296

سوال_کہا جاتا ہےکہ جب کوئی آدمی جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن فوت ہوجائے تو اللہ عزوجل اس سے قیامت تک کا عذاب ہٹا لیتا ہے، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ اور صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-265″
سوال_کہا جاتا ہےکہ جب کوئی آدمی جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن فوت ہوجائے تو اللہ عزوجل اس سے قیامت تک کا عذاب ہٹا لیتا ہے، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ اور صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

Published Date: 13-7-2019

جواب:
الحمدللہ:

*جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن موت کی فضیلت کے بار ے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں بلکہ اس سے متعلقہ وارد تمام روایات ضعیف ہیں*

📚اور یہ بات مسلمہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال سوموار کے روز ہوا تھا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرض الموت میں اسی پیر کے روز موت کی تمنا کا اظہار کیا تھا،
اس پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں تبویب یوں قائم کی ہے
:”باب موت یوم الاثنین ”
سوموار کے دن موت کی فضیلت کا بیان
(صحيح البخاري كتاب الجنائز ،حدیث نمبر-1387)

📚اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں،
(فتح الباري : العسقلاني، ابن حجر جلد : 3 صفحه : 253 )

(قَوْلُهُ بَابُ مَوْتِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ)

۔۔۔۔وَكَأَنَّ الْخَبَرَ الَّذِي وَرَدَ فِي فَضْلِ الْمَوْتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَمْ يَصِحَّ عِنْدَ الْبُخَارِيِّ فَاقْتَصَرَ عَلَى مَا وَافَقَ شَرْطَهُ وَأَشَارَ إِلَى تَرْجِيحِهِ عَلَى غَيْرِهِ وَالْحَدِيثُ الَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَرْفُوعًا مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ وَأَخْرَجَهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ أَضْعَفُ

یعنی امام بخاری کا ” کتاب الجنائز” میں یہ باب باندھنا کہ سوموار کے دن موت کی فضیلت کا بیان”
اس وجہ سے ہے کہ جمعہ کے دن موت کی فضیلت والی جو بات ہے وہ امام بخاری کے ہاں صحیح نہیں، اور انہوں نے جو بات صحیح ہے اسکو ترجیح دی ہے یعنی جمعہ کی بجائے سوموار کے دن موت کی فضیلت والی بات زیادہ صحیح ہے،

اور جمعہ کے دن موت کی فضیلت والی جس روائیت کے متعلق امام بخاری کا اشارہ ہے وہ سنن ترمذی کی
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث ہے:
«ما من مسلم يموت يوم الجمعة او ليلة الجمعة الا وقاه الله فتنة القبر »
یعنی: “جومسلمان جمعہ کے دن یاجمعہ کی رات فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عذاب قبر سے محفوظ فرما لیتا ہے۔”

🚫حافظ ابن حجر یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں..؛
في اسناده ضعف واخرجه ابو يعلي من حديث انس نحوه واسناده اضعف ’’
یعنی ”اس کی سند میں ضعف ہے۔اور اس کی مانند حدیث ابو یعلیٰ نے بھی حضرت انس سے بیان کی ہے لیکن اس کی سند اس سے بھی زیادہ کمزور ہے۔’

یعنی اس سے مصنف کا مقصود جمعہ کی فضیلت کے بارے میں وارد حدیث کی تضعیف ہے،

*اور پھر واقعاتی طور پر بھی وفات کا جو دن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے منتخب اور پسند فرمایا وہی افضل اور بہتر ہونا چاہیے۔ اسی بناء پر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس دن موت کی چاہت کی تھی*

_________&____________

*گو کہ علامہ البانی رحمہ اللہ سمیت چند دیگر علماء اس بارے ذکر کردہ تمام طرق کو ملا کر حسن یا صحیح لغیرہ کے درجہ تک لے جاتے ہیں مگر حقیقت میں ان تمام طرق میں سے کسی ایک کی سند بھی صحیح ثابت نہیں*

یہاں ہم ان کا ذکر کر کے انکا ضعف بیان کریں گے ان شاءاللہ،

📚پہلی روایت سنن ترمذی سے درج ذیل ہے :

1074: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْرَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
” مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ “.

هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ؛ رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ إِنَّمَا يَرْوِي عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَا نَعْرِفُ لِرَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ سَمَاعًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
ترجمہ :
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضي الله عنہما کہتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ”جو مسلمان جمعہ کے دن يا جمعہ کي رات کو مرتا ہے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے“

🚫حدیث کے نیچے امام ترمذي کہتے ہيں:
– يہ حديث غريب ہے،
– اس حديث کي سند متصل نہيں ہے، ربيعہ بن سيف ابوعبدالرحمن حبلي سے روايت کرتے ہيں اور وہ عبداللہ بن عمرو سے ۔ اور ہم نہيں جانتے کہ ربيعہ بن سيف کي عبداللہ بن عمرو رضي الله عنہما سے سماع ہے يا نہيں۔
(سنن الترمذي ، حدیث نمبر 1074 )

علامہ السيوطي (٩١١ هـ)، الجامع الصغير ٨٠٨٩ • میں اسکو ضعيف لکھا ہے،

—————————
📚اور یہی روایت مسند امام احمد ؒ میں تین مقامات پر منقول ہے :

6582 – حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ»
(مسند احمد حدیث نمبر_6582)

🚫اس کے ذیل میں محقق علامہ شعیب ارناؤط لکھتے ہیں :
’’ اس کی اسناد ضعیف ہے کیونکہ ربیعہ بن سیف نے عبداللہ بن عمرو سے نہیں سنا ، (یعنی سند منقطع ہے ) گو باقی رجال ثقہ ہیں ‘‘
إسناده ضعيف، ربيعة بن سيف لم يسمع من عبد الله بن عمرو، وهو وهشام بن سعد ضعيفان، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين، أبوعامر: هو العقدي عبد الملك بن عمرو.
ومن طريق أحمد أخرجه المزي في “تهذيب الكمال” في ترجمة ربيعة بن سيف 9/116.
وأخرجه الترمذي (1074) ، والطحاوي في “شرح مشكل الآثار” (277) من طريق أبي عامر العقدي، بهذا الإسناد.
وأخرجه الترمذي (1074) أيضاً من طريق عبد الرحمن بن مهدي،
——————————-

📚مسند احمد میں دوسرے مقام پر ہے :
6646 – حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ»
(مسند احمد حدیث نمبر-6646)

🚫اس کے ذیل میں محقق علامہ شعیب ارناؤط لکھتے ہیں :
یعنی یہ اسناد بھی ضعیف ہے کیونکہ بقیہ بن ولید جو مدلس ہیں ، اور تدلیس تسویہ کے مرتکب ہیں وہ یہاں ( عن ) سے روایت نقل کر رہے ہیں
إسناده ضعيف. بقية -وهو ابن الوليد الحمصي- يُدلًس عن الضعفاء وُيسوي (*) ، ويسْتبيح ذلك، قال ابن القطان: وهذا إن صح، فهو مفسد لعدالته.
قال الذهبي: نعم -والله- صح هذا عنه أنه يفعله، وصح عن الوليد بن مسلم،=
بل عن جماعة كبارٍ فعْلُه، وهذه بلية منهم، ولكنهم فعلوا ذلك باجتهاد، وما جوزوا على ذلك الشخص الذي يُسقطون ذكره بالتدليس أنه تعمد الكذب، هذا أمثل ما يُعتذر به عنهم. ولم يتوقف الحافظ ابنُ حجر في جرح من يفعل ذلك، نقله عنه البقاعي كما في “توضيح الأفكار” 1/375.
ومعاوية بن سعيد: هو ابن شريح بن عروة التجيبي الفهمي مولاهم، المصري، لم يوثقه غير ابن حبان. وأبو قييل: تقدم بيان حاله في الحديث الذي قبله، وسيأتي برقم (7050) .
وسلف برقم (6582) بإسناد ضعيف أيضاً، وذكرنا هناك شواهده.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

📚مسند احمد میں تیسرے مقام پر یوں ہے
7050 – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا قَبِيلٍ الْمِصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ»
(مسند احمد حدیث نمبر-7050)

إسناده ضعيف، وهو مكرر (6646)
بقية: هو ابن الوليد.
ومعاوية بن سعيد: هو ابن شريح بن عروة التجيبي الفهمي مولاهم، المصري، لم يوثقه غير ابن حبان

🚫اسکی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ معاویہ بن سعید کی ابن حبان کے علاوہ کسی نے توثیق نہیں کی ۔

اور دوسرا راوی (ابو قبیل ) ہے جس کے
متعلق علامہ شعیب ارناؤط لکھتے ہیں :
وأبو قبيل -واسمه حيي بن هانىء المعافري- وثّقه غير واحد، وذكره ابنُ حبان في “الثقات”، وقال: كان يخطىء، وذكره الساجي في كتابه “الضعفاء”، وحكى عن ابن معين أنه ضعفه. قال الحافظ في “تعجيل المنفعة” ص 277: ضعيف، لأنه كان يكثر النقل عن الكتب القديمة.
———————–

📚اور مصنف عبدالرزاق میں یہ روائت بالاسناد یوں ہے :
5595 – عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ – أَوْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ – بَرِئَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ» أَوْ قَالَ: «وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَكُتِبَ شَهِيَدًا»
(مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر-5595)

🚫اس میں ابن جریج سے اوپر والا راوی مجہول ہے ، اور ساتھ ہی روایت مرسل ہے کیونکہ ابن شہاب نے صحابی کا ذکر نہیں کیا،

*لہذا اس مفہوم کی روایت کے تمام طرق میں سے کوئی ایک بھی صحیح سند سے ثابت نہیں*

_________________&&___________

📚جمعہ کے دن مرنے والے کی فضیلت میں وارد احادیث کے متعلق علامہ شیخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز رحمه الله سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :

السؤال :
هل من يموت يوم الجمعة يجار من عذاب القبر، وهل الجزاء ينطبق على يوم الوفاة، أم على يوم الدفن؟

الجواب
هل من يموت يوم الجمعة يجار من عذاب القبر؟
الأحاديث في هذا ضعيفة، الأحاديث في الموت يوم الجمعة وأن من مات يوم الجمعة دخل الجنة ووقي النار، كلها ضعيفة غير صحيحة، من مات على الخير والاستقامة دخل الجنة، في يوم الجمعة أو في غير الجمعة، من مات على دين الله على توحيد الله والإخلاص له فهو من أهل الجنة في أي مكان مات، وفي أي زمان، وفي أي يوم، إذا استقام على دين الله فهو من أهلال الجنة والسعادة، وإن مات على الشرك بالله فهو من أهل النار في أي يوم وفي أي مكان، نسأل الله العافية. وإن مات على المعاصي فهو على خطر، تحت مشيئة الله، لكنه إلى الجنة إذا كان موحد مسلم منتهاه الجنة، لكن قد يعذب بعض العذاب على معاصيه التي مات عليها غير تائب، لقول الله: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ[النساء: 48]، فبين -سبحانه- أن الشرك لا يغفر لمن مات عليه، وأن ما دونه من المعاصي فهو تحت المشيئة، إذا مات وهو زانٍ لم يتب مات في شرب الخمر لم يتب مات عاقاً لوالديه، مات يأكل الربا فهو تحت مشيئة الله إن شاء الله غفر له لأعماله الطيبة وتقواه، وإن شاء عذبه على قدر هذه المعاصي، ثم بعد هذا يخرج من النار، بعد التطهير يُخرج من النار إلى الجنة.

الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز رحمه الله
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ :
سوال : ــــ کیا بروز جمعہ فوت ہونے والے کو عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا ؟
اور کیا اس فضیلت کا اطلاق مرنے والے دن کے لحاظ سے ہوگا ، یا دفن ہونے والے دن کے حساب سے ؟

جواب :ـــــــــ
اس باب میں جتنی بھی احادیث مروی ہیں سب ضعیف ہیں ، بروز جمعہ کی موت پر جنت میں داخلہ اور عذاب قبر سے بچالئے جانے
کی فضیلت والی تمام احادیث ضعیف ہیں ،صحیح نہیں ۔
اصل بات یہ ہے کہ جو بھی خیر یعنی نیکی اور دین پر استقامت کی حالت میں فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا ۔وہ جمعہ کے دن فوت ہو یا کسی اور دن۔
جو بھی اللہ کے دین ، اور اسکی توحید کے عقیدے اور اخلاص پر فوت ہوا ، چاہے اسے کہیں اور کسی دن موت آئی ہو وہ جنت میں جائے گا ۔
اور جو بھی شرک پر فوت ہوا ، چاہے وہ کہیں مرا ہو ، اور کسی بھی دن اسے موت آئی ہو اسے جہنم میں جانا ہے ،
اور جسے (ایمان کی حالت میں ) گناہوں میں ملوث حالت میں موت آئی ، تو وہ خطرے میں ، اور اللہ کی مشیت کے تحت ہے ،
لیکن اگر وہ موحد ہے تو بالآخر اس کا ٹھکانہ جنت ہے چاہے اپنے گناہوں پر عذاب بھگتنے کے بعد جنت میں جائے ،
کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
(إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ )
[النساء: 48]
یعنی اللہ شرک کو تو کسی صورت نہیں بخشے گا،(اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کی ) تاہم اس کے علاوہ گناہوں کو اگر چاہے گا تو بخش دے گا ،
تو اللہ نے واضح کردیا کہ :
شرک (والے عقیدے و اعمال ) پر مرنے والا ہرگز بخشش کی امید نہ رکھے ، ہاں شرک کے علاوہ دوسرے گناہ اس کی مشیت کے تحت ہیں
یعنی زانی ،شرابی ، والدین کے نافرمان ، سود خور کو اگر اللہ چاہے تو بخش دے ، اگر چاہے گا تو عذاب میں مبتلا کرے گا ۔
پھر وہ گناہگار عذاب سے نکل کر اور پاک ہوکر جنت میں جائے گا،

(https://binbaz.org.sa/old/28522)

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

🌹اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں