467

سوال_ دوران نماز آنکھیں بند رکھنا، آسمان کی طرف دیکھنا یا ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟ اور رکوع، سجدے اور تشہد کی حالت میں میں نظر کہاں ہونی چائے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-107”
سوال_ دوران نماز آنکھیں بند رکھنا، آسمان کی طرف دیکھنا یا ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟ اور رکوع، سجدے اور تشہد کی حالت میں میں نظر کہاں ہونی چائے؟

Published Date:25:10-2018

جواب!!
الحمدللہ!!

*نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا جائز نہیں*

🌷ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آئیت اتاری،
الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ
وہی لوگ(کامیاب ہیں) جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔( المؤمنون،2)
تو اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر مبارک جھکا لیا کرتے تھے،
(مستدرک حاکم،ج2/ص393-ح3483)
(فتح الباري لابن حجر ٢/٢٧١ • مرسل ورجاله ثقات)

🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
لوگوں کو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ضرور رک جانا چاہیے ورنہ انکی بینائی جاتی رہے گی،
(صحیح مسلم،کتاب الصلاۃ،428)

*نماز میں ادھر ادھر دیکھنا بھی درست نہیں*

🌷عائشہ صدیقہ رض کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ڈاکہ ہے جو شیطان بندے کی نماز پر ڈالتا ہے،
(صحیح البخاری،حدیث۔نمبر-751)

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-909)

*نماز میں آنکھیں بند رکھنا بھی درست نہیں*

🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں آنکھیں کھول کے رکھتے تھے،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-374)

🚫 *سوشل میڈیا پر اکثر لوگ ایک پوسٹ شئیر کر رہے ہوتے ہیں کہ نماز میں نظر قیام کی حالت میں سجدے کی جگہ، رکوع میں پاؤں کے درمیان، تشہد میں گود میں ہونی چاہیے لیکن نماز میں نظر کے مقام کے حوالے سے یہ تقسیم کتاب و سنت سے ثابت نہیں*

🌷اس کی حقیقیت ذیل میں پڑھئے:
محمد بن علی بن محمد بن علی حصکفی (۱۰۸۸ھ) کہتے ہیں:
حصول خشوع کیلئے نمازی اپنی نظر قیام میں مقام سجدہ پر، رکوع میں پاؤں کے درمیان، سجدے میں نکوڑی پر، تشہد میں گود پر اور سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں کندھے پر رکھے۔“
(الدر المختار شرح تنویر الأبصار، ص ۶۶، باب صفة الصلوة)

👆👆اس خود ساختہ خشوع پر کوئی دلیل نہیں، اہل علم نے صدیوں پہلے اس کا رد کردیا ہے۔👇👇

🌷امام اندلس، امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:
”اس ساری تقسیم کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، نہ نگاہ رکھنے کے متعلق کوئی وجب ہے۔ نمازی کا اپنی نظر مقامِ سجدہ پر رکھنا اس کے لیے سلامتی اور مشغولیت سے بچنا ہے۔“
(التمھید لما فی المؤطأ من المعانی و الأسانید: ۳۹۳/۱۷)

🌷علامہ العز بن عبد السلام رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ قول درست نہیں، کتاب و سنت کے دلائل سے خالی ہے۔ واللہ أعلم!“
(فتاوى العزّ بن عبدالسّلام: ص ۶۸)

*سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز میں نظر سجدہ کی جگہ ہونی چاہیے، دورانِ نماز نظریں سجدے کی جگہ رکھنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا طریقہ وضاحت کے ساتھ صحیح احادیث میں موجود ہے، جن میں مکمل نماز کے دوران یہی کیفیت وارد ہے البتہ حالت تشہد میں نظر انگلی کے اشارے پر ہونی چاہیے*

🌷 عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ : “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ کی نظریں باہر آنے تک سجدہ والی جگہ پر ہی ٹکی رہی،
(ابن حبان: (4ج/ص332)
( مستدرک حاکم : (1ج/ص652)

اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے “صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم” میں اسے صحیح کہا ہے،

🌷عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا تکبیر سے کرتے اور قراءت کی ابتدا سورہ فاتحہ سے کرتے، اور جس وقت آپ رکوع فرماتے تو اپنا سر بالکل بلند کرتے اور نہ ہی مکمل جھکاتے ، بلکہ میانہ روی اختیار کرتے”
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-734)
(صحیح مسلم: حدیث نمبر-498)

🌷شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ رکوع کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رکوع کرنے والے کیلئے کمر کو سیدھا کرنا مستحب عمل ہے:
آپ کہتے ہیں: “اپنی کمر کو سیدھا کرتے ، اور کمر کو سیدھا کرنے میں کمر لمبی کرنا اور نہ زیادہ بلند کرنا اور نہ ہی بالکل جھکا لینا شامل ہے، یعنی اپنی کمر کو گول نہ کرتے اور نہ کمر کے درمیانی حصے کو زمین کی طرف موڑتے، اسی طرح اپنے کمر کے اگلے حصے کو نہ ہی جھکاتے، بلکہ اپنی کمر سیدھی رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: “جب آپ رکوع کرتے تو اپنا سر نہ بلند کرتے اور نہ ہی جھکاتے” بلکہ اس کے درمیان رہتے” انتہی
(الشرح الممتع ” ( 3 / 90 )

*لہذا جب رکوع میں کمر سیدھی ہو اور سر نا زیادہ جھکا ہو نا زیادہ بلند ہو تو نظر سجدہ کی جگہ ہی جاتی ہے*

*نماز میں نظر کے مقام سے متعلق صحابہ کرام اور ائمہ دین کے اقوال*

🌷 امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے: کسی کی نظر مقامِ سجدہ سے تجاوز نہ کرے، اگر نظر دوبارہ دوسری طرف جائے، تو آنکھیں بند کرلے۔“
(تعظیم قدر الصّلاة لمحمد بن نصر المروزي: ۱۴۳، وسندہ صحیح)

🌷ایک روایت کے الفاظ ہیں:
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مستحب سمجھتے تھے کہ نمازی اپنی نظر مقام سجدہ پر رکھے۔“
(تعظیم قدر الصّلاة لمحمد بن نصر المروزي: ۱۴۵، وسندہ حسن)

🌷مسلم بن یسار رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ نمازی اپنی نظر کہاں رکھے تو فرمایا:
”مقام سجدہ بہتر ہے۔“
(الزّھد لعبد اللہ بن المبارک: ۱۰۸۱، وسندہ صحیح)

🌷حافظ ابن المنذر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”مقامِ سجدہ پر نظر رکھنے میں زیادہ بہتری، سلامتی اور احتیاط ہے۔ نمازی اپنی نظر ایسی چیز کی طرف مرکوز نہ کرے، جو اسے نماز سے غافل کردے۔ اکثر اہل علم کا یہی فتویٰ ہے۔“
(الأوسط في السّنن و الإجماع و الإختلاف: ۲۷۳/۳)

🌷امام عبد الرزاق صنعانی رحمہ اللہ کے آثار “مصنف” میں ذکر کیے ہیں ، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے مسلم بن یسار سے استفسار کیا: “نماز میں نظر کہاں تک جانی چاہیے؟ ” تو انہوں نے کہا: “جہاں تم سجدہ کرتے ہو وہاں بہتر ہے”
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ انہیں نماز کے دوران سجدہ کی جگہ سے نظر آگے بڑھانا درست نہیں لگتا تھا۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پسند ہے کہ نمازی اپنی نظریں سجدے کی جگہ پر رکھے۔
(مصنف عبد الرزاق_ 2ج / ص163 )

🌷حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”امام اور مقتدی میں فرق یوں کیا جاسکتا ہے کہ دونوں کے لیے مقام سجدہ پر نگاہ رکھنا مستحب ہے، البتہ مقتدی بہ وقت ضرورت امام کو دیکھ سکتے ہے۔ اکیلے نماز کا وہی حکم ہے، جو امام کا ہے۔“
(فتح الباری شرح صحیح البخاری: ۲۳۲/۲)

🌷ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
نمازی کیلئے نظریں سجدہ کی جگہ پر رکھنا مستحب ہے، امام احمد -حنبل کی روایت کے مطابق- کہتے ہیں: “نماز میں خشوع یہ ہے کہ اپنی نظریں سجدہ کی جگہ پر رکھیں، یہی موقف مسلم بن یسار اور قتادہ سے بھی منقول ہے”
(المغنی”: 1ج/ص370)

*تشہد کہ حالت میں نظر شہادت والی انگلی پر ہونی چاہیے*

🌷چنانچہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی ران پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ کی نظریں انگلی سے تجاوز نہیں کرتی تھیں،
(سنن نسائی،حدیث نمبر،1275)

🌷 نووی رحمہ اللہ نے اسے
” شرح مسلم ” ( 5ج / ص81 ) میں اسے صحیح کہا ہے، نیز یہ بھی لکھا: “سنت یہی ہے کہ نظریں شہادت کی انگلی سے تجاوز نہ کریں،

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں