653

اذان کی آواز سن کر گھر میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-7″
سوال- کیا باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے؟اور کیا اذان کی آواز سن کر بغیر کسی شرعی عذر کے گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

Published Date: 9-11-2017

جواب۔۔!
الحمدللہ۔۔۔!

*نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے،اسکی فضیلت و اہمیت میں بہت سی آیات و احادیث موجود ہیں،مسلمانوں کو جہاں نماز ادا کرنے کا حکم ہے وہیں نماز کو باجماعت ادا کرنے کا بھی حکم ہے، اور بغیر کسی شرعی عذر کے مسلمان مردوں کیلئے جماعت کو ترک کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے*

اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں،

📚أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارۡكَعُوۡا مَعَ الرّٰكِعِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
(سورہ البقرہ آئیت نمبر-43)

📒شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ،
یہ آیت نماز باجماعت ادا کرنے کی فرضیت پر واضح اور صریح دلیل ہے۔اگر مقصود صرف نماز قائم کرناہی ہوتا تو آیت کے آخر میں
((وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ))
’’اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘
کے الفاظ نہ ہوتے ،جو نماز باجماعت ادا کرنے کی فرضیت پر واضح نص ہیں۔
جبکہ نماز قائم کرنے کا حکم تو آیت کے پہلے حصہ ((وَأَقِیْمُوْا الصَّلَاۃ))’’اور نمازوں کو قائم کرو ‘‘ میں ہی موجود ہے۔
(فتاویٰ علماء البلد الحرام،ص173)

*اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں بھی نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے ،جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حالت امن میں بالاولیٰ نماز باجماعت فرض ہے*

📚اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاِذَا كُنۡتَ فِيۡهِمۡ فَاَقَمۡتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَةٌ مِّنۡهُمۡ مَّعَكَ وَلۡيَاۡخُذُوۡۤا اَسۡلِحَتَهُمۡ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَآئِكُمۡ ۖ وَلۡتَاۡتِ طَآئِفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ وَلۡيَاۡخُذُوۡا حِذۡرَهُمۡ وَاَسۡلِحَتَهُمۡ‌ ۚ وَدَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِكُمۡ وَاَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ مَّيۡلَةً وَّاحِدَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ كَانَ بِكُمۡ اَ ذًى مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ كُنۡـتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَكُمۡ‌ ۚ وَ خُذُوۡا حِذۡرَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞
ترجمہ:
اور جب تو ان میں موجود ہو، پس ان کے لیے نماز کھڑی کرے تو لازم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت تیرے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہوجائیں اور دوسری جماعت آئے جنھوں نے نماز نہیں پڑھی، پس تیرے ساتھ نماز پڑھیں اور وہ اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں۔ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا چاہتے ہیں کاش کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامانوں سے غفلت کرو تو وہ تم پر ایک ہی بار حملہ کردیں۔ اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کچھ تکلیف ہو، یا تم بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور اپنے بچاؤ کا سامان پکڑے رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
(سورہ نساء آئیت نمبر-102)

📒امام ابن منذر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ،
کہ اللہ تعالیٰ کا حالت خوف میں نماز باجماعت کا حکم دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حالت امن میں اسکا وجب مزید بڑھ جائے گا،
(الاوسط فی السنن الاجماع والاختلاف جلد4)

📒 امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
کہ اور جماعت کو واجب کہنے والے کا اس آئیت سے استدلال کس قدر خوبصورت ہے، کظ نماز کے بہت سے اعمال سے جماعت کیوجہ سے چشم پوشی کی گئی ہے اگر جماعت واجب نا ہوتی تو ایسا کرنا درست نا ہوتا،
(تفسیر ابن کثیر سورہ نساء آئیت-102)

پتہ یہ چلا کہ اگر کسی کو نماز بلا جماعت ادا کرنے کی اجازت ہوتی تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کو اجازت دیتے جو میدان جنگ میں دشمن کے سامنے صفیں بنائے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں،

__________&__________

*بہت سی احادیث میں بھی نماز باجماعت کی تاکید کی گئی ہے ،چند ایک احادیث ملاحظہ فرمائیں*

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: مساجد اور جماعت کا بیان
باب: ( بلاوجہ ْ) جماعت چھوٹ جانے پر شدید وعید
حدیث نمبر-793
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ
جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہوگی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو
تخریج دارالدعوہ :
(سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥١) ،
(تحفة الأشراف : ٥٥٦٠) (صحیح )

📚حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ”
منافقوں کے لیے سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے ، اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے ، کہ ان (نمازوں میں کتنی خیرو برکت ) ہے تو چاہے انھیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ،وہ  ضرور آئیں۔،
پھر فرمایا میں نے  میں نے ارادہ کیا تھا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں ،
پھر کسی شخص کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے ، اور میں کچھ اشخاص کو ساتھ لے کر ، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں ، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ، اور انک  کے گھروں کو ان پر آگ سے جلا دوں،
(صحیح مسلم،کتاب المساجد، حدیث نمبر،651)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-548)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-791)

📚اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ
وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا ” يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ.
اگر ان میں سے کسی کو یقین ہو کہ مسجد میں آ کر نماز میں حاضری سے انہیں فربہ ہڈی
( گوشت سے بھری ہوئی ہڈی )ملے گی تو وہ نماز  میں ضرور حاضر ہو جائے گا،
(صحیح مسلم، کتاب المساجد،651)

📚اور مسند احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ
لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ لَأَقَمْتُ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ ”
یعنی اگر مجھے عورتوں اور بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دیتا جو نماز کے لیے مسجد نہیں آتے،
(مسند احمد،ج2_ص367/ حدیث نمبر-8796)
حكم الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: ترک جماعت پر وعید
حدیث نمبر: 552
عبداللہ بن ام مکتوم (رض) نے  نبی اکرم  ﷺ  سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ !
إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏شَاسِعُ الدَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً
میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی (مسجد سے)   دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے ؟ آپ  ﷺ  نے فرمایا :  کیا تم اذان سنتے ہو ؟ ، انہوں نے کہا : ہاں، آپ  ﷺ  نے فرمایا :  (پھر تو)   میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا ۔  
تخریج دارالدعوہ : 
(سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٧ (٧٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٨٨) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥١) ، مسند احمد (٣/٤٢٣) (حسن صحیح  )

📚حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،کہ
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت بیماری کی حالت میں دو لوگوں کا سہارا لے کر آپ مسجد میں نماز  کے لیے گئے،اس حال میں کہ آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے،
(صحیح بخاری،کتاب الاذان، حدیث نمبر،713)

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: ترک جماعت پر وعید
حدیث نمبر: 550
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں،
حَافِظُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَفَرْتُمْ.
  تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم  ﷺ  کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کردیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم  ﷺ  کا طریقہ ترک کردیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم  ﷺ  کا طریقہ ترک کردیا تو کافروں جیسا کام کیا۔  
تخریج دارالدعوہ : 
(صحیح مسلم/المساجد ٤٤ (٦٥٤)
بلفظ : ” ضللتم “ ،( سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٠٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٤ (٧٨١) ، مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٤) (صحیح  )

*ان احادیث مبارکہ سے یہ باتیں سمجھ آئیں کہ،*

1.نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے،

2۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس حکم پر اس قدر عمل کرتے کہ  نابینا آدمی بھی مسجد میں حاضر ہو کر نماز پڑھتا،

3۔ بیماری اور کمزوری کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے مسجد آنا اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت اور مسجد کی بے حد تاکید اور فضیلت ہے،

4. اگر کوئی بیمار بھی ہوتا جو چل نہیں سکتا تھا تو وہ بھی دو لوگوں کا سہارا لے کر مسجد حاضر ہو جاتا،

5.بلا وجہ، بغیر کسی عذر کے، نماز،جماعت سے پیچھے رہنے والے کو صحابہ کرام منافق سمجھتے تھے،

*فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنے کی کافی تاکید اور فضیلت ہے،اور خاص کر وہ لوگ جو مسجد کے اتنے قریب ہیں کہ جنکو اذان کی آواز سپیکر کے بغیر سنائی دیتی وہ بلا عذر گھر میں نماز نہ ادا کریں،بلکہ مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کریں*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚سوال- نماز جمعہ کن پر فرض ہے؟ کیا جمعہ کی نماز کیلئے شہر/آبادی یا لوگوں کی تعداد کی کوئی شرط موجود ہے؟ نیز جمعہ صرف مسجد میں ادا کر سکتے یا ضرورت کے تحت کسی اور جگہ جیسے کھیت،ڈیروں یا گھروں وغیرہ میں بھی جمعہ کا اہتمام کر سکتے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-328))

📚سوال-کرونا وائرس/یا کسی اور وبائی مرض کے پھیلنے کے خوف سے جماعت /جمعہ یا مصافحہ چھوڑنا کیسا ہے؟ اور کیا یہ عمل توکل الی اللہ کے خلاف ہے؟  نیز مؤذن کا اذان میں یہ کلمات کہنا کہ “گھروں میں نماز پڑھو” صرف بارش کیلئے ہے یا کسی اور وجہ سے بھی یہ کلمات کہے جا سکتے ہیں؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-324))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں