132

سوال: غصے کے بارے شرعی احکامات کیا ہیں؟ نیز غصہ آنے کے اسباب اور اس کو کنٹرول کا مسنون طریقہ بیان کریں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-353”
سوال: غصے کے بارے شرعی احکامات کیا ہیں؟ نیز غصہ آنے کے اسباب اور اس کو کنٹرول کا مسنون طریقہ بیان کریں؟

Published Date: 5-2-2021

​جواب:
الحمدللہ:

*اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر جذبات رکھے ہیں، انہی جذبات کے ذریعے انسان اپنی خواہشات و احساسات کے مطابق ہونے والے اچھے معمالات پر خوش ہوتا ہے، جبکہ اپنی سوچ اور توقع کے خلاف ہونے والے برے معمالات پر غصے اور ناراضگی کا اظہار کرتا ہے، یہی غصہ جب حد سے بڑھ جائے اور بر وقت کنٹرول نا کیا جائے تو لڑائی جھگڑے سے لیکر قتل و غارت گری تک لے جاتا ہے، کبھی والدین کو اولاد سے جدا کروا دیتا ہے تو کبھی بیوی کو طلاق دلوا دیتا ہے، کہیں کسی کا قاتل بنا دیتا ہے تو کبھی انسان کو خودکشی پر مجبور کر دیتا ہے، اور پھر انسان کے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا،اس لیے شریعت ہمیں غصہ پر قابو پانے کی بارہا ہدائیت کرتی ہے تا کہ اس غصے کیوجہ سے ہونے والے نقصانات سے ہم خود کو اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو محفوظ رکھ سکیں*

*قرآن مجید کے اندر اللہ پاک نے غصہ میں صبر کرنے اور معاف کر دینے کو متقین کی صفت بتلایا ہے*

📚 تفسیر القرآن الکریم:
سورۃ نمبر-3 آل عمران
آیت نمبر 134
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ۞
ترجمہ:
جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

📙 *تفسیر:*
غصہ پی جانا اور معاف کرنا الگ الگ صفات ہیں ، متقین کی دوسری صفت یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں، غصہ ہمیشہ ایسے شخص پر آتا ہے جو اپنے سے کمزور ہو اور انسان اس سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہو۔ ایسے وقت میں غصہ کو برداشت کر جانا فی الواقعہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔غصہ پی جانا اور معاف کردینا دو الگ الگ کام ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص وقتی طور پر غصہ پی جائے اور بات دل میں رکھے اور پھر کسی وقت اس سے انتقام لے لے۔ گویا غصہ پی جانے کے بعد قصور وار کو معاف کردینا ایک الگ اعلیٰ صفت ہے اور اللہ ایسے ہی نیکو کار لوگوں سے محبت رکھتا ہے جس میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہوں۔
(تفسیر القرآن الکریم )

دوسرے مقام پر اللہ پاک فرماتے ہیں:

📚 تفسیر القرآن الکریم –
سورۃ نمبر-42 الشورى
آیت نمبر 37
وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ ۞
ترجمہ:
اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور جب بھی غصے ہوتے ہیں وہ معاف کردیتے ہیں،

📙 *تفسیر*
غصے کی حالت میں معاف کر دینے کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو نہایت مضبوط ارادے کے مالک ہوں، کیونکہ عموماً غصے میں آدمی عقل و ہوش سے عاری ہو جاتا ہے۔ اس حال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا آدمی کی کمالِ عقل اور ضبطِ نفس کی دلیل ہے۔
(تفسیر القرآن الکریم )

*غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد تو عموماً لوگ معاف کر دیتے ہیں لیکن اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفات میں سے اہم صفت یہ بیان کی ہے وہ حالتِ غضب میں معاف کرتے ہیں جو بہت ہمت اور جرأت کا کام ہوتا ہے- بلند ہمت اور بلند حوصلہ لوگ ہی اس شان کے مالک ہوتے ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والوں پر بھی شفقت کرتے ہیں-برائی کے عوض بھلائی کرنا جود وکرم ہے اور بھلائی کے عوض برائی کرنا خباثت ہے- اس آیت میں جود و کرم کا ذکر ہے کہ اللہ کے محبوب و محسنین کا یہ وصف قرآن نے بیان کیا ہے کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں- انسان جو کسی پر غضب ناک ہوتا ہے تو دراصل یہ شیطان کے وسوسے کی وجہ سے ہوتا ہے،انسان کو چاہیے کہ جب اسے کسی بات پر غصہ آئے تو وہ اپنے غصہ کو ضبط کرے اور جس پر غصہ آیا ہے اس کو معاف کر دے،*

📚چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے ۔
(صحیح بخاری:3560)

📚اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے ؟
اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔( وغیرہ )
(صحیح بخاری:6031)

📙حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہونا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے،
(تفسیر ابن کثیر، سورہ شوریٰ-آئیت36 )

_____&________

*غصہ ضبط کرنے کی فضیلت میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سے احادیث مروی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں*

📚صحیح بخاری
کتاب: ادب کا بیان
باب: غصے سے پرہیز کرنے کا بیان،
حدیث نمبر: 6114
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہوجائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے، اور بے قابو نہ ہوجائے،

📚صحیح بخاری
کتاب: ادب کا بیان
باب: غصے سے پرہیز کرنے کا بیان،
حدیث نمبر: 6116
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَوْصِنِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَغْضَبْ، فَرَدَّدَ مِرَارًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَغْضَبْ.
ترجمہ:
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی جو ابن عیاش ہیں، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔

📚سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: غصہ پی جانے کا بیان
حدیث نمبر: 4777
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ:‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ، ‏‏‏‏‏‏دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِن الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ،‏‏‏‏ قال أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ اسْمُ أَبِي مَرْحُومٍ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ.
ترجمہ:
معاذ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے ۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البر والصلة ٧٤ (٢٠٢١)،
صفة القیامة ٤٨ (٣٤٩٣)، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٨ (٤١٨٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٨، ٤٤٠) (حسن )

📚 امام ابن کثیر رحمہ اللہ سورہ الانعام کی آئیت-134 کی تفسیر میں یہ روایت ذکر کرتے ہیں، کہ وَقَدْ وَرَدَ فِي بَعْضِ الْآثَارِ: “يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ابنَ آدَمَ، اذْكُرْنِي إذَا غَضِبْتَ، أَذْكُرُكَ إذَا غَضِبْتُ، فَلا أُهْلِكُكَ فِيمَنْ أهْلِكَ”
( رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! اگر غصہ کے وقت تو مجھے یاد رکھے گا یعنی میرا حکم مان کر خصہ پی جائے گا تو میں بھی اپنے غصے کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا
( ابن ابی حاتم )
(اس روائیت کی اسنادی حیثیت معلوم نہیں ہو سکی۔۔ واللہ اعلم)

📚اور ایک حدیث میں ہے
[عن أنس بن مالك:] مَنْ كَفَّ غضبَهُ كَفَّ اللهُ عنهُ عذابَهُ، ومَنْ خزنَ لسانَهُ سترَ اللهُ عَوْرَتَهُ، ومَنِ اعْتَذَرَ إلى اللهِ قَبِلَ اللهُ عُذْرَهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان ( خلاف شرع باتوں سے ) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے
(الألباني السلسلة الصحيحة 2360 إسناده حسن )
(أخرجه ابن أبي عاصم في «الزهد» (١٠)،
ومسند أبو يعلى (٤٣٣٨)،
(والدولابي في «الكنى والأسماء» (١٠٨٢)
(الألباني، تخريج مشكاة المصابيح ٥٠٤٨ • إسناده شديد الضعف)
(ابن كثير تفسير القرآن ٢‏/١٠٠ • غريب)

,📚عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ کُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِیْ فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِی صَوْتًا اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَیْکَ مِنْکَ عَلَیْهِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللّٰهِ فَقَالَ أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْکَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْکَ النَّارُ
سیدنا ابو مسعود انصاری ؓفرماتے ہں میں غلام کی پٹائی کر رہا تھا کہ میں نےاپنے پیچھے سے آواز سنی -اے ابومسعود تمہیں علم ہونا چاہیے کہ تم اس پر جتنی قدرت رکھتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتا ہے -میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ رسول اکرم (ﷺ) تھے- میں نےعرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)یہ اللہ کی رضا کےلیے آزاد ہے، آپ (ﷺ) نے فرمایا،اگر تم یہ نہ کرتے تو تمہیں دوزخ کی آگ جلاتی یا فرمایا کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوتی‘‘-
(صحیح مسلم، رقم حدیث :1659)
(سنن ابو داؤد،5159)

__________&__________

*غصہ کو کنٹرول کرنے والے بعض شرعی طریقے*

*پہلا طریقہ*
1_غصے کے وقت أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لے ۔

📚سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: غصہ کے وقت پڑھنے کی مسنون دعائیں
حدیث نمبر: 4781
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا هَذَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِفَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ هَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ ؟.
ترجمہ:
سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہوجائے گا، وہ کلمہ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٨٢)، الأدب ٤٤ (٦٠٥٠)، ٧٥ (٦١١٥)، صحیح مسلم/البر والصلة ٣٠ (٢٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٤) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎:
غالباً اس نے یہ سمجھا کہ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھنا جنون ہی کے ساتھ مخصوص ہے، یا ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی منافق یا غیر مہذب اور غیر مہذب بدوی رہا ہو۔

1_شرعی غیرت کے علاوہ بے انتہا غصہ شیطانی اثر ہوتا ہے اور اس کا علاج تعوذ ہے بشرطیکہ بندہ اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہو ۔
2_غیر شرعی غصے کی ایک نحوست یہ بھی ہے کہ انسان حق قبول نہیں کرتا ہے ۔
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو غصہ کی حالت میں دیکھے تو اسے کہے کہ ” اللہ کا ذکر کرو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درور بھیجو ”(جیسا کہ عرب میں رواج ہے)
بلکہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسے کہا جائے گا کہ ” شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو”
(ثمرات التدوین ص 243)

*دوسرا طریقہ*
2_اپنی کیفیت کو بدل دے ،یعنی اگر کھڑا ہے تو بیٹھ جائے،بیٹھا ہے تو لیٹ جائے. اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر چلا جائے،

📚سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: غصہ کے وقت پڑھنے کی مسنون دعائیں
حدیث نمبر: 4782
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَنَا:‏‏‏‏ إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ.
ترجمہ:
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے، اب اگر اس کا غصہ رفع ہوجائے (تو بہتر ہے) ورنہ پھر لیٹ جائے ۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٢) (صحیح )

*تیسرا طریقہ*
3_وضو کرلے،

📚سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: غصہ کے وقت پڑھنے کی مسنون دعائیں
حدیث نمبر: 4784
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْنَا عَلَى عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيِّ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَغْضَبَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ تَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَتَوَضَّأْ.
ترجمہ:
ابو وائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کردیا، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے، اور بولے: میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کرلے ۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٣)، (اسنادہ حسن)
( اخرجه احمد : 4/226 من حدیث ابراھیم بن خالد به *عروہ و ابوہ وثقھما ابن حبان ، و الحاکم ، الذھبی : 4 / 327،328 و غیرھما، فحدیثھما لا ینزل عن درجة الحسن)

___________&__________

*ضبطِ غصہ ماہرینِ نفسیات کی نظر میں*
(مرأة العارفين انٹرنیشنل)

ضبطِ غصہ کو انگریزی میں(Anger Management)کہتے ہیں- پاکستان میں اس مضمون کو پڑھانے کا انتظام چھوٹے پیمانے پر بھی بہت کم ہے-جبکہ دیگر یورپی ممالک میں اس موضوع پر الگ ڈیپارٹمنٹ ہے، الگ فیکلٹی ہے جہاں اس موضوع پر ایم -اے ، ایم فِل اور پی -ایچ- ڈی ڈگریاں دی جاتی ہیں؛ اس کے علاوہ وہاں کی بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے کے لوگ اس موضو ع پر کورسز کرواتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر روز مرہ کی بحث یا چپقلش کے باعث ادارے کے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے ادارے کو بڑا نقصان اٹھاناپڑتا ہے

*ضبطِ غصہ سے مراد بنیادی طور پر اس علم کو جاننا ہے کہ کس طرح غصے کی کیفیات پر قابو پایا جائے،اس حوالے سے ماہرینِ نفسیات نے کچھ طریقے بتائے ہیں جن پر عمل کرنے کے بعد غصےپر قابو پایا جا سکتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں*

*غصے کے چند اسباب*

1. نیند کا پورا نہ ہونا بھی غصے کا باعث بنتا ہے، کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نیند لازمی 8 گھنٹے ہونی چاہیے جبکہ ایسا ضروری نہیں ہے بلکہ روٹین کے مطابق سونا ضروری ہے- نیند کو اپنے کام کے لحاظ سےجس سطح پر لانا چاہتے ہیں لے آئیں یعنی روزانہ گھنٹوں کا تعین کریں کہ اتناسونا ہے، پھر اس کے مطابق نیند پوری کریں، اگر وقت زیادہ اوپر نیچے کریں گے تو مزاج میں چڑچڑا پن اور غصہ پیداہوگا،

2. غصہ آنے کی دوسری بڑی وجہ ورزش کا نہ کرنا ہے- انسان جب اپنی جان پر جبر یا سختی کرتا ہے اس سے بھی غصہ مرتا ہے، کیونکہ ورزش سے وجود میں طبعی طور پر استحکام پیدا ہوتا ہے،

3. غصہ کی ایک وجہ آدمی کا اپنی سوچ کو مثبت نہ رکھنا بھی ہے-منفی سوچ انسان کو شر کی جانب لے جاتی ہے جس سے اس کے اندر غصہ پیدا ہوتا ہے- ہر چیز میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادت ڈالنے سے بھی غصہ میں کمی آ سکتی ہے،

4. غصہ آنے کی ایک وجہ تکبر بھی ہے کہ ہمارے اندر احساسِ برتری آجاتا ہے، ہم مخالف کو اپنے سے حقیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ اپنے مزاج میں عاجزی و انکساری رکھنے والے کی طبیعت میں نرمی کا عنصر غالب آجاتا ہے،وہ دوسروں کو اپنے برابر جانتا ہے،تو اپنے اند ر عجز وانکساری پیدا کرنے سے بھی غصہ میں کمی لائی جا سکتی ہے،

5. علمِ نفسیات کی روشنی میں غصے کی ایک وجہ ذہنی دباؤ بھی ہے- احساسِ محرومی اور گزشتہ زندگی کے تلخ واقعات نفسیاتی دباؤ پیدا کرتے ہیں اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے افراد کا بلڈ پریشر زیادہ یا کم ہوتا رہتا ہے،ایسے افراد کو اپنی زندگی کے واقعات لکھنا چاہییں اور یہ بھی لکھنا چاہیے کہ یہ سب ماضی کا حصہ ہے اور میں مستقبل میں بہت سے ایسے اقدامات کر سکتا ہوں جن سے ان محرومیوں کا ازالہ ممکن ہے،

6. اپنے اندر لا محدود خواہشات کو پیدا کر لینا یاکسی انسان سے بے جا توقعات وابستہ کر لینا جبکہ وہ ان توقعات پر پورا نہ اُترے-انسان کے اندر غصے کو ابھارتا ہے- حقیقت پسندی کو اختیار کرنے اور خواہشات کو محدود رکھنے سے بھی غصےمیں کمی آتی ہے

7. غصے کی ایک اور بڑی وجہ اپنے وجود سے زیادہ بوجھ اپنے ذمے لے لینا ہے-آدمی کو ایسی ذمہ داری اپنے سر نہیں لینی چاہیے جو اس کے کندھوں پر مستقلاً تلوار کی مانند لٹک جائے، اپنے کاموں میں اعتدال رکھنے سے بھی غصے میں کمی آتی ہے،

*جب غصہ آئے تو اس وقت کون کون سی اہم تدابیر اختیار کی جائیں جن سے ہمارے اندر غصہ ختم ہو جائے اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں؟اس حوالے سے مندرجہ ذیل امور پر فوراً عمل کرنا چاہیے*

1. غصے کے وقت کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں-
2. غصہ آئے تو فوراً وضو کر لیں-
3. غصے کے خاتمے کے لیے حضورنبی کریم(ﷺ) کے تجویز کردہ کلمات ’’اعوذبااللہ من الشیطان الرجیم “فوراً پڑھ لیں-
4. ایسے مسائل کے بارے میں سوچنا جو آپ کے لیے جذباتی نہیں ہیں، جیسے حساب کے بارے میں سوچنا، الٹی گنتی گننا-
5. شدید غصے میں لمبے اور گہرے سانس لیں،
6. غصے والی جگہ چھوڑ دیں ،اگر کسی تنگ مقام پر موجود ہیں تو کشادہ جگہ یا کھلی فضا میں آجائیں –
7. دور کے مناظر کی طرف دیکھنا شروع کر دیں جیسے آسمان کی طرف دیکھنا،

*ان ہدایات پر عمل کرکے غصے کے وقت کی کیفیات کو قابو کیا جاسکتا ہے*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

_____________&__________

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں