295

سوال_خلع کیا ہے اوراس کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ کیا خاوند کو بتائے بنا عورت عدالت کے ذریعے سے خلع لے سکتی ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر_98”
سوال_خلع کیا ہے اوراس کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ کیا خاوند کو بتائے بنا عورت عدالت کے ذریعے سے خلع لے سکتی ہے؟

Published Date: 2018-10-14

جواب..!!
الحمدللہ

*بیوی معاوضہ/حق مہر واپس دے کرعلیحدہ ہو جائےتو اسے خلع کہا جاتا ہے*

*اس طرح خاوند معاوضہ لے کر اپنی بیوی کوچھوڑدے چاہے وہ یہ معاوضہ اس مال سے دے جو خاوند نے بیوی کو حق مہر میں دیا تھا، یا اس سے زيادہ ہو اور یا اس سے کم ہو*

*خلع اصل میں بیوی کے مطالبہ پر ہی ہوتا ہے اور بیوی کے مطالبہ کے بعد خاوند کا علیحدگی پر رضامند ہونے کو خلع کہتے ہے*

🌷اس کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اورتمہارے لیے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لے لو مگر یہ کہ وہ دونوں اس سے خوفزدہ ہوں کہ وہ اللہ تعالی کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے ، توپھر ان پر کوئي گناہ اورجرم نہیں کہ وہ اس کا فدیہ دیں
(سورہ البقرۃ _ 229 )

یعنی عورت کو جو حق مہر دیا تھا نکاح کے وقت وہ ظلم و جبر کے ساتھ واپس لینا جائز نہیں، ہاں اگر بیوی خلع مانگتی ہے یعنی وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اسے دیا ہوا حق مہر واپس مانگا سکتا ہے،

🌷سنت نبویہ میں اس کی دلیل ثابت بن قیس رضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی کی حدیث ہے ٬
ثابت بن قیس رضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آئي اورکہنے لگي : اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت بن قیس پر کوئی دینی یا اخلاقی عیب نہیں لگاتی ، لیکن میں اسلام میں کفرکوناپسند کرتی ہوں،
(یعنی اسلام مجھے شوہر سے محبت کا حکم دیتا ہے، مگر میں اپنے شوہر سے نفرت کرتی ہوں)
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ آیا تواس کا باغ واپس کرتی ہے ؟ یہ باغ اسکے شوہر نے حق مہر میں دیا تھا،
تووہ کہنے لگی جی ہاں،
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، اپنا باغ قبول کرلو اوراسے چھوڑدو ۔
( صحیح بخاری٬حديث نمبر _5273 )

*علماء کرام نے اس حدیث سے یہ اخذ کیا ہے کہ جب عورت اپنے خاوند کے ساتھ رہنے کی طاقت نہ رکھے تواسکے رشہ دار اورحکمران اس کے خاوند سے خلع طلب کریں، بلکہ اسے خلع کا حکم دیں،*

🌷خلع کی صورت یہ ہے کہ!!
جب بیوی شوہر کے ساتھ نا رہنا چاہے کسی خاص وجہ سے، جیسے شوہر خرچ نا دیتا ہو یا شوہر پسند نا ہو، یا اس میں کوئی برائی ہو تو ایسی صورت میں وہ خلع لے سکتی ہے، یعنی شوہر سے طلاق مانگ سکتی ہے،

خاوند خلع کے عوض میں کچھ لے یا پھر وہ دونوں کسی عوض پر متف‍ق ہوجائيں اورپھر خاوند اپنی بیوی کوکہے کہ میں نے تجھے چھوڑدیا یا خلع کرلیا یا اس طرح کے دوسرے الفاظ کہے تو خلع ہو جائیگی، یعنی انکا نکاح ختم ہو جائے گا،

🌷لیکن یاد رہے کہ بیوی طلاق خود نہیں دے سکتی، طلاق خاوند کا حق ہے یہ اس وقت تک واقع نہیں ہوسکتی جب تک وہ خود اپنی مرضی سے طلاق نہ دے ،
اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( طلاق اس کا حق ہے جوپنڈلی کوپکڑتا ہے ) یعنی خاوند،
( سنن ابن ماجہ حدیث نمبر _2081 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواء الغلیل ( 2041 ) میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔
اسی لیے علماء کرام نے یہ کہا ہے کہ : جسے اپنی بیوی کوطلاق دینے پرظلم کے ساتھ مجبور کیا جاۓ اوراس نے طلاق دے دی تو اس کی یہ طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
دیکھیں المغنی ابن قدامہ ( 10 / 352 )

لہذا-
بیوی اگر خاوند کوناپسند کرنے لگے ، اوراس کے ساتھ زندگی نہ گزارسکے ، یا پھر خاوند کے فسق وفجوراورحرام کام کرنے کی بنا پر اسے دینی اعتبار سے ناپسند کرنے لگے وغیرہ ، تو اسے طلاق کا مطالبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن ایسی حالت میں وہ خاوند سے خلع کرلے اوراس کا دیا ہوا مہر واپس کردے ۔

اوراگر وہ طلاق کا مطالبہ کسی سبب کے بغیر کرے، توایسا کرنا اس کے لیے جائز نہيں اور اس حالت میں اگر عدالت اسکے شوہر کو بتائے بنا انکا نکاح ختم کرتی ہے تو عدالت کا یہ طلاق کےمتعلق فیصلہ شرعی نہيں ہوگا بلکہ عورت بدستور اس آدمی کی بیوی ہی رہے گی،
تویہاں پرایک مشکل پیش آتی ہے کہ قانونی طور پر تو یہ عورت مطلقہ شمار ہوگی اورعدت گزرنے کے بعد اورکہیں شادی کرلےگی، یہ تو زنا میں شمار ہو گا کیونہ کیونکہ حقیقت میں یہ پہلے شوہر کی بیوی ہے اور اس کوطلاق تو ہوئی ہی نہيں ۔

🌷شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے اس جیسے مسئلہ میں کچھ اس طرح کہا ہے :
اس کی زوجیت اورعصمت میں رہتے ہوۓ کہیں اور شادی کرنا اس کے لیے حرام ہے،
اس مشکل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ اہل خیر اوراصلاح کرنے والے لوگ ضرور اس مسئلہ میں دخل دیں تا کہ خاوند اوربیوی کے درمیان صلح ہوسکے ، وگرنہ وہ عورت اپنے خاوند کو مال ادا کردے تا کہ شرعی طور پر خلع ہوسکے ۔
( دیکھیں کتاب لقاء الباب مفتوح نمبر ( 54 ) ( 3 / 174 ) طبع دار البصیرہ مصر

🌷نبی کریم ﷺنےمیاں بیوی کے درمیان اختلاف کو پیدا کرنا شیطان کا مرغوب ترین مشغلہ بتایا، جو شخص میاں بیوی میں تفریق کی کوشش کرے، اس کو بدترین سزا کی وعید سنائی،

شوہر کو یہ تلقین کی کہ حلا ل چیزوں میں ناپسند ترین شے طلاق ہے
(سنن ابو داؤد، 2177)

🌷اور بیوی کو بتایا کہ کسی وجہ کے بغیر شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت پہ جنت کی خوشبو بھی حرام ہے،
(سنن ابو داؤد، 2226)

🌷🌷ان تمام احتیاطی اقدامات کے باوجود اگر آپس میں اللّٰہ کی حدود کو قائم رکھنا مشکل ہوجائے تو پھر طلاق وخلع کا راستہ دکھا دیا۔مرد کے ہاتھ میں نکاح کا بندھن دے کر، اسے عورت سے ایک درجہ بلند کردیا,
اور
عورت کو جذباتی مزاج ہونے کے ناطے ، صرف طلاق بول دینے یا مانگ لینے کی بجائے ، اس امر کا پابند بنایا کہ وہ شوہر کو حق مہر واپس کر کےاس سے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے، اور اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو عورت قاضی سے رجوع کرکےاپنا حق خلع حاصل کرسکتی ہے۔

گویا میاں بیوی کو مل جل کر رہنا چاہیے تاہم دونوں کا نباہ مشکل ہوجائے تو دونوں کے لیے علیحدگی کا نظام موجود ہے،
شوہر طلاق دے کر جدا ہو سکتا ہے اور بیوی خلع لے کر،
تاہم بعض ناگزیر صورتوں یعنی جب شوہر بیوی پر ظلم کرے اور خلع بھی نا دے تو قاضی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر پر دباؤ ڈالے کہ وہ بیوی کو حق خلع دے۔اور قاضی کا فیصلہ شرعی حیثیت رکھتا ہے جس پر عمل کرنا فریقین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔قاضی اپنےفیصلہ میں اس امکان کا جائزہ لیتا ہے کہ کیا یہ عورت امر واقعہ میں اس شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی یا یہ عورت کا محض جذباتی فیصلہ ہے۔

*خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری نہیں، کیونکہ اگر خلع میں بھی شوہر کی رضامندی ضروری قرار دی جائے تو پھر عورت کے پاس علیحدگی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا*

*عورت کے خلع کے لیے شوہر کو اطلاع دینا ضروری ہے،شوہر کو اطلاع دیئے بغیر خلع نہیں ہوتی, ظاہر ہے جب اطلاع دے گی تو وہ اپنا حق مہر وغیرہ لے گا جو اللہ نے اسے اختیار دیا ہے*

*ہاں اگر شوہر اپنی بیوی کے حقوق پورے نہ کر رہا ہو اور نہ ہی اسے طلاق دے رہا ہو اور نہ ہی قاضی کے بلانے پر عدالت آئے، توایسی صورت میں عدالت ان دونوں کے نکاح کی تنسیخ کر سکتی ہے،*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں