418

سوال- تین یا چار رکعات والی نماز کے درمیانی تشہد میں درود اور دعا پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-132”
سوال- تین یا چار رکعات والی نماز کے درمیانی تشہد میں درود اور دعا پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

Published Date:28-10-2017

جواب..!
الحمدللہ..!

*اس مسئلہ میں بھی علماء کا اختلاف ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ تشہد درمیانی ہو یا آخری دونوں تشہد میں درود اور دعا پڑھنا ضروری اور مسنون ہے،کیونکہ یہی سنت طریقہ ہے*

*سن 5 ھجری سے پہلے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نماز میں پہلے اور دوسرے قعدہ میں تشہد کے بعد صرف دعائیں پڑھا کرتے تھے،*

جیسا کہ ان احادیث سے وضاحت ملتی ہے،
جو بخاری و مسلم )میں حدیث موجود ہے کہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام کو تشہد پڑھنے کا طریقہ سکھایا تو تشھد کے بعد دعا مانگنے کا حکم بھی دیا،

🌷عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،
جب ہم ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔
اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو
«التحيات لله،‏‏‏‏ والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين‏.‏» الخ
پڑھا کرے۔
کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله‏.‏»
*اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔*
[بخاری کتاب استشذان باب السلام من اسماٗ اللہ تعالی (6230٫835)
(مسلم کتاب الصلاۃ باب التشھد فی الصلوۃ (402) ]

🌷سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا :
’’ جب تم ہر دو رکعتوں کے بعد بیٹھو،
تو یہ کہو :
التحيات للہ، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبى ورحمة اللہ وبركاته، السلام علينا وعلٰي عباد اللہ الصالحين، أشهد أن لا إلٰه إلا اللہ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله،
پھر ہر شخص وہ دعا منتخب کرے، جو اسے زیادہ محبوب ہو اور اس کے ذریعے اپنے ربّ عزوجل سے مانگے۔
“[مسند الإمام أحمد : 437/1،)
(مسند الطيالسي : 304،)
( سنن النسائي : 1164،)
( المعجم الكبير للطبراني/ 47/10، 9912)
(شرح معاني الآثار للطحاوي : 237/1، وسنده صحيح]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ[720] اور امام ابن حبان [1951]رحمہ اللہ نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

*ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام قعدہ میں تشہد اور دعا پڑھا کرتے تھے ۔خواہ تشہد درمیانی ہو یا آخری کیونکہ تخصیص کی کو ئی دلیل نہیں ہے*

*پھر ’’5‘‘؁ ھجری میں*
*(سورۃ الاحزاب آئیت نمبر 56) نازل ہونے کے بعد تشہد اور دعا کے درمیان صلوۃ (درود) کا اضافہ کیا گیا*

جسکے دلائل یہ ہیں،

*دلیل نمبر-1*
🌷بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا,
(سورہ الأحزاب،آئیت نمبر-56)

*قرآن کی اس آئیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،اور اس آیت مبارکہ کا حکم عام ہے اور یہ نماز کو بھی شامل ہے،یہی وجہ ہے کہ جب یہ ائیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم نماز میں سلام تو پہلے ہی سیکھ چکے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں،(یعنی تشہد), لیکن اس آئیت میں جو حکم صلوٰۃ بھیجنے کا ہے وہ صلاة ہم کیسے پڑھیں؟* چنانچہ

🌷ابو مسعود عقبہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَ یَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَ نَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! اَمَّا السَّلَامُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ فَکَیْفَ نُصَلِّيْ عَلَیْکَ إِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِيْ صَلَاتِنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ ؟ قَالَ فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ حَتّٰی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْأَلْہُ فَقَالَ إِذَا أَنْتُمْ صَلَّیْتُمْ عَلَيَّ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَ آلِ إِبْرَاھِیْمَ وَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ )
کہ”
ایک آدمی آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا اور ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے، اس نے کہا : ” یا رسول اللہ ! آپ پر سلام کو تو ہم جان چکے ہیں،
*اب ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟،کہ جب ہم اپنی نمازوں میں صلاۃ بھیجیں، تو اللہ تعالیٰ آپ پر صلاۃ نازل فرمائے؟*
“ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ یہ شخص یہ سوال نہ کرتا کہ اتنے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم مجھ پر صلاۃ بھیجو تو اس طرح کہو۔ “
اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد‘‘
[ مسند أحمد :، حدیث نمبر : 17076)
[ سنن دار قطنی کتاب الصلاۃ/
باب ذکر وجوب الصلاۃ علی النبی فی التشھد (1339)]
تشھد کے اندر نبی پر درود پڑھنے کے وجوب کا باب

🌷اسی طرح صحیح مسلم میں ایک روایت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادۃ کی مجلس میں بیٹھے ہو ئے تھے کہ رسو ل اللہ ﷺ تشریف لائے تو بشیر بن سعد (رض) نے سوال کیا کہ ’’
أمرنا الله تعالى أن نصلي عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا أنه لم يسأله ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قولوا اللهم صل على محمد وعلى آل محمد۔۔۔۔۔( آخر تک)
اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آ پ ﷺ پر صلاۃ بھیجیں تو ہم کیسے آپ ﷺ پر درود بھیجیں؟
نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم تمنا کر نے لگے کہ آ پ سے سوال نہ کر نا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو ’ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ۔۔۔۔الخ
[مسلم کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ علی النبی بعد التشہد(405)]

*ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کا حکم اللہ نے سورہ احزاب میں دیا ہے اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے طریقہ درود سیکھا تو آپ نے انہیں نماز کا درود (درود ابراہیمی ) سکھایا*

اس میں صراحت موجود ہے، کہ جس طرح تشہد میں سلام پڑھا جاتا ہے۔اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا؛ جسکے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درود ابراہیمی پڑھنے کاحکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیے۔ اور اس کا مقام تشہد ہے۔ اور حدیث میں یہ عام ہے، اسے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے اور اس سے یہ استدلال کرنا بالکل صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے) دونوں تشہد میں جہاں سلام پڑھا جاتا ہے۔ وہاں درود بھی پڑھا جائے،
۔لہذا یہ ثابت ہوا کہ نماز میں تشہد کے بعد درود پڑھنا اللہ کا حکم ہے اور یہ فرض ہے،

*نبی کریم ﷺ بھی نماز میں درمیانے اور آخری دونوں قعدوں میں تشہد کے بعد درود پڑھا کر تے تھے جس پر درج ذیل حدیث دلالت کر تی ہیں*

🌷 *دلیل نمبر-2*
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ،
كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، وَيَحْمَدُ اللَّهَ، وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ، وَلَا يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ – وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا – وَيَحْمَدُ اللَّهَ، وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے ( پھر ) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اور اللہ کی حمد کرتے، اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے، اور کوئی سلام نہ پھیرتے، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے، اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے، اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے،
(سنن نسائی،حدیث نمبر-1720٫ -1721)

*دلیل نمبر-3*
🌷دوسری جگہ پر اس طرح کے الفاظ ہیں کہ عائشہ رض بیان کرتی ہیں کہ ہم مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے تو جب اللہ کی مرضی ہو تی آپﷺ کو رات کے وقت بیدار فرمادیتا تو آپﷺ مسواک فرماتے پھر نو(9) رکعتیں پڑھتے ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے اللہ سے دعا مانگتے درود پڑھتے پھر کھڑے ہو جاتے سلام نہ پھرتے پھر نویں (9) رکعت پڑھتے اس کے آخر میں بیٹھتے اللہ کی حمد بیان کرتے اس کے نبی ﷺ پر درود بھیجتے اور دعا مانگتے پھر سلام پھیردیتے ۔۔
[سنن البيهقي کتاب الصلاۃ باب في قیام اللیل (2/499/4822)،
(مسند ابی عوانہ،ج2/ص324)

*دلیل نمبر-4*
🌷 علامہ البانی رحمہ اللہ اس حدیث 👆 کی شرح میں فرماتے ہیں،
کہ یہ حدیث واضح دلالت کرتی ہے کہ،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے پہلے تشہد میں خود پر اسی طرح درود پڑھا جس طرح آخری تشہد میں پڑھتے تھے،اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ صرف نفل نماز کے ساتھ خاص ہے بلکہ جو چیز ایک نماز سے ثابت ہو جاتی ہے وہ تمام فرض و نوافل کو بھی لاگو ہو گی، اگر کوئی اسکو نفل کے ساتھ خاص کریگا تو وہ دلیل دے گا،
(تمام المنة،224صفحہ تا 2256 )

*دلیل نمبر-5*
🌷 جلیل القدر صحابی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی پہلے قعدہ میں تشہد سے زائد پڑھتے تھے۔
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔
[الام : 1ج/ص 117]

*دلیل نمبر-6*
🌷 شرح صحیح مسلم کے مصنف امام نووی رحمہ اللہ نے مجموعہ (ج۳_۴۶۰ص) میں لکھا ہے کہ شافعیہ کے یہاں یہی صحیح ہے۔ اور روضہ (1ج_۲۶۳ص) میں اسی کو اظہر قرار دیا ہے،
اور ابن رجب نے طبقات الحنابلہ (1ج_۲۸۰ص) میں اسے وزیر ابن ہبیرہ حنبلی کا مذہب مختار بتایاہے، اور ابن رجب نے خود بھی اس سے اپنی رضا کا اظہار کیا ہے،

*تو ان تمام دلائل سے پتا چلا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپکے صحابہ کرام پہلے اور دوسرے دونوں تشہد میں درود اور دعائیں پڑھا کرتے تھے، اور یہی سنت طریقہ ہے،اور اسی پر عمل کرنا چاہیے، اور جو شخص بھی پہلے یا دوسرے تشہد میں درود یا دعائیں نہیں پڑھتا ایک تو وہ قرآن کی اس آیت پر عمل نہیں کرتا جس میں سلام اور درود پڑھنے کا حکم ہے، کیونکہ صرف تشہد پڑھنے سے (سلموا )سلام کہنے پر تو عمل ہو جائے گا مگر اسی آئیت کے دوسرے حکم صلو(درود پڑھو ) پر عمل نہیں ہو گا، اور یقیناً ایسا آدمی سنت کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسکی نماز میں نقص پیدا ہو جائے گا،*

*لہذا _ پہلے قعدہ میں صرف تشہد پڑھنا اور درود ،دعائیں چھوڑ دینا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں،اس بارے جتنی روایات ہیں سب یا تو کمزور ہیں یا دلیل بننے کے لائق نہیں اور اگر کسی صحیح حدیث میں پہلے تشہد کے بعد درود کا ذکر نہیں بھی ہے تو ہم سمجھیں گے کہ وہ سن 5 ھجری سے پہلے کی نماز ہے کیونکہ درود کا حکم 5 ھجری میں نازل ہوا تھا،جیسا کہ اوپر👆 ہم نے تفصیلاً یہ بات پڑھی ہے*

__________________&&&__________

*جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے تشہد کے ساتھ درود نہیں پڑھنا چاہیے انکے دلائل کا جائزہ*👇👇

🚫1_ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھتے)، تو (بہت جلد اٹھنے کی وجہ سے)ایسے لگتا کہ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 386/1)
( سنن أبي داوٗد : 995،)
(سنن النسائی : 1177، )
(سنن الترمذي : 366)
اس کی سند ’’مرسل‘‘ ہونے کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ ابو عبیدہ کا اپنے والد سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وَالرَّاجِحُ أَنَّہٗ لَا یَصِحُّ سَمَاعُہٗ مِنْ أَبِیہِ ۔
’’راجح بات یہی ہے کہ ابو عبیدہ کا اپنے والد ِگرامی سے سماع ثابت نہیں۔‘‘
(تقریب التہذیب : 8231)
نیز فرماتے ہیں : فَإِنَہٗ عِنْدَ الْـأَکْثَرِ لَمْ یَسْمَع مِنْ أَبِیہِ ۔
’’جمہور اہل علم کے نزدیک انہوں نے اپنے والد ِگرامی سے سماع نہیں کیا۔‘‘
(موافقۃ الخبر الخبر : 364/1)
لہٰذا امام حاکم رحمہ اللہ (296/1)کا اس روایت کو ’’امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح‘‘ قرار دینا صحیح نہیں۔
اس روایت کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَہُوَ مُنْقَطِعٌ، لِأَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِیہِ ۔
’’یہ روایت منقطع ہے،کیونکہ ابو عبیدہ نے اپنے والد ِگرامی سے سماع نہیں کیا۔‘‘
(التلخیص الحبیر : 263/1، ح : 406)

دوسری بات یہ ہے کہ اس سے پہلے تشہد میں دورد پڑھنے کی نفی نہیں ہوتی،بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلا تشہد،دوسرے سے چھوٹا تھا۔یعنی پہلا تشہد درود سمیت بھی دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا ہو سکتا ہے۔

علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250-1173ھ)لکھتے ہیں :
وَلَیْسَ فِیہِ إِلَّا مَشْرُوعِیَّۃُ التَّخْفِیفِ، وَہُوَ یَحْصُلُ بِجَعْلِہٖ أَخَفَّ مِنْ مُّقَابِلِہٖ ۔
’’اس حدیث میں صرف پہلے تشہد کو چھوٹا کرنے کی مشروعیت ہے اور وہ تو اسے دوسرے تشہد کے مقابلے میں چھوٹا کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔‘‘
(نیل الأوطار : 333/2)

🚫2_ تمیم بن سلمہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
کَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا جَلَسَ فِي الرَّکْعَتَیْنِ؛ کَأَنَّہٗ عَلَی الرَّضْفِ، یَعْنِي حَتّٰی یَقُومَ ۔
’’امیر المومنین،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے،تو یوں ہوتے جیسے گرم پتھر پر ہوں،حتی کہ اٹھ جاتے۔‘‘(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 295/1)
اس کی سند بھی ’’انقطاع‘‘کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ہے، کیونکہ تمیم بن سلمہ کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
لہٰذا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخیص الحبیر : 263/1، تحت الحدیث : 406)کا اس کی سند کو ’’صحیح‘‘قرار دینا صحیح نہیں۔

🚫3_ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے :
مَا جُعِلَتِ الرَّاحَۃُ فِي الرَّکْعَتَیْنِ إِلَّا لِلتَّشَہُّدِ ۔
’’دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کا موقع صرف تشہد پڑھنے کے لیے ہے۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 295ص/ج1)
اس کی سند بھی ’’ضعیف‘‘ہے،کیونکہ عیاض بن مسلم راوی ’’مجہول الحال‘‘ہے۔ سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ
(الثقات : 265/5)کے کسی نے اس راوی کی توثیق نہیں کی۔

🚫4 _امام حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے :
لَا یَزِیدُ فِي الرَّکْعَتَیْنِ الْـأُولَیَیْنِ عَلَی التَّشَہُّدِ ۔
’’نمازی دو رکعتوں کے بعد تشہد سے زیادہ نہ پڑھے۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 296/1)
یہ قول امام حسن بصری رحمہ اللہ سے ثابت نہیں،کیونکہ حفص بن غیاث ’’مدلس‘‘ہے اور اس نے امام موصوف سے سماع کی کوئی صراحت نہیں کی۔
نیز اس سند میں اشعث راوی کا تعین بھی درکار ہے۔

🚫5_امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مَنْ زَادَ فِي الرَّکْعَتَیْنِ الْـأُولَیَیْنِ عَلَی التَّشَہُّدِ؛ فَعَلَیْہِ سَجْدَتَا سَہْوٍ ۔
’’جس شخص نے دو رکعتوں کے بعد تشہد کے علاوہ کچھ اور پڑھ لیا،اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہو جائیں گے۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 296/1، وسندہٗ صحیحٌ)
امام شعبی رحمہ اللہ کا یہ اجتہاد بے دلیل اور صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے خطا پر مبنی ہے۔

🚫6_ عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يزيد في الركعتين على التشهد
[مسند ابی یعلی 7/337(4373)]
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتوں ( یعنی درمیانے تشہد میں ) تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھتے :

یہ روایت بھی انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، اس میں ابو الجوزاء کا عائشہ صدیقہ رض سے سماع ثابت نہیں،
دیکھیے
[ تہذیب التہذیب 1/ 335(702)]

*دعا ہے کہ اللہ پاک صحیح معنوں میں ہمیں دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں،آمین ثم آمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ

http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//

https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں