838

سوال-كيا ميت کی مونچھیں،ناخن تراشنا یا زیر ناف بال مونڈنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-213”
سوال-كيا ميت کی مونچھیں،ناخن تراشنا یا زیر ناف بال مونڈنا جائز ہے؟

Published Date: 26-2-2019

جواب:
الحمد للہ:

*شریعت مطہرہ نے کسی بھی مرد یا عورت کو ایک دوسرے کا ستر( ناف سے گھٹنوں تک کا شرمگاہ والا حصہ جو پوشیدہ ہوتا) دیکھنے سے منع فرمایا ہے، سوائے بیوی اور لونڈی کے*

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عام ہیں

📚ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے ،
اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-4018)
(صحیح مسلم، حدیث نمبر-338)
۔
📚معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے کہا: اللہ کے نبی!
ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری؟
آپ نے فرمایا: ”تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ“، میں نے پھر کہا: جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں ( تو ہم کیا اور کیسے کریں؟ )
آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے“،
میں نے پھر کہا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-2794)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-4017) صحیح

*ان واضح احادیث میں زندہ و مردہ کی کوئی تخصیص نہیں،جس طرح زندہ کی شرمگاہ دیکھنا درست نہیں اسی طرح مردہ کی شرمگاہ دیکھنا بھی درست نہیں*

📚حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مَيِّتٍ،
اپنی ران ننگی مت کرو ، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3140)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1460)
یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، لیکن معنی کے لحاظ سے درست ہے، اسی لیے
(محدث شعيب الأرناؤوط (١٤٣٨ هـ) نے تخريج سنن أبي داود ٣١٤٠ • میں اس روایت کو حسن لغيره کہا ہے)

*کیونکہ دوسری کئی ایک صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہوتا ہے،لہذا ناف سے گھٹنے تک کا حصہ نا کسی کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے اور نا ہی کسی دوسرے کا دیکھنا چاہیے، اور یہ حکم زندہ مردہ دونوں کے لیے برابر ہے*

*اور یہ بھی کہا جائے گا کہ اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی بنا پر یا سستی و کاہلی کی وجہ سے زیرناف بال نہ مونڈھ سکا اور اسے موت آ گئی تو زندہ لوگ اس کے زیرناف بال نہیں مونڈھیں گے، کیونکہ اس عمل کی کوئی شرعی دلیل نہیں، نیز یہ عمل زندہ لوگوں کے لیے باعث ضرر ہے، جبکہ میت کو اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں،*

جیسا کہ :
📚 امام ابن منذر رحمہ اللہ (242-391 ھ)
لکھتے ہیں :
الوقوف عن أخذ ذلك أحب إلي، لأنه المأمور بأخذ ذلك من نفسه الحي، فإذا مات انقطع الامر.
”میت کے زیرناف بالوں کو مونڈھنے سے باز رہنا ہی میرے نزدیک بہتر ہے کہ کیونکہ مرنے والے کو اپنی زندگی میں اس کام کا حکم دیا گیا تھا۔ جب اسے موت آ گئی تو یہ معاملہ ختم ہو گیا۔“
(الأوسط فى السنن والإجماع والاختلاف : 329/5)

📚 امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ :
انهٔ كان يکرهٔ أن يوخذ من عانة أؤ ظفر الميت.
’’ وہ میت کے زیر ناف بالوں کو مونڈھنا اور اس کے ناخنوں کو کاٹنا مکروہ جانتے تھے۔“
(مصنف ابن أبى شيبة : 246، 245/3، وسنده صحيح)

*زیرناف بالوں کی طرح میت کے ناخن اتارنا بھی غیر ضروری عمل ہے*

📚 امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا :
تقلم اظفار الميت
’’ میت کے ناخن اتار دیے جائیں گے۔
امام شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے یہ بات حماد رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے اس کا رد کیا اور فرمایا :
أرأيت إن كان أقلف، أيختتن؟
’’ مجھے بتاؤ کہ اگر وہ مختون نہ ہو تو کیا اس کا ختنہ بھی کیا جائے گا ؟
(مصنف ابن أبى شيبة : 246/3، وسنده صحيح)

*یعنی یہ سارے کام زندگی سے متعلق ہیں،اگر اس نے زندگی میں سستی کاہلی کی ہے تو اس کا گناہ لکھ دیا گیا ہے اور اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر ایسا نہ کر سکا تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔ اب موت کے بعد کی صفائی پر کوئی جزا و سز انہیں*

📚 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :
من الناس من يقول ذلك، ومنهم من يقول : إذا كان أقلف أيختتن؟، يعني : لا يفعل.
’’ بعض لوگ کہتے ہیں میت کے ناخن کاٹ دیے جائیں جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ مختون ہو تو کیا اس کا ختنہ کیا جائے گا ؟
یعنی ایسا کرنا درست نہیں۔“
(مسائل الامام احمد لأبي داؤد: 246/3)

*یعنی جب غیر مختون کا موت کے بعد ختنہ کرنے کا کوئی بھی قائل نہیں تو ناخن اور بال کاٹنا بھی درست نہیں*

📚سعودی مفتی شیخ صالح المنجد کہتے ہیں،
ميت كى مونچھيں اور ناخن كاٹنے مستحب ہيں، ليكن زيرناف بال صاف كرنے اور بغلوں كے بال اكھاڑنے كے متعلق شرعى دليل كا مجھے علم نہيں ہے، اولى يہى ہے كہ اسے ترك كر ديا جائے، كيونكہ يہ چيز مخفى ہے اور مونچھوں اور ناخنوں كى طرح ظاہر نہيں.

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے يہ بھى سوال كيا گيا كہ:

كيا ميت كے ناخن يا اس كى مونچھيں كاٹى جائيں گى؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
اس كى كوئى دليل نہيں ہے، اور اگر اسے كاٹا جائے تو اس ميں حرج بھى كوئى نہيں، بعض علماء كرام نے ناخن اور مونچھيں كاٹنا تو بيان كيا ہے، ليكن ميت كے زيرناف بال مونڈنا مشروع نہيں كيونكہ اس كى كوئى دليل نہيں ملتى
(ديكھيں: كتاب مجموع فتاوى ومقالات متنوعۃ لسماحۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 13 / 114)

*نوٹ*
🚫ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا۔
(مصنف ابن أبى شيبة : 246/3)
لیکن اس کی سند ’’مرسل“ ہونے کی بنا پر ’’ ضعیف“ اور ناقابل حجت ہے۔

*خلاصہ سلسلہ*

*ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوا کہ میت کے زیر ناف بال مونڈنا یا اسکے ستر کو بنا امر مجبوری دیکھنا جائز نہیں، ہاں البتہ اگر کوئی میت کی موچھیں ،یا ناخن وغیرہ کاٹ دے تو کوئی حرج نہیں لیکن یہ بھی ایک غیر ضروری عمل ہے جسکی شریعت میں کوئی دلیل نہیں*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

ناخن، بغلوں کے بال اور زیر ناف بالوں کا کیا حکم ہے؟ کیا چالیس دن سے زیادہ زیر ناف بال چھوڑنے والے کی نماز نہیں ہوتی؟ نیز کیا عورت ریزر وغیرہ سے زیر ناف بال صاف کر سکتی ہے؟
(( دیکھیں سلسلہ نمبر-58 ))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں