280

سوال_اسلام کا تصور محبت کیا ہے؟ نیز ویلنٹائن ڈے Velentien’s Day کی شرعی حیثیت بیان کریں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-207”
سوال_اسلام کا تصور محبت کیا ہے؟
نیز ویلنٹائن ڈے Velentien’s Day کی شرعی حیثیت بیان کریں؟

Published Date:12-2-2019

جواب۔۔!!
الحمدللہ۔۔۔۔!!

*اسلام پر نکتہ چینی کرنے والے یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اسلام محبت کا دشمن ہے،جب کہ یہ بات سراسر جھوٹ ہے، اسلام نا صرف محبت کی اجازت دیتا ہے بلکہ محبت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بے شمار انعامات کا ذکر بھی کرتا ہے،لیکن شرط یہ ہے کہ محبت سچی،پاک اور اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے*

آئیں اب مختصر محبت کے بارے جاننے کی کوشش کرتے ہیں،

*محبت کیا ہے؟*
محبت ایک فطری اور طاقتور جذبہ ہے،جو کبھی بھی، کسی کو بھی ، کسی سے بھی ہوسکتی ہے،

محبت دو طرح کی ہوتی ہے:
پاکیزہ محبت اور ناپاک محبت

*پاکیزہ محبت:*
پاکیزہ محبت خلوص،ایثار اور وفاداری پر قائم ہوتی ہے اور ہمیشہ پائیدار اور دائمی رہتی ہے۔ اور ہر قسم کے ذاتی مفاد، خود غرضی اور بے وفائی سے پاک ہوتی ہے۔

*ناپاک محبت:*
خبیث محبت مالی، ذاتی اور جنسی‘ رذیل مفادات، خودغرضی اور بے وفائی پر قائم ہوتی اور ہمیشہ کمزور رہتی اور جلد ختم ہوجاتی ہے،بلکہ اس کا انجام دشمنی پر ہوتا ہے۔

*اسلام کا تصورِ محبت:*
پوری کائنات میں سب سے زیادہ محبت کا داعی اور فروغِ محبت پر ابھارنے والا مذہب اگر کوئی ہے تو وہ صرف اسلام ہے‘ جس میں محبت کو ایمان کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

*اللہ کی خاطر محبت تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے*

📚ابی اُمامہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا
﴿مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ
::: جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا﴾
(سنن ابو داؤد /حدیث 4681)
، اِمام الالبانی رحمہُ نے صحیح قرار دِیا ۔

*اللہ کے لیے محبت ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ابو ذر الغِفاری رضی اللہ عنہ ُ سے فرمایا
﴿ يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ عُرَى الإِيمَانِ أَوْثَقُ
اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟﴾
ابو ذر رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا
اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا
الْمُوَالاةُ فِي اللَّهِ ، وَ المُعَادَاةُ فِي الله ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ:::
اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے نفرت کرنا﴾
(صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ /حدیث2539)
( السلسلة الصحيحة ١٧٢٨ • حسن لشواهده)

*ایک دوسرے سے محبت اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے*

📚مُعاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ
قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجَبَتْ مَحَبَّتِى لِلْمُتَحَابِّينَ فِىَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِىَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِىَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِىَّ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی
(صحیح ابن حبان /حدیث 575)
(مؤطا مالک/حدیث 1748)
(مُسند أحمد/حدیث 22680/حدیث معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث رقم 47)
(صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ/حدیث4331)

*اللہ کے لیے محبت انبیاء اور شھداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین عُمر الفارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿
إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى
:::بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے﴾
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا “”” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟”””،
تو اِرشاد فرمایا ﴿
هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ وَلاَ أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ لاَ يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلاَ يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ
:::وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے﴾
اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی
أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
بے شک اللہ کے ولیوں (دوستوں) پر نہ کوئی ڈر ہو گا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے

(سُنن ابو داؤد /حدیث3527)
/کتاب الاِجارۃ /باب42)

اِس حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مُبارک سے یہ خبر کروائی کہ اللہ کی خاطر ، صِرف اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والے اِیمان والے اللہ کے اُن ولیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قیامت والے دِن کوئی خوف اور غم نہ ہوگا اور وہ اللہ کے ہاں ایسے بلند رتبے پائیں گے کہ جنہیں دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے ،

*محبت قیامت والے دِن اللہ کی عرش کا سایہ پانے کے اسباب میں سے ہے*

📚ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا
إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلاَلِى الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِى ظِلِّى يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّى
:بے شک قیامت والے دِن اللہ کہے گا کہ میرے جلال کی وجہ (ایک دوسرے سے) مُحبت کرنے والے (اِیمان والے)کہاں ہیں ؟ آج ، اُس دِن میں جب کہ میرے (عرش کے)سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ، میں انہیں اپنے (عرش)کے سایے میں جگہ دوں گا
(صحیح مُسلم/حدیث2566_کتاب البر والصلۃ و الادب/باب12)

📚ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ کی روایت کردہ سات قسم کے لوگوں کو عرش کے سایے میں جگہ ملنے والی حدیث شریف میں ہے کہ،
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِى ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ الإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِى عِبَادَةِ رَبِّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِى الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِى اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّى أَخَافُ اللَّهَ . وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
جس دِن اللہ کے (عرش کے) سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا اُس دِن اللہ سات لوگوں کو اپنے (عرش کے) سایے میں جگہ دے گا (1)انصاف کرنےوالا حُکمران ، اور (2)وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہوئے بڑا ہو، اور (3)وہ شخص جِس کا دِل مسجدوں میں ہی لگا رہے، اور (4)وہ دو شخص جو صِرف اللہ کے لیےمُحبت کرتے ہوں اسی مُحبت میں وہ ملتے ہوں اور اِسی مُحبت میں وہ الگ ہوتے ہوں، اور (5)وہ شخص جِسے کسی رتبے اور حُسن والی عورت نے (برائی کے لیے)دعوت دی ہو اور وہ شخص(اُس عورت کی دعوت ٹُھکراتے ہوئے)کہے میں اللہ سے ڈرتا ، اور (6)وہ شخص جو اس قدر چُھپا کر صدقہ کرتا ہو کہ اُس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ ہو کہ اُس کے دائیں ہاتھ نے کیا صدقہ کیا ہے ، اور (7)وہ شخص جِس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے
(صحیح البخاری/حدیث660)
(صحیح مُسلم/ حدیث1031)

*اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں*

ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا

📚اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کا فرمان
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
:::اور اِیمان والے مرد اور اِیمان والی عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں (کہ ایک دوسرے کو)نیکی کے کاموں کا حُکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں﴾ (سُور التوبہ آیت_71)

اِیمان لانے والوں میں سے ،صِرف وہی لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل پیرانظر آتے ہیں جو ایک دوسرے سے اللہ کے لیے مُحبت کرتے ہیں ، ورنہ تو لاکھوں اِیمان والے ہیں ، أربوں مُسلمان ہیں ، کتنے ہیں جوایک دوسرے کو نیکی کی تلقین کرتے ہوں ؟ برائی اور گناہوں سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوں؟
جو ہیں ، جتنے ہیں ، وہ اِن شاء اللہ ، ایک دوسرے سے اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں میں ہو سکتے ہیں،

*ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار ررہنا*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین :::
﴿تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِى تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
:::اِیمان والوں کی مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے میں ، اور ایک دوسرے پر صِرف اِیمان کی وجہ سے رحم کرنے میں ، اور ایک دوسرے کے مددگار رہنے میں اس طرح ہے کہ جیسے کوئی ایک جِسم ہوتا ہے کہ جب اُس جِسم کا کوئی حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا ہی جِسم اُس تکلیف کی وجہ سے بخار اور بے خوابی کامیں مبتلا رہتا ہے
( صحیح بخاری،حدیث6011)
صحیح مُسلم/حدیث6751/کتاب البِر والصلۃ ولآداب)

📚نبی کائنات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے:
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے‘ جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ اور اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے‘ جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو،کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں سلام کو فروغ دو۔‘‘
(صحیح مسلم: كِتَابٌ : الْإِيمَانُ | بَابٌ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ،حدیث نمبر-54)

*پیغامِ محبت کا امین‘ دین اسلام چونکہ خود ایک پاکیزہ مذہب ہے، لہٰذا اپنے ماننے والوں کو بھی ہمیشہ اور ہر معاملے میں پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیتا اور صرف پاکیزگی کو ہی قبول کرتا ہے*

📚 سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اے لوگو!
بے شک اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔‘‘
(صحیح مسلم: كِتَابٌ : الزَّكَاةُ. | بَابٌ : قَبُولُ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ، وَتَرْبِيَتُهَا،حدیث نمبر-1014)

*اسی لئے پاکیزہ محبت صرف وہی لوگ اپناتے ہیں‘ جو اسلام جیسے پاکیزہ دین سے محبت کرتے اور خود بھی مسلمان او ر مومن ہوتے ہیں*

*ہر انسان اپنے ہی جیسے انسان سے محبت کرتا ہے:*

ابتدائے کائنات سے یہ ایک مسلمہ قاعدہ چلا آرہا ہے کہ ہر انسان دنیا میں اپنے ہی جیسے کردار کے حامل لوگوں سے محبت کرتا اور ان ہی کی رفاقت کا طالب رہتا ہے۔ جیسے : مشرک، کافر، زانی، شرابی، چور، ڈاکو، قاتل وغیرہ سب گنہگار اپنے ہی جیسے گنہگاروں سے محبت کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان اور مومن صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور دیگر مومنین سے ہی محبت کرتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ان لوگوں کو اسی ترتیب سے جمع کرتا ہے اور آخرت میں بھی ان کا انجام انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا ‘جن سے وہ دنیا میں دلی محبت کرتے ہوں گے۔

📚 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’خبیث عورتیں‘ خبیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد‘ خبیث عورتوں کے لائق ہیں۔ اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لائق ہیں۔‘‘
(سورہ النور:26) مزید دیکھئے :النور:3)

یہ تو دنیا میں ان کی اپنے ہی جیسے کرداروں سے باہمی محبت اور میل جول ہے، اسی طرح آخرت میں بھی یہ لوگ اپنے ہی جیسے کرداروں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔

📚’’اس (قیامت کے) دن لوگ (اپنے اعمال کے مطابق) مختلف ٹولیوں کی صورت میں جمع کئے جائیں گے، تاکہ انہیں انکے اعمال دکھا دیئے جائیں، پھر جس نے ایک ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی تو وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ایک ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی تو وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔‘‘
(سورہ الزلزال-آئیت نمبر8)

📚نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان: ’’(خواب میں)میرے پوچھنے پر جبریل اور میکائیل علیہ اسلام نے مجھے بتایا کہ جو منظر آپ کو دکھائے گئے ہیں ان میں سے سب سے پہلے جس شخص پر آپ کا گزر ہوا اور اس کے جبڑے، نتھنے اور آنکھیں گدی تک لوہے کے آلے سے چیری جارہی تھیں‘ یہ وہ شخص تھا جو صبح کے وقت گھر سے نکلتا تھا تو جھوٹی خبریں گھڑتا تھا‘ جو ساری دنیا میں پھیل جاتی تھیں اور دوسرے برہنہ مرد اور عورتیں جو آپ نے تنور میں جلتے ہوئے دیکھے وہ زانی مرد اور عورتیں تھیں اور تیسرا وہ شخص جو خون کی ندی میں غوطے کھارہا تھا اور جس کے منہ میں بار بار پتھر ڈالے جارہے تھے یہ وہ شخص تھا جو دنیا میں سود خور تھا۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر-1386)

📚نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’(قیامت کے دن)آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ (دنیا میں) محبت کی ہوگی۔‘‘
(صحیح بخاری: کتاب الادب، باب علامۃحب ﷲ عزوجل)

مذکورہ دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کا انجام اس کی دنیوی دوستی، محبت اور اعمال کی بنیاد پر ہوگا اور ہر ایک اپنے ہی قبیلے کے فرد کے ساتھ یاتو سخت ترین عذاب دیاجائے گا یا پھر بہترین نعمتوں میں ہوگا۔

*پاکیزہ محبت کے مستحق کون؟*

اسلامی اعتبار سے پاکیزہ محبت کی سب سے زیادہ حقدار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، پھر اللہ کے حبیب جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ اقدس اور اس کے بعد تمام اہل ایمان۔

ان محبتوں کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔

📚اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“بے شک تمہارے دوست تو صرف اللہ،
اسکا رسول(صلی اللہ علیہ و سلم) اور وہ اہل ایمان ہیں‘ جو نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ، اس کے رسول(صلی اللہ علیہ و سلم) اور اہل ایمان کو اپنا دوست بنالے‘ وہ یقین مانے کہ اللہ کا گروہ ہی غالب رہنے والا ہے۔ ‘‘
(سورہ المائدہ: 55-56)

📚نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانِ مبارک ہے:’’تم مومن کے علاوہ کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔
‘(ابو داؤد: کتاب الادب، باب من یؤمران یجالس، حدیث نمبر-4832)

’📚آدمی اپنے دوست(محبوب) کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر آدمی کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے؟‘‘
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-4833)

*دین اسلام ہر معاملہ میں اُخروی کامیابی کو اہمیت دیتا ہے، اس لحاظ سے ہر مسلمان کو کسی سے بھی محبت کرنے سے پہلے اسکے، اُخروی انجام پر غور کرنا ضروری ہے۔*

*پاکیزہ محبت ہی ذریعہ نجات ہے،اصل محبت وہی ہے جو بے غرض ہو، پرخلوص ہو اور ہمیشہ سلامت رہے۔ اور اس سے زیادہ پائیدار اور دائمی محبت اور کیا ہوسکتی ہے کہ جو نہ صرف دنیا، بلکہ آخرت میں بھی کارآمد ہو اور نجات کا ذریعہ بن جائے*

📚اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’خبردار! اللہ کے وہ دوست جو اللہ پر ایمان لائے اور پرہیزگار بن کر رہے ، ان کیلئے کسی قسم کا خوف اور غم نہیں ہوگا، ان کیلئے دنیا اور آخرت میں بھی بشارتیں ہی ہیں۔ اللہ کی باتیں کبھی نہیں بدلتیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘
(سورہ یونس:62)

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں‘ جو نہ نبی ہیں اور نہ شہداء، لیکن قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں ایسے درجات سے نوازے گا جن پر انبیاء اور شہداء بھی فخر کریں گے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ‘ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم! وہ کون لوگ ہونگے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہونگے جو بغیر کسی رشتہ یا مالی لین دین کے محض اللہ کی رحمت(رضا) کے حصول کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! انکے چہرے نورانی ہونگے اور وہ نور کے منبروں پر ہونگے۔ جب لوگ خوف زدہ ہونگے تو انہیں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ جب لوگ غم زدہ ہونگے تو یہ بے غم ہونگے۔ اسکے بعد رسولِ اکرم نے یہ (مذکورہ، سورہ یونس کی آئیت:62) تلاوت فرمائی۔‘‘
(سنن ابی داؤد: کتاب البیوع، باب فی الرھن،حدیث نمبر-3527)

*ناپاک محبت کا بدترین انجام*

دنیا میں اپنی خودساختہ دوستیوں پر فخر کرنے والے ، اپنے محبوبوں کی قربت کی چاہت میں اپنی آخرت برباد کرنے والے اور انکے اشارۂ ابرو پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے دعویدار قیامت کے دن آپس میں بدترین دشمن بن جائینگے ، اپنی محبت کے اس بدترین انجام پر ایک دوسرے کو مورودِ الزام ٹھہرائینگے اور اپنی حرکتوں پر شرمندگی و پشیمانی کا اظہار کرینگے۔

*ذرا پڑھئے کہ اللہ کا سچا کلام قیامت کے دن کا کیا نقشہ کھینچتاہے*

📚’’بہت ہی گہرے دوست اس (قیامت کے) دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے پرہیزگاروں کے۔‘‘
(سورہ الزخرف:67)

دنیا میں ایک دوسرے کے لیے جان دینے والے سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائینگے، کوئی کسی کا ساتھی نہیں ہو گا،
لیکن اس وقت بھی متقین کی دوستی قائم رہے گی، کیونکہ ان کی محبت اللہ کی رضا کے لیے تھی اس لیے قائم ہو گی،

📚’’اس (قیامت کے) دن ظالم اپنے ہاتھوں کو (احساسِ ندامت سے) چبا چبا کر کہے گا ‘ ہائے کاش! میں نے رسول(صلی اللہ علیہ و سلم) کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے افسوس‘ کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد بھی مجھے گمراہ کردیا اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے۔‘‘
(سورہ الفرقان:،29٫28٫27،)

*اس لیے شریعت نے دنیا میں محبت و دوستی کے لیے تقوی کو معیار بنایا ہے، کہ (الحب للہ و البغض للہ)محبت اور دشمنی صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے بس…!*

________&______

دوستی اور محبت پر مختصر بات کرنے کے بعد ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف

*ویلنٹائین ڈے(Valentine’s Day) کی حقیقت*

ویلنٹائین ڈے کے متعلق کئی متضاد روایات تاریخی کتب میں موجود ہیں، مگر ان میں سے اکثر سے زیادہ من گھڑت قصہ کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ بعض روایات معروف تحقیقی ادارے ’’Britannica Encyclopedia‘‘ کے حوالے سے ملتی ہیں، جنہیں پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کی مذہبی رسومات کا ایک خاص دن ہے۔ اصل لفظ ’’Valentine Saint ‘‘ہے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے۔ ’’ Saint‘‘کاترجمہ ’’بزرگ‘‘ہے، جو پادریوں کیلئے بولا جاتا ہے۔ عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کے لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر سال 14، فروری کو ’’Valentine‘‘ نامی پادریوں کی روحیں دنیا میں آتی ہیں، اس لئے وہ اس دن کے تمام معمولات‘ بشمول عبادات و نذر و نیاز انہی کے نام سے سرانجام دیتے ہیں۔ اس عقیدے کی ابتداء رومیوں سے ہوئی۔ پھریہ دن فرانس اور انگلینڈ میں بھی بطورِ خاص منایا جانے لگا اور اس دن فرانس، انگلینڈ اور دیگر مغربی ممالک میں تعطیل ہوتی ہے اور وہ اس دن اپنی عبادت گاہوں میں خاص قسم کی عبادات سرانجام دیتے ہیں۔ اس رسم کے غیر معقول ہونے اور دنیائے عیسائیت کے معتبر پادریوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ دن بالکل معدوم ہوچکا تھا، چودھویں صدی عیسویں کے ایک متعصب عیسائی اسکالر ’’Henry Ansgar Kelly‘‘نے اپنی ایک کتاب (انٹرنیٹ پر دستیاب ہے) ’’Chaucer and the Cult of Saint Valentine‘‘ کے نام سے خاص اسی موضوع پر لکھی اور عشق و محبت کی خودساختہ کہانیوں کے ذریعے اسے محبت کے دن کے نام سے دوبارہ دنیا میں روشناس کروایا۔ اٹھارھویں صدی میں اسے فرانس اور انگلینڈ میں سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی اور پھر رفتہ رفتہ عشق و محبت کا یہ خودساختہ دن دنیا بھر میں ہر سال مزید جدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جانے لگا ۔

(مزید تفصیل کیلئے دیکھئے:
Saint Valentine – Wikipedia, the free encyclopedia وغیرہ)

*پس پردہ حقائق*

اس دن کی تاریخی حیثیت اور اسے منانے کا موجودہ طریقہ ہمیں اس کے جن مضمرات اور پس پردہ حقائق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے‘ وہ یہ ہیں:

یہ دن عیسائیوں کی ایجاد ہے چ یہ ان کی مشرکانہ عبادت کا دن ہے ژ خود عیسائی پادری بھی اسکے مخالف ہیں ڈاس کے معدوم ہونے کے بعد ایک متعصب عیسائی اسکالر نے اسے دوبارہ زندہ کیا، اسے عیسائی ممالک میں سرکاری سرپرستی میں منایا جاتا ہے۔ ‘اس دن کی اہمیت میں بیان کی جانے والی عشق و محبت کی تمام داستانیں جھوٹی ہیں۔

موجودہ دور میں اس کو منانے والا عموماً ہم جنس پرست، زانی ، فحاشی پسند اور مغرب نواز طبقہ ہی ہے اور ایسے ہی لوگوںمیں اس دن کو بطورِ خاص اہمیت حاصل ہے، یعنی یہ ناپاک لوگوں کا تہوار ہے۔

یہودی، عیسائی اور تمام کفار و مشرکین اسلام اور مسلمانوں کے ازلی و ابدی دشمن ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے معاملے پر یہ تمام قولی و عملی طور پر متفق و متحد ہیں۔ ایک طرف مسلمان ملکوں پر ناجائز قبضے اور ان پر تباہ کن بم برساکر ان کے خلاف قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہواہے، دوسری طرف ان کی عورتیں اور بچے اغوا کر کے ان سے جبراً حرام کاری کروائی جارہی اور ُپر مشقت کام لئے جارہے ہیں اور تیسری طرف اسلام کو غیرمہذب، قدامت پسند اور بنیاد پرست مذہب قرار دیکر اپنی غلیظ اور ناپاک تہذیب کو جدید اور اعتدال پسند ظاہر کیا جارہا اور اسے مسلمانوں میں فروغ دے کر ان کی ایمانی غیرت و حمیت کو ختم کر کے نوجوانمسلمان مردوں اور عورتوں میں جنسی بے راہ روی کو عام کرنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان تمام باتوں کی صداقت ان کی کتابوں اور روزمرہ کے بیانات میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

پس اے مسلمانو! کفار کی ان سازشوں کا مقابلہ اسلام سے محبت کی صورت میں کرو، تمہارا اپنے دین سے محبت، اس پر ایمان اور عمل انکی سازشوں کوانکے اپنے خلاف پھیر سکتا ہے، لہٰذا آج سے ہی ہر معاملے میں کفار سے مشابہت اور انکی رسومات میں شرکت اپنے اوپر حرام کر دو،

*ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کچھ آیات و احادیث قابل ذکر ہیں*

قرآن کریم میں اللہ پاک فرماتے ہیں

📚بلاشبہ جولوگ پسندکرتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے بلاشبہ ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اوراﷲ تعالیٰ جانتاہے اورتم نہیں جانتے ۔،
(سورہ النور،آئیت نمبر-19)

انٹرنیٹ پر ویلنٹائن کی مبارک دینے والے، پوسٹیں شئیر کرنے والے اور جو کوئی بھی جس انداز میں بھی مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے وہ سب اس آئیت مبارکہ میں بیان کی گئی وعید کی زد میں آتے ہیں،

📚فرمان نبویﷺ
قیامت کے دن تین لوگ نہ تو جنت میں جائیں گے نہ اللہ پاک انکی طرف دیکھیں گے،
ایک وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرے،
دوسری وہ عورت جو مرد کا حلیہ بنائے،
تیسرا وہ دیوث (جو بیوی بچوں میں بے حیائی برداشت کرے)
(مسند احمد،حدیث نمبر_6180)

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بےحیاء اور بدزبان نہیں ہوتا ہے،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر_1977)

📚نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟
فرمایا پھر اور کون۔،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_7320)

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_4031)

ان تمام احادیث اور آیات سے پتہ چلا کہ ویلنٹائن جو کہ ایک بے حیائی کا دن ہے ، اسکو منانا مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے اور کافروں کی مشابہت اختیار کرنے کا سبب ہے، جو کہ سرا سر گناہ ہے،

*ویلنٹائن ڈے اور اسی طرح کے دیگر ناجائز تہواروں پر ایک مسلمان کی طرف سے کسی بھی شکل میں معاونت بھی حرام ہے، چاہے کھانے پینے، خرید و فروخت، مصنوعات، تحائف، خطوط، اعلانات، وغیرہ ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ سب گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتا ہے، اور اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی ہے،*

جبکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

📚(وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب)
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور اللہ تعالی سے ڈر جاؤ، بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے”
(سورہ المائدہ،ائیت نمبر_2)

ویلنٹائن ڈے کا پس منظر حقیقت میں کیا ہے شائد ہی کوئی جانتا ہو لیکن اسکی طرف نسبت کر کے اس دن بہت زیادہ بے حیائی کی جاتی ہے جس کو ایک عام آدمی بھی جانتا ہے روزمرہ کی روٹین سے ہٹ کر پھلوں کے ریٹس زیادہ ہوجاتے ہیں رخساروں پر جو پردے سے ڈھکے ہونا چاہیں پر دل اور نہ جانے کیسے کیسے نشانات بنا کر گناہ کی دعوت دی جاتی ہے اور سلیبرئیشن کی جاتی ہے بنا یہ سوچے کہ ہم مسلمان ہیں ۔۔!
اسلام ہمیں کس چیز کا درس دیتاہے۔۔۔!
بعض کم عقل لوگ کہتے ہیں۔۔جی،!
اسلام محبت سے منع تو نہیں کرتا۔۔۔!
ان کے جواب میں گزارش یہ ہے کہ اسلام محبت سے منع نہیں کرتا بلکہ بے حیائی سے منع کرتا ہے اسلام عزتوں کی حفاظت کرتا ہے ان کو سرعام سڑکوں پر اور کلبوں میں ننگا نہیں کرتااور اسی کی بات کی مذمت کرتا ہے۔۔۔
جولوگ یہ دن مناتے ہیں ان سے اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی بہن،بیوی،بیٹی،کو کوئی کھلے روڑ پر پھول پیش کرےاور گناہ کی دعوت دے۔۔۔؟
تو یقینآجواب جو آئے گا وہ آپ بھی سمجھ ہی گئے ہوں گے لیکن یہ کیسا ماجرہ ہے کہ کوئی کرے تو مارنے پر اتر آئیں اورخود کریں تو محبت۔۔۔!
واہ رے انسان تیری خود پسندی۔

کوئی یہ نہیں جانتا کہ یہ ویلنٹائن جیسے پیار کا ڈرامہ ٪99.99 ایک ہی رات میں ختم ہو جاتا ہے تو یہ کیسا پیارہے بھائی۔۔۔۔؟

کوئی منانے والا بتا دے۔
دنیا کاکوئی مذہب،کوئی تہذیب،کوئی ثقافت ایسی بے حیائی کی اجازت نہیں دے سکتی لیکن اعتراض کرنے والے اسلام کو ہی پوائنٹ آوٹ کرتے ہیں۔
دکھ کی بات تو یہ ہے کہ پرائے تو پرائے اپنے بھی اس کام میں آگے آگے ہیں۔جب کہ اسلام جتنا صاف،پاکیزہ،ماڈرن،آئیڈیل اور محبت کرنے والا مذہب اور کوئی نہیں اس سے بڑھ کر محبت کی اور مثال کیا ہوسکتی ہے کہ اسلام ایک بے زبان جانور کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ اس کے حقوق مرجوح نہ ہوں اس چیز کا درس دیا گیا ہے۔
مسلمان یہ سمجھ نے سے قاصر ہی ہو گیا ہے کہ یہ مغربی گندگی تہذیب ہے یہ تہوار ان کا بھی کوئی اسلامی تہوارنہیں ہے وہ اپنا یہ کیچڑ آلود کلچر ہم میں چھوڑ رہے ہیں کہ ہم اس دین سے نکل جائیں جس کو لے کر ایک آدمی اٹھا اور پوری دنیا پر چھا گیا جس کے ایک میل کی مسافت پر کفر ڈر سے کانپ جاتا تھا۔مگر اس نوجوان نسل کو کون جگائے
،،کیا خوب کہا شاعر نے
“نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے”

ان کو تو بس انجوائے منٹ سے غرض ہے وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی اس سے فرق نہیں بڑتا بعض لوگ یہ کہتےہیں کہ لازمی نہیں آپ کسی لڑکی،لڑکے کو ہی اس دن کی مبارک باد دیں۔آپ اپنی زوجہ کو بھی کہ سکتے ہیں ماں،کو بھی کہ سکتے ہیں تو ان عقل کے دشمنوں سے سوال یہ ہے کہ کیا بس ایک ہی دن ہے محبت کے لئے؟
اور کون اس دن کو منانے والا آدمی ہے جو ماں یا بہن کو کہتا ہے ؟؟ جبکہ یہ سب کچھ بازاروں،کالجز،یونیورسٹیز، اور دیگر جگہوں پر صرف عیاشی کے لئے منایا جاتاہے،،
اللہ ہم سب کو معاف کریں اور اس کی سمجھ دیں کہ یہ صرف ایک بے حیائی اور فحاشی ہے

*اللہ ہم سب کی عزتوں کی حفاظت کریں اور اس دن کو روکنے اور اس سے دور رہنے کی توفیق دیں*
(آمین)

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں