔ اس کے لیے انہوں نے ڈس انفارمیشن پھیلائی اور یہی باتیں روایتوں کا حصہ بن گئیں۔ اکابر محدثین نے تو ان روایتوں کا جھوٹ دیکھ کر ان سے اعتنا نہ کیا مگر محمد بن عمر الواقدی، جو خود بھی کذاب مشہور ہیں اور ہر طرح کی روایتیں بیان کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں، نے انہیں اپنی کتابوں میں درج کر لیا اور انہی کی بدولت یہ بعد کی کتب تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا تھا، کے بارے میں بلاذری نے بعض ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن کے مطابق حضرت عبد الرحمن، حضرت عثمان سے اس وجہ سے سخت ناراض تھے کہ انہوں نے حضرت ابو ذر غفاری کو ربذہ بھیجا تھا۔ انہوں نے اپنے مرض الموت میں حضرت عثمان کا بھیجا ہوا پانی بھی نہیں پیا اور یہ قسم کھائی کہ وہ حضرت عثمان سے کبھی بات نہ کریں گے۔ بلاذری نے ایسی تین روایتیں نقل کی ہیں اور تینوں کا ماخذ یہی واقدی صاحب ہیں۔ اسناد یہ ہیں:

🌷حدثني محمد بن سعد عن الواقدي عن إبراهيم بن سعد عن أبيه.
🌷حدثني محمد بن سعد عن الواقدي عن محمد بن صالح عن عبيد بن رافع عن عثمان بن الشريد
🌷حدثني محمد بن سعد عن الواقدي عن محمد بن عبد الله عن أبيه عن عبد الله بن ثعلبة بن صعير.
🌷حدثني مصعب بن عبد الله الزبيرى عن إبراهيم بن سعد عن أبيه!
(بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/171-172)

*آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ پہلی تین روایتوں کی سند میں واقدی صاحب موجود ہیں اور یہ انہی کا پھیلایا ہوا افسانہ ہے۔ چوتھی سند مشہور نساب مصعب زبیری کی ہے مگر اس میں صرف اتنی بات ہے کہ حضرت عبد الرحمن کی نماز جنازہ حضرت سعد یا حضرت زبیر رضی اللہ عنہم نے پڑھائی۔اس کے علاوہ اور کوئی منفی بات اس روایت میں موجود نہیں ہے*

عبد الرحمن کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے ناراضی ایسی بات تھی جسے پورے مدینہ میں مشہور ہو جانا چاہیے تھا اور بہت سے لوگوں کو اسے بیان کرنا چاہیے تھا۔ دوسری صدی ہجری تک پہنچتے پہنچتے یہ روایت اتنی مشہور ہو جانی چاہیے تھی کہ ہر شخص کو معلوم ہوتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے واقدی کے اور کسی کو یہ بات معلوم نہیں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بلاذری اس روایت کو محمد بن سعد کے توسط سے واقدی سے روایت کرتے ہیں اور ابن سعد کی اپنی کتاب “الطبقات الکبری” میں ان روایتوں کا سراغ نہیں ملتا ہے۔

اس کے برعکس ہمیں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ حضرت عثمان، جب حج کے لیے جایا کرتے تھے تو وہ اپنے پیچھے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ہی کو قائم مقام خلیفہ بنا کر جاتے تھے۔
( ابن عساکر۔ تاریخ دمشق۔ 39/208)

*اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما میں بہترین تعلقات قائم تھے۔ ممکن ہے کہ ان کے مابین کوئی چھوٹی موٹی بات ہو گئی ہو لیکن پراپیگنڈا کے ماہرین نے ایک کو دس بنا کر پیش کیا تاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی مہم چلائی جائے۔*

*کیا حضرت عمار ، باغی تحریک میں شامل تھے ؟*

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور بالکل اوائل میں اسلام لائے۔ ان کے والدین یاسر اور سمیہ رضی اللہ عنہما، اسلام کے اولین شہداء میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت عمار کی پوری زندگی دین اسلام کے لیے وقف رہی اور اس میں ایک بھی منفی بات نہیں ملتی ہے۔ آپ عہد صدیقی و فاروقی میں کوفہ کے گورنر رہے۔ بعض تاریخی روایات میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما پر یہ تہمت لگائی گئی ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اٹھنے والی باغی تحریک کا حصہ تھے۔ اس تہمت کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ باغیوں کو اپنی تحریک کے قد و کاٹھ میں اضافہ کرنے کے لیے کچھ ایسی شخصیات درکار تھیں جن پر وہ فخر کر سکیں۔ انہیں حضرت عمار رضی اللہ عنہ اس سلسلے میں موزوں شخصیت نظر آئے اور انہوں نے ان سے متعلق روایات وضع کر کے پھیلا دیں۔

ہم نے کوشش کی ہے کہ ان تمام روایات کو جمع کیا جائے جن میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر یہ الزام موجود ہو اور ان روایتوں کی سند کا جائزہ لیا جائے کہ ان میں کون سے راوی موجود ہیں۔ کتب تاریخ میں ایسی کل 10روایتیں ہمیں مل سکی ہیں۔ ان کا تجزیہ یہ ہے:

ابن سعد (168-230/784-845) میں ایک روایت ہے وہ بھی ناقابل اعتماد راوی قنافہ عقیلی سے،

بلاذری (d. 279/893) میں ٹوٹل 4 روایات ہیں، ابو مخنف و کلبی: 1
بہز بن اسد: 1۔ یونس بن یزید الایلی: 1
نامعلوم: 1

طبری (224-310/838-922) میں ٹسٹل 3 روایات ہیں، واقدی: 1۔ سیف بن عمر: 2

ابن عساکر (499-571/1106-1175)میں ٹوٹل 2 روایات ہیں،
محمد بن شعیب: 1۔ مجالد: 1

*یعنی ٹوٹل 10 روایات ہیں ،ان میں سے چار بلاذری نے نقل کی ہیں، تین طبری نے، ایک ابن سعد نے اور دو ابن عساکر نے۔ ان دس کی دس روایتوں کی سندمیں ایسے راوی موجود ہیں جو کہ یا تو کذاب کے درجے میں آتے ہیں، یا سخت ضعیف اور کمزور راوی ہیں اور یا پھر ان کے حالات نامعلوم ہیں۔ یہاں ہم ان تمام اسناد کو پیش کر کے ان پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں:*

1۔ حدثنا عباس بن هشام بن محمد عن أبي مخنف في إسناده،
( بلاذری۔ 6/161)

اس روایت کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیت المال سے کچھ زیورات لے لیے۔ معاذ اللہ ان کی اس کرپشن پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا تو حضرت عثمان نے انہیں اتنی مار پڑوائی کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ اس روایت کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی سند میں عباس بن ہشام کلبی اور ابو مخنف موجود ہیں جن کا صحابہ سے بغض معروف ہے۔ ان دونوں کے بیچ میں ایک لنک غائب ہے جو کہ یقیناً عباس کے والد ہشام کلبی ہوں گے۔

2۔ حدثنا روح بن عبد المؤمن المقرئ، وأحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا بهز بن أسد، حدثنا حصين بن نمير، عن جهيم الفهري۔
( بلاذری۔ 6/165)

اس روایت میں بھی حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر تشدد کا ذکر ہے۔ اس کے راویوں میں سب سے پہلی کڑی جہیم الفہری ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ یہ کون صاحب تھے اور کس درجے میں قابل اعتماد تھے؟ آیا یہ بھی باغی تحریک کا حصہ تھے یا نہیں، ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ایک اور راوی بہز بن اسد ہیں جن کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف تعصب رکھتے تھے۔
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 1326)

3۔ قد روي أيضا۔
( بلاذری۔ 6/169)
اس روایت میں بلاذری نے سند ہی نہیں دی ہے بلکہ “روایت کیا گیا ہے” کہہ دیا ہے۔ اس کے مطابق حضرت عثمان نے حضرت عمار رضی اللہ عنہما کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جب سند ہی نہ ہو تو بات بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔

4۔ أحمد بن إبراهيم الدورقي، وهب بن جرير بن حازم، أبي، يونس بن يزيد الأيلي، الزهري۔
( بلاذری۔ ۔ 6/208)

یہ وہی روایت ہے جو اوپر عباس کلبی اور ابو مخنف کے حوالے سے بیان ہوئی ہے۔ اس کی سند میں یونس بن یزید الایلی ہیں جو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کے بارے میں ماہرین جرح و تعدیل میں اختلاف ہے کہ یہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔ ان کے بارے میں امام احمد بن حنبل کا کہنا یہ ہے کہ یہ زہری سے منکر (انتہائی عجیب و غریب) قسم کی روایتیں کرتے ہیں
( ذہبی۔ راوی 9932۔ 7/320)

پھر ایلی اس روایت کو ابن شہاب الزہری سے منسوب کرتے ہیں جو کہ اس واقعہ کے کم از کم 24 برس بعد 58/677 میں پیدا ہوئے۔ اگر زہری نے واقعی یہ روایت بیان کی ہے تو عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی ایسے شخص سے سنی ہو جو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تعصب رکھتا ہو۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ زہری سے صحابہ کرام سے متعلق جتنی بھی منفی روایتیں مروی ہیں، وہ سب کی سب یونس الایلی کے توسط سے مروی ہیں۔ انکے متعلق مزید تفصیل کے لیے آپ پہلے سلسہ جات دیکھ سکتے ہیں۔

اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ بلاذری نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی مخالفت سے متعلق جو چار روایات نقل کی ہیں، وہ سب کی سب ضعیف یا موضوع ہیں۔

اب ہم طبری کی روایتوں کی طرف آتے ہیں۔
5۔ رجع الحديث إلى حديث سيف، عن شيوخه ۔
( طبری۔ 3/1-394)
اس روایت کے مطابق حضرت عمار اور عباس بن عتبہ بن ابی لہب کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو سزا دی تھی۔ اس وجہ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ ان کے سخت خلاف ہو گئے تھے۔ حضرت عمار کا جو کر دار ہمارے سامنے ہے، اس کی روشنی میں یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک معمولی واقعے کی بنیاد پر وہ اس انتہا پر چلے گئے ہوں گے کہ انہوں نے باغی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ سند میں سیف بن عمر ہیں جو کسی طرح بھی قابل اعتماد نہیں۔

6۔ قال محمد بن عمر: وحدثني عبد الله بن محمد، عن أبيه۔
( طبریً ۔ 3/1-411)
اس روایت کے مطابق جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عمار رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ چل کر ان باغیوں سے مذاکرات کریں اور انہیں واپس بھیج دیں۔ حضرت عمار نے اس سے صاف انکار کر دیا۔ یہ روایت، محمد بن عمر الواقدی کی روایت کردہ ہے جن کے ناقابل اعتماد ہونے پر ہم اس کتاب میں جگہ جگہ گفتگو کرتے آ رہے ہیں۔

7۔ حدثني عبد الله بن أحمد بن شبويه، قال: حدثني أبي، قال: حدثني عبد الله، عن إسحاق بن يحيى، عن موسى بن طلحة۔
( طبری ۔ 3/1-458)

یہ بھی وہی روایت ہے جس میں عباس بن عتبہ کے ساتھ حضرت عمار کی تلخ کلامی کا ذکر ہے۔ اس روایت کی سند کو بھی دیکھیے تو اس کا آغاز ہی عبداللہ بن احمد بن شبویہ اور ان کے والد سے ہوتا ہے۔ ان دونوں حضرات کے حالات نامعلوم ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کس درجے میں قابل اعتماد ہیں۔ پھر یہ کسی عبداللہ سے روایت کرتے ہیں اور اس نام کے سینکڑوں راوی موجود ہیں اور اس بات کا تعین ممکن نہیں ہے کہ یہاں کون سے عبداللہ مراد ہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ طبری میں بھی حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہ سند کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہیں۔ اب ہم ابن سعد کی واحد روایت پر تبصرہ کرتے ہیں۔

8۔ أخبرنا سليمان بن حرب قال أخبرنا حماد بن زيد عن أيوب عن قنافة العقيلي عن مطرف،
( ابن سعد 3/79)

اس روایت کے مطابق مطرف بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ جب ہم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دل و جان سے بیعت کی تھی تو آپ نے ان کی مخالفت کیوں کی؟ اس پر حضرت عمار خاموش رہے اور انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس روایت کی سند میں قنافہ العقیلی ہیں جن کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ صاحب بھی باغی تحریک کا حصہ رہے ہوں یا پھر ان کے پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے ہوں۔ اس طرح سے ابن سعد کی یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے۔

*اب ہم ابن عساکر (499-571/1106-1175)کی بیان کردہ دو روایتوں کی طرف آتے ہیں۔ ابن عساکر کا زمانہ چونکہ ان واقعات کے 500 سال بعد کا ہے، اس وجہ سے ان کی اسناد بہت طویل ہیں*

9۔ أخبرنا أبو محمد هبة الله بن أحمد وعبد الله بن أحمد وأبو تراب حيدرة بن أحمد – إجازة – قالوا: نا عبد العزيز بن أحمد – لفظا – أنا عبد الرحمن بن عثمان بن أبي نصرنا أبوبكر أحمد بن محمد بن سعيد، وأبو الميمون البجلي، قالا: نا أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم بن بسر، نا محمد بن عائذ، …. قال: وسمعت غير واحد منهم محمد بن شعيب يخبر عن سعيد بن عبد العزيز۔
( ابن عساکر۔ 39/423)
اس روایت کے مطابق جب حضرت عثمان نے تحقیقات کے لیے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو مصر بھیجا تو وہ وہیں رک گئے اور انہوں نے کہا: “میں عثمان کی بیعت سے اس طرح نکل آیا جیسے میں اپنا یہ عمامہ کھول رہا ہوں۔” اس پر باغی تحریک کے سرکردہ رکن محمد بن ابی حذیفہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو 40,000 دینار دیے۔

یہ روایت، درایت کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔ اس میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے معاذ اللہ 40,000 دینار کی رشوت لے کر خلیفہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ ایک ایسا شخص جس نے مکہ کے اندر تپتی ریت پر کفار کا ظلم سہا ہو، کا کردار یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ باغیوں سے مل جائے۔ سند کے اعتبار سے بھی یہ ایک منقطع روایت ہے جس کا آغاز سعید بن عبد العزیز (d. 167/784)سے ہو رہا ہے۔ سعید اگرچہ ایک قابل اعتماد راوی ہیں تاہم ان کا زمانہ شہادت عثمان کے بہت بعد کا ہے،
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 3234۔ 3/218)

اگر ان کی عمر کو سو سال بھی مان لیا جائے تب بھی وہ شہادت عثمان کے بہت بعد پیدا ہوئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی باغی راوی سے سن کر بیان کی ہو لیکن اس کے نام کا ذکر نہ کیا ہو۔ سعید سے یہ روایت محمد بن شعیب نے حاصل کی ہے جو کہ قابل اعتماد راوی نہیں ہیں۔
(ذہبی،میزان الاعتدالً ۔ راوی نمبر 7678۔ 6/185

10۔ أخبرنا أبو علي الحداد وغيره في كتبهم، قالوا: أنا أبوبكر بن ريذة، أنا سليمان بن أحمد، نا أبو خليفة، نا أبو عمر حفص بن عمر الحوضي، نا الحسن بن أبي جعفر، نا مجالد، عن الشعبي، قال:
( ابن عساکر۔ 39/494)

اس روایت کے مطابق مشہور تابعی مسروق رحمہ اللہ نے مالک الاشتر سے فرمایا: “آپ لوگوں نے حضرت عثمان کو اس حالت میں قتل کیا جب وہ روزے کی حالت میں عبادت کر رہے تھے۔” اشتر نے یہ بات حضرت عمار رضی اللہ عنہ تک پہنچا دی تو انہوں نے آ کر کہا: “واللہ! عثمان نے عمار کو سزا دی، ابو ذر کو جلا وطن کیا اور چراگاہیں محفوظ کیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ انہیں روزے کی حالت میں عبادت کرتے قتل کیا گیا۔” مسروق نے کہا: “آپ لوگوں کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، یا تو جتنی آپ کو سزا ملی تھی، اتنا ہی بدلہ لے لیتے یا پھر صبر کرتے اور اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔” یہ سن کر حضرت عمار اس طرح خاموش ہو گئے گویا کہ ان کے منہ میں پتھر ڈال دیا گیا ہو۔

اس روایت میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ باغی تحریک کے ساتھ تھے۔ اس کی سند کو دیکھیے تو اس میں مجالد بن سعید موجود ہیں جو قابل اعتماد نہیں ہیں،
( ذہبی۔ راوی نمبر 7076۔ 6/23)

*آپ ان دس کی دس روایات کے تجزیے کو دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اسناد ضعیف ہیں اور ان میں وہ راوی آتے ہیں جو قابل اعتماد نہیں تھے۔ عام طور پر ایسے راویوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ جھوٹ نہ بھی گھڑتے ہوں تب بھی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دیتے ہیں۔ باغی تحریک کے اندر قد آور شخصیات کی کمی تھی اور یہ ان کی ضرورت تھی کہ وہ کم از کم کچھ صحابہ کو اپنا ساتھی ظاہر کریں تاکہ ان کی ساکھ (Credibility) بہتر ہو اور اس کی مدد سے وہ مزید نوجوانوں کو ورغلا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بعض صحابہ کے بارے میں یہ پراپیگنڈا کیا کہ وہ ان کے ساتھی تھے۔ اس پراپیگنڈا میں سب سے نمایاں نام حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا تھا ۔ اس سے باغیوں کو دو فوائد حاصل ہوئے: ایک تو یہ کہ شہادت عثمان کا الزام ایک جلیل القدر صحابی پر آیا اور دوسرے یہ کہ ان کی تحریک کو تقویت ملی کہ صحابہ بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔*

ہم نے کوشش کی ہے کہ سبھی اہم کتب تاریخ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی روایتوں کو تلاش کیا جائے اور باوجود بھرپور کوشش کے ہمیں یہی دس روایتیں مل سکی ہیں۔ ہم یہ دعوی تو نہیں کرتے کہ ان کے علاوہ حضرت عمار کے بارے میں کوئی روایت موجود نہیں ہو گی تاہم آپ کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ ان روایتوں میں آ گیا ہے۔ اگر آپ کو ان کے علاوہ کوئی روایت ملے، تو اس کی سند کو ضرور دیکھ لیجیے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایسی تمام روایات کی سند میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ہو گا جو کہ قابل اعتماد نہیں ہو گا۔

*کیا حضرت ابو ذر غفاری کو جلا وطن کیا گیا؟*

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت بھی عائد کی گئی ہے کہ انہوں نے جلیل القدر صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے جلا وطن کر کے ربذہ بھیج دیا تھا جہاں انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ رہائش اختیار کی اور وہیں پر ان کی وفات ہوئی۔ تاریخی روایتوں میں اس کا افسانہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ میں دولتمندوں پر کڑی تنقید کرتے تھے۔ حضرت عثمان کے مشورے سے وہ شام چلے گئے۔ جب عبداللہ بن سبا نے یہاں اپنے قدم جمانے چاہے تو حضرت ابو ذر ہی کے پاس آیا اور انہیں امیر اور غریب کے فرق کی طرف توجہ دلائی۔ اس پر حضرت ابو ذر اس کی باتوں سے متاثر ہوئے اور گورنر شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے بحث کی کہ مال کو غرباء میں تقسیم کر دینا چاہیے اور دولت مندوں کو دولت اکٹھا کرنے سے روکا جائے۔ حضرت معاویہ نے جواب دیا کہ حکومت امراء سے زکوۃ ہی وصول کر سکتی ہے اور وہ کی جا رہی ہے۔ اس پر حضرت ابو ذر ناراض ہو کر مدینہ آ گئے اور یہاں بھی امراء کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھی۔ اس تحریک نے مدینہ میں بھی مسائل پیدا کیے جن کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں ربذہ کی جانب بھیج دیا۔ اسی افسانے کی بنیاد پر موجودہ دور کے بعض کمیونسٹ حضرات نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بھی معاذ اللہ کمیونسٹ قرار دیا ہے۔

مناسب رہے گا کہ ان روایات کا جائزہ بھی لے لیا جائے جن میں یہ واقعات بیان ہوئے ہیں۔ بلاذری نے اس ضمن میں گیارہ روایتیں نقل کی ہیں جو کہ یہ ہیں:
( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/166)

یہ وہی روایت ہے جس میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی امراء پر تنقید اور جلا وطنی کا ذکر ہے۔ بلاذری نے اس کی سند بیان نہیں کی بلکہ محض قالوا (انہوں نے کہا) کہہ کر روایت بیان کر دی ہے۔ ان کے عام طریقے کے مطابق وہ ایسا اس وقت کہتے ہیں جب وہ سند کو پہلے بیان کر چکے ہوں۔ اس سے پچھلی روایت کی سند یہ ہے: حدثنا روح بن عبد المؤمن المقرئ، وأحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا بهز بن أسد، حدثنا حصين بن نمير، عن جهيم الفهري۔ اس سند پر ہم اوپر تبصرہ کر چکے ہیں کہ جہیم الفہری کے حالات نامعلوم ہیں اور بہز بن اسد ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف متعصب تھے۔

2۔ حدثني عباس بن هشام، عن أبيه، عن أبي مخنف، عن فضيل بن خديج، عن كميل بن زياد۔
یہ روایت کمیل بن زیاد کا بیان ہے کہ میں اس وقت مدینہ میں تھا جب حضرت عثمان نے ابو ذر رضی اللہ عنہما کو پہلے شام اور پھر ربذہ بھیجا۔ اس روایت کے سبھی راوی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض کے لیے مشہور ہیں۔ خاص طور پر کمیل بن زیاد کے بارے میں تو یہ بھی بیان ہوا ہے کہ وہ قاتلین عثمان کی پارٹی میں شامل تھے اور ایک موقع پر انہوں نے حضرت عثمان پر خود قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا تھا جو ناکام رہا تھا۔ باقی، عباس بن ہشام کلبی، ان کے والد اور ابو مخنف تو اس معاملے میں اتنے مشہور ہیں کہ مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔

3۔ حدثني بكر بن الهيثم، عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة۔
اس روایت میں بھی جلاوطنی کا ذکر ہے اور یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو ذر کی جلا وطنی پر حضرت علی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے تلخ کلامی کی۔ اس کی سند میں موجود بکر بن الہیثم کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کون صاحب ہیں اور کس درجے میں قابل اعتماد ہیں؟ ممکن ہے کہ یہ بھی باغی تحریک کا حصہ رہے ہوں۔ ممکن ہے کہ یہ مشہور کذاب ہیثم بن عدی (d. 207/823) کے صاحبزادے ہوں جو کہ صحابہ کرام کے ساتھ اپنے بغض کے لیے مشہور ہے۔
( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ شخصیت نمبر 6546۔ ص 4113 )

4۔ قد روي أيضا۔
اس روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان، ابو ذر کے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھی جلا وطن کرنا چاہتے تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تنقید کے باعث اس سے باز رہے۔ سند کو دیکھیے تو بلاذری صاحب نے محض قد روی ایضا (یعنی روایت کیا گیا ہے) پر اکتفا کیا ہے اور کسی راوی کا نام نہیں دیا ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ راوی کون لوگ ہوں گے؟

5-6۔ حدثني محمد عن الواقدي عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن خراش الكعبي، وحدثني محمد عن الواقدي عن شيبان النحوي عن الأعمش، عن إبراهيم التيمي عن أبيه۔ ان روایتوں کے مطابق ایک صاحب نے حضرت ابو ذر سے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے ربذہ میں لا پھینکا؟ انہوں نے جواب دیا : “عثمان اور معاویہ کے لیے میری خیر خواہی نے۔” دوسری روایت کے مطابق انہوں نے امر بالمعروف کا ذکر کیا۔ ان روایتوں کے ناقابل اعتماد ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ سند میں محمد بن عمر الواقدی موجود ہیں۔ پھر ابراہیم التیمی بھی ناقابل اعتماد راوی ہیں۔ ابو حاتم نے انہیں “منکر الحدیث” قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری کے نزدیک ان کی بیان کردہ روایتیں ثابت نہیں ہیں۔
( ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 178۔ 1/180)

7۔ حدثني محمد عن الواقدي عن طلحة بن محمد بن بشر بن حوشب الفزاري عن أبيه۔ یہ روایت بھی واقدی ہی کی ہے تاہم یہ تصویر کا مثبت رخ پیش کرتی ہے۔ اس کے مطابق بشر بن حوشب نے مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی جلا وطنی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: “حضرت عثمان نے تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کو اس لیے ربذہ بھیجا تھا کہ وہ خود وہاں رہنا چاہتے تھے۔” ہمارے خیال میں یہی درست بات ہو سکتی ہے کہ حضرت ابو ذر، شہر کے ہنگاموں سے تنگ آ کر گاؤں کی کھلی فضا میں رہنا چاہتے ہوں گے، جس کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے انہیں وہیں بھجوا دیا اور گزارے کے لیے زمین اور مویشی دے دیے۔

8-10۔ قال أبو مخنف: ابو مخنف کی اس روایت میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ربذہ میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے اور وہاں ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو وصیت کی کہ جو لوگ ان کے جنازے میں آئیں، ان کی دعوت کی جائے۔ ان کی وفات کے بعد کچھ مسافر وہاں سے گزرے جنہوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور حسب وصیت ان کی دعوت کی گئی۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق حضرت جریر بن عبداللہ نے جنازہ پڑھایا جبکہ واقدی کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ کی امامت کی۔ ان روایتوں میں کوئی منفی بات نہیں ہے۔ بلاذری نے یہی روایت دو اور اسناد سے بھی نقل کی ہے۔

11۔ حدثني عن هشام عن العوام بن حوشب عن رجل من بني ثعلبة بن سعد، قال:۔ یہ ایک مثبت روایت ہے مگر اس کی سند کمزور ہے۔ اس کے مطابق باغی تحریک کے کچھ لوگوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملاقات کی اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اس پر انہوں نے نہایت ہی خوبصورت جواب دیا: “اگر ابن عفان مجھے کھجور کے تنے پر بھی سولی پر لٹکا دیں، تو میں ان کی بات سنوں گا، ان کی اطاعت کروں گا، اپنا احتساب کروں گا اور صبر کروں گا۔ جس شخص نے بھی حکومت کو ذلیل کیا، اس کی توبہ قبول نہ ہو گی۔” یہ سن کر باغی واپس چلے گئے۔
( بلاذری۔ 5/171)

*روایت کی سند اگرچہ کمزور ہے کہ اس میں ایک شخص کا نام نامعلوم ہے تاہم جو بات اس میں بیان ہوئی ہے، وہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے کردار کے عین مطابق ہے۔*

🌷طبری نے اس ضمن میں ایک ہی طویل روایت بیان کی ہے جس سے معاملہ صاف ہو جاتا ہے:
كتب إلي بها السري، يذكر أن شعيبا حدثه عن سيف، عن عطية، عن يزيد الفقعسي۔
کے مطابق عبداللہ بن سبا جب شام آیا تو اس نے حضرت ابو ذر سے کہا: “ابو ذر! آپ کو معاویہ کے اس قول پر تعجب نہیں ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ سب مال اللہ کا مال ہے۔ حالانکہ ہر چیز اللہ کی ہے۔ مجھے تو خطرہ ہے کہ کہیں وہ مسلمانوں کا سارا مال اپنے قبضے میں نہ لے لیں اور مسلمانوں کا نام تک نہ مٹا ڈالیں۔” ابو ذر یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے اس کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے فرمایا: “ابو ذر! کیا ہم سب اللہ کے بندے نہیں ہیں اور مال اس کا مال نہیں ہے۔ کیا یہ مخلوق اس کی مخلوق نہیں ہے؟ اصل حکم اس کا حکم نہیں ہے؟” اب حضرت ابو ذر نے شام میں وعظ شروع کر دیا جس میں آپ امراء کو اپنا مال، غرباء کو دینے کی تلقین کرتے۔ اس سے آپ کے گرد غریب اکٹھے ہو گئے اور امراء آپ سے تنگ آ گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کو خط لکھ کر مسئلے کا حل دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں عزت و احترام کے ساتھ مدینہ واپس بھیج دیا جائے۔ اب حضرت ابو ذر مدینہ آئے تو یہاں انہوں نے مختلف نوعیت کی خفیہ مجالس دیکھیں۔ انہوں نے فرمایا: “اہل مدینہ کو سخت غارت گر اور یاد گار جنگ کی پیش گوئی سنا دو۔”
جب حضرت عثمان سے ابو ذر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے معاملہ دریافت کیا۔ ابو ذر نے جواب دیا: “مسلمانوں کے مال کو اللہ کا مال کہنا درست نہیں ہے اور دولت مندوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مال و دولت جمع کریں۔” اس پر حضرت عثمان نے جواب دیا: “ابو ذر! میرا یہ فرض ہے کہ میں اپنے فرائض ادا کروں اور عوام کے ذمہ جو واجبات ہیں، ان سے وصول کروں۔ میں انہیں زاہد بننے پر مجبور نہیں کر سکتا ، صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ وہ محنت کریں اور کفایت شعاری سے کام لیں۔” اس پر ابو ذر نے ان سے مدینہ سے باہر رہنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عثمان نے پوچھا: “کیا آپ مدینہ کی بجائے اس سے کمتر جگہ رہنا پسند کریں گے؟” انہوں نے جواب دیا: “مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جب مدینہ کی عمارتیں خفیہ اڈے بن جائیں تو میں وہاں سے نکل جاؤں۔” اس پر حضرت عثمان نے فرمایا: “ایسی صورت میں آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اس کی تعمیل کیجیے۔” اس کے بعد حضرت عثمان نے انہیں اونٹوں کا ایک ریوڑ دیا اور خدمت کے لیے دو ساتھی بھی ان کے حوالے کیے اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا: “مدینہ آتے رہا کیجیے ، ایسا نہ ہو کہ آپ دیہاتی بن جائیں۔” چنانچہ ابو ذر اس پر عمل کرتے تھے۔ انہوں نے ربذہ میں ایک مسجد بھی بنائی۔
( طبری۔ 3/1-321)

اس روایت میں سیف بن عمر یا کسی اور راوی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ، ابن سبا کی باتوں سے متاثر ہو کر امراء کے خلاف اور غرباء کے حق میں تقریریں کرنے لگے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ ہمیشہ سے یہ تلقین کرتے تھے کہ امراء زکوۃ سے بھی بڑھ کر اپنا مال غرباء میں تقسیم کر دیں۔ اس معاملے میں عبداللہ بن سبا کا کوئی کردار نہ تھا۔ حضرت ابو ذر ایک حساس انسان تھے اور سمجھتے تھے کہ کہیں دولت کی کثرت مسلمانوں کے کردار کو خراب نہ کر دے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فتوحات کی کثرت کی وجہ سے قیصر و کسری کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آ گئے تھے اور انہیں بیت المال میں رکھنے کی بجائے عام آدمی میں تقسیم کیا جا رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس معاشرے میں غریب، بہت غریب ہوں اور امیر بہت امیر ہوں بلکہ ہر شخص کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری حکومت نے لے رکھی تھی۔ حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا موقف یہ تھا کہ حکومت عوام سے صرف زکوۃ ہی جبراً وصول کر سکتی ہے۔ غرباء پر مزید خرچ کے لیے دولت مندوں کو ترغیب دلائی جا سکتی ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اگر کوئی غیر معمولی صورتحال جیسے قحط پیدا ہو جائے تو پھر حکومت ، زکوۃ کے علاوہ بھی امراء پر مزید ٹیکس لگا سکتی ہے۔

*نقطہ نظر کے اس اختلاف کے سبب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ پسند کیا کہ وہ شہر چھوڑ کر کسی گاؤں میں چلے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پہلے تو انہیں قائل کرنے کی کوشش کی لیکن جب وہ قائل نہ ہوئے تو انہیں اونٹوں کا ریوڑ، جو کہ اس دور کی سب سے بڑی دولت تھی، دے کر رخصت کر دیا لیکن ساتھ ہی یہ تلقین بھی کی کہ مدینہ آتے جاتے رہیے گا۔ اس سے ان دونوں صحابہ کے باہمی تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے*

اس قسم کا اختلاف رائے پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور انسانوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اب ہوا یہ کہ اس معمولی بات کو باغی تحریک نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے پہلے کوشش یہ کی کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو بھڑکا کر اپنے ساتھ ملا لیا جائے اور اس کے لیے انہوں نے انہیں لیڈری کا لالچ بھی دیا۔ حضرت ابو ذر ان کے جھانسے میں نہ آئے اور انہیں جھڑک دیا اور فرمایا: “اگر ابن عفان مجھے کھجور کے تنے پر بھی سولی پر لٹکا دیں، تو میں ان کی بات سنوں گا، ان کی اطاعت کروں گا، اپنا احتساب کروں گا اور صبر کروں گا۔ جس شخص نے بھی حکومت کو ذلیل کیا، اس کی توبہ قبول نہ ہو گی۔” اس کے بعد ان باغیوں نے صورت حال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو جلا وطن کر رکھا ہے حالانکہ حضرت ابو ذر اپنی مرضی سے ہی ربذہ چلے گئے تھے جو کہ ایک بڑی چراگاہ تھی۔

*اس تمام تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ساری بات محض ایک افسانہ ہے جو باغیوں نے محض آپ کو اپنے ساتھ ملوث کرنے کے لیے گھڑا ہے*

*کیا حضرت عبداللہ بن مسعود پر تشدد کیا گیا؟*

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں اور ان کا شمار بھی السابقون الاولون میں ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار صحابہ سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا، ان میں ایک حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔ آپ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ادوار میں کوفہ کے بیت المال کے انچارج رہے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم و تبلیغ میں اپنی زندگی بسر کی۔ آپ کو فقہ میں غیر معمولی مقام حاصل تھا اور آپ ہی کی علمی کاوشوں کی بنیاد پر بعد کی صدیوں میں کوفہ کا فقہی مکتب فکر وجود میں آیا جس کے سرخیل امام ابو حنیفہ بنے۔

حضرت عبداللہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔ جب حضرت عثمان منتخب ہوئے تو حضرت عبداللہ کوفہ آئے اور یہاں آ کر کہا: “ہم نے بقیہ لوگوں میں سے سب سے بہترین شخص کو منتخب کیا ہے اور اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے
( ابن عساکر۔ 39/212)

جب باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اس وقت حضرت عبداللہ، اگرچہ وفات پا چکے تھے لیکن انہی کے جلیل القدر شاگردوں مسروق بن اجدع، اسود بن یزید، شریح بن الحارث اور عبداللہ بن حکم رحمہم اللہ نے اہل کوفہ کو خلیفہ کی مدد کے لیے تیار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ اور ان کے شاگرد، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے۔
(طبری۔ 3/1-401)

باغیوں نے اپنے پراپیگنڈا کے طور پر یہ روایتیں وضع کیں کہ حضرت عبداللہ، حضرت عثمان کے خلاف ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے عبداللہ کو کوڑوں سے پٹوایا تھا۔ یہی پراپیگنڈا بعض روایتوں کا حصہ بن کر کتب تاریخ میں آ گیا ہے۔ لازم ہے کہ ہم اس کی حقیقت بھی دیکھ لیں۔ کتب تاریخ میں ہمیں اس ضمن میں دو ہی روایتیں مل سکی ہیں جو بلاذری نے نقل کی ہیں:

1۔ حدثني عباس بن هشام عن أبيه عن أبي مخنف وعوانة في إسنادهما:
( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/146)

اس روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود نے گورنر کوفہ ولید بن عقبہ پر تنقید کی جس کی پاداش میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے انہیں مدینہ بلوا کر پٹوایا اور انہیں یہاں قید کر دیا جس کے دو سال کے اندر حضرت عبداللہ وفات پا گئے۔ روایت کی سند کو دیکھیے تو اس میں وہ تمام لوگ موجود ہیں جو کہ بعد میں باغی تحریک کا حصہ بنے اور یہ سب کے سب صحابہ کرام سے شدید بغض رکھتے تھے۔ ان میں عباس بن ہشام، ہشام کلبی اور ابو مخنف شامل ہیں۔

2۔ حدثني اسحاق الفروي أبو موسى، حدثنا عبد الله بن إدريس عن عبد الرحمن بن عبد الله عن رجل نسيه اسحاق:
( بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 6/148)

اس روایت کے مطابق حضرت عثمان، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کے گھر میں اس وقت گئے جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ اس موقع پر دونوں نے ایک دوسرے کے لیے دعائے مغفرت کی۔ روایت کی سند میں ایک نامعلوم شخص ہے، جس کا نام اسحاق بھول گئے تھے، اور اس کے بارے میں ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس درجے میں قابل اعتماد تھا۔ صحابہ کرام ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے تھے لیکن اس پیرائے میں دعا کے بیان کا مقصد بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایت کی تصدیق کی جا سکے۔
جب مدینہ کا محاصرہ کیا گیا تو کوفہ میں جن لوگوں نے حضرت عثمان کی حمایت کے لیے مہم چلائی، ان میں سب سے نمایاں نام حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگردوں کا ہے۔ اگر خدانخواستہ حضرت عبداللہ بن مسعود پر تشدد کیا گیا ہوتا تو کیا ان کے جلیل القدر شاگرد، باغی تحریک کے خلاف مہم چلا کر کے لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کی ترغیب دیتے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی جھوٹے پراپیگنڈے کا حصہ ہے۔

🌷 *خلاصہ سلسلہ* 🌷
*اس سلسلہ میں ہم نے تاریخ کے ابتدائی مآخذ کا ایک تفصیلی سروے کر کے وہ تمام روایتیں جمع کر دی ہیں ، جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تہمتیں موجود ہیں اور ان کی اسناد کا جائزہ لے کر بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ یہ کس حد تک قابل اعتماد ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کم و بیش ایسی ہر روایت کی سند میں واقدی، ابو مخنف، ہشام کلبی ، سیف بن عمر یا اسی نوعیت کے ناقابل اعتماد راوی موجود ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ان ناقابل اعتماد راویوں کی باتوں کی بنیاد پر خلیفہ مظلوم سے بدگمانی کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ ہاں، جو شخص قرآن مجید کو مانتا ہے اور اس کے حسن ظن کے حکم پر عمل پیرا ہے، وہ یہ اچھی طرح جان سکتا ہے کہ پراپیگنڈے اور حقیقت میں کیا فرق ہے؟*

*باغی تحریک کے پراپیگنڈا کا جھوٹ اسی سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جس طرح پورا عالم اسلام ان باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، اس کی کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی ہے۔ اگر ان کا پراپیگنڈا درست ہوتا تو عالم اسلام میں حضرت عثمان کی شہادت پر اتنی بے چینی نہ پائی جاتی بلکہ نعوذ باللہ لوگ شکر کرتے کہ ایک ظالم اور کرپٹ خلیفہ سے نجات ملی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پراپیگنڈا محض جھوٹ تھا اور اس دور کے لوگ بھی اسے جھوٹ ہی سمجھتے تھے۔ ہمارے دور میں البتہ بعض لوگ اس پراپیگنڈے کو سچ سمجھ بیٹھے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر الزام تراشی شروع کر دی۔ اگر یہ حضرات ان روایتوں کی سند ہی کو دیکھ لیتے تو انہیں ان کی حقیقت معلوم ہو جاتی۔* *افسوس کہ اگر ہمارے والدین پر کوئی الزام عائد کیا جائے تو ہم اس کی تحقیق پر زور دیتے ہیں لیکن صحابہ کرام پر الزام عائد کیے گئے تو ان کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔*

*ہماری اس عاجزانہ سی کوشش کے باوجود عہد عثمانی سے متعلق تاریخ کے قدیم ترین مآخذ میں اگر کوئی روایت ایسی رہ گئی ہو ، جو آپ کے دور کی منفی تصویر پیش کرتی ہو، تو آپ خود اسکی تحقیق کیجیے یقیناََ وہ روایت بھی ناقابل اعتماد راویوں سے مروی ہو گی*

اس سلسلے کا خلاصہ ہم ان نکات کی صورت میں بیان کر سکتے ہیں:

*باغی تحریکوں کا ایک لائف سائیکل ہوتا ہے۔ تحریک کو اپنے عہد جوانی تک پہنچنے کے لیے کم و بیش بیس سال کا وقت درکار ہوتا ہے*

*خلفاء راشدین کے دور میں باغی تحریک کا پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا کیونکہ بہت سے ایسے عناصر موجود تھے جو اسلام کی پھیلتی ہوئی سلطنت کو پسند نہ کرتے تھے*

*باغیوں نے پراپیگنڈا کے ہتھیار سے کام لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف تہمتیں تراشیں۔ یہی الزامات تاریخی روایات کا حصہ بن گئے۔ ایسی تمام روایات کی سند کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اسی باغی تحریک کے راوی نظر آتے ہیں*

*تمام صحابہ بشمول حضرت علی، طلحہ اور زبیر ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے اور انہوں نے خلیفہ مظلوم کے دفاع کی ہر ممکن کوشش کی اور اس ضمن میں اپنے جواں سال بیٹوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیں*

*باغیوں نے متعدد صحابہ جیسے حضرت علی، طلحہ، عبد الرحمن، عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم پر مختلف تہمتیں تراشیں۔ ایسی تمام کی تمام روایات جعلی ہیں*

*یہاں دور عثمانی مکمل ہوا ،اگلے سلسلہ میں ان شاء اللہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کا جائزہ لیں گے۔ انکو خلیفہ کیسے نامزد کیا گیا اور جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں نے ان سے متعلق پراپیگنڈا کیا، بالکل اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین نے ان کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ اس کی تفصیلات کا جائزہ بھی ہم ان شاء اللہ اسی طریقے پر لیں گے*

*اللہ پاک ہم سب کو حق سمجھنے کی توفیق دیں اور ہدایت دیں اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دیں،آمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں