443

سوال_ کیا سرخ رنگ كا لباس پہننا ممنوع ہے؟اور یہ ممانعت صرف مردوں کے لیے ہے یا عورتوں کے لیے بھی؟ نیز سرخ رنگ کی ممانعت کا سبب کیا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-225″
سوال_ کیا سرخ رنگ كا لباس پہننا ممنوع ہے؟اور یہ ممانعت صرف مردوں کے لیے ہے یا عورتوں کے لیے بھی؟ نیز سرخ رنگ کی ممانعت کا سبب کیا ہے؟

Published Date:26-3-2019

جواب:
الحمد للہ:

*مردوں كے ليے سرخ رنگ کا لباس زيب تن كرنے كے مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے، اس ميں مختلف احاديث وارد ہيں، جن ميں كچھ احاديث سرخ لباس پہننے سے منع كرتى ہيں، اور كچھ ميں جواز پايا جاتا ہے؛ اور ان سب احاديث ميں الحمد للہ جمع اور تطبيق ممكن ہے، كيونكہ شريعت كى احاديث ميں حقيقتا كوئى تعارض نہيں، اس ليے كہ ان كا مصدر ايک ہى ہے*

اس مسئلہ كے متعلق ذيل ميں چند ايک احاديث پيش كى جاتى ہيں:

*پہلے وہ احاديث جو صرف خالص سرخ رنگ كا لباس پہننے كى ممانعت پر محمول ہيں*

📚براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
” نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں سرخ چٹائى اور ريشمى دھاگہ سے بنے ہوئے كپڑے سے منع فرمايا ”
(صحيح بخارى حديث نمبر_ 5849 )

📚علی رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سرخ كپڑے اور سونے كى انگوٹھى، اور ركوع ميں قرآن پڑھنے سے منع كيا ہے،
(سنن نسائى حديث نمبر_ 1042 )

📚عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
” نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس سے ايک شخص گزرا جس نے دو سرخ كپڑے پہن ركھے تھے، اس نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو سلام كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جواب نہ ديا ”
(سنن ترمذى حديث نمبر_2807)
(سنن ابو داود حديث نمبر_4069)
امام ترمذى كہتے ہيں: يہ حديث اس طريق سے حسن غريب ہے.
اور اہل علم كے ہاں اس حديث كا معنى يہ ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے معصفر يعنى زرد رنگ سے رنگے ہوئے كپڑے كو ناپسند كيا، اور ان كى رائے ہے كہ جو مٹيالے سرخ رنگ وغيرہ سے رنگے ہو اس ميں كوئى حرج نہيں، جبكہ اس ميں معصفر يعنى زرد رنگ نہ ہو”
اس حديث كو علامہ البانى رحمہ اللہ نے ضعيف سنن ابو داود ( 403 ) ميں اور ضعيف سنن ترمذى ( 334 ) ميں ضعيف قرار ديتے ہوئے ضعيف الاسناد كہا ہے.

📚ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ،
( سنن ابن ماجہ حديث نمبر_3601)

اور المفدم: وہ رنگ جس ميں زرد رنگ ہو جسےمعصفر كہا جاتا ہے،
اور سنن نسائى كے حاشيہ سندى ميں ہے: المفدم: زيادہ سرخ رنگ كو كہتے ہيں.
_______&_____________

اگر سرخ رنگ كسى اور رنگ كے ساتھ مخلوط(مکس) ہو تو اس كے جواز پر دلالت كرنے والى احاديث*

📚 ھلال بن عامر اپنے باپ عامر رضی اللہ عنہ سے بيان كرتے ہيں كہ:
” ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو منی میں خچر پر سرخ چادر پہنے ہوئے خطبہ ديتے ہوئے ديكھا، اور على رضى اللہ تعالى عنہ آپ كى بات آگے لوگوں تک پہنچا رہے تھے ”
(سنن ابو داود حديث نمبر_4073)
علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 767 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے،

📚براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم درميانہ قد كے تھے، ميں نےانہيں سرخ جبہ ميں ديكھا تو وہ اتنے حسين اور خوبصورت لگ رہے ميں نے آپ صلى اللہ عليہ وسلم سے خوبصورت كبھى كوئى نہيں ديكھا ”
(صحيح بخارى حديث نمبر_5848)

📚براء رضى اللہ تعالى عنہ ہى فرماتے ہيں:
” ميں نے كانوں تک زلفوں والے اور سرخ جبہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے زيادہ كوئى خوبصورت نہيں ديكھا، آپ كے بال كانوں كو لگ رہے ہوتے تھے، اور دونوں كندھوں كے درميان فاصلہ تھا نہ تو آپ چھوٹے قد والے تھے اور نہ ہى لمبے قد والے بلكہ درميانہ قد كے مالك تھے ”
(سنن ترمذى حديث نمبر_1724)
امام ترمذى كہتے ہيں اس باب ميں جابر بن سمرہ اور ابو رمثہ اور ابو جحيفہ كى احاديث ہيں، اور يہ حديث حسن صحيح ہے،.

📚براء رضى اللہ تعالى عنہ ہى بيان كرتے ہيں كہ:
” رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كانوں كى لو تک پہنچ رہے ہوتے تھے، اور ميں آپ صلى اللہ عليہ وسلم كو سرخ جبہ ميں ديكھا تو آپ سے خوبصورت كوئى چيز نہيں ديكھى ”
(سنن ابو داود حديث نمبر _4072 )
(سنن ابن ماجہ حديث نمبر_ 3599 )
علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 768 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

📚سعودی مفتی شیخ صالح المنجد رحمہ اللہ سے اس مسئلہ بارے پوچھا گیا تو انکا جواب یہ تھا کہ:

اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے اور اس ميں راجح قول ان احاديث ميں جمع اس طرح ہے:
اگر لباس ميں سرخ رنگ كے ساتھ دوسرے رنگ بھى ہوں تو جائز ہے، اور صرف خالص سرخ رنگ پہننا جائز نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا ہے. خالص سرخ رنگ مردوں كے ليے پہننے كى ممانعت آئى ہے ليكن عورتوں كے ليے نہيں، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

📚ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما جب مرد كو معصفر يعنى زرد رنگ پہنے ہوئے ديكھتے تو اسے كھينچتے اور فرماتے: اس رنگ كو عورتوں كے ليے رہنے دو ”
(اسے امام طبرى نے روايت كيا ہے.)

*اس روایت سے پتا چلا کہ عورتوں کے لیے سرخ لباس کی ممانعت نہیں ہے،*

*اور مردوں كو سرخ رنگ كا لباس پہننے سے منع كرنے كے كئى ايک اسباب بيان كيے جاتے ہيں جن ميں سے چند ايک درج ذيل ہيں:*

ـ اس ليے كہ يہ كفار كا لباس ہے.

ـ اس ليے كہ يہ عورتوں كا لباس ہے، اور عورتوں سے مشابہت اختيار كرنے سے منع كيا گيا ہے.

ـ اس ليے كہ يہ شہرت كا لباس ہے، يا پھر مروت كو ختم كر ديتا ہے، تو جہاں ہو اس سے منع كيا جائے.

اور يہ ممانعت اس كپڑے كے ساتھ مخصوص ہے جو مكمل طور پر بالكل سرخ ہو، ليكن اگر اس ميں سرخ رنگ كے علاوہ دوسرى رنگ بھى ہو سياہ يا سفيد وغيرہ تو پھر ممنوع نہيں، اس بنا پر سرخ جبہ والى احاديث كو محمول كيا جاتا ہے كہ اس ميں دوسرا رنگ بھى تھا.

📚براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم درميانہ قد كے تھے، ميں نےانہيں سرخ جبہ ميں ديكھا تو وہ اتنے حسين اور خوبصورت لگ رہے ميں نے آپ صلى اللہ عليہ وسلم سے خوبصورت كبھى كوئى نہيں ديكھا ”
(صحيح بخارى حديث نمبر_ 5848)

كيونكہ يمنى جبوں ميں غالبا سرخ رنگ يا دوسرے رنگوں كى دھارياں ہوتى ہيں،
وہ بالكل اور خالص سرخ نہيں.

📚ابن قيم رحمہ اللہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے لباس كے متعلق كہتے ہيں:

ہميں حديث بيان كى ابو وليد نے انہوں نے شعبہ سے حديث بيان كى اور وہ ابو اسحاق سے بيان كرتے ہيں وہ كہتے ہيں ميں نے براء رضى اللہ تعالى عنہ سے سنا وہ كہہ رہے تھے:

” رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم درميانہ قد كے تھے، ميں نےانہيں سرخ جوڑے ميں ديكھا تو وہ اتنے حسين اور خوبصورت لگ رہے ميں نے آپ صلى اللہ عليہ وسلم سے خوبصورت كبھى كوئى نہيں ديكھا ”

اور حلۃ اوپر اوڑھنے اور نيچے باندھنى والى دو چادروں كو كہتے ہيں..

جس كا يہ گمان ہے كہ وہ خالص سرخ رنگ كى تھيں اس ميں كوئى دوسرا رنگ نہيں تھا تو اس كو غلطى لگى ہے، بلكہ سرخ جوڑا وہ دو يمنى چادريں تھيں جو سرخ اور سياہ رنگ كے دھاگے سے تيار كى گئى تھيں جس طرح سارى يمنى چادريں تيار ہوتى ہے…

وگرنہ خالص اور مكمل سرخ رنگ كو ممنوع ہے، بلكہ اس كى شديد ممانعت آئى ہے، صحيح بخارى ميں ہے كہ:
” نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ريشمى چادروں سے منع فرمايا ”
اور سرخ رنگ كے كپڑے وغيرہ پہننے كے جواز ميں كچھ اختلاف ہے، ليكن اس كى كراہت تو بہت زيادہ ہے … ”
(ديكھيں: زاد المعاد ( 1ج /ص 139 )

📚احادیث میں جو یہ بیان ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ جوڑا پہنا تو ان میں لفظ “حلۃ الحمراء” سے مراد يمن كى بنى ہوئى وہ دو چادريں ہيں جن ميں سرخ اور سياہ دھارياں تھيں، يا سبز، اور اسے سرخ اس ليے كہا گيا ہے كہ اس ميں سرخ دھارياں تھيں.
اہل علم نے اس کی تطبیق یونہی کی ہے کہ صحابی نے جو سرخ رنگ کہا تو وہ غالب پہلو کے اعتبار سے اس کو سرخ کا نام دیا ہے یعنی اس میں سرخ کے علاوہ رنگ کی بھی آمیزش تھی لیکن غالب رنگ سرخ تھا لہذا اسی سے موصوف کر دیا گیا۔اس مسئلہ ميں راجح قول ان احاديث ميں جمع اس طرح ہے:
اگر لباس ميں سرخ رنگ كے ساتھ دوسرے رنگ بھى ہوں تو جائز ہے، اور صرف خالص سرخ رنگ پہننا جائز نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا ہے.
كئى ايك اہل علم جن ميں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شامل ہيں يہى كہتے ہيں.
(ديكھيں: فتح البارى شرح حديث نمبر ( 5400 )

*ان تمام احادیث اور اقوال سے یہ بات سمجھ آئی کہ خالص سرخ رنگ کے لباس مردوں کے لیے ممنوع ہیں ،ہاں البتہ اس سرخ رنگ میں کوئی اور رنگ مکس ہو تو پھر وہ لباس جائز ہے*

( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

(( مردوں کے لیے زعفرانی رنگ کا استعمال کیسا ہے؟ )))
دیکھیں سلسلہ نمبر_38

((کیا مسلمان کے لیے کالا رنگ کا لباس پہننا یا کالا کپڑا استعمال کرنا ناجائز ہے؟))
دیکھیں سلسلہ نمبر-84

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں