120

سوال_کیا نصف شعبان کےبعد روزے رکھنے جائز ہيں؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ نیز کیا استقبال رمضان کے لیے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ سکتے ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-331”
سوال_کیا نصف شعبان کےبعد روزے رکھنے جائز ہيں؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ نیز کیا استقبال رمضان کے لیے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ سکتے ہیں؟

Published Date: 11-04-2020

جواب:
الحمدللہ:

*نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ شعبان کی تخصیص کے بغیر شعبان کے مہینے میں کثرت سے نفلی روزے رکھنے کی ترغیب دلائی اور آپ خود بھی شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے*

جیسا کہ
📚:‏ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ
رسول اللہ ﷺ کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ نہیں رکھتے تھے، آپ شعبان کے پورے یا اکثر دن روزہ رہتے تھے۔
(سنن نسائی حدیث نمبر-2356)
(تحفة الأشراف : ١٧٧٥٠) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : حسن صحيح

*اسکی مکمل تفصیل ہم گزشتہ سلسلہ نمبر-50) میں بیان کر چکے ہیں،*

*بہت ساری روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے لیکن کچھ روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنا سے منع بھی فرمایا ہے*

جیسا کہ

📚ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا،
جب نصف شعبان ہوجائے تو روزہ نہ رکھو
(سنن ابوداود حدیث نمبر_2337)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر_1651)
حدیث صحیح

*لہذا یہ حدیث نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے منع کرتی ہے،لیکن اس کے علاوہ اور دوسری احادیث میں نصف شعبان کے بعد روزہ کا جواز بھی ملتا ہے ذیل میں ہم چند ایک احاديث ذکر کرتے ہيں*

📚ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ “رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ، لیکن وہ شخص جو پہلے روزہ رکھتا رہا ہے(یعنی ان دنوں روزہ رکھنے کی عادت ہو) تو اسے روزہ رکھ لینا چاہیے
(صحیح بخاری حدیث نمبر _1914 )
(صحیح مسلم حديث نمبر _ 1082 )

*یہ حدیث نصف شعبان کےبعد روزہ رکھنے کے جواز پردلالت کرتی ہے لیکن صرف اس شخص کےلیے جو عادتا روزہ رکھ رہا ہے مثلا کسی شخص کی عادت ہے کہ وہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتا ہے یا پھر ایک دن روزہ رکھتا اور دوسرے دن نہيں رکھتا تو اس کے لیے جائز ہے،*

جیسا کہ
📚عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ :
لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے پورے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے،
(صحیح بخاری حدیث نمبر- 1970 )
(صحیح مسلم حديث نمبر- 782)

📒امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کا یہ کہنا کہ ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، اور اس میں سے چند ایک دن چھوڑ کر سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ) ،
دوسرا جملہ پہلے کی شرح ہے ، اور اس کی وضاحت ہے کہ “کله” سے مراد غالبا ہے ا ھـ ۔

*لہذا یہ حدیث نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے پر دلالت کرتی ہے لیکن صرف اس شخص کےلیے جونصف سے پہلے بھی روزہ رکھ رہا تھا،*

📒اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے شافعیوں کا کہنا ہے کہ :
نصف شعبان کے بعد صرف اس کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو یا پھر پہلے نصف میں جس نے روزے رکھيں ہوں ۔
اکثر اہل علم کے ہاں صحیح بھی یہی ہے کیونکہ حدیث میں نہی تحریم کے لیے ہے ۔
اوربعض – مثلا رویانی – کا کہنا ہے کہ یہاں پرنہی تحریم کے لیے نہیں بلکہ کراہت کے لیے ہے ۔
دیکھیں :
(کتاب المجموع ( 6 / 399 – 400 )
( فتح الباری ( 4 / 129 )

📒امام نووی رحمہ اللہ تعالی ریاض الصالحین میں کہتے ہيں :
نصف شعبان کے بعد رمضان سےایک یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت میں باب لیکن جس شخص کی روزہ رکھنے کی عادت ہو یا وہ پہلے سےرکھ رہا ہو اورآخر شعبان کو بھی ساتھ ملانا چاہے یا وہ جمعرات اورپیر کا روزہ رکھتا ہواس کے لیے (نصف شعبان کے بعد بھی) جائز ہے ۔ ا ھـ (دیکھیں ریاض الصالحین صفحہ- 412 )

*اور بعض علمائے کرام نے نصف شعبان کےبعد روزہ سےنہی والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ، لہذا وہ اس بنا پر کہتے ہيں کہ نصف شعبان کے بعدروزے رکھنے مکروہ نہيں*

📒حافظ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
جمہور علماء کہتےہيں کہ : نصف شعبان کے بعد نفلی روزے رکھنا جائز ہیں ، اوراس کی نہی میں وارد شدہ حدیث کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام احمد اورابن معین کا کہنا ہے کہ یہ منکرے ہے ۔ ا ھـ فتح الباری
-اس حدیث کو ضعیف کہنے والوں میں امام بیھقی اور امام طحاوی شامل ہیں ۔
-ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے المغنی میں کچھ اس طرح کہا ہے :
-امام احمد نے اس حدیث کے بارہ میں کچھ یوں کہا ہے :
یہ حدیث محفوظ نہیں ، ہم نے اس کے بارہ میں عبدالرحمن بن مھدی سے پوچھا توانہوں نے اسے صحیح قرار دیا اورنہ ہی اسے میرے لیےبیان ہی کیا ، بلکہ اس سے بچتے تھے ۔
امام احمد کہتےہیں : علاء ثقہ ہے اس کی احادیث میں سوائے اس حدیث کے انکار نہيں ۔ ا ھـ

📒ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے تھذیب السنن میں اس حدیث کو ضعیف قرار دینے والوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے ، جس کا ماحاصل یہ ہے کہ :
یہ حدیث صحیح اورمسلم کی شرط پر ہے ، اور علاء کا اس حدیث میں تفرد اس حدیث میں قدح شمار نہيں ہوگا ، کیونکہ علاء ثقہ ہے ، اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں اس کی بہت سی احادیث روایت کی ہيں جو کہ اس سند علاء عن ابیہ عن ابوھریرہ سے ہیں ، اوربہت سے ایسی سنتیں ہیں جوثقات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متفرد بیان کی ہیں اور امت نے اسے قبول کرتے ہوئے اس پرعمل بھی کیا ہے ۔
پھر وہ کہتے ہيں :
اور شعبان کےروزوں والی احادیث کے بارہ میں معارض ہونے کا خیال کرنا صحیح نہیں کیونکہ ان میں کوئي معارضہ نہيں ہے ، کیونکہ وہ احاديث پہلے نصف کے دوسرے نصف کے ساتھ اور نصف شعبان میں عادتا رکھے جانے والے روزوں پردلالت کرتی ہے ، اور علاء والی حدیث اس پردلالت کرتی ہے کہ نصف شعبان کے بعد جوشخص عمدا روزے رکھے اس کی لیے ممانعت ہے ، نا کہ عادتا اور نہ ہی جو پہلے نصف میں روزے رکھتا ہوا دوسرے نصف کو بھی ساتھ ملانا چاہے ۔ اھـ

📒شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے والی نہی کی حدیث کے بارہ میں سوال کیا گيا تو ان کا جواب تھا :
یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ ہمارے بھائی علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ تعالی نے کہا ہے ، اوراس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے شروع کیے جائيں ، لیکن جوشخص مہینہ کے اکثر ایام یا پھر تقریبا سارا مہینہ ہی روزے رکھتا ہے تو وہ سنت پر عمل پیرا ہے ۔ ا ھـ
دیکھیں مجموع فتاوی الشيح ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 15 / 385 )

📒اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی ریاض الصالحین کی شرح میں کہتے ہیں :
اگر حدیث صحیح بھی ہو تو اس میں وارد نہی تحریم کے لیے نہيں بلکہ صرف کراہت کےلیے ہے ، جیسا کہ بعض اہل علم رحمہم اللہ نے بھی ایسا ہی اخذ کیا ہے ، لیکن جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو وہ روزہ رکھ سکتا ہے چاہے نصف شعبان کے بعد ہی کیوں نہ ہو ۔ ا ھـ
دیکھیں شرح ریاض الصالحین ( 3 / 394 )

*یعنی یہ ممانعت صرف ان کیلئے ہے جو خاص طور پر پندرہ شعبان کے بعد یا رمضان کی تعظیم وغیرہ کیلئے روزہ رکھتے ہیں*

جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ اوپر ذکر کردہ حدیث پر باب باندھتے ہیں،

📒باب: تعظیم رمضان کے لئے شعبان کے دوسرے پندرہ دنوں میں روزے رکھنا مکروہ ہے،
حدیث نمبر-738
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کا مفہوم بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی پہلے سے روزہ نہ رکھ رہا ہو، پھر جب شعبان ختم ہونے کے کچھ دن باقی رہ جائیں تو ماہ رمضان کی تعظیم میں روزہ رکھنا شروع کر دے۔ نیز ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے وہ چیزیں روایت کی ہے جو ان لوگوں کے قول سے ملتا جلتا ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ماہ رمضان کے استقبال میں پہلے سے روزہ نہ رکھو سوائے اس کے کہ ان ایام میں کوئی ایسا روزہ پڑجائے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کراہت اس شخص کے لیے ہے جو عمداً رمضان کی تعظیم میں روزہ رکھے،
(سنن ترمذی تحت الحدیث-736)

*لیکن اگر کسی کا معمول ہے کہ وہ سوموار، جمعرات یا ہر مہینے کے آخر دنوں میں روزہ رکھتا ہے یا اس نے نذر مانی ہوئی ہے تو وہ شعبان کے آخری دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہے،*

جیسا کہ
📚عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا : کیا تم نے شعبان کے آخری دنوں میں روزے رکھے ہیں؟ اس نے جواب دیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :
جب (رمضان کے) روزے رکھ چکو،
تو بعد میں (ایک یا) دو روزے اور رکھ لیا کرو ،

(صحیح البخاری/الصوم (1938 تعلیقًا) ،
( صحیح مسلم/الصوم (1161) ،
(سنن ابو داود حدیث نمبر-2348)

📒حدیث کا مطلب یہ ہے کہ :
” اس آدمی کی عادت تھی کہ ہر مہینہ کے اخیر میں روزہ رکھا کرتا تھا، مگر رمضان سے ایک دو دن برائے استقبال رمضان روزہ کی ممانعت “ سن کر اس نے اپنے معمول والا یہ روزہ نہیں رکھا، تو آپ ﷺ نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ایسا فرمایا، یعنی : رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کا اگر کسی کا معمول ہو یا کسی نے نذر مانی ہو تو وہ رکھ سکتا ہے ، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معمول کی عبادت اگر کسی سبب سے چھوٹ جائے تو اس کی قضا کر لینی چاہیے

*جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ*

*نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا یا تو کراہت یا پھر تحریم کی بنا پر منع کیا گيا ہے ، لیکن جوشخص پہلے سے عادتاً یہ روزے رکھتا ہو یا پہلے نصف کو آخر شعبان کےساتھ ملائے اس کے لیےجائز ہے،*

*اور اس نہی کی حکمت یہ ہے کہ نصف شعبان کے بعد یا رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے سے ہو سکتا ہے کہ کمزوری آجائے اور وہ نفلی روزے رکھتے رکھتے رمضان کے فرضی روزے ہی نا رکھ سکے،*

*اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر شعبان کے شروع سے ہی روزے کھے تو اس میں اور بھی زيادہ کمزوری پیدا ہوگی تو پھر اس کے لیے کیسے جائز ہے جو شعبان کے شروع سے ہی روزے رکھ رہا ہو؟ تواس کا جواب ہے کہ*
*جوشخص شعبان کے شروع سے ہی روزے رکھتا ہے وہ روزے کا عادی بن جاتا ہے جس کی بنا پر رمضان کے آتے آتے اس کی مشقت میں کمی پیدا ہوجائے گی،*

📒جیسا کہ ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں:
وَالنَّهْيُ لِلتَّنْزِيهِ ، رَحْمَةً عَلَى الأُمَّةِ أَنْ يَضْعُفُوا عَنْ حَقِّ الْقِيَامِ بِصِيَامِ رَمَضَانَ عَلَى وَجْهِ النَّشَاطِ . وَأَمَّا مَنْ صَامَ شَعْبَانَ كُلَّهُ فَيَتَعَوَّدُ بِالصَّوْمِ وَيَزُولُ عَنْهُ الْكُلْفَةُ
یہاں پر نہی تنزیہی کے لیے ہے ،امت اسلامیہ پر مہربانی اور رحمت ہے کہ کہیں وہ کمزور ہو کر رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا حق ادا نہ کرسکیں اوران میں سستی پیدا ہوجائے ، لیکن جوشخص پورے شعبان کےروزے رکھتا ہے وہ تو روزوں کا عادی بن چکا ہے ، جس کی بنا پر اس سے یہ مشقت زائل ہوجائے گی ۔ اھ

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📒کون کون سے روزے ممنوع ہیں؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-229)))

ا📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں