100

سوال- قربانی کا گوشت زیادہ سے زیادہ کتنے دن تک استعمال کر سکتے ہیں؟ نیز کیا قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ استعمال کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-345″
سوال- قربانی کا گوشت زیادہ سے زیادہ کتنے دن تک استعمال کر سکتے ہیں؟ نیز کیا قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ استعمال کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا؟

Published Date 7-8-2020

جواب..!
الحمدللہ..!

*کچھ لوگ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں،یا برا محسوس کرتے ہیں، اور دلیل دیتے ہیں کہ صاحب شریعت نے اس سے منع کیا تھا،جب کہ وہ ممانعت وقتی تھی، بعد میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اسکی اجازت دے دی تھی ، کہ قربانی کا گوشت کھاؤ بھی اور صدقہ بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو، پھر اس حکم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قربانی کے گوشت کو کئی کئی دنوں اور مہینوں تک ذخیرہ کرتے اور کھاتے تھے*

دلائل درج ذیل ہیں..!

📚صحیح بخاری
کتاب: قربانیوں کا بیان
باب: قربانی کا گوشت کس قدر کھایا جائے اور کس قدر جمع کیا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 5569
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُلُوا، ‏‏‏‏‏‏وَأَطْعِمُوا، ‏‏‏‏‏‏وَادَّخِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا.
ترجمہ:
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔

📚صحیح مسلم
کتاب: قربانی کا بیان
باب: ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حدیث نمبر: 1971
(اسلام360 حدیث نمبر-5103)
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَمْرَةَ فَقَالَتْ صَدَقَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَی زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّخِرُوا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الْأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا نَهَيْتَ أَنْ تُؤْکَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُکُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَکُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا
ترجمہ:
اسحاق بن ابرہیم حنظلی، روح، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عبداللہ بن واقد ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دنوں کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن واقد نے سچ کہا ہے میں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا آپ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں عیدالاضحی کے موقع پر کچھ دیہاتی لوگ آگئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قربانیوں کا گوشت تین دنوں کی مقدار میں رکھو پھر جو بچے اسے صدقہ کردو پھر اس کے بعد صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگ اپنی قربانیوں کی کھالوں سے مشکیزے بناتے ہیں اور ان میں چربی بھی پگھلاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اور اب کیا ہوگیا ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا آپ ﷺ نے تین دنوں کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ان ضرورت مندوں کی وجہ سے جو اس وقت آگئے تھے تمہیں منع کیا تھا لہذا اب کھاؤ اور کچھ چھوڑ دو اور صدقہ کرو۔

📚امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح کرتے ہیں ہوئے کہتے ہيں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :
( میں نے تو تمہيں ان آنے والوں کی وجہ سےروکا تھا ) یہاں پران کمزور اورغریب دیھاتی لوگوں کی غمخواری کرنے کے لیے روکنا مراد ہے ،
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : ( میں نے توتمہيں ان آنےوالوں کی وجہ سے روکا تھا جوآئے تھے لھذا کھاؤ اور ذخیرہ کرو اورصدقہ بھی کرو ) یہ قربانی کا گوشت تین دن سے زيادہ جمع کرنے کی ممانعت ختم ہونے کی صراحت ہے ، اور اس میں کچھ گوشت صدقہ کرنے اورکھانے کا بھی حکم ہے ۔
(شرح مسلم للنووی )

📚جامع ترمذی
کتاب: قربانی کا بیان
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ،‏‏‏‏ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُنْتُنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ لِيَتَّسِعَ ذُو الطَّوْلِ عَلَى مَنْ لَا طَوْلَ لَهُ،‏‏‏‏ فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَنُبَيْشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.
ترجمہ:
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کردیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور (گوشت) جمع کر کے رکھو ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
١ – بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
٢ – اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، ٣ – اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، نبیشہ، ابوسعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧/١٠٦)، والأضاحي ٥ (٩٧٧/٣٧)،
سنن ابی داود/ الأشربة ٧ (٣٦٩٨)،
سنن النسائی/الجنائز ١٠٠ (٢٠٣٤)،
سنن ابی داود/ الأضاحي ٣٦ (٤٤٣٤، ٤٤٣٥)، والأشربة ٤٠ (٥٦٥٤- ٥٦٥٦) (تحفة الأشراف: ١٩٣٢)، و مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎:
کیونکہ اب اللہ نے عام مسلمانوں کے لیے بھی کشادگی پیدا کردی ہے اور اب اکثر کو قربانی میسر ہوگئی ہے لہذا گوشت ذخیرہ کر سکتے ہو،
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (4 / 368 – 369)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1510

📚صحیح بخاری
کتاب: کھانے کا بیان
باب: اگلے لوگ اپنے گھروں اور سفر میں کسی قسم کا کھانا اور گوشت وغیرہ ذخیرہ کر کے رکھتے تھے اور حضرت عائشہ (رض) اور اسماء (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کے لئے ایک سفرہ (توشہ دان) بنایا تھا
حدیث نمبر: 5423
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ:‏‏‏‏ أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ مَا اضْطَرَّكُمْ إِلَيْهِ ؟ فَضَحِكَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ. وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ بِهَذَا.
ترجمہ:
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ صرف ایک سال اس کا حکم دیا تھا جس سال قحط پڑا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے چاہا تھا (اس حکم کے ذریعہ) کہ جو مال والے ہیں وہ (گوشت محفوظ کرنے کے بجائے) محتاجوں کو کھلا دیں اور ہم بکری کے پائے محفوظ رکھ لیتے تھے اور اسے پندرہ پندرہ دن بعد کھاتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کرنے کے لیے کیا مجبوری تھی؟ اس پر ام المؤمنین ؓ ہنس پڑیں اور فرمایا آل محمد ﷺ نے سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر کبھی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے۔ اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے یہی حدیث بیان کی

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: کھانوں کے ابواب
باب: دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت
حدیث نمبر: 3313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْعَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ.
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ ﷺ پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے۔
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣)،
( سنن الترمذی/الأضاحي ١٤ (١٥١١)،
(تحفة الأشراف: ١٦١٦٥)،
وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٨، ١٣٦)، (حدیث مکرر ہے، دیکھے: ٣١٥٩) (صحیح )

📚صحیح بخاری
کتاب: کھانے کا بیان
باب: اگلے لوگ اپنے گھروں اور سفر میں کسی قسم کا کھانا اور گوشت وغیرہ ذخیرہ کر کے رکھتے تھے اور حضرت عائشہ (رض) اور اسماء (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کے لئے ایک سفرہ (توشہ دان) بنایا تھا
حدیث نمبر: 5424
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ. تَابَعَهُ مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا.
ترجمہ:
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ (مکہ مکرمہ سے حج کی) قربانی کا گوشت ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں مدینہ منورہ لاتے تھے۔ اس کی متابعت محمد نے کی ابن عیینہ کے واسطہ سے اور ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر ؓ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آگئے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا۔

📚حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ، فَقَالَ : لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ : فَسَأَلَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ “.
۔ یزید بن ابی یزید انصاری اپنی بیوی سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کسی سفر سے ہمارے پاس واپس آئے، ہم نے ان کو قربانی کا گوشت پیش کیا، انھوں نے کہا: میں اس وقت تک یہ نہیں کھاؤں گا، جب تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ نہیں لوں گا، پھر جب انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس گوشت کو ایک ذوالحجہ سے دوسرے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو،
(مسند احمد حدیث نمبر-25218)
یہ سند ضعیف ہے مگر روائیت حسن ہے،
(شعيب الأرنؤوط تخريج المسند 25218 • حسن )
(والطحاوي في شرح معاني الآثار6282)
(صحیح ابن حبان حدیث نمبر-5933)
(الألبانی السلسلة الصحيحة ٧‏/٢٩٨ • إن كان يزيد سمعه من عائشة فصحيح وإلا فحسن لغيره)
(حكم الحديث: صحیح او حسن لغیرہ)

*مذکورہ تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت بندہ خود بھی کھائے دوست ، احباب کو تحفہ بھی دے اور صدقہ بھی کرے۔ ذخیرہ بھی کرے، وہ ذخیرہ تین دن کے لیے کرے یا تین مہینے کے لیے یا سال کیلئے کرے جائز ہے،*

*لیکن ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے آس پاس لوگوں کی ضروریات کو دیکھ لے اگر لوگ قربانیاں کم کرتے ہیں اور ضرورت مند زیادہ ہیں تو بہتر ہے زیادہ تر صدقہ کرے، لیکن اگر قربانیاں کرنے والے زیادہ ہیں اور محتاج کم ہیں تو جتنے دن کیلئے چاہے جتنا چاہے ذخیرہ کر سکتا ہے،اس میں کوئی گناہ اور کوئی حرج نہیں،*

*قربانی کا گوشت تھوڑا یا زیادہ خود کھانا یا ذخیرہ کرنا جائز ہے لیکن بہتر ہے کہ تین حصے کرے اور پھر اپنا حصہ جتنے دن مرضی کھائے اور ذخیرہ کرے*

📚 امام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں:
ہم عبداللہ بن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث کا مذھب رکھتے ہيں جس میں ہے ( وہ خود ایک تہائي کھائے اورایک تہائي جسے چاہے کھلائے ، اورایک تہائي مساکین وغرباء پرتقسیم کردے ) ۔
اسے ابوموسی اصفہانی نے الوظائف میں روایت کیا ہے اوراسے حسن کہا ہے ، اورابن مسعود ، ابن عمررضي اللہ تعالی عنہم کا قول بھی یہی ہے ، اورصحابہ کرام میں سے کوئي ان دونوں کا مخالف نہيں ۔
(دیکھیں : المغنی ( 8 / 632 )

*بعض لوگ بلاوجہ گوشت ذخیرہ کرنے والوں پر تنقید کرتے ہیں، اور لطیفے بناتے ہیں، یہ سرا سر جہالت ہے*

جب قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے مستحب ہیں، اور پھر اپنا حصہ چاہے تو سال بھر کھائے یا چاہے تو ایک دن میں کھا لے، اس پر بلا وجہ کا اعتراض نہیں کرنا چاہیے،

اور آخری بات کہ گوشت ذخیرہ وہی کرتے ہیں ، جو درمیانے طبقے کے لوگ ہیں، جو بازار سے خرید نہیں سکتے،اور ان درمیانے طبقہ کے لوگوں اور حالیہ دور کے غرباء اور مساکین میں اتنا زیادہ فرق نہیں ہے،

فرق اتنا ہے کہ فقیر /غرباء مہینے میں ایک بار گوشت کھاتے ہونگے

تو یہ درمیانے طبقے والے ہفتے میں ایک بار،۔

غرباء پاؤ خریدتے ہیں تو وہ کلو خرید لیتے ہونگے، بس…؟

لیکن سچ یہ ہے کہ غرباء اور مساکین کی طرح قربانی کرنے والے اکثر درمیانے طبقے کے لوگ بھی سال بعد قربانی پر ہی جی بھر کے گوشت کھاتے ہیں، اور وہ بھی اپنے تیسرے حصے کا، حالانکہ اس تیسرے حصے میں سے بھی وہ کچھ حصہ ان لوگوں کو بانٹ دیتے ہیں جو مساکین گوشت لینے دیر سے پہنچتے ہیں،
لہذا گوشت ذخیرہ کرنے والوں پر بلاوجہ تنقید نہیں کرنی چاہیے،

نوٹ_
*یاد رہے کہ پوسٹ کا اصل مقصد گوشت کو ذخیرہ کرنے کی ترغیب دینا نہیں،بلکہ مقصد ان لوگوں کے اعتراض کا جواب دینا ہے جو بلاوجہ قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع کرتے ہیں،*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

((قربانی کے گوشت کی تقسیم کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیں سلسلہ نمبر-75))

(قربانی کے باقی تمام مسائل کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-59 سے 77 تک))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں