420

سوال_ کیا خواتین اپنے سر کے بال کٹوا سکتی ہیں؟ سنا ہے کہ عورت کہ بال قیامت کے دن اسکے لیے پردہ کا باعث بنیں گے اور بال کٹوانے والی کو بے پردہ اٹھایا جائے گا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-232”
سوال_ کیا خواتین اپنے سر کے بال کٹوا سکتی ہیں؟ سنا ہے کہ عورت کہ بال قیامت کے دن اسکے لیے پردہ کا باعث بنیں گے اور بال کٹوانے والی کو بے پردہ اٹھایا جائے گا؟

Published Date:13-4-2019

جواب:
الحمدللہ:

*مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جس معاملے میں شریعت خاموش ہے اس معاملے پر کچھ علماء بہت زیادہ سختی کیوں کر جاتے ہیں، بال کٹوانا عام عادات میں شامل ہے اور کیونکہ عادات کے متعلق بنیادی قاعدہ یہی ہے کہ جب تک عادات کے متعلق کوئی حرمت کی دلیل نہیں آتی اس وقت تک ان کا حکم جائز کا ہوتا ہے، اور شریعت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس میں عورت کو بال کاٹنے سے منع کیا گیا ہو، بلکہ شریعت میں اسکے جائز ہونے کی دلیل موجود ہے*

📚عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ،
قَالَ : وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ
ترجمہ:
ابو سلمہ بن عبد الرحمن ( رحمہ اللہ)
کی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ:
“نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں اپنے سر کے بالوں کو اتنا کاٹ دیتی تھیں کہ وہ وفرہ بن جاتے تھے”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْحَيْضُ | بَابٌ : الْقَدْرُ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ :حدیث نمبر _320)

*حدیث کے عربی الفاظ میں: “الوفرة” سے مراد ایسے بال ہیں جو کندھوں سے قدرے لمبے ہوں، اس کے معنی میں یہ بھی قول ہے کہ جو بال کانوں کی لو تک پہنچیں انہیں وفرہ کہتے ہیں، یعنی امہات المومنین اپنے بالوں کو کانوں کی لو یا کندھوں تک کاٹ لیتی تھیں،*

📚 صحیح مسلم کی شرح لکھنے والے امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
“اس حدیث میں دلیل ہے کہ عورت اپنے بالوں کو کاٹ سکتی ہے”
“( شرح مسلم ” (4/5)

📚کچھ علماء نے اس حدیث کو امہات المومنین سے خاص کر دیا ہے کہ یہ صرف انکے لیے جائز تھا کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ترک زینت کے لیے ایسا کیا تھا،لیکن انکی یہ بات بنا کسی دلیل کے رد کی جائے گی، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ حدیث نا بھی ہوتی تو بھی عورتوں کا بال کٹوانا جائز تھا کیونکہ اسکی ممانعت میں کوئی حکم وارد نہیں ہوا،

📚 مفتی اعظم شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

عورت كے بال كاٹنے كے متعلق ہم كچھ نہيں جانتے، بال منڈانا منع ہے، آپ كو كوئى حق نہيں كہ آپ سر كے بال منڈائيں، ليكن ہمارے علم كے مطابق آپ بالوں كى لمبائى يا اس كى كثرت سے كاٹنے ميں كوئى حرج نہيں،

ليكن يہ اچھے اور احسن طريقہ سے ہونا چاہيے جو آپ اور آپ كے خاوند كو پسند ہو، وہ اس طرح كہ آپ خاوند كے ساتھ متفق ہوں ليكن بال كٹوانے ميں كافر عورتوں كے ساتھ مشابہت نہيں ہونى چاہيے، اور اس ليے بھى كہ بال لمبے ہونے ميں انہيں دھونے اور كنگھى كرنے ميں مشقت ہے.

چنانچہ اگر بال زيادہ ہوں اور عورت اس كى لمبائى يا كثرت ميں سے كچھ كاٹ دے تو كوئى نقصان نہيں، يا اس ليے بھى كہ بال كاٹنےميں خوبصورتى ہے جو وہ خود اور اس كا خاوند چاہتا ہے اور اسے پسند كرتا ہے تو ہمارے نزديک اس ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن بال بالكل كاٹ دينا اور منڈا دينا جائز نہيں، ليكن اگر كوئى عذر ہو، يا بيمارى ہو تو ايسا بھی كيا جا سكتا ہے،

(ديكھيں كتاب:
( فتاوى المراۃ المسلمۃ_ 2 ج/ 515 )

📚شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“عورت کا اپنے سر کے بال کاٹنے کے حوالے سے یہ ہے کہ بعض اہل علم نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، اور بعض نے اسے حرام قرار دیا اور کچھ نے اسے جائز کہا ہے۔

تو چونکہ یہ مسئلہ اہل علم کے مابین اختلافی ہے تو ہمیں کتاب و سنت کی جانب رجوع کرنا چاہیے، لہذا مجھے اب تک ایسی کسی دلیل کا علم نہیں ہے، جس میں عورت کے لیے سر کے بالوں کو کاٹنا حرام ہو، اس لیے سر کے بالوں کو کاٹنا اصولی طور پر مباح ہو گا، اور اس میں رواج کو معتبر مانا جائے گا، چنانچہ پہلے زمانے میں عورتیں لمبے بال رکھنا پسند کرتی تھیں اور لمبے بالوں کی وجہ سے ناز بھی کرتی تھیں، خواتین اپنے بالوں کو شرعی یا جسمانی ضرورت کی بنا پر ہی کاٹتی تھیں، لیکن اس وقت عورتوں کے افکار بدل چکے ہیں، اس لیے حرمت کا موقف کمزور ہے، اس کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے، جبکہ کراہت کا موقف بھی غور و فکر کا متقاضی ہے، جبکہ بال کاٹنے کی اباحت کا موقف قواعد اور اصولوں کے مطابق ہے، ویسے بھی صحیح مسلم میں روایت موجود ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد اپنے سر کے بالوں کو اتنا کاٹ دیتی تھیں کہ وہ وفرہ بن جاتے تھے ۔

لیکن اگر کوئی عورت اپنے بال اتنے زیادہ کاٹ دیتی ہے کہ وہ مردوں جیسے لگنے لگتے ہیں تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی خواتین پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں جیسی شکل و شباہت اختیار کریں۔

اسی طرح اگر کوئی عورت بالوں کو اس انداز سے کاٹتی ہے کہ کافر اور حیا باختہ عورتوں کی مشابہت ہو ، تو اس کے بارے میں یہ ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔

لیکن اگر کوئی عورت معمولی بال کاٹتی ہے کہ بال مردوں کے بالوں جیسے نہ لگیں ، نہ ہی کافر اور حیا باختہ عورتوں جیسے بال نظر آئیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے” ختم شد
(“فتاوی نور علی الدرب”
(فتاوى الزينة والمرأة/ قص الشعر) ( کیسٹ نمبر: 336 ، بی سائید)

*اوپر ذکر کردہ حدیث، اور علماء کے صحیح اقوال کے مطابق اگر خاتون کا بال کٹوانے کا مقصد خاوند کو خوش کرنا ہے، یا انتہائی لمبے بالوں کی دیکھ بھال میں آنے والی مشقت میں کمی کرنا مقصود ہے، یا خوبصورتی کے لیے کٹوائے یا اس کے علاوہ کوئی معقول اور جائز وجہ ہو تو پھر بال کٹوانے میں کوئی حرج نہیں ہے*

__________&__________

*ہاں البتہ ان صورتوں میں عورتوں کا بال کٹوانا حرام ہے*

1_اگر عورت اپنے کٹے ہوئے بالوں کو غیر محرم لوگوں کے سامنے کھلا رکھے، چونکہ یہ بے پردگی میں شامل ہے،

2_اگر عورت اپنے بالوں کو کٹوا کر کافر عورتوں یا فاسق خواتین کی مشابہت اختیار کرنا چاہتی ہو،
📚کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں کی مشابہت سے منع فرمایا ہے اور فرمایا جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہو گا
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر_4031)

3_اگر عورت اپنے بال ایسے انداز سے کٹوائے جس سے مردوں کے بالوں کی مشابہت ہو جائے،
📚کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5885)

4_عورت کے بال کوئی اجنبی مرد کاٹے، اور عام طور پر سیلون پر اجنبی مرد ہی بال کاٹتے ہیں،
📚کیونکہ کسی مرد کا غیر محرم عورت کو چھونا حرام ہے،
( السلسلة الصحيحة،حدیث نمبر-226)

5_اگر عورت اپنے بال خاوند کی اجازت کے بغیر کٹوائے،

*مندرجہ بالا پانچوں صورتوں میں خواتین کے لیے بال کٹوانا حرام ہے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، اور ان حالات میں بال کٹوانے کی حرمت بھی واضح احادیث سے ثابت ہے*

_______&______

*اسی طرح عورتوں کا بالکل بال منڈوانا(ٹنڈ کروانا) بھی حرام ہے*

📚حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ نَهَی رَسُوْلُ اللهِ أنْ تَحْلِقَ الْمَرْأةُ رَأسَهَا
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر مونڈنے سے منع کیا ہے۔
(سنن نسائی حدیث نمبر-5052)
یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے،

🚫اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ عورت کے لمبے بال روزِ قیامت پردے کا باعث بنیں گے، تو اس کے متعلق احادیث اور آثار وغیرہ میں کوئی بات نہیں ملی، بلکہ اہل علم کی بھی ایسی کوئی گفتگو سامنے نہیں آئی، اس لیے ایسی بات کی تصدیق سے پہلے اور اس کے شریعت میں ثبوت ملنے سے قبل اسے بیان کرنے یا ایسا کچھ نظریہ رکھنے سے بچنا چاہیے۔

( واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب)

📚کیا غسل جنابت یا غسل حیض کے وقت عورت کے لیے سر کے بال کھولنا ضروری ہیں؟
( دیکھیں سلسلہ نمبر-3)

🌹اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں