642

سوال_کیا آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں میں بیٹھنا درست ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر_31″
سوال_کیا آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں میں بیٹھنا یا نماز پڑھنا درست ہے؟ اور اگر مجبوراً کسی کو آدھی دھوپ اور آدھے سائے والی جگہ کھڑا ہونا پڑے تو وہ کیا کرے؟

Published Date: 17-2-2018

جواب..!
الحمدللہ۔۔۔!!

*صاحب شریعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے وہ چاہے ویسے بیٹھے یا نماز پڑھے ہر حال میں منع ہے*

دلائل درج ذیل ہیں

📚سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: مجلس میں کشادہ ہو کر بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4821
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مَخْلَدٌ:‏‏‏‏ فِي الْفَيْءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُمْ.
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ  ابوالقاسم  ﷺ  نے فرمایا:  جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو  (مخلد کی روایت)  سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آجائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے،
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠٤)،
وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٣) (صحیح  ) 

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: آداب کا بیان۔
باب: کچھ سایہ اور کچھ دھوپ میں بیٹھنا۔
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْمُنِيبِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُقْعَدَ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ.
ترجمہ:
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ  نبی اکرم ﷺ نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے 
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٨٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٢) (صحیح  )
(ابن ابی شیبہ فی المصنف ۴۹۱/۸ ح۲۵۹۵۴،) (المستدرک ۲۷۲/۴ ح۷۷۱۴)

ایک روایت میں ہے کہ

📚أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْلَسَ بَيْنَ الضِّحِّ وَالظِّلِّ، وَقَالَ :
” مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ “.
بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوپ اور سائے والی جگہ پر بیٹھنے سے منع فرمایا، اور فرمایا یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے،
(مسند احمد،حدیث نمبر_15421)
(مصنف ابن ابی شیبہ،ج8/ص610)

حكم الحديث حسن!

(السيوطي (٩١١ هـ)، الجامع الصغير ٩٥٥٢ • حسن)
(لألباني (١٤٢٠ هـ)، السلسلة الصحيحة ٨٣٨ • إسناده صحيح رجاله ثقات)

(المنذري (٦٥٦ هـ)، الترغيب والترهيب ٤/١٠١ • إسناده جيد)

(الرباعي (١٢٧٦ هـ)، فتح الغفار ٢١٢٧/٤ • إسناده جيد)

(شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)، تخريج شرح السنة ١٢/٣٠١ • إسناده قوي)

(الهيثمي (٨٠٧ هـ)، مجمع الزوائد ٨/٦٣ • رجاله رجال الصحيح غير كثير بن أبي كثير وهو ثقة)

(البوصيري (٨٤٠ هـ)، إتحاف الخيرة المهرة ٦/١٢٠ • له شاهد

📚عکرمہ تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھتا ہے تو ایسا بیٹھنا شیطان کا بیٹھناہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ۴۸۹۱/۸ ح۲۵۹۵۳ و سندہ صحیح)

📚عبید بن عمیر (تابعی) نے فرمایا:
دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا شیطان کا بیٹھنا ہے۔
(ابن ابی شیبہ: ۲۵۹۵۲ و سندہ صحیح)

____________&__________

📒وجاء في ” فتاوى اللجنة الدائمة ” (26/386): (س : ما حكم الجلوس بين الظل والشمس ؟
ج : الجلوس بين الظل والشمس مكروه ؛ لأن النبي – صلى الله عليه وسلم – نهى أن يقعد بين الظل والشمس رواه ابن ماجه بسند جيد ، وثبت أيضا عنه عليه الصلاة والسلام أنه سماه : مجلس الشيطان ، رواه أحمد وابن ماجه،
وبالله التوفيق ، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
بكر أبو زيد … صالح الفوزان … عبد الله بن غديان … عبد العزيز آل الشيخ … عبد العزيز بن عبد الله بن باز) انتهى.

فتویٰ کا خلاصہ:
فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ میں سوال کیا گیا کہ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان بیٹھنے کا کیا حکم ہے تو
علماء کرام کا جواب تھا کہ!
آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں میں بیٹھنا مکرو ہے اس لیے کہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔انتہی!

__________&________

📒وسئل ابن عثيمين رحمه الله :
ما حكم الصلاة في المكان الذي بعضه ظل وبعضه شمس؟
فأجاب : ” الجلوس بين الشمس والظل منهي عنه، سواء في الصلاة أو غير الصلاة، حتى لو نمت وجعلت رأسك مثلاً في الشمس ورجليك في الظلال أو بالعكس فقد نهي عنه، لكن لو فرض إنك قائم تصلي والظل يمتد حتى كنت بين الظل والشمس فالظاهر إن شاء الله أنه لا شيء فيه، لأنك لم تتعمد الجلوس بين الظل والشمس “.
لقاء الباب المفتوح (203/ 20) بترقيم الشاملة

فتویٰ کا خلاصہ!
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں میں نماز پڑھنے کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے وہ چاہے نماز میں ہو یا غیر نماز میں برابر ہے، مثال کے پور پر اسکا سر دھوپ میں ہو اور پاؤں چھاؤں میں ہوں یا اسکے برعکس ہو تو یہ منع ہے، ہاں اگر کوئی پہلے سے نماز پڑھ رہا چھاؤں میں اور بعد میں کچھ حصے پر دھوپ آ گئی تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ جان بوجھ کر دھوپ اور چھاؤں کے درمیان بیٹھنے کی طرح نہیں ہے،

📒شیخ صالح المنجد رحمہ اللہ کا فتویٰ:
أن الجلوس بين الشمس والظل مكروه مطلقا ، وأن من كان مجلسه في الشمس فليتحول إلى الظل ، وأن من جلس في الظل أو جلس في الشمس فصار بعضه في الظل وبعضه في الشمس فليقم من مجلسه هذا وليتحول إلى الظل إن أمكنه.
تنبيه
لايخفى أن هذا الحكم لو تعارض مع أمر واجب كإتمام الصف في الصلاة فإن فعل الواجب يقدّم على ترك المكروه عند التعارض كما لو جاء المصلي وقد أتت الشمس على منطقة في الصف فإذا قام فيها صار بعضه في الظل وبعضه في الشمس فعليه أن يتم الصف،

وأيضا في حالات أخرى قد يضطر أو يحتاج إلى جلوس في مثل هذا ومن القواعد عند العلماء أن مراعاة المكروه تنتفي عند الحاجة أو الضرورة.

اس فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے،
بے شک دھوپ اور چھاؤں کے درمیان بیٹھنا مطلقاً مکروہ ہے اور جو شخص آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں والی جگہ بیٹھا ہو تو اسکو چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو وہ وہاں سے اٹھ کر چھاؤں والی جگہ چلا جائے،
(اور یہ مکروہ تنزیہی ہے مکروہ تحریمی نہیں ہے،) اور اگر صورت ایسی بنتی ہے کہ مجبوراً آدھی دھوپ چھاؤں میں کھڑا ہونا پڑے جیسے نماز میں صف مکمل کرنے کیلئے تو ایسی صورت میں واجب پر عمل کریں گے اور آدھی دھوپ چھاؤں میں کھڑے ہو سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں، اور بھی ایسی کوئی صورت ہو جس میں واجب اور مکروہ تنزیہی میں تعارض آ جائے تو واجب پر عمل کیا جائے گا اور مکروہ تنزیہی کو چھوڑ دیا جائے گا،

__________&___________

*موسم سرما میں دھوپ اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے،جب موسم سخت سرد ہو تو لوگ بیٹھنے کے لیے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں جہاں دھوپ ہو،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر معاملات کی طرح دھوپ کے استعمال میں بھی ہماری رہنمائی کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی آدھا دھوپ میں بیٹھےاور آدھا سائے میں، یعنی آدمی کا پورا جسم یا تو دھوپ میں ہو یا سائے میں، یہ نہ ہو کہ آدھے جسم پر دھوپ ہو اور آدھے جسم پر سایہ ہو،اس کی بہت سی حکمتیں ہونگی جن میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بیان کی کہ یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے،
تو یقیناً اگر ہم شیطان کی جگہ پر بیٹھیں گے تو وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے،اور ایک حکمت یہ بھی سمجھ لیں کہ،میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے کہ اس طرح کرنے سے انسان کے خون کی گردش میں فرق آ جاتا ہے،یعنی جو حصہ دھوپ میں ہو گا اس میں خون کی گردش تیز جبکہ جو حصہ چھاؤں میں ہو گا اس میں گردش آہستہ ہو جائے گی.لازمی طور پر یہ گردش کا دو رخ ہونا اس کے لئے بیماری کا سبب بن سکتا ہے*

*سبحان اللہ کیا حکمتیں ہیں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں،جب سائنس کا وجود نہیں تھا تب ہی سب بتا دیا،اللہ پاک ہمارے محبوب پیغمبر، رحمت للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت میں مقام وسیلہ عطا فرمائیں جس کا اللہ پاک نے  ان سے وعدہ فرمایا ہے،آمین ثم آمین۔۔۔*

__________&_______

ایک حدیث میں یہ بات بھی ملتی ہے، کہ

📚عن أبى هريرة قال : رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قاعدا في فناء الكعبة ، بعضه في الظل ، وبعضه في الشمس ، واضعا إحدى يديه على الأخرى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،
میں نے دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے، آپکا کچھ حصہ سائے میں تھا اور کچھ حصہ دھوپ میں اور آپ نے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا ہوا تھا،
(سنن الکبری للبیہقی،ج3/ص335_5922)

*اس حدیث میں ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھاؤں میں بیٹھے ہوں اور اچانک دھوپ آ گئی ہو اور آپکو پتا نہ چلا ہو،
یا شاید منع کرنے سے پہلے بیٹھے ہوں،خیر جو بھی تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح حکم آ گیا منع کا تو ہمیں اس عمل سے اجتناب ہی کرنا چاہیے،*

*لہذا_آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں والی جگہ پر بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہیے،*

*واضح رہے کہ ایسی جگہ پر بیٹھنا حرام تو نہیں، لیکن مکروہات میں ضرور آتا ہے،*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦  سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں