299

سوال_ کیا قربانی کے لیے دو دانتا جانور ہونا ضروری ہے؟ جذعہ اور دوندا جانور سے کیا مراد ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-61″
سوال_ کیا قربانی کے لیے دو دانتا جانور ہونا ضروری ہے؟ جذعہ اور دوندا جانور سے کیا مراد ہے؟

Published Date:6-8-2018

جواب…!!
الحمدللہ

*قربانی کے لیے جانور کادوندا (دو دانتا) ہونا شرط ہے*

🌷جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تذبحوا الا مسنّۃ الا أن یّعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضّان۔
”دوندا جانور ہی ذبح کریں، تنگی کی صورت میں بھیڑ کی نسل سے جذعہ ذبح کر لیں۔”
(صحیح مسلم : حدیث نمبر-1963)

🌷حافظ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں؛
” ارباب علم ”مُسِنَّۃٌ ” دوندے اونٹ ،گائے اور بکری وغیرہ کو کہتے ہیں ،
نیز اس حدیث میں وضاحت ہے کہ بھیڑ کے علاوہ جنس کا ”جَذَعَۃٌ” بطورقربانی جائز نہیں ، بقول قاضی عیاض اس پر اجماع ہے ۔”
(شرح صحیح مسلم : ج2/ ص155)

🌷سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ؛
ثَنِیًّا فَصَاعِدًا وَاسْتَسْمِنْ فَإِنْ أَکَلْتَ أَکَلْتَ طَیِّبًا وَإِنْ أَطْعَمْتَ أَطْعَمْتَ طَیِّبًا .
”قربانی کا جانور دوندا یا اس سے بڑا ہو ،اسے خوب فربہ کیجئے! اچھا کھائیں ،اچھا کھلائیں۔”
(السّنن الکبریٰ للبیہقي : ج9/ص273)
، وسندہ، صحیحٌ)

🌷کلیب کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے، بکریوں کی قلت ہو گئی، (اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ بکریاں مہنگی ہو گئیں)
تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ( قربانی کے لیے ) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دو دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے ۔
(سنن ابن ماجہ،3140)
(سنن ابو داؤد،2799)

🌷 ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تمہاری قربانی نہیں ہوئی)
”پھر دوسری قربانی کرو“،
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟
آپ نے فرمایا: ”ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ ( بچے ) کی قربانی کافی نہ ہو گی،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1508)
حدیث کے نیچے امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
”اہلِ علم کا ”اجماع ”ہے کہ بکری کی جنس کا ”جذعہ” قربانی میں کفایت نہیں کرتا، جبکہ بھیڑ کی جنس کا ”جَذَعَۃٌ” کفایت کر تا ہے،

*اس حدیث میں بکری کے جذعہ کی قربانی کا بھی ذکر ہے مگر وہ صرف اور صرف ابو بردہ رض صحابی کے لیے جائز تھی، انکے بعد کسی اور کے لیے جائز نہیں*

🌷 *اوپر ذکر کردہ تمام احادیث سے یہ بات سمجھ آئی کہ قربانی کے جانور کا دو دانتا ہونا ضروری ہے، اور یہ حکم عام ہے اورہر جانور کو شامل ہے ، وہ بکری کی جنس ہو یا بھیڑ کی ، گائے کی جنس ہو یا اونٹ کی ، سب کا دوندا ہونا ضروری ہے،*

*اور اگر دوندا جانور ملنا مشکل ہو جائے تو صرف بھیڑ کے ”جَذَعَۃٌ” ( یعنی ایک سال کی بھیڑ یا لیلہ،دنبہ )کی قربانی کا جوازہے،*
*اور یہ جواز بھی تنگی پر محمول ہے،*
*یعنی دوندا جانور نہ ملے یا قیمت اتنی زیادہ ہو کہ خرید نا سکے تو ایسی مجبوری کی صورت میں ایک سال کا دنبہ یا بھیڑ ذبح کی جا سکتی ہے ، اس طرح تمام احادیث پر عمل ہو جا ئے گا*

🌷جذعہ اور دوندا کسے کہتے ہیں؟
جب جانور کے دودھ کے دانت دوسرے نئے دانت نکلنے کی وجہ سے گر جائیں تو وہ “”مسنۃ” ” یعنی دو دانتا کہلاتا ہے۔
(المصباح المنیر 292/1)،
(لسان العرب 222/13)

🌷یاد رہے کہ ”جَذَعَۃٌ” کی عمر میں اختلاف ہے ، لیکن جمہور ایک سال کے قائل ہیں اور احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے،
حافظ نووی لکھتے ہیں :
والجذع من الضّأن ما لہ، سنۃٌ تامّۃ ، ہذا ہو الأصحّ عند أصحابنا ، وہو الأشہر عند أہل اللّغۃوغیرہم ۔
”بھیڑ کی جنس(دنبہ،،چھترا) کا ‘جَذَعَۃٌ’ مکمل ایک سال کا ہوتا ہے ، یہی ہمارے اصحاب کے نزدیک صحیح
تر ین ہے اور اہلِ لغت کے ہا ں مشہور ہے ۔
”(شرح صحیح مسلم : ج2/ص155)

🌷عموماً منڈیوں میں دھوکا دینے کے لیے بعض لوگ جانور کے دانت خود توڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دو دانتا ہوگیا ہے ،یہ دھوکہ اور فریب ہے ایسے جانور کی قربانی درست نہیں،
یہ یاد رہے کہ دو دانتا اس وقت ہوگا جب اس کے ثنایا طلوع ہوں گے، دودھ کے دانتوں کا ٹوٹ جانا ہی کافی نہیں بلکہ نئے دانتوں کا نکلنا بھی “مسنۃ” ہونے کی شرط ہے۔ نیز “مسنۃ” کی اس تعریف میں وہ جانور بھی شامل ِ “مسنۃ” ہیں جن کے چار یا چھ دانت نئے نکل آئیں ہوں،
کیونکہ ثنایا کے طلوع ہونے کے بعد جانور کانام “”مسنۃ” “ہے ،
امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی یہی بات نیل الأوطار میں بایں الفاظ تحریر فرمائی ہے:
“قال العلماء المنسۃ ھی الثنیۃ من کل شیء من الإبل والبقر والغنم فما فوقھا”
اہل علم کا کہنا ہے کہ “مسنۃ” دو دانتا یا دو دانتا سے اوپر بولا جاتا ہے ،تمام جانوروں میں خواہ وہ اونٹ ہو گائے ہو یا بکری۔
(نیل الأوطار202,201/5)
(وقال النووی قریباً منہ شرح مسلم للنووی 99/13)

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوال_ کیا قربانی کے لیے دو دانتا جانور ہونا ضروری ہے؟ جذعہ اور دوندا جانور سے کیا مراد ہے؟” ایک تبصرہ

  1. بہت شکریہ بہترین اقدامات ہیں دینی کام کو یونہی پھیلاتے رہیں اور ایسے ہی مشغول رہیں
    اللہ آپکے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں