409

سوال_كتا پالنے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کن صورتوں میں کتا پالنا جائز ہے؟ اور کیا جس گھر میں کتا ہو تو وہاں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-256”
سوال_كتا پالنے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کن صورتوں میں کتا پالنا جائز ہے؟ اور کیا جس گھر میں کتا ہو تو وہاں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا؟

Published Date :25-6-2019

جواب:
الحمد للہ:

*جہاں کتا ہو وہاں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا،اور شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کے لیے کتا پالنے کو نا صرف حرام قرار دیا ہے بلکہ اس حکم كى مخالفت كرنے والے كو بطور جرمانہ اسکے نامہ اعمال سے روزانہ ايک يا دو قيراط نيكياں کم کر دی جاتی ہیں،ليكن شكار، يا جانوروں اور كھيت كى نگرانی كے ليے كتا ركھنا جائز ہے اور وہ اس جرمانے والے حکم سے مستثنیٰ ہیں*

*جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے*

📚حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا
لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ
“(رحمت كے )فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو ”
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر_4153)

📚حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ جبرئیل علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک متعین وقت میں آنے کا وعدہ کیا , وقت گزر گیا لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے , اس وقت رسول ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی, آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور فرمایا :”کہ اللہ تعالى وعدہ خلافی نہیں کرتا نہ اس کے قاصد وعدہ خلافی کرتے ہیں, پھر آپ نے ادھر ادھر دیکھا تو ایک پلا ( یعنی کتے کا بچّہ) آپ کی چارپائی کے نیچے دکھائی دیا , آپ نے فرمایا اے عاشہ! یہ پِلاّ اس جگہ کب آیا ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! مجھے علم نہیں ,آپ نے حکم دیا وہ باہر نکالا گیا , پھر جب جبرئیل آئے تو رسول ﷺنے فرمایا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں آپ کے انتظارمیں بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ,تو جبرئیل نے کہا یہ کتا جو آپ کے گھر میں تھا اسنے مجھے روک رکھا تھا, جس گھر میں کتا اور تصویر ہو ہم وہاں داخل نہیں ہوتے ”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : اللِّبَاسُ وَالزِّينَةُ | بَابٌ : تَحْرِيمُ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ ،
حدیث نمبر_2104)

*لیکن اس حکم سے وہ کتے مستثنیٰ ہیں جنکو پالنے کی شریعت نے اجازت دی ہے*

📚 عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ : ” مَا لَهُمْ وَلَهَا ؟ “. فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا:
لوگوں کو ان سے کیا سروکار؟ (یعنی انکے کس کام کے اور پھر جب آپکو کتوں کے فوائد بتلائے گئے۔۔شکار،رکھوالی وغیرہ تو) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر_74)

📚 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ زَرْعًا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری یا جانوروں کی نگرانی کرنے والے کتے کے علاوہ دیگر کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ابن عمر رضی الله عنہما سے کہا گیا: ابوہریرہ رضی الله عنہ یہ بھی کہتے تھے: «أو كلب زرع» یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے ( یعنی یہ بھی مستثنیٰ ہیں ) ،
تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے پاس کھیتی تھی ( اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا ہو گا )
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1571)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1488)

📚. ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:”
مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ”
جس نے بھى جانوروں كى ركھوالى، يا شكار كرنے، يا كھيت كى ركھوالى كے علاوہ كتا ركھا اس كا روزانہ ايک قيراط اجر كم ہوتا ہے
(صحیح بخاری حدیث نمبر_2322)
(صحيح مسلم حديث نمبر_ 1575)

📚ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ ”
”جس نے کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے اجر سے دو قیراط اجر کم ہو گا، سوائے شکاری یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے“۔
(سنن نسائی حدیث نمبر-4290)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1575)

*كيا گھروں كى رکھوالی كے ليے كتا ركھنا جائز ہے؟*

📚امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
” ان تين امور كے علاوہ كسى اور كام مثلا گھروں اور راستوں وغيرہ كى حفاظت اور چوكيدارى كے ليے كتا ركھنے ميں اختلاف ہے، راجح يہى ہے كہ ان تينوں پر قياس اور حديث سے سمجھ آنے والى علت ” ضرورت ” كى بنا پر كتا ركھنا جائز ہے ” انتہى
ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 10 / 236 )

📚شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
” اس بنا پر جو گھر شھر كے وسط ( آبادى ) ميں ہو اس كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز نہيں، چنانچہ اس حالت ميں اس طرح كى غرض كے ليے كتا ركھنا حرام اور ناجائز ہو گا، اس كى بنا پر كتا ركھنے والے كا روزانہ ايک يا دو قيراط عمل اجر كم ہوتا رہے گا.
اس ليے انہيں كتے كو بھگا دينا چاہيے اور وہ كتا نہ پاليں، ليكن اگر وہ گھر خالى اور بيابان جگہ ميں ہو اور اس كے ارد گرد كوئى اور مكان نہ ہو تو پھر اس گھر اور اس ميں رہنے والوں كى حفاظت كے ليے كتا ركھنا جائز ہے، اور پھر گھر والوں كى حفاظت تو جانوروں مویشى اور كھيت كى حفاظت سے زيادہ اہم ہے ” انتہى.
(مجموع فتاوى ابن عثيمين4/ 246)

*اوپر جو روایات میں ايک قيراط اور دو قيراط کا ذکر ہے تو ان دونوں روايتوں ميں موافقت كے متعلق كئى ايک اقوال بيان كيے جاتے ہيں*

📚حافظ عينى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ا – ہو سكتا ہے يہ كتوں كى دو قسموں ميں ہو، ان ميں ايک زيادہ اذيت كا باعث ہو.

ب – بستيوں اور شہروں ميں دو قيراط اور ديہاتوں ميں ايك قيراط،

ج ـ يہ دو وعليحدہ وقتوں ميں بيان ہوا، پہلے تو ايك قيراط بيان كيا گيا، پھر سختى كرتے ہوئے دو قيراط كر ديے گئے.

ديكھيں: عمدۃ القارى ( 12 / 158 )

📚قیراط کے پیمانے کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قیراط کتنا ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قیراط کو احد پہاڑ جتنا بتایا،
(دیکھیں صحیح بخاری،47٫1325)

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

کتا اگر برتن میں منہ ڈال دے تو برتن کو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-10))

🌹اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں