620

سوال_ کسی نجومی وغیرہ کو ہاتھ دکھانا کیسا ہے؟ کیا ستارے ہماری زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں؟ اور کیا ستاروں کا علم حاصل کرنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-99”
سوال_ کسی نجومی وغیرہ کو ہاتھ دکھانا کیسا ہے؟ کیا ستارے ہماری زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں؟ اور کیا ستاروں کا علم حاصل کرنا جائز ہے؟

Published Date: 15-10-2018

جواب :
الحمد للہ :

*کسی بھی ہاتھ کی لکیریں دیکھنے والے کے پاس جانا اور ان کی تصدیق کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا تعلق ان کاہنوں اور نجومیوں سے ہے جو علاج کے لئے جنوں سے مدد لیتے اور علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں اور جادو سے مدد لیتے ہیں ،یہ سب حرام ہے*

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
من أتى عرافا فسأله عن شيىء لم تقبل له صلوة أربعين ليلة
(صحيح مسلم حدیث نمبر-2230)
”جو شخص کسی نجومی کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ “

🌷آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد گرامی ہے :
من أتى عرافا أو كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم،
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-639)
”جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے اس شریعت کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ “

اس مفہوم کی کئی ایک احادیث موجود ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں اور ان کے پاس حاضر ہونے والوں کا انکار واجب ہے۔

ایسے لوگوں سے سوال کرنا اور ان کی تصدیق کرنا بھی ناجائز ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ حکمرانوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے، تاکہ وہ اپنے اعمال کی سزا پا سکیں۔ ایسے لوگوں کو یوں کھلا چھوڑ دینا اسلامی معاشرے کے لئے نقصان دہ ہونے کے علاوہ ناواقف اور سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دہی کا موجب ہے۔

یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ

🌷 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان
[صحيح مسلم]
”تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے اسے برا سمجھے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔ “

🌷امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ:
“قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالی نے تاروں کو تین مقاصد کیلیے پیدا فرمایا ہے: آسمان کی زینت، شیاطین کو مارنے کیلیے اور رہنمائی حاصل کرنے کیلیے بطور علامات، لہذا اگر کوئی شخص تاروں کا کوئی اور مقصد بیان کرتا ہے تو وہ غلطی پہ ہے اور اپنے وقت کو ضائع کر رہا ہے اور وہ ایسی چیز کے بارے میں تکلف کر رہا ہے جس کا اسے علم نہیں ہے”
(صحیح بخاری،کتاب بدء الخلق،
باب فی النجوم )

علم نجوم کی دو قسمیں ہیں:

اول: علم تاثیر

دوم: علم رہنمائی

علم تاثیر کی پھر آگے تین اقسام ہیں:

1- *یہ نظریہ رکھا جائے کہ تارے بذات خود اثر انداز ہوتے ہیں،*
یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ تارے خود ہی حادثات اور نقصانات پیدا کرتے ہیں، تو یہ شرک اکبر ہے؛
کیونکہ جو شخص اس چیز کا مدعی ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی خالق اور پیدا کرنے والا ہے تو وہ شخص شرک اکبر کا مرتکب ہے؛ کیونکہ اس شخص نے ایک مخلوق کو جو اللہ کے تابع ہے اسے بذات خود خالق اور مسخر کرنے والا بنا دیا ہے۔

2- *ان تاروں کو انسان علم غیب جاننے کا ذریعہ بنائے،*
چنانچہ تاروں کی نقل و حرکت اور ان کے آنے جانے سے یہ کشید کرے کہ اب فلاں فلاں کام رونما ہو گا؛ کیونکہ فلاں فلاں تارا فلاں منزل میں داخل ہو گیا ہے۔ مثال کے طور کوئی نجومی کہے: فلاں شخص کی زندگی کٹھن ہو گی؛ کیونکہ اس کی پیدائش فلاں تارے کے وقت ہوئی، اسی طرح کہے: فلاں شخص کی زندگی خوشحال ہو گی؛ کیونکہ اس کی پیدائش فلاں تارے کے وقت ہوئی۔ تو ایسا شخص حقیقت میں تاروں کو علم غیب جاننے کا وسیلہ اور ذریعہ بنا رہا ہے، حالانکہ علم غیب کا دعوی کرنا کفر ہے ، اس سے انسان دائرہ اسلام سے بھی خارج ہو جاتا ہے؛

🌷کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ}
ترجمہ: آپ کہہ دیں: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب جاننے والا نہیں۔ [النمل: 65]

تو قرآن مجید کی اس آیت میں حصر اور تخصیص کا سب سے قوی ترین اسلوب اپنایا گیا ہے کہ اس میں نفی اور استثنا دونوں استعمال ہوئے ہیں[تو مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں علم غیب جاننے والا نہیں ہے]؛ لہذا اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اسے غیب کا علم ہے تو وہ قرآن کو جھٹلا رہا ہے۔

3- *تاروں کو خیر و شر کے رونما ہونے کا سبب قرار دے*
تو یہ شرک اصغر ہے، مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز رونما ہو تو جھٹ سے اسے تاروں کی جانب منسوب کر دے، یہ بھی واضح رہے کہ تاروں کی جانب ان کی نسبت خیر و شر کے رونما ہونے کے بعد ہی کرے، پہلے نہیں۔ اس بارے میں یہ قاعدہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کو کسی کام کا سبب قرار دے حالانکہ اللہ تعالی نے اس چیز کو اس کام کا سبب نہ بنایا ہو تو وہ شخص اللہ تعالی پر زیادتی کر رہا ہے؛ کیونکہ مسبب الاسباب تو صرف اللہ ہے،

مثلاً کوئی شخص کسی دھاگے کو باندھ کر شفا یابی کی امید لگائے اور یہ کہے کہ میرا ماننا یہ ہے کہ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن یہ دھاگا صرف سبب ہے، تو ہم اسے کہیں گے: تم شرک اکبر سے تو بچ گئے ہو لیکن شرک اصغر میں پھنس گئے ہوئے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے اس دھاگے کو شفا یابی کا ذریعہ بنایا ہی نہیں ہے، اور تم نے اپنے اس عمل سے مقام ربوبیت کو ٹھیس پہنچائی ہے کہ تم نے اس دھاگے کو شفا یابی کا سبب بنا دیا ہے حالانکہ اللہ تعالی نے اس دھاگے کو شفا یابی کا سبب نہیں بنایا۔

بالکل اسی طرح اس کا حکم ہے جو شخص تاروں کو بارش ہونے کا سبب قرار دیتا ہے ؛ کیونکہ حقیقت میں بارش کا تاروں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،

🌷زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، اس رات کو بارش بھی ہوئی تھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: (کیا تمہیں علم ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟) اس پر صحابہ کرام نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی بہتر علم ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے بندوں میں سے کچھ نے مجھ پر ایمان اور کچھ نے کفر کرتے ہوئے صبح کی ہے، چنانچہ جس نے کہا کہ ہمیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ملی تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور تاروں سے کفر کرتا ہے، اور جس نے یہ کہا کہ ہمیں فلاں فلاں برج اور تارے کی وجہ سے بارش ملی تو وہ میرے ساتھ کفر کر رہا ہے اور تاروں پر ایمان رکھتا ہے)
(صحیح بخاری :حدیث نمبر-846)

تو اس حدیث میں بارش کی تاروں کی جانب سببی نسبت کرنے والوں پر حکم لگایا گیا ہے۔

دوم: علم رہنمائی

اس کی پھر آگے دو قسمیں ہیں:

1- تاروں کے چلنے سے دینی رہنمائی حاصل کرے تو یہ شرعی طور پر مطلوب بھی ہے، اور اگر تاروں سے واجب نوعیت کے امور میں رہنمائی ملے تو پھر ایسے میں تاروں کا علم سیکھنا واجب ہو گا؛ مثلاً تاروں سے قبلہ سمت معلوم ہو۔

2- تاروں کی نقل و حرکت سے دنیاوی امور میں رہنمائی ملے، تو اس کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں اس کی بھی دو قسمیں ہیں:

اول: تاروں سے جہتوں کا تعین ہو، مثلاً: جدی تارے سے قطب شمالی کا پتہ لگائیں؛ کیونکہ جدی شمال کے قریب ہی ہوتا ہے اور شمال کے آس پاس ہی گھومتا ہے، تو یہ جائز ہے، اسی کے بارے میں

🌷 اللہ تعالی نے فرمایا: {وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ}اور ہم نے انہیں علامتیں بنایا اور وہ تاروں سے رہنمائی پاتے ہیں۔
[النحل: 16]

دوم: تاروں سے موسموں کا تعین کیا جائے ، یعنی چاند کی منزلوں کے بارے میں علم حاصل کیا جائے تو اسے بعض سلف نے مکروہ سمجھا ہے اور دیگر نے اسے مباح کہا ہے، جبکہ صحیح موقف یہ ہے کہ یہ جائز ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں شرک نہیں پایا جاتا تاہم اگر کوئی شخص اس لیے سیکھتا ہے کہ ان کی جانب بارش ہونے اور سردی پڑنے کی نسبت کرے تو یہی وہ علت ہے جس کی وجہ سے اس میں شرک کی آمیزش ہوتی ہے، لہذا اگر صرف ان سے گرمی، سردی، بہار اور خزاں کا وقت معلوم کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(مزید کیلیے دیکھیں: القول المفید از شیخ محمد ابن عثیمین رحمہ اللہ (2/102)

🌷علم نجوم کی یہ قسم جسے “علم تسییر” کہا جاتا ہے ،
اس میں ستاروں کی رفتار وحرکات سے قبلہ اور اوقات یا موسموں و غیرہ کا تعین کیا جاتا ہے، بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔
اس لیے کہ یہ لوگ ستاروں کی رفتار و حرکات ، ان کے ایک دوسرے سے قریب ہونے یا دور ہونے، یا ان کے طلوع و غروب سے، محض وقت اور زمانہ کا تعین کرتے ہیں۔وہ ستاروں کی ان حرکات کو کسی کام کے لیے سبب اور اثر قرار نہیں دیتے۔ محض اتنی سی بات کرنے اور اسی مقصد کے لیے ستاروں کا علم حاصل کرنے میں شرعا کوئی قباحت نہیں بلکہ اس کی اجازت ہے

آج سے پانچ ہزار سال پہلے عراق کے شہر بابل میں جو قوم آباد تھی ستاروں کے بارے ان کی معلومات بغیر رصد گاہوں اور دور بینوں کے نہایت مکمل اور جامع تھیں۔یہ لوگ سورج ،چاند ،ستارے ،آگ اور بے شمار دیوی اور دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔حتیٰ کہ انہوں نے اپنے سالوں مہینوں اور دنوں کے نام بھی اپنے انہیں معبودوں سے منسوب کر رکھے تھے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود مختلف زبانوں میں جب ان سالوں اور مہینوں وغیرہ کے ناموں کے ترجمے دوسری زبانوں میں ہوئے تو کچھ نہ کچھ اثر ان میں بھی آج تک باقی نظر آتاہے۔ہفتے کے دنوں کے ناموں پر ذرا غور کیجیے۔
Sunday (سورج کادن)

Monday چاند کا دن(moonکا مخفف)

Tuesday (مریخ کا دن)(tuesفرانسیسی زبان میں مریخ کو کہتے ہیں۔)

Wednesday (عطارد کا دن)(فرانسیسی میںبدھ وار کوmercuraydayکہا جاتاہے)

Thursday (مشتری کا دن)

Friday (زہرہ کا دن)
(قدیم لغت میں thursمشتری کواور friزہرہ کو کہا جاتاہے)

Saturday (زحل کا دن)(saturnانگریزی میں زحل کو کہتے ہیں۔)

یورپ اور ایشیا میں یہ خیال رائج تھا کہ ہفتے کے ہر دن پر ایک ستارے کی حکمرانی ہوتی ہے اور اسی مناسبت سے بعض ایام کو منحوس اور بعض کو متبرک سمجھا جاتا تھا۔جبکہ اسلام نے مسلمانوں کو توہمات سے آزاد کرنے اور غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے انہیں قمری سال دیا جس میں تاریخیں ، دن اورموسم بدل بدل کر آتے ہیں اور ہفتے کے سات دنوں کو مخصوص غیر اسلامی ناموں سے آزاد کیا تاکہ مسلمان ستاروں سے ڈرتا نہ رہے۔ہفتے کے دنوں کے اسلامی نام یہ ہیں۔
عربی _ ترجمہ
یوم الاحد پہلا دن
یوم الاثنین دوسرا دن
یوم الثلاثئ تیسرا دن
یوم الاربعئ چوتھا دن
یوم الخمیس پانچواں دن
یوم الجمعہ جمعہ کا دن
یوم الثبت ساتواں دن

لیکن اس کے باوجوداکثر مسلمان اس توہم پرستی کا شکار نظر آتے ہیں جبکہ یہ بات عقلی ونقلی ہر دو اعتبار سے غلط ،بے بنیاد اور لا یعنی ہے۔

ہر روز اخبارات میں
”آپ کا دن کیسا رہے گا؟’
‘کے نام سے اس فعل کا اعادہ کر کے مسلمان جاہلیت کا ثبوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

🌷جبکہ مستقبل میں کیا ہونا ہے ،کسی کی تقدیر میں کیا لکھا ہے یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے
(لقمان:٣٤)

*علم نجوم کے بارے اکثر پڑھے لکھے افراد بھی توہم پرستی کا شکار ہیں*

علم نجوم والوں کے پاس جا جا کر انگوٹھی کے نگینے ،گاڑی کی نمبر پلیٹ ،لکی نمبر،مستقبل کے حالات اور ایسے تمام امور کے بارے معلومات اکٹھی کرنے کے مشتاق نظر آتے ہیں جو ان کے لیے فائدے اور برکت کا باعث ہو ۔حالانکہ یہ ساری چیزیں اسلام کے خلاف ہیں،
۔

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ علم نجوم جادو کی ایک قسم ہے۔

🌷جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
مَنْ اقْتَبَسَ شُعْبَةً عِلْمًا مِّنَ النُّجُومِ،فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِّنَ السِّحْر
(سنن ابی داود، الطب، باب فی النحوم،
ح:3905
ومسند احمد:1/ 277، 311)
“جس نے علم نجوم کا جتنا حصہ سیکھا اس نے اسی قدر جارو سیکھا۔” جو جتنا اضافہ کرے گا اتنا اضافہ ہو گا،

*آج کل اخبارات و رسائل اور جرائد میں “ستارے کیا کہتے ہیں؟” کے عنوان سے عموما مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ ان امور کی حقیقت پر غور نہیں کرتے ۔ ستاروں اور برجوں کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا یہی تو “کہانت” ہے۔ ہر علاقہ میں اس کی تردید اور مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ایسے رسائل گھروں میں نہ لائے جائیں ، نا خود پڑھے جائیں نہ کسی کو دیئے جائیں کیونکہ ان ستاروں اور برجوں کا علم حاصل کرنا، اپنی ولادت کے برج کو جاننا اور اپنے موافق ستارے کی معلومات رکھنا ،اس کے متعلق تحریرات پڑھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نجومی کے پاس جاکر اس سے احوال دریافت کیے جائیں ۔ ایسی باتوں کو پڑھ کر ان کو درست سمجھنا اور ان کی تصدیق کرنا کفر ہے*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں