614

سوال_کیا کسی مسلمان مرد/عورت کا کسی کافر/مشرک سے نکاح کرنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-212”
سوال_کیا کسی مسلمان مرد/عورت کا کسی کافر/مشرک سے نکاح کرنا جائز ہے؟

Published Date:24-2-2019

جواب:
الحمدللہ:

*کسی بھی مسلمان عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیرمسلم اور مشرک مرد سے شادی کرے چاہے مرد کوئی بھی دین رکھتا ہو*

📚اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ‌ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ اُولٰٓئِكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ ۖۚ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ
اورمشرک مردوں کے نکاح میں اپنی عورتیں نہ دو جب تک کہ وہ ایمان نہیں لاتے ، ایک ایمان والا مومن غلام کسی بھی آزاد مشرک سے بہتر ہے، چاہے مشرک تمہیں اچھا ہی کیوں نہ لگے ، یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالی جنت اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے
(سورہ البقرۃ،آئیت نمبر_ 221)

*اوراس لیے بھی کہ اسلام بلند ہے اوراس پر کوئی اور دین بلند نہيں ہوسکتا جیسا کہ دین اسلام میں یہ مقرر ہے اوریہ اٹل حقیقت ہے*

اور یہ تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ مرد طاقتور اور قوی ہے اورخاندان پر اسی کا رعب اور دبدبہ ہوتا ہے، بیوی اور اولاد پر اسی کا حکم چلتا ہے ، تواس میں کوئي حکمت نہيں کہ کوئي مسلمان عورت کسی کافر مرد سے شادی کرے جو اس مسلمان عورت اوراس کی اولاد پر حکم چلاتا پھرے ، اور بات یہيں تک نہیں رہے گی بلکہ اس سے بھی خطرناک حد تک جاپہنچے گی جس میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ کافر شوہر ایک مسلمان عورت اور اس کی اولاد کو دین اسلام سے ہی منحرف کردے اوراپنی اولاد کو بھی کفر کی تربیت دے،

*لہذا کسی مسلمان عورت کا کسی بھی غیر مسلم مرد سے نکاح جائز نہیں، جب تک کہ وہ اسلام نا قبول کر لے*

_________&_____

*مسلمان مردوں کا غیر مسلموں عورتوں میں سے صرف اہل کتاب (یعنی عیسائیوں، یہودیوں) کی پاکدامن عورتوں سے نکاح جائز ہے*

اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں، خواہ وہ ذمی ہوں یا حربی، سے نکاح جائز ہونے کے دلائل یہ ہیں،

📚اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ}
(سورہ المائدۃ : 5)
’’تم سے پہلے اہل کتاب کی پاک دامن خواتین (تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں)،بشرطیکہ تم عقد ِزواج کی نیت سے ان کا مہر ادا کر چکے ہو،اعلانیہ زنا،یا پوشیدہ طور پر آشنائی کی نیت نہ ہو۔‘‘

📚ترجمانِ قرآن،
سیدنا عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْـآیَۃُ :
{وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}
قَالَ : فَحَجَزَ النَّاسُ عَنْہُنَّ، حَتّٰی نَزَلَتِ الَّتِي بَعْدَہَا : {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ}، فَنَکَحَ النَّاسُ (مِنْ) نِّسَائِ أَہْلِ الْکِتَابِ ۔
’’جب یہ آیت نازل ہوئی:
{وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}
(البقرۃ 2 : 221)
(تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو،جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں)
،تو لوگ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے سے رُک گئے،یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوگئی:
{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ} (المائدۃ : 5)
(تم سے پہلے اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے نکاح جائز ہے)
،تولوگوں نے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا شروع کر دیا۔‘‘
(تفسیر ابن أبي حاتم، نقلًا عن تفسیر ابن کثیر : 42/3، وسندہ حسنٌ، ت : سلامۃ)

*اھل کتاب کون ہیں؟*

یاد رہے کہ اہل کتاب سے مراد صرف اہل تورات و اہل انجیل ہیں،

📚جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
{اَنْ تَقُوْلُوْا اِنَّمَا اُنْزِلَ الْکِتَابُ عَلٰی طَائِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا}
(سورہ الأنعام : 156)
’’(ہم نے قرآن اس لیے نازل کیا ہے)کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر نازل کی گئی تھی۔‘‘

*لہٰذا عیسائیوں،یہودیوں کے علاوہ مجوسیوں،ہندوؤں،سکھوں،بدھ متوں اور دیگر کافر اقوام کی پاک عورتوں سے بھی نکاح قطعاً جائز نہیں ہے،الا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائیں*

*صحابہ کرام کا اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح :*

📚مشہور سنی مفسر و محدث، علامہ،حافظ،ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَقَدْ تَّزَوَّجَ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الصَّحَابَۃِ مِنْ نِّسَائِ النَّصَارٰی وَلَمْ یَرَوْا بِذٰلِکَ بَأْسًا، أَخْذًا بِہٰذِہِ الْـآیَۃِ الْکَرِیمَۃِ : {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ
الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ}، فَجَعَلُوا ہٰذِہٖ مُخَصِّصَۃً لِّلْـآیَۃِ الَّتِي فِي الْبَقَرَۃِ : {وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}، إِنْ قِیلَ بِدُخُولِ الْکِتَابِیَّاتِ فِي عُمُومِہَا، وَإِلَّا فَلَا مُعَارَضَۃَ بَیْنَہَا وَبَیْنَہَا؛ لِـأَنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ یُفْصَلُ فِي ذِکْرِہِمْ عَنِ الْمُشْرِکِینَ فِي غَیْرِ مَوْضِعٍ، کَمَا قَالَ تَعَالٰی : {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ} ( البینۃ 98 : 1)، وَکَقَوْلِہٖ : {وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ وَالْاُمِّیِّیْنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا} (آل عمران 3 : 20) ۔
’’صحابہ کرام کی ایک جماعت نے عیسائی عورتوں سے نکاح کیے ہیں اور اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا۔اگر اہل کتاب کی عورتوں کو سورہ بقرہ کی آیت:{وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}(مشرک عورتوں سے نکاح نہ کروجب تک وہ ایمان نہ لے آئیں)کے عموم میں داخل سمجھا جائے تو صحابہ کرام نے انہیں اس آیت سے خاص سمجھا:{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ} (تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی،ان کی پاک دامن عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو)۔اگر اہل کتاب کی عورتوں کو سورۂ بقرہ والی آیت کے عموم میں داخل نہ سمجھا جائے تودونوں آیات میں کوئی معارضہ ہے ہی نہیں۔کیوں کہ اور بھی بہت سی آیات میں عام مشرکین سے اہل کتاب کو الگ بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:{لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ}(البیّنۃ 98 : 1)(جولوگ کافر ہیں اہل کتاب میں سے اور
مشرکین میں سے وہ[کفر سے] باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان
کے پاس کھلی دلیل(نہ)آتی۔)
نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ وَالْاُمِّیِّیْنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا} (آل عمران 3 : 20)
(اہل کتاب اور اَن پڑھ لوگوں سے کہو کہ تم بھی (اللہ کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو؟اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پا لیں گے)۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر : 42/3، ت : سلامۃ)

📚امام اہل سنت،ابو عبداللہ،احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالیٰ
{وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}
کے بارے میں فرماتے ہیں:
مُشْرِکَاتُ الْعَرَبِ الَّذِینَ یَعْبُدُونَ الْـاَوْثَانَ ۔
’’اس سے مراد مشرکین عرب کی عورتیں تھیں جو کہ بتوں کے پجاری تھے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر : 584/1)

📚سیدنا علی بن ابو طالب رض اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
تَزَوَّجَ طَلْحَۃُ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ یَہُودِیَّۃً ۔
’’سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔‘‘
(السنن الکبرٰی للبیہقي:172/7، وسندہٗ حسنٌ)

📚عبداللہ بن عبدالرحمان انصاری اشہلی تابعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
إِنَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ نَکَحَ یَہُودِیَّۃً ۔
’’سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔‘‘
(السنن الکبرٰی للبیہقي : 172/7، وسندہٗ حسنٌ)

📚ابو وائل شقیق بن سلمہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
تَزَوَّجَ حُذَیْفَۃُ یَہُودِیَّۃً، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : خَلِّ سَبِیلَہَا، فَکَتَبَ إِلَیْہِ : أَتَزْعُمُ أَنَّہَا حَرَامٌ، فَاُخَلَِّيَ سَبِیلَہَا؟ فَقَالَ : لَا أَزْعُمُ أَنَّہَا حَرَامٌ، وَلٰکِنْ أَخَافُ أَنْ تَعَاطَوُا الْمُومِسَاتِ مِنْہُنَّ ۔
’’سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا،توسیدنا عمررضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا کہ آپ اس سے علیحدگی اختیار کر لیں۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھاـ:کیا آپ اسے حرام خیال کرتے ہیں،اس لیے علیحدگی اختیار کر لوں؟ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے جواب دیا:میں اسے حرام تو خیال نہیں کرتا،البتہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں تم بدکاریہودی عورتوں سے نکاح نہ کر لو۔‘‘
(تفسیر الطبري : 366/4، مصنّف ابن أبي شیبۃ : 157/4/2، وسندہٗ صحیحٌ)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘کہا ہے۔

📚امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَہٰذَا مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی طَرِیقِ التَّنْزِیہِ وَالْکَرَاہَۃِ ۔
’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام تنزیہی اور کراہت کی بنا پر تھا۔‘‘
(السنن الکبرٰی : 280/7، دار الکتب العلمیّۃ، بیروت، 2003ئ)

📚حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِیرٍ رَّحِمَہُ اللّٰہُ، بَعْدَ حِکَایَتِہِ الْإِجْمَاعَ عَلٰی إِبَاحَۃِ تَزْوِیجِ الْکِتَابِیَّاتِ : وَإِنَّمَا کَرِہَ عُمَرُ ذٰلِکَ، لِئَلَّا یَزْہَدَ النَّاسُ فِي الْمُسَلَّمَاتِ، أَوْ لِغَیْرِ ذٰلِکَ مِنَ الْمَعَانِي ۔
’’امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ نے کتابیہ کے ساتھ نکاح مباح ہونے پر اجماع
نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اسے صرف ناپسند کیا ہے،تاکہ لوگ مسلمان عورتوں کی طرف بے رغبتی کا مظاہرہ نہ کریں،یا اس کے علاوہ کوئی اور مصلحت بھی ہو سکتی ہے۔
‘‘(تفسیر ابن کثیر : 583/1)

*ضروری وضاحت*

📚سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں سمجھتے تھے۔
(مصنّف ابن أبي شیبۃ :157/4/2، وسندہٗ حسنٌ)

دراصل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت والی آیت کو عام سمجھتے تھے، اہل کتاب کی عورتوں کو اس سے خاص نہیں کرتے تھے، جبکہ باقی تمام صحابہ کرام اس آیت سے اہل کتاب کی عورتوں کو مستثنیٰ قرار دیتے تھے اور یہی بات عین صواب ہے۔

📚امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ اہل کتاب کی حربی عورتوں سے نکاح ناجائز سمجھتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 158/4/2، وسندہٗ صحیحٌ)

لیکن حربی یا غیرحربی کی کوئی قید نہ کتاب و سنت میں مذکور ہے،نہ ہی صحابہ کرام نے بیان کی ہے،

*ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ مسلمان مردوں کے لیے اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے نکاح جائز ہے،خواہ حربی ہوں یا ذمی*

“ذمی”
سے مراد وہ غیر مسلم افراد ہیں جوکسی اسلامی ملک میں اس ملک کے قوانین کی پاسداری کاعہد کرکے وہاں سکونت اختیار کریں۔یہ افراد ”ذمی”کہلاتے ہیں۔

“حربی”
سے مراد وہ کافر ہیں جن سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہ ہو

*تنبیہ*
اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کی اجازت تو اللہ نے دی ہے مگر آیت کریمہ کے آخری میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے

📚 :”وَمَن یَکْفُرْ بِالِایْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃ مِنَ الْخَاسِرِیْن” ”اور جو ایمان کے ساتھ کفر کرے’اس کے عمل برباد ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا”۔ ( سورہ البقرہ،221 )
یعنی اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز تو ہے مگر مستحسن عمل نہیں ،اس سے یہ تنبیہ مقصود ہے کہ اگر ایسی اہل کتاب عورت سے نکاح کرنے میں ایمان کے ضیاع کا اندیشہ ہو تو بہت ہی خسارہ کا سودا ہوگا اور آج کل اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں ایمان کو جو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں وہ محتاج بیاں نہیں’یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ ایمان کا بچانا فرض ہے لہذا ایک جائز کام کیلئے فرض کو خطر ے میں نہیں ڈالاجاسکتا۔اس لئے اس کا جواز بھی اس وقت تک ناقابل عمل رہے گاجب تک کہ مذکورہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں۔

*کیا اہل کتاب مشرک نہیں؟؟*

رہا مسئلہ کہ اہل کتاب (یہود ونصاری) کفار ومشرکین کے زمرے میں شامل ہیں یا نہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی کفار ومشرکین میں سے ہیں،

📚 ارشاد باری تعالی ہے:
”وَقَالَتِ الْیَہُودُ عُزَیْْر ابْنُ اللّہِ وَقَالَتْ النَّصَارَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّہِ ذَلِکَ قَوْلُہُم بِافْوَاہِہِمْ یُضَاہِؤُونَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَہُمُ اللّہُ انَّی یُؤْفَکُونَ’ اتَّخَذُواْ احْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ ارْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا امِرُواْ ِلاَّ لِیَعْبُدُواْ ِلَہاً وَاحِداً لاَّ ِلَہَ ِلاَّ ہُوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُون”
”یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے ‘ یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے ‘اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے’اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے ”( سورہ توبہ، 30٫31)

*سوال یہ ہے کہ اگر اہل کتاب کفار و مشرکین میں سے ہے تو پھر ان کی عورتوں سے نکاح کیوں کر جائز ہے؟*

📚جبکہ اللہ تعالی نے مشرکہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے ارشاد باری تعالی ہے :”
وَلاَ تَنکِحُواْ الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلامَۃ مُّؤْمِنَۃ خَیْْر مِّن مُّشْرِکَۃ وَلَوْ اعْجَبَتْکُم”
”اور شرک کرنے والی عورتوں سے تا وقتیکہ وہ ایمان نہ لائیں تم نکاح نہ کرو’ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے
”(سورہ بقرہ:221)

تو اسکی وضاحت اوپر کر چکے ہیں کہ اس آئیت سے مراد عرب کی مشرک عورتیں تھیں،
جیسا کہ
📚امام اہل سنت،ابو عبداللہ،احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالیٰ
{وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}
کے بارے میں فرماتے ہیں:
مُشْرِکَاتُ الْعَرَبِ الَّذِینَ یَعْبُدُونَ الْـاَوْثَانَ ۔
’’اس سے مراد مشرکین عرب کی عورتیں تھیں جو کہ بتوں کے پجاری تھے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر : 584/1)

واضح رہے کہ آیت کریمہ میں مشرکہ کی دو تفاسیر بیان ہوئی ہیں:

١۔ کچھ علماء کے ہاں اس آئیت سے عام مشرکہ عورتیں مراد ہیں’ (اس میں اہل کتاب بھی شامل ہے)

٢۔ کچھ کے ہاں اس آئیت سے بت پرست عورتیں مراد ہیں۔(یہ قول سعید بن حبیر ‘نخعی اور قتادہ رحمہم اللہ کا ہے )

پہلے قول کی صورت میں سورہ توبہ کی آیت کریمہ کے عموم (شرک کرنے والی عورتوں) سے اہل کتاب کی عورتوں کو اللہ نے چند شرائط کے ساتھ خاص کردیا ہے،

دوسرے قول کے اعتبار سے دونوں آیتوں میں الگ الگ مسئلہ بیان کیا گیا ہے، یعنی بت پرست مشرک عورتوں سے نکاح منع ہے مگر اہل کتاب کی مشرک عورتوں سے نکاح منع نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اہل کتاب کا شرک بیان کرنے کے بعد انکی پاکدامن عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے،

*خلاصہ یہ کہ مسلمان کے لیے کسی ہندو یا بت پرست، کمیونسٹ یا آتش پرست مشرکہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے،اس میں حکمت یہ ہے کہ بت پرست، دہریے اور آتش پرست کسی آسمانی تعلیم کو نہ مانتے ہیں نہ اس کے پابند ہیں، جب کہ اہل کتاب عورتوں کو ان کی کتاب کے حوالے سے توحید و رسالت کی دعوت دی جاسکتی ہے،*

📚 جیسا کہ فرمایا :
(قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ) [ آل عمران : ٦٤ ]
” کہہ دے اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ “

اور مرد کے عورت پر غالب ہونے کی وجہ سے ان کے توحید قبول کرنے کی بھی قوی امید ہے،

*اس سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب کی عورتوں سے جو شرک کی مرتکب ہوں، نکاح جائز ہے تو مسلمان عورتیں، جو شرک کرتی ہوں، ان سے بھی نکاح جائز ہے۔ کیونکہ وہ قرآن و حدیث کو مانتی ہیں اور انھیں اس کے حوالے سے توحید و سنت کا قائل کیا جاسکتا ہے*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌺کیا گھر سے بھاگ کر یا والدین کی اجازت کے بنا کورٹ میرج جائز ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-4))

🌺کسی زانی مرد یا زانی عورت سے نکاح کا کیا حکم ہے؟ کیا زنا کرنے والوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-106))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں