228

سوال_اپریل فول منانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا مذاق میں جھوٹ بولنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-226”
سوال_اپریل فول منانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا مذاق میں جھوٹ بولنا جائز ہے؟

Published Date:30-3-2019

جواب…!
الحمدللہ۔۔۔!!

بے شک جھوٹ برے اخلاق میں سے ہے ,جس سے سب ہی شریعتوں نے ڈرایا ہے ،اور اسی پر انسانی فطرتيں بھی متفق هيں، اور اسی کے عقل سلیم اور مروّت والے بھی قائل ہیں،اگر میں آپ سے پوچھوں کہ جھوٹ بولنا کیسا ہے؟ تو آپ فورا کہہ اٹھیں گے کہ جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے، جھوٹ ہی تو تمام برائیوں کی جڑ ہے اور یہ کہ جھوٹ بولنے والے کے منہ سے ایسی بدبو خارج ہوتی ہے کہ فرشتے اس کی کراہت سے 40 قدم دور چلے جاتے ہیں،
آپ سب کی بات بالکل ٹھیک ہے،

لیکن
سوال یہ ہے کہ یہی جھوٹ یکم اپریل کو کیسے جائز ہوجاتا ہے؟؟ کیوں لوگ ذوق و شوق سے اللہ کی لعنت کے مستحق ہو رہے ہوتے ہیں اور فرشتوں کو اپنے سے دور ہونے پر مجبور کرتے ہیں؟؟
کیا کوئی اس بات کا جواب دے سکتا ہے؟؟

اورہمارےحنیف شریعت کتاب وسنت میں اس سے ممانعت آئی ہے.اوراس کی حرمت پراجماع ہے.اورجھوٹے شخص کیلئے دنیا وآخرت میں برا انجام ہے.
شریعت میں جھوٹ کی بالکل اجازت نہیں ہے سوائےچندایسےمعين امورکی جن بر كسی کا حق مارنا, خون ریزی كرنا اور عزت وآبرو پرطعن کرنا وغيرہ مرتب نہیں ہوتا ہے،
بلکہ یہ ایسے مقامات ہیں جن میں (جهوٹ بولنے ) كا مقصد کسی كی جان بچانا ، یا دوشخصوں کے درمیان اصلاح كرانا،یا شوہر و بیوی کے درمیان ميل محبت پيدا كرنا ہوتا هے.

اورشریعت میں کوئی دن یا لمحہ ایسا نہیں آیا ہے جسمیں کسی شخص کے لئے جھوٹ بولنا یا اپنی مرضی سے كسی بھی چیزکی خبردیناجائزہے,

جبکہ لوگوں میں “اپریل فول”كے نام سے ايك غلط رسم منتشر ہےجس كے بارے ميں انکا گمان ہے کہ شمسی سال کے چوتھے مہنیہ يعنی اپريل کی پہلی تاریخ كو بغیرکسی شرعی ضابطہ کے جھوٹ بولنا جائزہے.

جھوٹ کے حرام ہونے کی دلیل:

📚- اللہ کا فرمان ہے:
إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللّهِ وَأُوْلـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ (النحل:105)
“بے شک جھوٹ وہ لوگ گھڑتے ہیں جواللہ کی نشانیوں پرایمان نہیں لاتے اوروہی لوگ جھوٹے ہیں”.

📚وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ( ۙالجاثیہ،7)
ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے لیے بڑی ہلاکت ہے،

📚 اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ( الزمر_3)
بے شک اللہ جھوٹے اور ناشکرے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا،

📚- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:”
منافق کی تیں علامتیں ہیں جب بات كرے توجھوٹ بولے،اور جب وعدہ کرے توخلاف ورزی کرے،اورجب اس كے پاس کوئی امانت رکھی جائے توخیانت کرے”.
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_33)

*اورجھوٹ کی سب سے بدترین قسم مزاح کے طور پر جھوٹ بولنا ھے.بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ مزاح کے طور جھوٹ بولنا جائزہے،اور یہی وه عذرہے جسكا یکم اپریل یا دیگر ایام میں جھوٹ بولنے کیلئے (پر) سہارا لیا جاتا ہے. لیکن یہ غلط ہے، اور شریعت مطہرہ میں اسکی کوئی اصل نہیں ہے،کیونکہ جھوٹ بولنا چاہے مذاق کے طور پر ہو یا حقیقت میں ہر صورت حرام ہے*

🌷فرمان نبویﷺ
ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے،
(ویل )ہلاکت ہے اس کے لیے، ہلاکت ہے اس کے لیے۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_4990)
اس حدیث میں ویل کا لفظ استعمال ہوا ہے ،ویل جہنم کے ایک گڑھے کا نام بھی ہے،

🌷ابن عمر رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں هنسی مذاق کرتا ھوں اورصرف حق بات کہتا ہوں”
(اس حدیث کو طبرانی نے معجم الکبیر 12/391 میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحیح الجامع (2494) میں صحیح قراردیا ہے).

🌷اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول!
آپ ہم سے هنسی مذاق کرتے ہیں ؟
فرمایا:
میں صرف حق بات کہتا ہوں”
(اسےترمذی نے روایت کیا ہے حدیث نمبر (1990)

جہاں تک “اپریل فول”کی بات ہے تو تحدید کے ساتھ اس جھوٹ کی اصلیت کا کوئی پتہ نہیں ہے البتہ اسکے بارے میں مختلف آراء ہیں:

بعض کا کہنا ہے کہ یہ 21 مارچ کو دن و رات کے برابر ہونے کے وقت بسنت کے جشن کے ساتھ ایجاد ہوئی، اوربعض کا خیال ہے کہ یہ بدعت قدیم زمانہ ہی سے ہے اور بت پرستوں کا تہوار ہے فصل ربیع کی ابتدا میں معین تاریخ سے مرتبط ہونے کی وجہ سے، کیونکہ یہ بت پرستوں کی بقایا رسومات میں سے ہے. اورکہا جاتا ہے کہ بعض ملکوں میں شکارکے ابتدائی ایام میں شکار ناکام ہوتا تھا چنانچہ یہ اپریل ماہ کے پہلے دن میں گڑھی جانے والی جھوٹی باتوں کیلئے ایک قاعدہ بن گیا.

*اوربعض نے اس جھوٹ کی اصليت كے بارے میں اس طرح لکھا ہے کہ:*

ہم میں سے اکثرلوگ اپریل فول مناتے ہیں جسکا حرفی یا لفظی معنی “اپریل کا دھوکہ”ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جواس کے پس پردہ پوشیدہ رازکوجانتے ہیں؟

آج سے تقریباً ہزار سال پہلے جب مسلمان اسپین میں حکومت کرتے تھے وہ ايک ایسی طاقت تھے جس کا توڑنا ناممکن تھا اورمغرب کے نصاری یہ تمنا کرتے تھے کہ دنیا سے اسلام کا خاتمہ کردیں اوروہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے .

ان لوگوں نے اسپین میں اسلام کی بڑھوتری کوروکنا اوراور اس كا خاتمہ کرنے كی كوشش كی لیکن اسمیں ناکام ہوئے ,انہوں نے بارہا کوششیں کیں لیکن ناکامی كا سامناهوا. اسکے بعد کفارنے اپنے جاسوسوں کواسپین میں مسلمانوں کی ناقابل شكست قوت کے راز كا پتہ لگانےکیلئے بھیجا توانھوں نے پایا كه تقوی وپرہیزگاری کولازم پکڑناہی اسکا سبب ہے.

جب نصاری نے مسلمانوں کی قوتوں کے رازکوجان لیا توانہوں نے مسلمانوں کی اس قوت کو توڑنے کی حکمت عملی کے بارے میں غورکرنا شروع کردیا اسی بنا پرانہوں نے اسپین میں سگریٹ اورشراب کومفت بھیجنا شروع کردیا.
اس طريقہ كار (tactics) نے مغرب کواچھے نتائج دئے.اوراسپین میں مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل كا عقیدہ کمزورہونے لگا.اوراسکا نتيجہیہ ظاهرہوا کہ مغرب کے كيتهولک(catholic) نصاری نے سارے اسپین کواپنے ماتحت میں کرلیا اورايك ایسے شہرسے مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کردیا جہاں وہ آٹھ سوبرس سے زیادہ مدت تک اقتدار ميں ره چکی تھی.اوریکم اپریل کومسلمانوں کا آخری قلعہ غرناطہ کا سقوط ہوا اسلئے اسکوبطور”اپریل فول” (APRIL FOOL)دھوکے کا اپریل سمجھتے ہیں.

اوراسی سال سے آج تک اس دن کو مناتے آرہے ہیں اورمسلمانوں کوبیوقوف سمجھتے ہیں. وہ حماقت و بیوقوفی کو صرف غرناطہ کی فوج کے ساتھ خاص نہیں مانتے بلکہ پوری امت اسلامیہ کو بیوقوف بناتے ہیں. اور جب ہم اس جشن میں حاضر ہوں تو یہ انتہائی جہالت کی بات ہے. اور جب ہم اس خبیث فکر کے کھیل میں انكی اندھی نقالی کریں تو یہ ایسی اندھی تقلید ہے جو ہم میں بعض كي انکی پیروی کرنے میں بیوقوفی كو واضح كرتی ہے. اوراگرہم اس جشن کے اسباب کوجان لیتے توکبھی بھی اپنی شکست کا جشن نہ مناتے .

اورجب ہم نے اس حقیقت کو جان لیا توآئیے ہم اپنے نفس سے وعدہ کریں کہ ہم کبھی بھی اس دن کو نہیں منائیں گے. ہم پرضروری ہے کہ اسپین والوں سے سبق سيکھیں اورحقيقي معنوں ميں اسلام بر عمل كرنے والےبن جائيں اوراپنے ایمان کوکبھی بھی کمزورنہ ہونے دیں.)ا.ھ.

اور ہمیں اس جھوٹ کی اصلیت کو جاننے سے زیادہ اس دن جھوٹ بولنے کے حکم کے بارے میں جاننا چاہئے ،اور ہم جزم ویقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی روشن ایام میں اسکا وجود نہیں تھا. اور اسکے ایجاد کرنے والے مسلمان نہ تھے.
بلکہ یہ مسلمانوں کے دشمنوں کی طرف سے ہے.
اس میں حقیقت ہے یا نہیں،

ہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ کہانی سچی ہے یا نہیں ،
ہمیں غرض ہے تو جھوٹ بولنے سے،
کیونکہ ہمارے مذہب میں جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے اور اپریل فول میں ہونے والے حادثات بہت ہیں، لوگوں میں سے کتنے ہیں جنکو انکے لڑکے یا بیوی یا دوست کی وفات کے بارے میں خبردی گئی تو تکلیف و صدمہ کی تاب نہ لا کر انتقال کرگئے، اور کتنے ہیں جن کو نوکری کے چھوٹنے یا آگ لگنے یا انکے اہل وعیال کا ایکسیڈنٹ ہونے کی خبردی گئی تووہ فالج ، ستروك یا اسکے مشابہ ديگر امراض سے دوچارہوگئے.اوربعض لوگوں سے جھوٹے یہ کہا گیا کہ انکی بیوی فلاں آدمی کے ساتھ ديکھی گئی تویہ چیزاسکے قتل یا طلاق کا سبب بن گئی. اسی طرح بہت سارے واقعات وحادثات ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں. اور سب کے سب جھوٹ کا پلندہ ہیں جنہیں عقل ونقل حرام ٹھراتی ہے اور سچی مروّت اسکا انکار کرتی ہے.

*اللہ پاک ہم سب کو ہدایت کے رستے پر چلائے اور غیر مسلموں کی مشابہت اور انکی سازشوں سے محفوظ رکھے ،آمین*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں