894

سوال_حلال جانوروں کا پیشاب/پاخانہ کپڑوں پر لگ جائے تو کیا کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟کیا ان کپڑوں میں نماز نہیں پڑھ سکتے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر_155”
سوال_حلال جانوروں کا پیشاب/پاخانہ کپڑوں پر لگ جائے تو کیا کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟کیا ان کپڑوں میں نماز نہیں پڑھ سکتے؟

Published Date:28-11-2018

جواب..!
الحمدللہ..!!

*جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، شریعت کی رُو سے ان کا پیشاب ،پاخانہ کپڑوں کو لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں، اس حوالے سے دلائل شرعیہ ملاحظہ فرمائیں:*

دلیل نمبر 1 :
🌹عن أنس قال : قدم أناس من عکل أو عرینۃ ، فاجتووا المدینۃ ، فأمرھم النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بلقاح ، وأن یشربوا من أبوالھا وألبانھا ، فانطلقوا ، فلمّا صحّوا قتلو راعی النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم واستاقوا النعم ، فجاء الخبر فی أوّل النھار ، فبعث فی آثارھم ، فلمّا ارتفع النھار جیء بھم ، فأمر ، فقطع أیدیھم وأرجلھم ، وسمرت أعینھم ، وألقوا فی الحرّۃ یستسقون فلا یسقون ، قال أبو قلابۃ : فھولاء سرقوا ، وقتلوا ، وکفروا بعد أیمانھم ، وحاربوا اللّٰہ و رسولہ ۔
”سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ آئے ، ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیت المال کی اونٹنیوں کے پاس جانے اور ان کاپیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ چلے گئے ، جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ خبر صبح ہی پہنچ گئی، آپ نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا ،جب دن چڑھ آیا تو ان کو پکڑ لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے ، ان کی آنکھیں نکال دی گئیں اور ان کو پتھریلی زمین میں پھینک دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن ان کو پانی دیا نہ گیا۔ ابو قلابہ تابعی فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہ انجام اس لئے ہوا کہ انہوں نے قتل کیا ، چوری کی ، ایمان لانے کے بعد مرتد ہوئے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کیا ۔
(صحیح بخاری : حدیث نمبر_ 233)
( صحیح مسلم : حدیث نمبر_1671)

*یعنی جب دوا کے لیے حلال جانوروں کا پیشاب پیا جا سکتا ہے تو کپڑوں پر لگنے سے کپڑے کیسے ناپاک ہو سکتے ہیں*

*فقہائے امت نے اس حدیث سے یہی سمجھا ہے کہ حلال جانوروں کا پیشاب وغیرہ پاک ہوتا ہے۔ آئیے چند مشہور فقہاء کے فرامین ملاحظہ فرمائیں :*

🌹امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ (١٩٤ ۔ ٢٥٦ ھ)اس حدیث پر تبویب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
باب أبوال الإبل والدواب والغنم ومرابضھا ۔
”اونٹوں ، چوپائیوں اور بھیڑ بکریوں کے پیشاب اور ان کے باڑوں کا حکم ۔ ”

🌹حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
وحدیث العرنیین لیستدل بہ علی طھارۃ ابوال الابل ۔ ”امام بخاری رحمہ اللہ نے قبیلہ عرینہ والے لوگوں کی حدیث اس لئے بیان کی ہے تا کہ اس کے ذریعے اونٹوں کے پیشاب کے پاک ہونے پر استدلال کریں ۔”
(فتح الباری : ١/٣٣٥)

🌹شاہ ولی اللہ محدث دہلوی امام بخاری رحمہ اللہ کی اس تبویب کی وضاحت میں لکھتے ہیں :
غرضہ إثبات طھارۃ أبوال الدوابّ المأکولۃ لحمھا ۔
”امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب پاک ہیں۔”
(شرح تراجم ابواب صحیح البخاری از شاہ ولی اللّٰہ )

🌹 امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ
(٢٢٣۔ ٣١١ ھ ) اس حدیث پر یوں تبویب فرماتے ہیں : باب الدلیل علی أنّ أبوال ما یؤکل لحمہ لیس بنجس ، ولا ینجس الماء إذا خالطہ ، إذ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قد أمر بشرب أبوال الإبل مع ألبانھا ، ولو کان نجسا لم یأمر بشربہ ۔
”اس بات پر دلیل کا بیان کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب ناپاک نہیں، نہ اس کے پانی میں ملنے سے پانی ناپاک ہوتا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے دودھ کے ساتھ ان کے پیشاب کو بھی پینے کا حکم دیا تھا۔ اگر وہ نجس ہوتا تو آپ اس کو پینے کا حکم نہ دیتے۔”
(صحیح ابن خزیمہ : ١/٦٠۔٦١)

🌹 امام ترمذی رحمہ اللہ (٢٠٠ ۔ ٢٧٩ ھ ) تبویب میں یوں رقمطراز ہیں :
باب ما جاء فی بول ما یوکل لحمہ ۔
”ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کا بیان۔”
نیز لکھتے ہیں :
وھو قول أکثر أھل العلم ، قالوا: لا بأس ببول ما یؤکل لحمہ ۔
”اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ۔”
(جامع الترمذی، تحت الحدیث : ٧٢)

اس سے بڑھ کر یہ کہ امام ترمذی نے اسی حدیث کو ”کتاب الاطعمہ” (کھانے کا بیان) میں بھی پیش کیا ہے اور باب یوں باندھا ہے : باب ما جاء فی شرب أبوال الإبل ۔
”اونٹ کا پیشاب پینے کے بارے میں باب۔”
( جامع الترمذی، تحت الحدیث : ١٨٤٥)
معلوم ہوا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔

🌹 اس حدیث پر امام نسائی رحمہ اللہ (٢١٥ ۔ ٣٠٣ )کی تبویب یوں ہے :
باب بول ما یؤکل لحمہ ۔
”ما کول اللحم جانوروں کے پیشاب کا بیان۔”
(سنن النسائی، قبل الحدیث : ٣٠٦)

🌹 امام ابنِ منذر رحمہ اللہ (م ٣١٨ ھ )
اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
وھذا یدلّ علی طھارۃ أبوال الإبل ، ولا فرق بین أبوالھا وأبوال سائر الأنعام ، ومع أنّ الأشیاء علی الطھارۃ ، حتّی تثبت نجاسۃ شیء منھا بکتاب أو سنۃ أو إجماع ۔
”یہ حدیث اونٹوں کے پیشاب کے پاک ہونے پر دلیل ہے ، اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کے پیشاب میں کوئی فرق نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ تمام اشیاء اصلاً پاک ہوتی ہیں یہاں تک کہ قرآن ، حدیث یا اجماع کے ذریعے ان کی نجاست ثابت نہ ہو جائے ۔”
(الاوسط لابن المنذر : ٢/١٩٩)

🌹 امام ابن حبان (م ٣٥٤ھ) اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ذکر الخبر المصرّح بأنّ أبوال ما یؤکل لحومھا غیر نجسۃ ۔
”اس بات میں صریح حدیث کا بیان کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب ناپاک نہیں ہے ۔”
(صحیح ابن حبان : ٤/٢٢٣، تحت الحدیث : ١٣٨٦)

🌹 امام الفقیہ عبدالحق الاشبیلی رحمہ اللہ (٥١٠ ۔ ٥٨١) اس حدیث پر یوں باب قائم کرتے ہیں : باب أبوال ما یؤکل لحمہ ورجیعہ ۔
”ما کول اللحم جانوروں کے پیشاب اور فضلے کا بیان ۔”
(الاحکام الشرعیۃ الکبرٰی للاشبیلی : ١/٣٨٩)

🌹 شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) لکھتے ہیں :
فإذا أطلق ۔۔۔ الإذن فی الشرب لقوم حدیثی العھد بالإسلام جاھلین بأحکامہ ، ولم یأمرھم بغسل أفواھھم وما یصیبھم منھا لأجل صلاۃ ولا لغیرھا، مع اعتیادھم شربھا ، دلّ ذلک علی مذھب القائلین بالطھارۃ ۔
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کی مطلق اجازت دی ہے جوکہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلام کے احکام سے نا واقف تھے ، نیز ان کو منہ اور پیشاب سے ملوث چیزوں کو نماز وغیرہ کے لئے دھونے کا حکم بھی نہیں دیا حالانکہ وہ بار بار اسے پیتے رہے۔اس سے اونٹ کے پیشاب کو پاک کہنے والوں کی دلیل بنتی ہے ۔”
(بحوالہ تحفۃ الاحوذی : ١/٧٨)

🌹 شیخ الاسلام ثانی ابن القیم رحمہ اللہ (٦٩١۔٧٥١ھ) فرماتے ہیں :
وفی القصّۃ دلیل علی ۔۔۔۔۔ طہارۃ بول مأکول اللحم ، فإنّ التداوی بالمحرّمات غیر جائز ، ولم یؤمروا مع قرب عہدہم بالإسلام بغسل أفواہہم وما أصابتہ ثیابہم من أبوالہا للصلاۃ ، وتأخیر البیان لا یجوز عن وقت الحاجۃ ۔
”اس واقعے میں حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے کی دلیل موجود ہے کیونکہ حرام چیزوں کو بطور دوائی استعمال کرنا جائز نہیں۔ علاوہ ازیں ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نماز کے لیے اپنے منہ اور وہ کپڑے دھونے کا حکم نہیں ملا جن کو یہ پیشاب لگتا تھا۔ کسی وضاحت کو وقت ضرورت سے مؤخر کرنا جائز ہی نہیں(اگر یہ پیشاب ناپاک تھا تو اسی وقت ان کو وضاحت کی جانی چاہیے تھی)۔
”(زاد المعاد لابن القیم : ٤/٨٤)

*آپ نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کے پیشاب کو پینے کا حکم دے رہے ہیں اور محدثین و فقہاء کی ایک جماعت اس حدیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کی طہارت ثابت کر رہی ہے جبکہ اس کو نجس کہنے والوں کے پاس سرے سے کوئی دلیل موجود نہیں*

_______&&______

دلیل نمبر 2_
🌹عن أنس قال : کان النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم یصلّی قبل أن یبنی المسجد فی مرابض الغنم ۔
”سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بننے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا فرماتے تھے ۔”
(صحیح البخاری : حدیث نمبر-234)
(صحیح مسلم : حدیث نمبر-524)

🌹دوسری روایت میں ہے کہ:
آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے ،(یعنی اونٹ سرکش اور طاقتور ہوتا ہے وہ نقصان پہنچا سکتا ہے نمازی کو) اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں،
(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر-184)

*جب بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے تو یط بات ثابت ہوئی کپ انکا پیشاب پاخانہ ناپاک نہیں،کیونکہ باڑے میں ہر جگہ پاخانہ پیشاب ہی ہوتا ہے*

*اس حدیث سے بھی ائمہ حدیث اور فقہائے امت نے حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے کو ثابت کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں :*

🌹 امام بخاری رحمہ اللہ (١٩٤۔ ٢٥٦ھ) اس حدیث پر یوں باب قائم کرتے ہیں :
باب أبوال الإبل والدوابّ والغنم ومرابضھا ۔
”اونٹوں، مویشوں اور بکریوں کے پیشاب نیز بکریوں کے باڑوں کا بیان۔”

🌹امام ترمذی رحمہ اللہ (٢٠٠ ۔ ٢٧٩ھ)کی تبویب یہ ہے :
باب ما جاء فی الصلاۃ فی مرابض الغنم وأعطان الابل ۔
”بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز کا بیان۔”
(جامع الترمذی، قبل الحدیث : 350)

نیز بکریوں کے باڑوں میں نماز کی اجازت اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز کی ممانعت والی حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
وعلیہ العمل عند أصحابنا ، وبہ یقول أحمد وإسحاق ۔
”ہمارے اصحاب (محدثین) کے ہاں اسی پر عمل ہے ، نیز امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا یہی فتوی ہے ۔”
(جامع الترمذی، تحت الحدیث : 349)

🌹 امام ابن خزیمہ(٢٢٣۔٣١١ھ) فرماتے ہیں :
باب ما جاء الصلاۃ فی مرابض الغنم ۔
”بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے جواز کا بیان۔”(صحیح ابن خزیمۃ : ٢/٥)

🌹 امام ابن حبان رحمہ اللہ (م ٣٥٤ھ) اس حدیث پر تبویب فرماتے ہیں :
ذکر جواز الصلاۃ للمرء علی المواضع التی أصابھا أبوال ما یؤکل لحومھا وأرواثھا ۔
”اس بات کا بیان کہ آدمی کا ان جگہوں میں نماز پڑھنا جائز ہے جو حلال جانوروں کے پیشاب اور گوبر میں ملوث ہوں ۔”
نیز بکریوں کے باڑوں میں نماز کی اجازت والی ایک دوسری حدیث پر یہ تبویب کرتے ہیں : ذکر الخبر المدحض قول من زعم أنّ أبوال ما یؤکل لحومھا نجسۃ ۔ ”اس حدیث کا بیان جو ما کول اللحم جانوروں کے پیشاب کو نجس خیال کرنے والے لوگوں کا رد کرتی ہے۔”
(صحیح ابن حبان : ٤/٢٢٤۔ ٢٢٦)

🌹علامہ نووی(٦٣١۔٦٧٦ھ)اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
وأمّا إباحتہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم الصلاۃ فی مرابض الغنم دون مبارک الإبل ، فھو متّفق علیہ ۔
”رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بکریوں کے باڑوں میں نماز کو مباح قرار دینا اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز سے روکنا تو اس پر سب کا اتفاق ہے۔”
(شرح صحیح مسلم للنووی : ١/١٥٨)

🌹شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
(٦٦١۔٧٢٨ھ) احادیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر دلیل لیتے ہوئے فرماتے ہیں :
وصحّ عنہ أنّہ أذن فی الصلاۃ فی مرابض الغنم ، ولم یأمر بحائل ۔۔۔
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور کسی قسم کی رکاوٹ وغیرہ رکھنے کا حکم نہیںدیا(تو معلوم ہوا کہ بکریوں کا پیشاب پاک ہے)۔”
(شرح العمدۃ فی الفقہ : ١/٦٠)

*آپ جان چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھی ہے ، نیز سوال کرنے والے صحابی کو آپ نے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی دی ہے
(صحیح مسلم : ٣٦٠)

*محدثین کرام نے ان احادیث سے بھی ما کول اللحم جانوروں کے پیشاب کی طہارت ثابت کی ہے جیسا کہ اوپر مذکورہ تبویب سے عیاں ہے*

________&&_________

دلیل نمبر 3 :
🌹عن عبداللّٰہ قال : کان النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم یصلّی عند البیت ، وأبو جھل وأصحاب لہ جلوس ، إذ قال بعضھم لبعض : أیّکم یجیء بسلی جزور بنی فلان ، فیضعہ علی ظھر محمّد إذا سجد؟ فانعبث أشقی القوم ، فجاء بہ ، فنظر حتّی إذا سجد النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وضعہ علی ظھرہ بین کتفیہ ، وأنا أنظر ، لا أغنی شیأا ، لو کانت لی منعۃ ، قال : فجعلوا یضحکون و یحیل بعضھم علی بعض ، ورسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ساجد لا یرفع رأسہ ، حتّی جاء تہ فاطمۃ فطرحتہ عن ظھرہ ، فرفع رأسہ ثمّ قال : (( اللّٰھم علیک بقریش )) ، ثلات مرّات ، فشقّ علیھم إذ دعا علیھم ، قال : وکانوا یرون أنّ الدعوۃ فی ذلک البلد مستجابۃ ، ثمّ سمّی : (( اللّٰھم علیک بأبی جھل ، وعلیک بعتبۃ بن ربیعۃ ، وشیبۃ بن ربیعۃ ، والولید بن عتبۃ ، وأمیّۃ ابن خلف ، وعقبۃ بن أبی معیط )) ، وعدّ السابع فلم نحفظہ ، قال : فوالذی نفسی بیدہ ! لقد رأیت الذین عدّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم صرعی فی القلیب قلیب بدر ۔

”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے قریب نماز ادا کر رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم میں سے کون فلاں قبیلے کے اونٹ کی بچہ دانی لا کر سجدے کی حالت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھے گا ؟ ان میں سے بد بخت ترین شخص اٹھا ، بچہ دانی لایا اور انتظار کرتا رہا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو وہ آپ کی کمر پر دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ میں یہ منظر دیکھ رہا تھا لیکن کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ کاش مجھ میں طاقت ہوتی۔ وہ کفار ہنسنے لگے اور خوشی سے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہی تھے ، سر نہیں اٹھا سکتے تھے ،یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں اور بچہ دانی آپ کی کمر مبارک سے ہٹا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا ، پھر تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ !قریشیوں کو ہلاک کر دے، آپ کی بد دعا ان پر گراں گزری۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کفار سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نام لے کر فرمایا : اے اللہ ! تو ابو جہل کو ہلاک کر دے ، عتبہ بن ربیعہ کو ہلاک کر دے ، شیبہ بن ربیعہ کو ہلاک کر دے ، ولید بن عقبہ کو ہلاک کر دے ، امیہ بن خلف کو ہلاک کر دے ، عقبہ بن ابی معیط کو ہلاک کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے ساتواں نام بھی شمار کیا لیکن ہم اسے یاد نہ رکھ سکے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! میں نے ان سب لوگوں کو بدر والے دن کنویں میں اوندھے پڑے دیکھا جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شمار کیا تھا۔”
(صحیح البخاری : حدیث نمبر- 240)
( صحیح مسلم : حدیث نمبر-1794)

🌹بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی طرف سے گوبر اور خون ڈالنے کا صریح ذکر بھی ہے۔
(سنن النسائی : ٣٠٨، وغیرہ)

*اوجھری ،گوبر وغیرہ اگر نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز توڑ دیتے، اور کپڑے پاک کر کے دوبارہ نماز پڑھتے مگر آپ نے نماز جاری رکھی،کو اس بات کی دلیل ہے کہ حلال جانوروں کا گوبر پیشاب کپڑوں کو ناپاک نہیں کرتے*

🌹امام نسائی رحمہ اللہ (٢١٥۔٣٠٣ھ)
اس حدیث پر یوں باب باندھتے ہیں :
باب فرث ما یؤکل لحمہ یصیب الثوب ۔
”ماکول اللحم جانوروں کا گوبر اگر کپڑوں کو لگ جائے تو اس کا حکم ۔”
(سنن النسائی المجتبی : ٣٠٨)

🌹علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ
(م ١١٣٨ھ)لکھتے ہیں :
واستدلّ بالحدیث المصنّف علی طھارۃ فرث ما یؤکل لحمہ ۔
”امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ماکول اللحم جانوروں کے گوبر کے پاک ہونے کا استدلال کیا ہے ۔”
(حاشیۃ السندی علی سنن النسائی : ١/١٦٢)

🌹امام عبدالحق الاشبیلی رحمہ اللہ
(٥١٠ ۔ ٥٨١ ھ ) اس کی تبویب میں لکھتے ہیں :
باب أبوال ما یؤکل لحمہ و رجعیہ ۔
”ما کول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کا بیان۔”
(الاحکام الشریعۃ الکبرٰی للاشبیلی : ١/٣٨٩)

🌹قاضی عیاض رحمہ اللہ (٤٧٦۔٥٤٤ھ)
بھی ماکول اللحم جانوروں کے گوبر کو پاک کہتے تھے ۔ (شرح مسلم للنووی : ٢/١٠٨)
جاری ہے ۔۔

*اوپر ذکر کردہ تینوں احادیث اور محدثین کا ان کے اوپر باب باندھنے اور وضاحت کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حلال جانوروں کا پیشاپ پاخانہ اگر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے،ان کپڑوں ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں*

______&&&_________

*ایک اعتراض کا جواب*

*کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اونٹوں کا پیشاب پینے والی حدیث سے انکا پیشاب پاک ہونا ثابت نہیں ہوتا،بلکہ اس حدیث سے حرام کو علاج کے لیے استعمال کرنا ثابت ہوتا ہے، یعنی حرام چیز کو صرف علاج کے لیے استعمال کر سکتے ہیں*

اسکا جواب یہ ہے کہ::::
علاج کی مجبوری کی بناء پر نجس و حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی نجس و حرام چیز سے اپنا علاج کیا نہ کسی بیمار کو ایسا مشورہ دیا۔ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس و حرام چیز سے علاج کرنے سے منع فرمایاہے ، جیسا کہ :

🌹 سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : نھی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم عن الدواء الخبیث ۔ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا کے استعمال سے منع فرما دیا۔”
(سنن ابی داو،د : 3870)
(سنن الترمذی : 2045)
( سنن ابن ماجہ : 3499، وسندہ، صحیحٌ)

*اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث چیز کو بطور دوائی استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے*

🌹 نیز قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
(یَأْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَائِثَ)(الاعراف : ١٥٧)
”آپ ان کو نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال ٹھہراتے اور خبیث چیزیں ان پر حرام قرار دیتے ہیں ۔”

*معلوم ہوا کہ جو چیزیں حرام ہیں وہ خبیث اور مضر ہیں۔اسی لئے تو وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام قرار دی ہیں۔ اگر ان میں یہ خباثت اور ضرر نہ ہوتا تو امت ِمحمدیہ کے مرد و عورت دونوں پر کبھی بھی حرام قرار نہ دی جاتیں۔ لہٰذا اگر حلال جانوروں کے پیشاب کو حرام و نجس قرار دیا جائے تو یہ خبیث قرار پائے گا۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف لوگوں کو خبیث دوائی سے منع فرمائیں اور دوسری طرف اس کے پینے کا حکم بھی دیں ؟*

🌹 ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کو دوائی میں استعمال کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنّہ لیس بدواء ، ولکنّہ داء ۔
”یہ دوائی نہیں ، بلکہ بیماری ہے ۔”
(صحیح مسلم : ١٩٨٤)

*صحابہ کرام جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم یافتہ تھے ، ان کا بھی یہی فتوی تھا کہ حرام چیز دوائی میں استعمال نہیں ہو سکتی ، جیسا کہ :*

🌹 سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ اس بارے میں سوال ہوا تو فرمایا :
إنّ اللّٰہ لم یجعل شفاء کم فیما حرّم علیکم ۔
”یقینا اللہ تعالی نے اس چیز میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی جو تم پر حرام قرار دی ہے۔”
(مصنف ابن أبی شیبہ : ٨/٢٠ ،
ح : ٢٣٧٣٩ ، وسندہ، صحیحٌ)

*سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ حرام چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہی نہیں ، لہٰذا حرام کے استعمال سے شفا کی توقع کرنا بھی بذات ِ خود ایک گناہ ہے۔*

🌹 نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
کان ابن عمر إذا دعا طبیبا یعالج بعض أصحابہ اشترط علیہ أن لا یداوی بشيء حرّم اللّٰہ عزّوجلّ ۔
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول مبارک تھا کہ جب کسی عزیز کے علاج کے لئے حکیم کو بلاتے تو اس پر یہ شرط عائد کرتے کہ وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں سے علاج نہیں کرے گا۔”
(المستدک للحاکم : ٤/٢١٨ ، وسندہ، صحیحٌ)

*کیسے ممکن ہے کہ ایک رخصت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دی ہو اور صحابہ کرام اس کے بارے میں اتنی سختی کریں کہ دوسروں کو بھی اس کے استعمال کی اجازت نہ دیں*

*قارئین کرام نے دیکھ لیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام حرام و نجس چیز سے علاج کو ممنوع قرار دیتے تھے اور ان کے نزدیک حرام میں شفا کی توقع بھی عبث ہے۔ اگر حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اسے پینے کا حکم نہ دیتے۔ جب حرام میں شفا ہے ہی نہیں بلکہ یہ الٹا خود بیماری ہوتی ہے تو اسے بطور دوا استعمال کرنا کیسی عقل مندی ہے ؟*

*پھر حرام میں شفا تلاش کرنے سے دین اسلام پر بھی زد آئے گی کہ اس میں علاج کے لئے حلال و طیب اشیاء نہیں تھیں ، اس لئے حرام و نجس چیزوں سے علاج مشروع قرار دیا گیا۔ بھلا نجاست اور شفا کی آپس میں کیا مناسبت ؟ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ اونٹ کا پیشاب نجس ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف ضرورت ِتداوی کی بناء پر استعمال کرایا*

🌹امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ
(٢٢٣۔٣١١ھ) اس بات کا ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ولو کان نجساً لم یأمر بشربہ ، وقد أعلم أن لا شفاء فی المحرّم ، وقد أمر بالاستشفاء بأبوال الإبل ، ولو کان نجساً کان محرّماً ، کان دائً لا دوائً ، وما کان فیہ شفاء ، کما أعلم صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم لمّا سئل : أیتداوی بالخمر؟ فقال : (( إنّما ہی داء ، ولیست بدواء ))
”اگر اونٹوں کا پیشاب نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پینے کا حکم نہ دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود بتا دیا تھا کہ حرام میں شفا نہیں، پھر اونٹوں کے پیشاب سے علاج کا بھی حکم دیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو بیماری ہوتا ، دوا نہ بنتا اور اس میں شفا نہ ہوتی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب شراب کو بطور دوائی استعمال کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا : یہ تو بیماری ہے ، شفا نہیں۔
”(صحیح ابن خزیمۃ : ١/٦٠، قبل الحدیث : ١١٥)

🌹امام ابن حبان رحمہ اللہ (م ٣٥٤ھ) شراب کو بیماری قرار دینے والے فرمانِ رسول کو پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ذکر الخبر المدحض قول من زعم أنّ العرنیّین إنّما أبیح لہم فی شرب أبوال الإبل للتداوی ، لا أنّہا طاہرۃ ۔
”اس حدیث کا بیان جو اس شخص کی بات کا ردّ کرتی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ قبیلہ عرینہ والوں کے لیے اونٹوں کا پیشاب پینا بطور دوائی جائز قرار دیا گیا ہے ، اس لیے نہیں کہ وہ پاک تھا۔”
(صحیح ابن حبان : ٤/٢٣١، قبل الحدیث : ١٣٨٩

*اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی کے کپڑوں پر حلال جانوروں کا پیشاب پاخانہ لگ جاتا ہے تو کپڑے ناپاک نہیں ہونگے، وہ نماز پڑھ سکتا ہے، اگر اسکا دل مطمئن نہیں تو وہ دھو لے، اور اگر کسی کو بیماری وغیرہ میں حلال جانوروں کا پیشاب دوا کے لیے پینا پڑ جائے تو وہ علاج کے لیے اونٹ وغیرہ کا پیشاب بھی استعمال کر سکتا ہے ،جیسا کہ اج کل بہت سی ادویات میں گائے وغیرہ کا پیشاب شامل ہوتا ہے*

( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

*کیا خون لگے کپڑوں میں نماز ہو جاتی ہے؟*
(دیکھئے سلسلہ نمبر-65)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں