296

سوال- جنازہ کو دیکھ کر کھڑا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کھڑا ہونا چاہیے اور کچھ کھڑا ہونے سے منع کرتے ہیں؟ صحیح بات کیا ہے؟ قرآن و حدیث سے رہنمائی کریں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-299”
سوال- جنازہ کو دیکھ کر کھڑا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کھڑا ہونا چاہیے اور کچھ کھڑا ہونے سے منع کرتے ہیں؟ صحیح بات کیا ہے؟ قرآن و حدیث سے رہنمائی کریں!

Published Date: 19-10-2019

جواب
الحمدللہ:

*اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے اور اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونے اور بیٹھے رہنے دونوں طرح کی صحیح روایات ملتی ہیں، تو بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا مستحب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں کھڑا ہونے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے*

آئیے علماء کے دونوں گروہوں کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں،

1_علماء کے پہلے گروہ کے دلائل

*بخاری و مسلم کی بہت سی احادیث ایسی ہیں جن میں جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان اور حکم ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ آتا دیکھ کر کھڑے ہو جاتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی کھڑے ہونے کا حکم فرماتے، جنازے کے ساتھ جانے والوں کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے کہ جب تک جنازہ نیچے نہ رکھ دیا جائے تب تک نہ بیٹھیں*

پہلی حدیث

📚عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ
کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے رہو یہاں تک کہ جنازہ تم سے آگے نکل جائے،
(حمیدی نے یہ الفاظ زائد کہے)۔
حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ، أَوْ تُوضَعَ “.
”یہاں تک کہ جنازہ آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے۔“
(صحيح البخاري،
كِتَاب الْجَنَائِزِ/ بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا/حدیث نمبر:1307)

دوسری حدیث

📚مذکورہ راوی سے ہی روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ جِنَازَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ، حَتَّى يُخَلِّفَهَا أَوْ تُخَلِّفَهُ، أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ “.
“جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہیں چل رہا ہے تو کھڑا ہی ہو جائے تا آنکہ جنازہ آگے نکل جائے یا آگے جانے کی بجائے خود جنازہ رکھ دیا جائے۔”
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1308)

تیسیری حدیث

📚سعید مقبری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ایک جنازہ میں شریک تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان کا ہاتھ پکڑا اور یہ دونوں صاحب جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھ گئے۔ اتنے میں ابوسعید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور مروان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اٹھو!
فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَدَقَ
اللہ کی قسم! یہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1309)

چوتھی حدیث

📚ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،
إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ “.
کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1310)

پانچویں حدیث

📚جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
ہجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،
إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا “.
کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو،
(صحیح بخاری،کتاب الجنائز،/بَابُ مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ:باب اس شخص کے بارے میں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو گیا، حدیث نمبر-1311)

چھٹی حدیث

📚سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں بزرگ کھڑے ہو گئے۔ عرض کیا گیا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے (جو کافر ہیں) اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،
أَلَيْسَتْ نَفْسًا ” ؟
کیا یہودی کی جان نہیں ہے؟:
(صحیح بخاری حدیث نمبر_1312)
(یعنی وہ بھی تو انسان ہے،)

ساتویں حدیث

📚ایسی ہی صورت حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا “.
“موت تو بہت ہی گھبراہٹ میں ڈالنے والی چیز ہے تو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔”
(مسلم، الجنائز، القیام للجنازۃ، ح: 960)

*ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا امتیاز مذہب،عبرت حاصل کرنے اور موت کو یاد کرنے کے لیے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا چاہئے۔ مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دیگر ائمہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا چاہئے۔ اور جن احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے جنازہ دیکھ کر بیٹھے رہنے کا ذکر ہے، ان احادیث کو انہوں نے جواز پر محمول کیا ہے۔ یعنی کھڑا ہونا ضروری تو نہیں البتہ مستحب (بہتر) ہے*

_________&___________

2_علماء کے دوسرے گروہ کے دلائل

*پہلے گروہ کے برعکس دوسرے گروہ کے فقھاء جن میں امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں انکے کے نزدیک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کی احادیث منسوخ ہو چکی ہیں،*

منسوخ کرنے والی روایات یہ ہیں،

پہلی حدیث

📚سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَعَدَ.”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہوتے تھے۔ پھر بیٹھنے لگے۔”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ. | بَابٌ : نَسْخُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ،حدیث نمبر-962)

دوسری حدیث

📚سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے فرماتے ہیں:
رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقُمْنَا، وَقَعَدَ، فَقَعَدْنَا، يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ.
“ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ (جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہو جاتے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے اور جب آپ بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھے رہنے لگے۔”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ. | بَابٌ:
نَسْخُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ,حدیث نمبر-962)

تیسری حدیث

📚علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الْجَنَائِزِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ.
کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے جنازے کی خاطر کھڑے ہوتے تھے پھر بیٹھنے لگے،
(موطأ مالك | كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ | الْوُقُوفُ لِلْجَنَائِزِ وَالْجُلُوسُ عَلَى الْمَقَابِرِ،ح626)

مسند احمد کی ایک حدیث میں قدرے تفصیل بھی بیان ہوئی ہے:

چوتھی حدیث

📚علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجِنَازَةِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ.
“اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازہ کی خاطر کھڑا ہونے کا حکم دیا تھا بعد میں آپ بیٹھنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھنے کا حکم دیا۔”
(مسند احمد حدیث نمبر-623)

پانچویں حدیث

📚اسی طرح عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ : هَكَذَا نَفْعَلُ. فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : ” اجْلِسُوا، خَالِفُوهُمْ ”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (اس کے بعد سے) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: ”(مسلمانو!) تم (بھی)بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو“۔
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3176)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1020)
حدیث حسن

*ان احادیث کی بنا پر علماء کا دوسرا گروہ جنازہ کے لیے کھڑے ہونے والی روایات کو منسوخ سمجھتا ہے،*

__________&_______

ہمارے علم کے مطابق علماء کے پہلے گروہ کی بات راجح ہے، کہ جنازہ کے لیے کھڑے ہونے والی روایات کو منسوخ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں میں تطبیق ممکن ہے،

📚 جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی احادیث کو منسوخ قرار دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں قسم کی احادیث میں تطبیق ممکن ہے اور دونوں قسم کی روایات پر عمل ہو سکتا ہے یعنی جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا ضروری تو نہیں البتہ کھڑا ہونا بہتر ہے۔
وہ فرماتے ہیں:
(فيكون الامر به للندب والقعود للجواز ولا يصح دعوى النسخ فى مثل هذا انما يكون اذا تعذر الجمع بين الاحاديث ولم يتعذر والله اعلم)
“امر (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے رہنے کا حکم) مندوب ہونے کے لیے ہے (نہ کہ وجوب کے لیے) اور آپ کا بیٹھے رہنا جواز بیان کرنے کے لیے ہے۔ اس طرح کی احادیث میں منسوخ ہونے کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں۔ نسخ تو وہاں قرار دیا جائے گا جہاں احادیث میں تطبیق نہ ہو سکتی ہو اور یہاں احادیث میں تطبیق متعذر
(محال اور ناممکن) نہیں،
(مسلم مع شرح النووی 1ج/ص310)

📚اسی طرح سعودیہ کے مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے جب سوال کیا گیا کہ، إذا كان المسلم في المسجد ورأى الجنازة هل يقوم ؟
جب مسلمان مسجد میں ہو اور جنازہ دیکھے تو کیا وہ کھڑا ہو؟

📑فأجاب :
تو شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے جواب دیا،
ظاهر الحديث العموم ، فهو إذن مستحب , ومن تركه فلا حرج ; لأن القيام لها سنة وليس بواجب ; لأن الرسول صلى الله عليه وسلم قام تارة ، وقعد أخرى ، فدل ذلك على عدم الوجوب ” انتهى
حدیث کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے،پس اس لیے یہاں (مسجد میں کھڑا ہونا بھی عموم کی طرح) مستحب ہے، اور جو چھوڑ دے یعنی نا کھڑا ہو تو کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ بے شک جنازہ کے لیے کھڑے ہونا سنت ہے واجب نہیں،اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ دیکھ کر کبھی کھڑے ہوئے تو کبھی کھڑے نہیں ہوئے تھے،پس یہ اس بات پر دلیل ہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا واجب نہیں،
(مجموع فتاوى ابن باز 13/187-188)

📚وقال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله :
” الراجح أن الإنسان إذا مرت به الجنازة قام لها ؛ لأن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أمر بذلك ، وفعله أيضاً ، ثم تركه ، والجمع بين فعله وتركه أن تركه ليبين أن القيام ليس بواجب ” انتهى.
اور سعودی مفتی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
راجح یہ ہے کہ جب جنازہ انسان کے پاس سے گزرے تو وہ اسکے لیے کھڑا ہو جائے، بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکا حکم بھی دیا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے، پھر آپ نے اس عمل کو چھوڑ دیا،
اور کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں جمع یہ ہے کہ بیٹھنا یہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا واجب نہیں،
(مجموع فتاوى ورسائل العثيمين (17/112)

*لہذا اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا مستحب ہے،لیکن اگر کوئی کھڑا نہیں ہوتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ کھڑے ہونا واجب نہیں*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚جنازہ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے؟ نیز تاخیر سے شامل ہونے والا جنازہ کی تکبیرات کی قضاء کیسے دے گا؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-221))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں