1,021

سترہ کسے کہتے ہیں؟ اسکی اونچائی کتنی ہو؟ اور نمازی اور سترہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟ اور اگر نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو کن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-6″
سوال_ سترہ کسے کہتے ہیں؟ اسکی اونچائی کتنی ہونی چاہیے؟ نمازی اور سترہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟ کیا مقتدی اور امام دونوں کیلئے سترہ ضروری؟ اور اگر نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو کتنے فاصلے سے گزر سکتے ہیں؟ نیز سترہ نا ہو تو کن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

Published Date: 8-11-2017

جواب۔۔!!
الحمدللہ۔۔!!

*ایسی لکڑی،ستون یا دیوار وغیرہ جسکے پیچھے کھڑا ہو کر نمازی نماز ادا کرتا اسکو سترہ کہتے ہیں*

*سترہ کی مقدار*

📚طلحہ بن عبید اللہ رضی ﷲ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إِذَا جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤخِرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّكَ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ ”
جب تو اپنے آگے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصہ کے برابر کو ئی چیز کر لے تو تیرے آگے سے گزرنے والا تجھے کو ئی نقصان نہ دیگا۔
(سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ،حدیث نمبر-685)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-499)

📒عطاء بن ابی رباح  فرماتے ہیں:
آخِرَةُ الرَّحْلِ : ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ.
اونٹ کے کجاوے کا پچھلا حصہ ذراع یا اس سے زیادہ (اونچا)ہوتا ہے ۔
[سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلي، (686)

اور ذراع :
ہتھیلی کو کھول کر کہنی تک کا حصہ ذراع کہلاتا ہے،اور یہ تقریباً ڈیڑھ فٹ بلند چیز رکھے تو وہ اس کا سترہ بن سکے گی،اس سے کم اونچائی والی چیز سترہ کا کا م نہیں دیتی،

*اور واضح رہے سترہ اونچائی والا ہوتا ہے
لمبائی چوڑائی والی چیز سترہ نہیں بن سکتی،*

📚امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
سترہ طول میں ہونا چاہیے نا کہ عرض( چوڑائی ) میں،
(سنن ابن حبان قبل الحدیث 2377)

*کسی بیٹھے یا لیٹے انسان کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے*

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے؟
حصرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ
نبی کریم  ﷺ  نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ  ﷺ  کے اور آپ  ﷺ  کے قبلہ کے درمیان  (سامنے)  چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 511)

*اسی طرح کسی جانور کو بھی سترہ بنا سکتے ہیں،*

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 692
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف کر کے اس کی آڑ میں نماز پڑھتے تھے۔  
( صحیح مسلم/الصلاة (502)
( سنن الترمذی/الصلاة (352)

*ایک روایت میں خط کھینچنے کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ ”
جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے ( بطور سترہ ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑھ لے،
اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر ( خط ) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔
(سنن بي داؤد حدیث نمبر_689)
یہ روایت ضعیف ہے،
اس کی سند میں ابو عمر وبن محمد بن حرُیث اور اس کا دادا حُریث مجہول ہیں ۔ لہٰذا یہ روایت ساقط الاعتبار ہے۔اس لیے خط کھینچنا سترہ سے کفایت نہ کرے گا

*اور جو لو گ بطور سترہ اینٹ یا کوئی اور چیز جو ڈیڑھ فٹ سے چھوٹی ہو،رکھ کر نماز پڑھتے ہیں،ان کی نماز بغیر سترہ ہے کیو نکہ سترہ کی شرعی مقدار «الذراع فما فوقہ» بیان کی گئی ہے*

_________&__________

*سترہ اور نمازی کے درمیان فاصلہ*

📚ابو سعید خدری رضی ﷲ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا ”
جب تم میں سےکوئی ایک نماز پڑھے تو وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔
(سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ،حدیث نمبر-698)

📚سہل بن سعد رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ
رسول اللہ ﷺ کے سجدہ کرنے والی جگہ اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی تھی۔
(صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب قدر کم ینبغی أن یکون بین المصلی والسترۃ_496)

*درج بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ*

1 نمازی سترہ کا اہتمام کر ے،
2 اس کے قریب کھڑا ہو ۔،
3 سترہ کی اونچائی کم از کم ڈیڑھ فٹ ہو،
4 سترہ اور نمازی کے سجدہ والی جگہ کے درمیان  زیادہ سے زیادہ بکری کے گزر سکنے کی جگہ ہو،،

____________&_________

*نمازی کے سامنے سترہ نا ہو تو اس کے سامنے سے گزرنے کا گناہ*

📚زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟
ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ
لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْه،
اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے کی بجائے چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا،
ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال
(صحیح بخاری حدیث نمبر-510)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-507)

اس حدیث سے پتہ چلا کہ نمازی کے سامنے سترہ نا ہو تو اسکے سامنے سے نہیں گزرنا چاہیے،

_________&_______

*اگر سترہ سامنے رکھا ہو اور پھر بھی کوئی شخص نمازی اور سترے کے درمیان سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسکو روکنا چاہیے*

📚فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،
ﻻَ ﺗُﺼَﻞِّ ﺇِﻻَّ ﺇِﻟَﻰ ﺳُﺘْﺮَﺓٍ، ﻭَﻻَ ﺗَﺪَﻉْ ﺃَﺣَﺪًا ﻳَﻤُﺮُّ ﺑَﻴْﻦَ ﻳَﺪَﻳْﻚَ، ﻓَﺈِﻥْ ﺃَﺑَﻰ ﻓَﻠْﺘُﻘَﺎﺗِﻠْﻪُ؛ ﻓَﺈِﻥَّ ﻣَﻌَﻪُ اﻟْﻘَﺮِﻳﻦَ
سترہ کے بغیر نماز نہ پڑھو، اور کسی کو نماز کے دوران اپنے آگے سے گزرنے نہ دو،اگر وہ روکنے پر بھی نہ رکے تو اس سے لڑائی کرو کیوں کہ اسکے ساتھ شیطان ہے،
(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر ،800)
(صحیح مسلم، حدیث نمبر،506)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-955)

📚 ابوصالح سمان نے، کہا میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ کسی چیز کی طرف منہ کئے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے۔ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا۔ اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا۔ اب ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا۔ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا۔ اس کے بعد ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے گئے۔ مروان نے کہا اے ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے۔ اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اسے لڑنا چاہیے۔ کیونکہ وہ شیطان ہے،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-509)

*اس حدیث سے پتا چلا کہ نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والے کو ہاتھ پھیلا کے اشارے وغیرہ سے روک سکتا ہے،اگر کوئی اشارہ سے نہ رکے تو اسے سختی سے ہاتھ سے پیچھے ہٹائے*

__________&___________

*اگر نمازی کے سامنے سترہ نا ہو تو جن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے*

📚حضرت ابو ذر ( غفاری ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
:إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ “. قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ ؟ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ : ” الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ ”
جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو گی تو وہ اسے سترہ مہیا کرے گی ، اور جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو گی تو گدھا ، (بالغ) عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو قطع کریں گے ۔
‘ ‘ میں نے کہا : اے ابو ذر! سیاہ کتے کی لال کتے یا زرد کتے سے تخصیص کیوں ہے؟
انہوں نے کہا : بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا : سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔
(صحیح مسلم،حدیث نمبر،510)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-338)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-702)

*انکے علاوہ اور کسی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی،اگر ان تینوں میں سے کوئی چیز گزر گئی تو نماز ٹوٹ جائیگی اور دوبارہ پڑھی جائیگی*

___________&______

*اگر باجماعت نماز پڑھ رہیں ہوں تو امام کا سترہ مقتدیوں کو کفائیت کر جائے گا،*

یعنی اگر امام کے آگے سترہ ہو تو باقی نمازیوں کو سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں،اور اگر سترہ رکھنے کے بعد امام کے سامنے سے کوئی گزر جائے تو امام اور مقتدیوں کی نماز پر کوئی اثر نہیں ہو گا،

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے۔
عون بن ابی حجیفہ نے اپنے باپ  (وہب بن عبداللہ)  سے سنا کہ  نبی کریم  ﷺ  نے لوگوں کو بطحاء میں نماز پڑھائی۔ آپ  ﷺ  کے سامنے عنزہ  (ڈنڈا جس کے نیچے پھل لگا ہوا ہو)  گاڑ دیا گیا تھا۔  (چونکہ آپ  ﷺ  مسافر تھے اس لیے)  ظہر کی دو رکعت اور عصر کی دو رکعت ادا کیں۔ آپ  ﷺ  کے سامنے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر 495)

*اسی طرح اگر کوئی مقتدیوں کی صف کے بعض حصے سے گزر جائے تو کوئی حرج نہیں،*

📚عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ  میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا۔ رسول اللہ  ﷺ  منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ لیکن دیوار آپ  ﷺ  کے سامنے نہ تھی۔ (یعنی دیوار کے علاوہ کوئی اور چیز بطور سترہ تھی ) میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہوگیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔
(بخاری حدیث نمبر: 493)

*اس حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ امام مقتدیوں کا سترہ ہے،اگر کوئی شخص مقتدیوں کی صف سے گزرے تو نماز پر کوئی اثر نہیں ہوتا*

__________&__________

*نمازی کے سامنے سترہ نا ہو تو کتنا فاصلہ چھوڑ کر اسکے سامنے سے گزر سکتے ہیں*

اس مسئلہ میں علماء کے اندر اختلاف ہے، صحیح بات یہی ہے کہ اگر نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو رسول اللہ ﷺ نے نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع فرمایا ہے اور اسکی کوئی مسافت متعین نہیں فرمائی۔

📚 ابو جہیم عبداللہ بن حارث الأنصاری فر ماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَوْ يَعْلَمُ المَارُّ بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ»
اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو جائے کہ اس پر کتنا گنا ہ ہے تو اس کے لئے چالیس ( دن ،مہینے ،یا سال ) تک کھڑا ر ہنا گزرنے سے بہتر ہو گا۔
(صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب إثم المار بین یدي المصلي، حدیث نمبر-510)

درج بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی حالت میں نمازی اور سترہ کے درمیان سے یا اگر سترہ موجود نہ ہو تو نمازی کے آگے سے نہ گزرا جائے۔ یاد رہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی یہ ممانعت مطلقاً ہے۔ گزرنے والا خواہ کئی میلوں کے فاصلے سے بھی گزرے، اسے اتنا گناہ ہے جتنا کہ قریب سے گزرنے والے کے لئے ہے ۔ لیکن کچھ لوگ اس ممانعت کو ایک صف یا چند صفوں تک کے فاصلہ سے محدود کر دیتے ہیں جس پہ انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہے،

📒ںعض علماء فرماتے ہیں کہ
پتھر پھینکنے کے فاصلے کے بقدر  جگہ چھوڑ کر گزرنا جائز ہے،
دلیل میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں،

📒[عن عبدالله بن عباس:] إذا صلّى أحدُكُم إلى غَيرِ سُترةٍ فإنَّهُ يقطعُ صلاتَهُ الكلبُ والحمارُ والخنزيرُ واليَهوديُّ والمجوسيُّ والمرأةُ ويجزئُ عنهُ إذا مرُّوا بينَ يدَيهِ على قذفةٍبِحَجرٍ
(الألباني (١٤٢٠ هـ)، ضعيف أبي داود ٧٠٤ • ضعيف
(ابن الملقن (٧٥٠ هـ)، الإعلام ٣/٣٢١ • ضعيف)
یہ روایت ضعیف ہے اور دلیل نہیں بن سکتی،

📒بعض اہم علم اس مسافت کی تحدید کرتے ہیں کہ نمازی کا حق سجدہ والے مقام تک ہے ،جہاں وہ نماز ادا کر رہا ہے،اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو مشقت میں ڈالتا رہے ،لہذا سجدہ والی جگہ چھوڑ کر آگے سے گزرا جا سکتا ہے۔،
شیخ صالح العثیمین نے مقام سجدہ کی تحدید والے قول کو ترجیح دی ہے،

📒اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے فتوے کا خلاصہ یہ ہے کہ،
اس مسئلہ میں جتنے اقوال منقول ہیں ان میں راجح قول یہ ہے کہ اگر نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو آگے سے گزرنے کی حد تین ذراع ( تقریباً ساڑھے چار فٹ ) ہے ، یا اگر سترہ ہے تو سترے کے آگے قبلہ کی طرف سے گزرنا بھی جائز ہے ،
اس شرعی حکم کی بنیاد پیغمبر اکرم ﷺ کا عمل ہے کہ آپ نے جب کعبہ میں نماز پڑھی تو آپ نے اپنے اور کعبہ کی مغربی دیوار تین ذراع کا فاصلہ رکھا ، اس لئے اہل علم کہتے ہیں کہ نمازی کے قدم سے سامنے تین ذراع کا فاصلہ رکھ کر گزرنا جائز ہوگا ،

(https://binbaz.org.sa/fatwas/17140/المسافة-التي-يحرم-فيها-المرور-بين-يدي-المصلي)

📒اسی طرح بعض لوگوں کو سنا کہ وہ حدیث میں موجود الفاظ ” بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي” سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نمازی کا ہاتھ جہاں تک پہنچتا ہے وہاں تک گزرنا منع ہے۔ اس سے آگے سے گزرنا منع نہیں ہے۔
لیکن انکا یہ استدلال باطل ہے۔
کیونکہ عربی زبان میں “بین یدیہ” کا معنى سامنے ہوتا ہے خواہ جتنا بھی دور کیوں نہ ہو۔

اسکی دلیل قرآن مجید کی یہ آیات ہیں :

📖لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ
اسکے لیے اسکے آگے اور اسکے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں , جو اللہ کے حکم سےاسکی حفاظت کرتے ہیں۔
سورۃ الرعد:11

📖 وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ اور جنوں میں سے کچھ اسکے سامنے اسکے رب کے حکم سے کام کرتے تھے۔
سورۃ سبأ: 12

📖لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ باطل اس (قرآن) کے نہ تو آگے سے آ سکتا ہے اور نہ اسکے پیچھے سے , یہ نہایت حکمت والے بہت تعریف شدہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
سورۃ فصلت: 42

ان اور ان جیسی دیگر آیات میں لفظ ” بَيْنَ يَدَيِہ” استعمال ہوا ہے جسکا معنى “ہاتھوں کے درمیان” نہیں بلکہ “سامنے” کیا جاتا ہے اور یہی معنى عربی لغت کی رو سے درست ہے۔ لہذا حدیث میں مذکور الفاظ بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي کا بھی معنى “نمازی کے ہاتھوں کے درمیان” کی بجائے “نمازی کے سامنے” کرنا ہی صحیح ہوگا۔

*غرض کہ اس بارے علماء کے جتنے بھی اقوال ہیں کسی ایک کے پاس بھی ایسی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ اتنا فاصلہ چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزر سکتے ہیں، لہذا کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ  نمازی اور اسکے سترے کے درمیان سے گزرے اور نا ہی سترے کی عدم موجود گی میں نمازی کے آگے سے گزرے،خواہ فاصلہ جتنا بھی ہو*

_______&________

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں