247

کیا ایک رات میں قرآن ختم کرنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-14”
سوال_ کیا ایک رات میں قرآن ختم کرنا جائز ہے؟

Published Date: 22-11-2017

جواب۔۔!!
الحمدللہ۔۔۔!!

*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحیح احادیث کی رو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی بھی ایک رات میں قرآن مجید ختم نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی قراءت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کبھی زیادہ قرآن پڑھتے اورکبھی کم۔ اور آپ ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھا کرتے تھے،*

چند ایک احادیث ملاحظہ ہوں۔

📚ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ،
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر (سورہ فاتحہ٬( قرآن) پڑھتے تھے،
آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے۔۔۔۔۔!( آخر تک)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر، 2927)

📚حذیفہ بن یمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ:
“صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ : يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ، فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا ؛ إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ : ” سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ “، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ : ” سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ “، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ، ”
“میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نماز پڑھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورہ بقرہ شروع کی۔میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سو آیت پر رکوع کریں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جاری رہے میں نے سوچا یہ سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے،مگر  آپ جاری رہے۔میں نے کہا شاید یہ پڑھ کر رکوع کریں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورہ نساء شروع کی،اسےپڑھا۔پھر آل عمران شروع کردی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے پڑھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے جب ایسی آیت کے پاس سے  گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ تسبیح کرتے اور جب سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ پکڑتے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے رکوع کیا۔”
(صحیح مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین،حدیث نمبر-772)
(مسند احمد حدیث نمبر-23261)
(سنن  ابن ماجہ حدیث نمبر-888)
(سنن ابوداود حدیث نمبر-871)

📚حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ:
“صَلَّيْتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فَأَطَالَ حتى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قِيلَ: وما هَمَمْتَ بِهِ؟ قال: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ”
“میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے قراءت لمبی کر دی۔یہاں تک کہ میں نے غلط معاملے کاارادہ کرلیا۔آپ سے کہا گیا:آپ نے کیا ارادہ کیا:کہنے لگے۔میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو چھوڑ دوں۔”
(صحیح مسلم کتاب المسافرین،حدیث نمبر-773)
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1135)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1418)

📚حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   فرماتی ہیں:
“وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ”
“میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک  رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ  | بَابٌ : جَامِعُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ حدیث نمبر-746)
(المغنی لابن قدامہ 2/612)

📚عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
  صُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، قَالَ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ : صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، فَقَالَ : اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ ، فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ فِي ثَلَاثٍ
مہینہ میں صرف تین دن کے روزے رکھا کر۔
انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ اسی طرح وہ برابر کہتے رہے ( کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ مہینہ میں ایک قرآن مجید ختم کیا کر۔ انہوں نے اس پر بھی کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اور برابر یہی کہتے رہے۔۔۔
یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن میں ( ایک قرآن ختم کیا کر )،
(صحیح بخاری، کتاب الصیام، 1978)

📚سنن ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
“لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ ”
“جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے نہیں سمجھا۔”
(سنن ابوداود کتاب الصلوٰۃ باب تحزیب القرآن-حدیث نمبر-1394)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-2949)

📚عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ
اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ، قُلْتُ : إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، حَتَّى قَالَ : فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ
ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سات راتوں میں ختم کیا کرو اس سے زیادہ مت پڑھ۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-5054)

📚عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چالیس دن میں قرآن پورا پڑھ لیا کرو“
امام ترمذی کہتے ہیں:
بعضوں نے معمر سے، اور معمر نے سماک بن فضل کے واسطہ سے وہب بن منہہ سے روایت کی ہے،
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کو حکم دیا کہ وہ قرآن چالیس دن میں پڑھا کریں۔
(سنن ترمذی،حدیث نمبر- 2947)

📚اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خود بھی تین دنوں سے کم میں قرآن ختم نہیں کرتے تھے:
(كانَ صلي الله عليه وسلم لا يَقْرَأُ القرآنَ في أقلّ من ثلاثٍ)
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  تین دن سے کم میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔”
(ابن سعد ١/٣٧٦ كتاب اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم لابی شیخ(281) بحوالہ صفۃ صلاۃ النبی للشیخ الالبانی /120)

📚سنن سعید بن منصور میں بسند صحیح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
“اقرءوا القرآن في سبع ولا تقرءوه في أقل من ثلاث”
“قرآن مجید کو سات دنوں میں پڑھو اور تین سے کم میں نہ پڑھو۔”
(فتح الباری 9/97)

مزید ایک روایت میں ہے کہ

📚عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
” جس نے تین دن سے کم میں قرآن مجید کو ختم کیا وہ راجز (رجزیہ اشعارپڑھنے والا) ہے”
(سنن سعیدبن منصور:447،
(مصنف عبدالرزاق :3/353،)
📒ہیثمی فرماتےہیں کہ :
” اسے طرانی نے کبیرمیں روایت کیاہے اوراس کےرجال صحیح کے رجال ہیں ”
(مجمع الزوائد:2/269)

*مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ایک رات میں قرآن مجید ختم نہیں کرتےتھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تین راتوں سے کم میں قرآن مکمل نہیں کرتے تھے۔اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو بھی فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے سمجھا نہیں۔لہذا مختار مذہب یہی ہے کہ تین دنوں سے کم میں قرآن نہ پڑھاجائے*

📒فتح الباری میں ہے کہ:
“وهذا اختيار أحمد وأبي عبيد وإسحاق بن راهويه وغيرهم”
“یہ مذہب امام احمد،امام ابوعبید اور امام اسحاق بن راہویہ  رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔”
(فتح الباری-ج9/ص97)

📚مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری  رحمۃ اللہ علیہ  تحفۃ الاحوذی 4/63 میں رقم طراز ہیں:
وَالْمُخْتَارُ عِنْدِي مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَغَيْرُهُمَا وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ”
“میرے نزدیک مختار مذہب وہ ہے جسے امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ وغیرہما نے اختیار کیا ہے۔”

📒نوٹ_
یاد رہے کہ سلف صالحین  رحمۃ اللہ علیہ  میں سے کئی افراد سے تین دنوں سے کم میں قرآن پڑھنے کا ذکر کتب احادیث میں ملتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا عمل اور حکم سب پر فائق ہےممکن ہے ان اسلاف کو یہ معلوم نہ ہو۔
اس لیے  ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسوہ کو سامنے رکھنا چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے بہتر عمل کسی کا نہیں ہوسکتا ہے۔اس لیے ہمارے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ قرآن مجید کو تین دنوں سے کم میں نہ ختم کیاجائے۔

*ان تمام احادیث مبارکہ سے یہ بات سمجھ آئی کہ قرآن کو سمجھ کر تسلی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے*

*کچھ لوگ رمضان یا غیر رمضان میں شبینہ کے نام سے ایک رات میں قرآن ختم کرتے ہیں، اور کچھ بزرگ حضرات بھی زیر زبر کا خیال کیے بنا ایک دن میں قرآن ختم کر دیتے ہیں، انکا یہ عمل درست نہیں*

*کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہ کو  کم سے کم  تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت دی*

*ایک دن یا تین کی بجائے چالیس دن لگا لیں لیکن پڑھیں آرام سکون اور سمجھ کے ساتھ،اسکا زیادہ فائدہ ہو گا ان شاءاللہ۔۔!!*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں