312

اذان سن کر کیا پڑھنا چاہیے؟ اور اذان کے بعد کلمہ پڑھنا یا کلمہ مکمل کرنا کیسا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-13”
سوال_اذان سن کر کیا پڑھنا چاہیے؟ اور کیا اذان کے بعد کلمہ پڑھنا یا کلمہ مکمل کرنا کسی حدیث سے ثابت ہے؟

Published Date:21-11-2017

جواب۔۔۔!
الحمدللہ۔۔۔۔!!!

*اذان سن کر اذان کا جواب دینا چاہیے،کہ جیسے مؤذن کہے اسکے پیچھے وہی کلمات دہرائیں،اور اذان کے بعد درود ابراہیمی اور مسنون دعائیں پڑھنی چاہیے،اس عمل کی بہت زیادہ فضیلت ہے،*

📚حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ،
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ “.
’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے،(یعنی اذان والے کلمات اسکے پیچھے دہراؤ)  پھر مجھ پر درود(ابراہیمی) بھیجو ،
جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو،
(دعائے وسیلہ جو اذان کے بعد پڑھی جاتی وہ دعا پڑھے) کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ،
چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم،کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر،384)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-523)

📚حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌سے روایت ہے : رسول اللہﷺ نے فرمایا :
إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ “.
جب مؤذن الله أكبر ، الله أكبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک الله أكبر الله أكبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) الله أكبر الله أكبر کہے،
پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے,
تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
(صحیح مسلم،حدیث نمبر،385)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-527)

📚سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ :
جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا:

«وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا،»
”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی الله علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی الله علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں“

غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ
تو اس کے ( صغیرہ ) گناہ بخش دیے جائیں گے
(صحیح مسلم،حدیث نمبر،386)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-525)
(سنن ترمذی حدیث نمبر- 210)

📚حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا,جس نے اذان سن کر یہ کلمات کہے،
” اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَوَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ**
❞اے اللہ اس کامل دعوت اور قائم نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقام محمود پر پہنچا جس کا تو نےان سے وعدہ کیا ہے۔ یقینا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔❝

تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہو جائے گی،
(صحیح بخاری: حدیث نمبر-614)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-211)

📒دعا کے آخر میں!
*إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ*
(یہ الفاظ سنن الکبری للبیہقی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے:1933)

_______&________

📒ان تمام احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ جب مؤذن اذان کہے تو سننے والا اسی طرح اسکا جواب  دے، جس طرح مؤذن کہتا ہے، اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کی جگہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے گا،

📒اور اذان کا جواب دینے کے بعد وہ یہ الفاظ کہے گا،
وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا

📒اسکے بعد درود ابراہیمی،

📒 اور پھر یہ دعاء وسیلہ پڑھے گا،
” اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَوَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

*اذان کے بعد کلمہ طیبہ پورا کرنا یا کلمہ طیبہ پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں،*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں