254

سوال_نہار منہ پانی پینا کیسا ہے؟ کیا شریعت نے نہار منہ پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ مکمل تفصیل سے آگاہ کریں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-321”
سوال_نہار منہ پانی پینا کیسا ہے؟ کیا شریعت نے نہار منہ پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ مکمل تفصیل سے آگاہ کریں!

Published Date: 10-03-2020

جواب!
الحمدللہ!

*اسلام نے نہار منہ پانی پینے کا نا تو حکم دیا ہے اور نا ہی اس سے منع کیا ہے اور نہ ہی نہار منہ پانی پینے میں اسلامی اعتبار سے صحت کو نقصان پہنچنے کا کوئی ثبوت موجود ہے، البتہ جب ہم طب کی روشنی میں نہار منہ پانی پینے کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے بے شمار فوائد نظرآتے ہیں۔مثلا بعض حکماء حضرات لکھتے ہیں کہ:*

*دردِ سر و جسم، بواسیر،بلڈ پریشر، دمہ،کھانسی، جگر کے امراض، بلڈ کولیسٹرول، بلغم، آرتھرائٹس، مینن جائنٹس، استخاضہ، ٹی بی، بے ہوشی، مروڑ، تیزابیت، قبض، ذیابیطس، گیس ٹربل ،بچہ دانی کا کینسر، امراض چشم،امراض ناک ، امراض کان ، امراض گلہ،قلب کے نظام میں پایا جانے والا نقص،موٹاپے کے سبب جنم لینے والی بیماریاں، گردن توڑ، گردے کی خرابی، معدے کی بیماریاں اور متعدد زنانہ امراض سے بچنے کے لئے نہار منہ اور خالی پیٹ پانی پینا مفید ثابت ہوتا ہے،*

*سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں میں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ نہار منہ پانی پینا صحت کے لئے مضر ہے اور اس پر وہ کچھ احادیث بھی شئیر کر رہے ہیں ،جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ نہار منہ پانی پینے کو مسنون اور صحت بخش قرار دے رہے ہیں،آج کے سلسلے میں ہم ان شاءاللہ اس مسئلہ میں ذکر کردہ تمام روایات کی جانچ کریں گے کہ آیا صحیح مسئلہ کیا ہے*

_________&____________

*نہار منہ پانی پینے کی ممانعت والی روایات*

نہار منہ پانی پینے سے منع کرنے والی جتنی روایات ہیں وہ سب کی سب ضعیف اور موضوع روایات ہیں، تفصیل ملاحظہ فرمائیں،

(1) پہلی روایت :

📚 ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا:
مَن شرِب الماءَ علیَ الرِیقِ اَنتقصَت قُوتہُ
ترجمہ : جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی
(المعجم الأوسط للطبرانی :4646)

🚫روایت کا حکم :
اس روایت کی سند میں محمد بن مخلد الرعيني ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔

📒علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ،
(السلسلۃ الضعیفہ : 6032)

📒امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس روایت پریہ تبصرہ کیا ہے کہ اس روایت کو “زید بن اسلم” سے صرف ان کے بیٹے “عبدالرحمن” نےنقل کیا ہے، ان سے صرف “ابو اسلم” نے نقل کیا ہے۔
(المعجم الأوسط 5/ 326 ط: مكتبة المعارف)

📒حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نےاس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اس میں “محمد بن مخلد الرعینی” ضعیف راوی ہے٫
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، كتاب الطب، باب شرب الماء على الريق 11/ 246 ط: دارالمنهاج)

(2) دوسری روایت :
📚 ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی روایت میں بھی یہ ہی الفاظ ہیں
:من شرب الماء على الريق انتقضت
ترجمہ :جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی ۔
(المعجم الأوسط للطبرانی:6557)

🚫روایت کا حکم :
٭اس روایت کی سند میں عبدالاول المعلم نامی راوی کے بارے میں امام طبرانی نے اس روایت کے بعد لکھا کہ “یہ روایت صرف عبدالاول المعلم نے ہی بیان کی ہے،
( المعجم الأوسط 7/ 287 ط: مكتبة المعارف)

📒حافظ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کی سند میں ایسے مجہول راوی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا،
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، كتاب الطب، باب شرب الماء على الريق 11/ 247 ط: دار المنهاج)

📒حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس روایت کا متن اور سند دونوں غریب ہیں،
(تاريخ مدينة دمشق، طاهر بن محمد بن سلامة، رقم الترجمة: 295724/ 456 ط: دار الفكر)

(3) تیسری روایت:
📚ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرب الماء على الريق يفقد الشحم
ترجمہ : نہار مُنہ پانی پینے سے چربی ختم ہوتی ہے۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال)

🚫روایت کا حکم :
٭یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے ہی الکامل فی ضعفاء الرجال میں درج کی گئی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن سلیمان الکوزی ہے جس کو أئمہ حدیث نے جھوٹا،روایات گھڑنے والا قرار دیا ہے،

📒ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں “عاصم بن سلیمان کوزی” ہے، یہ موضوع روایتیں بیان کرتا ہے، اس کی حدیث لکھنا حلال نہیں۔
(معرفة التذكرة لابن طاهر المقدسي، حرف الشين 1/ 160 ط:طبعة مؤسسة الكتب الثقافية)

📒 ابن الجوزی وغیرہ محدثین نے یفقد کی جگہ یعقد کا لفظ ذکر کیا ہے اور اس روایت کو موضوع میں شمار کیا ہے،
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے سند بیان کرنے کے ضمن میں اس کے راوی “عاصم بن سلیمان عبدی” کے بارے میں فرمایا ہے کہ:
كان يضع الحديث ما رأيت مثله قط يحدث بأحاديث ليس لها أصول
یہ حدیثیں گھڑتا تھا، میں نے اس جیسا شخص کبھی نہیں دیکھا ،یہ ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی،
مزید فرماتے ہیں کہ:
ما أخوفني أن يكون هذا الوضع قصد شين الشريعة، وإلا فأى شئ في الماء حتى يفقد الشحم.
مجھے اس بات کا بہت ڈر ہے کہ اس حدیث کے گھڑنے کا مقصد شریعت کے ساتھ برائی کا ارادہ ہے، ورنہ پانی میں کیا ہے کہ جو وہ چربی کم کرے؟
(الموضوعات لابن الجوزي، كتاب الاشربة ، باب شرب الماء على الريق 3/ 40 ط:دار الفكر)

📚امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
أربعة توهن البدن ،كثرة الجماع و كثرة الهم وكثرة شرب الماء على الريق وكثرة أكل الحامض،
ترجمہ: کہ چار چیزیں بدن کو کمزور کرتی ہیں: کثرتِ جماع، غموں کی زیادتی، نہار منہ پانی پینے کی کثرت اور کھٹی چیزیں زیادہ کھانا،
( زاد المعاد في هدي خير العباد، فصول متفرقة في الوصايا 4/ 408 و 409 ط: مؤسسة الرسالة)

🚫امام شافعی رحمہ اللہ کا قول شریعت میں ایسی اہمیت نہیں رکھتا کہ انکے قول کے ذریعے کسی چیز کو حرام یا مکروہ ٹھہرایا جا سکے،

*مذکورہ روایات کا حال جان لینے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہار منہ پانی پینے کی ممانعت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے*

_______________&_______________

*نہار منہ پانی پینے کے جواز پر دلائل*

اب ہم وہ روایات ذکر کرتے ہیں جن میں نہار منہ پانی پینے کا ذکر ملتا ہے،

1۔ پہلی روایت:

📚امام طبرانی رحمہ ا للہ نے ،
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص کو اس بات سے خوشی ہو کہ اللہ تعالی اسے قرآن کریم اور دیگر مختلف علوم یاد کرانے کے قابل بنائے اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا ایک صاف برتن یا شیشے کی پلیٹ میں شہد ، زعفران اور بارش کے پانی سے لکھ کر اسے نہار منہ پیے، تین دن روزہ رکھے اور اسی پانی سے افطار کرے، ان شاء اللہ وہ قرآن اور دیگر علوم یاد کرلے گا، اور اس دعا کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھے، وہ دعا یہ ہے : “اللهم إني أسألك بأنك مسئول لم يسأل مثلك ولا يسأل۔۔۔” الخ
(الدعاء للطبراني باب الدعاء لحفظ القرآن وغيره 1/ 397 ط:دار الكتب العلمية)

🚫روائیت کا حکم:
📒علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے “اللآلي المصنوعة”میں اور حافظ ابن عراق نے “تنزيه الشریعة” میں اسے موضوع قرار دیا ہے۔
(تنزيه الشريعة 2/ 34 ط: دار الكتب العلمية)
(اللآلي المصنوعة 2/ 299 ط: دار الكتب العليمة)

2۔ دوسری رواییت،
*نہار منہ شہد ملا پانی پینے کی روایت*

📚امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ
و كان النبي صلى الله عليه وسلم يشربه بالماء على الريق ، و في ذلك سرٌ بديعٌ في حفظ الصحة ؛ لا يُدركه إلا الفطن ، الفاضل ..!
ترجمہ:
نبی کریم ﷺ کی عادت تھی کہ آپ ﷺ نہار منہ شہد ملا پانی پیتے تھے
(زاد المعاد في هدي خير العباد، فصل في هديه في علاج استطلاق البطن 4 / 34 ط: مؤسسة الرسالة)
،
🚫روائیت کا حکم
یہ من گھڑت موضوع روایت ہے، اسکی کوئی سند موجود نہیں،

📒شیخ عبدالکریم اس پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
۔‎أشار الحافظ إليه في الفتح و أورده من غير سند وتبعه في ذلك جماعة من شراح الصحيح كالبدر العيني لكن التحقيق أنه ليس فيه حديث ثابت۔۔۔۔انتہی!
یعنی حافظ ابن القیم نے الفتح میں اس کو ذکر تو کر دیا مگر اسکی کوئی سند بیان نہیں کی، اور شارح الصحیح کے ایک گروہ نے اس کی تحقیق کی ہے جیسے امام بدرالدین عینی نے لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس بارے کوئی حدیث موجود نہیں ہے۔۔۔۔انتہی!

📒 البتہ طبی نقطہ نظر کے لحاظ سے حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
فإن شربه و لعقه على الريق يذيب البلغم ويغسل خمل المعدة ويجلو لزوجتها ويدفع عنها الفضلات،
کہ (شہد) کو نہار منہ پینا اور چاٹنا بلغم ختم کرتا ہے، معدہ کے اندرونی حصہ کو صاف کرتا ہے ، اس کی چکنائی کو تازگی بخشتا ہے اور اس سے فضلات کو دور کرتا ہے
(زاد المعاد في هدي خير العباد ، فصل في هديه في الشرب و آدابه 4/ 224 ط: مؤسسة الرسالة)

*خلاصہ*
*اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نہار منہ پانی پینے کی ممانعت سے متعلق تمام روایات سندًا ضعیف اور موضوع ہیں، اور اسی طرح نہار منہ پانی پینے کے جواز کے متعلق بھی کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں، لہذا اس مسئلے کو جائز و ناجائز اور حلال و حرام سے جوڑنا درست نہیں، بلکہ یہ ایک طبی اورطبعی مسئلہ ہے،اور عام طور پر نہار منہ پانی مفید ہے اس لیے جسے خواہش یا ضرورت ہو اور اسے نقصان نہ کرتا ہو وہ پی لے اور جسے چاہت یا ضرورت نہ ہو یا اس کے لیے طبی نقطہ نظر سے نقصان دہ ہو تو وہ نا پئیے،*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

🌹اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں