730

سوال_کھانے پینے کی چیزوں میں اگر مکھی گر جائے تو کیا انکو استعمال کرنا درست ہے ؟ اور مکھی کے علاوہ باقی حشرات کا کیا حکم ہوگا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-154″
سوال_کھانے پینے کی چیزوں میں اگر مکھی گر جائے تو کیا انکو استعمال کرنا درست ہے ؟ اور مکھی کے علاوہ باقی حشرات کا کیا حکم ہوگا؟

Published Date: 27-11-2018

جواب..!
الحمدللہ..!!

🌷ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”جب مکھی کسی کے پینے ( یا کھانے کی چیز ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے ( پر ) میں شفاء ہوتی ہے۔“
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_3320)

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہے۔“
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_5782)

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے ( اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے ) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے ۔
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر_3504)

🌷 ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس لے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے ۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_3844)

🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، پھر نکال کر پھینک دو، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے ۔
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر_3505)

ان تمام احادیث میں ” ذباب” کا لفظ استعمال ہوا ہے،
۱۔ بعض اہل لغت مثلا امام جاحظ کا کہنا یہ ہے کہ ذباب کا لفظ عام ہے اور مکھی کے علاوہ دیگر حشرات الارض مثلا مچھر، بھونڈ وغیرہ کو بھی شامل ہے کہ جس میں بہتا ہوا خون نہ ہو۔

۲۔ اہل علم یعنی فقہا نے قیاسا یعنی مکھی پر قیاس کرتے ہوئے اس سے ملتے جلتے حشرات الارض کا بھی وہی حکم بیان کیا ہے۔ جو مکھی کا ہے،

*کچھ لبڑل حضرات ان احادیث کی وجہ سے سادہ لوح مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہیں کہ یہ کیسا اسلام ہے جو جراثیم والی مکھی کو ڈبو کر پینے کا حکم دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔*

*ان لنڈے کے انگریزوں کے لیے جواب یہ ہے کہ آج سائنس نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے،*

1_ مصر egypt کی مشہور زمانہ یونیورسٹی القاہرة کے ڈاکٹر مصطفی ابراہیم، جنہوں نے اس حدیث کو طبی سائنسی پیمانے پر ثابت کیا ہے یاد رہے یہ ڈاکٹر ماہر امراض حشرات طبیہ ہیں، جنکی تحقیق آپکو گوگل سے آسانی ساتھ مل جائیگی،

2_ اسی طرح ڈاکٹر محمد محسن خاں اس ضمن میں لکھتے ہیں : ” طبی طور پر اب یہ معروف بات ہے کہ مکھی اپنے جسم کے ساتھ کچھ جراثیم اٹھائے پھرتی ہے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے بیان فرمایا جب انسان جدید طب کے متعلق بہت کم جانتے تھے ۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ عضوے ( Organisms ) اور دیگر ذرائع پیدا کئے جو ان جراثیم ( Pathogenes ) کو ہلاک کر دیتے ہیں ، مثلاً پنسلین پھپھوندی اور سٹیفائلو،
کوسائی جیسے جراثیم کو مار ڈالتی ہے ۔

حالیہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مکھی بیماری ( جراثیم ) کے ساتھ ساتھ ان جراثیم کا تریاق بھی اٹھائے پھرتی ہے ۔ عام طور پر جب مکھی کسی مائع غذا کو چھوتی ہے تو وہ اسے اپنے جراثیم سے آلودہ کر دیتی ہے لہٰذا اسے مائع میں ڈبکی دینی چاہئے تا کہ وہ ان جراثیم کا تریاق بھی اس میں شامل کر دے جو جراثیم کامداوا کرے گا ۔

🌹ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے اس موضوع پر جامعۃ الازہر قاہرہ ( مصر ) کے عمید قسم الحدیث ( شعبہ حدیث کے سربراہ ) محمد السمحی کو خط بھی لکھا جنہوں نے اس حدیث اور اس کے طبی پہلوؤں پر ایک مضمون تحریر کیا ہے ۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ماہرین خرد حیاتیات ( Microbiologists ) نے ثابت کیا ہے کہ مکھی کے پیٹ میں خامراتی خلیات ( Yeast Cells ) طفیلیوں ( Parasites ) کے طور پر رہتے ہیں اور یہ خامراتی خلیات اپنی تعداد بڑھانے کے لئے مکھی کی تنفس کی نالیوں ( Repiratory Tubules ) میں گھسے ہوتے ہیں اور جب مکھی مائع میں ڈبوئی جائے تو وہ خلیات نکل کر مائع میں شامل ہو جاتے ہیں ، اور ان خلیات کا مواد ان جراثیم کا تریاق ہوتا ہے جنہیں مکھی اٹھائے پھرتی ہے،
( مختصر صحیح البخاری )
( انگریزی ) مترجم ڈاکٹر محمد حسن خاں ،
ص : 656 حاشیہ : 3 )

🌷اس سلسلے میں ” الطب النبوی صلی اللہ علیہ وسلم لابن القیم “ کے انگریزی ترجمہ : Healing with the Madicine of the Prophet
طبع دارالسلام الریاض میں لکھا ہے :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مکھی خوراک میں گر پڑے تو اسے اس میں ڈبویا جائے ،
اس طرح مکھی مر جائے گی ، بالخصوص اگر غذا گرم ہو ، اگر غذا کے اندر مکھی کی موت غذا کو ناپاک بنانے والی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پھینک دینے کا حکم دیتے اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محفوظ بنانے کی ہدایت کی ۔
شہد کی مکھی ، بھڑ ، مکڑی اور دیگر کیڑے بھی گھریلو مکھی کے ذیل میں آتے ہیں ،
کیوں کہ اس حدیث سے ماخوذ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے ۔
مردہ جانور ناپاک کیوں ہیں ؟
اس کی توجیہ یہ ہے کہ ان کا خون ان کے جسموں کے اندر رہتا ہے ، اس لئے کیڑے مکوڑے یا حشرات جن میں خون نہیں ہوتا وہ پاک ہیں ۔
بعض اطباء نے بیان کیا ہے کہ بچھو اور بھڑ کے کاٹے پر گھریلو مکھی مل دی جائے تو اس شفا کی وجہ سے آرام آ جاتا ہے جو اس کے پروں میں پنہاں ہے ،
اسی طرح اگر گھریلو مکھی کا سر الگ کر کے جسم کو آنکھ کے پپوٹے کے اندر رونما ہونے والی پھنسی پر ملا جائے تو انشاءاللہ آرام آجائے گا
( الطب النبوی : 105,104 )

*اسلام نظافت اور پاکیزگی کا دین ہے۔ رہنے سہنے، کھانے پینے حتیٰ کہ لباس و بود و باش کے سلسلے میں بھی صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
مذکورہ بالا احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی،*
*کہ اگر تمہارے کسی مشروب میں کبھی مکھی گر جائے تو اسے مشروب پر تیرتے رہنے کے بجائے مکمل ڈبو دیں، اس لئے کہ اس کے ایک پر میں بیماری کے جراثیم ہوتے ہیں تو دوسرے میں اس بیماری کا تریاق ہوتا ہے۔ جو بیماری اس کے پر کے مشروب میں گرنے سے لاحق ہو سکتی ہے،*
*اس کے دوسرے پر میں اللہ نے اس کا علاج یعنی شفا رکھی ہے۔ لہٰذا اس کا دوسرا پر بھی مشروب میں ڈبو کر مکھی کو باہر نکال دیں اس طرح وہ مشروب بیماری کے اثرات سے پاک ہو جائے گا۔*
*کسی مشروب کو ناپاک کرنے والی چیز کسی جاندار کا خون ہوتا ہے جن جاندار چیزوں میں خون نہیں یعنی ان کی رگوں میں خون حرکت نہیں کرتا اگر وہ کھانے پینے کی چیزوں میں گر جائیں تو اس سے وہ چیز ناپاک اور نجس نہیں ہوتی جیسے شہد کی مکھی، بھڑ، مکڑی، چیونٹی یا مکھی وغیرہ۔*

*یہ ضروری نہیں کہ مکھی کو ڈبو کر اس مشروب کو پی لیا ،جو نہیں پینا چاہتا چھوڑ دے،مکھی کے گرنے اور اسے ڈبو دینے سے وہ مشروب پاک ہے اور بیماری کے اثر سے محفوظ ہو گیا ہے۔*

*یعنی جس مشروب میں مکھی گری ہو وہ ناپاک نہیں ہوتا، یہ اپنے اپنے مزاج کی بات ہے اگر کوئی مکھی کو ڈبو کر اسے پی لیتا ہے تو وہ مکھی کے بیماری پھیلانے والے اثر سے محفوظ ہو جائے گا اور اگر کوئی کراہت کی وجہ سے نہیں پیتا تو گنہگار نہیں ہو گا،*

*تھوڑا مشروب یعنی ایک کپ چائے یا گلاس شربت اگر استعمال نہ بھی کیا جائے تو کوئی نقصان نہیں لیکن اگر چائے کی دیگ یا شربت کا ڈرم ہو اور اس میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دیا جائے تا کہ وہ بیماری کے اثرات سے پاک ہو جائے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

[[ اگر کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس مشروب یا کھانے کا کیا حکم ہے؟ اور اس برتں کو پاک کیسے کریں..؟؟
دیکھیے سلسلہ نمبر_10 ]]

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں