183

نئے عیسویں ﺳﺎل کا جشن منانے اور مبارک دینے کا ﺷﺮﻋﯽ ﺣﮑﻢ کیا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-179″
نئے عیسویں ﺳﺎل کا جشن منانے اور مبارک دینے کا ﺷﺮﻋﯽ ﺣﮑﻢ کیا ہے؟

Published Date:30-12-2018

جواب۔۔۔!
الحمدللہ۔۔۔!!!

🌹حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی ضرور پیروی کروگے ، بالشت بالشت برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ، حتی کہ اگر وہ لوگ گوہ [گھوڑپوڑ] کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم لوگ بھی ان کی پیروی کروگے ،
حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ سننے کے بعد ہم لوگوں نے عرض کیا :
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کیا [پہلی قوموں سے مراد ]
یہود و نصاری ہیں ؟
آپﷺ نے فرمایا : پھر اور کون ۔۔؟
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_3456)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-2669)

*اللہ تبارک وتعالی نے اور رسول اکرم ﷺ نے بڑی تاکید سے یہ حکم دیا ہے کہ ہم اللہ،رسول کے دشمنوں کی پیروی نہ کریں اور اس صراط مستقیم پر قائم رہیں جو اللہ اور اسکے محبوب بندوں کا پسندیدہ راستہ اور اس تک پہنچنے کا آسان ذریعہ ہے٬*

اللہ پاک فرماتے ہیں۔۔!

🌹وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ
{الأنعام:153} ”
اور بلا شبہ یہ دین میرا راستہ ہے ، سو اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ تعالی کی راہ سے جدا کردیں گی-

نیز فرمایا :
🌹[ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ]
{الجاثية:18} ”
پھر ہم نے آپ کو دین کی راہ پر قائم کردیا سو آپ اسی پر جمے رہیں اور نادانوں کی خواہش کی پیروی نہ کریں

🌹نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی اس کا شمار انہیں لوگوں میں سے ہوگا
(سنن ابو داود،حدیث نمبر-4031)

اور فرمایا :
🌹جہاں تک ہوسکے شیطان کے چیلوں کی مخالفت کرو
{الطبرانی الاوسط }

ان تمام تاکیدات کے باوجود امت کا ایک طبقہ شیطان کی پیروی اور نفسانی خواہشات کی غلامی میں صراط مستقیم سے ہٹ کر اللہ و رسول کے دشمنوں کی راہوں پر چل چکا ہے حالانکہ ان سے دور رہنے کی اللہ اور اس کے رسول نے تاکید فرمائی تھی ،امت کو یہودی نصاریٰ جیسی پستی میں گرنے سے روکنے کے لئے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ قیامت قائم ہونے سے قبل ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی پیروی ضرور کرو گے حالانکہ ان پر اللہ تعالی کا غضب نازل ہوچکا ہے اور جو گمراہی و ضلالت میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کے لئے بیٹا ہونے کا عقیدہ رکھ لیا ہے،
اور حیرت تو یہ ہے اس وقت تم عقل و شعور سے اس قدر دور ہوچکے ہوگے اور تقلید کے نشے میں اس قدر مست ہوگے اور نفسانی خواہش تم کو اس قدر پاگل بنا چکی ہوگی کہ تم سوچ و فکر سے عاری ہوچکے ہوگے، اور اسی کی وضاحت کے لئے حدیث میں گوہ کے سوراخ میں داخل ہونے کی مثال دی گئی ہے ،کیونکہ عقلاً گوہ کے سوراخ میں کسی انسان کا داخل ہونا ایک ناممکن امر ہے ، پھر بھی اگر کوئی یہودی ونصرانی اس میں داخل ہونا چاہے گا تو میری امت کے بعض افراد بھی اس کی پیروی کریں گے اور اپنی عقل و فہم سے کام نہ لیں گے یعنی اگر یہود و نصاری کوئی کام کریں گے جو عقل و اخلاق کے معیار پر کسی بھی طرح پورا نہیں اترے گا پھر بھی میری قوم کے بعض افراد ان کی پیروی ضرور کریں گے،

*اس اندھی تقلید کی ایک جیتی جاگتی مثال یہود ونصاری اور غیر قوموں کی تہذیبوں کو اپنانا ہے،*
*جیسا کہ آج امت کا وہ طبقہ جو خود کو تعلیم یافتہ ، مہذب اور دیندار تصور کرتا ہے لیکن اپنے بچوں کی “برتھ ڈے پارٹی ” ضرور منعقد کرتا جو کہ یہود ونصاری کی کھلی تقلید ہے*
*اسی طرح لباس میں انکی مشابہت اس قدر ہو گئی کہ اگر وہ پرانی، پھٹی جینز پہننے لگے تو مسلمان لڑکوں،لڑکیوں نے بھی انکی پیروی کرتے ہوئے پھٹی ہوئی جیننز پہننا شروع کر دیں۔۔!!*

ان للہ و ان الیہ راجعون😓

اسی طرح ان کی ان عیدوں میں شرکت جن میں ایسے حیا سوز منظر پیش کئے جاتے ہیں جو انسانی فطرت اور ایمانی غیرت کے سراسر منافی ہیں،

مثال کے طور پر آج کل کافروں کے نئے سال کی آمد ہے ،دنیا کے ہر کونے میں اس کا چرچا ہے لوگ بڑی شدت سے نئے سال کا انتظار کررہے ہیں کافر قوموں کے ساتھ بہت سے مسلمان حتی کہ بعض حکومتیں بھی اس نئے سال کا جشن منانے کی تیاری کررہی ہیں

*حالانکہ مسلمانوں کا ایسا کرنا شریعت کے لحاظ سے جائز نہیں ہے:*

[1] مسلمانوں کے نزدیک عید کا معاملہ ایک شرعی امر ہے لہذا جس دن کو شریعت عید کا دن نہ قرار دے اس دن کو عید کا دن قرار دینا ضلالت و گمراہی اور بدعت ہوگا ۔

[2] یہ نیا سال مسلمانوں کا سال نہیں ہے بلکہ کافروں اور اللہ کے دشمنوں کا سال ہے اس لئے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لئے نئی تقویم ایجاد کی تھی، لہذا اس کی آمد پر خوشی ایک غیر شرعی کام اور اللہ کے دشمنوں سے مشابہت ہے جس سے سختی سے منع کیا گیا ہے ۔

[3] اس عید میں بعض ایسے حیا سوز کام کا ارتکاب کیا جاتا ہے جو اسلام کی نظر میں حرام اور اسے جائز یا بہتر سمجھنا دین سے خروج اور بغاوت ہے ۔

[4] علمائے امت کا متفقہ فتوی ہے کہ کافروں کی عیدوں، میں شریک ہونا ، انہیں مبارک باد پیش کرنا ، کسی بھی طرح سے اس عید میں ان سے تعاون کرنا قطعی طور پر جائز نہیں ہے ۔

🌹شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ”
“مسلمانوں کیلئے جائز نہیں کہ کفار کی کسی بھی شکل میں مشابہت اختیار کریں، انکے تہواروں میں ، کھانے پینے ، لباس ، غسل، آگ جلانے، یا کام سے چھٹی وغیرہ کر کے، ان کے ساتھ مشابہت اختیار کریں، ایسے ہی ان دنوں میں دعوتیں کرنا، تحائف دینا، اور ان کے تہواروں کیلئے معاون اشیاء کو اسی قصد سے فروخت کرنا کہ انکے کام آئیں گی، بچوں کو انکے تہواروں کے خاص کھیل کھیلنے کی اجازت دینا ، اور اچھے کپڑے زیب تن کرنا ، یہ سب کچھ حرام ہے۔
(مجموع الفتاوى_ص2/488ج)

*اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کافروں کے عیسیویں سال کا استعمال جائز ہے،جیسے ہم تاریخ وغیرہ لکھتے،کیلنڈر دیکھتے، تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم حرام معاملات بھی جائز کر لیں، زیادہ سے سے زیادہ یہ ہے کہ ایسے موقعہ پر ایک مسلمان سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے کہ جس سال کو رخصت کررہا ہے اس میں وہ کیا کھویا اور کیا پایا کتنے نیک عمل کئے اور کتنے برے عمل تاکہ نیک عمل کی قبولیت کی دعا کی جائے اور برے کام سے توبہ و استغفار۔۔۔!!*

*ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﻓﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ :*

🌹ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﯾﺎ ﺑﺮﮮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ؟

🌹ﮐﯿﺎ ﮐﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ
ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺑﺪﮨﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ؟

🌹ﮔﺬﺭﮮﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ ، ﮐﺘﻨﮯ ﺣﻖ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﻨﮯ ﺣﻖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ ؟

🌹ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯼ ﻭ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻭ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱﮐﯽ ﺗﻼﻓﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ؟

🌹ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯼ ﻭ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺁﺝ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮨﻢ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﻮ ﮔﺬﺭﮮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﻼﻧﻨﮓ ﮐﯽ ﮨﮯ؟

🌹ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﻏﻠﻄﯿﺎﮞ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮔﺬﺭﮮ ﺳﺎﻝمیں ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍُﻥ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﮨﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟

🌹ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ، ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ،ﺍﺱ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬ کر ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﯾﻦ ﮐﻮ ﺟﺴﮑﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﻣﺤﻤﺪﷺ ﺣﺮﻣﯿﻦ ﺷﺮﯾﻔﯿﻦ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﮯ ﺗﮭﮯ ،ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ؟

🌹ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ نبھﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ؟؟؟

*ﻧﺌﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮﺗﯽ ہے۔۔۔! اللہ پاک ہم سب کو ایک پکا سچا مسلمان بننےکی توفیق عطا فرمائیں، اور ایک با عمل مسلمان بننے میں ہماری خاص مدد فرمائیں۔۔۔۔ آمین…!!*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں