930

سوال_کیا شادی سے قبل منگیتر یا غیر محرم لڑکا لڑکی فون اور سوشل میڈیا جیسے واٹس ایپ وغیرہ پر بات چیت کر سکتے ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-97”
سوال_کیا شادی سے قبل منگیتر یا غیر محرم لڑکا لڑکی فون اور سوشل میڈیا جیسے واٹس ایپ وغیرہ پر بات چیت کر سکتے ہیں؟

Published Date: 13-10-2018

جواب۔۔۔
الحمدللہ۔۔!!!

*غیر محرم مرد و زن کی بات چیت آمنے سامنے ہو, موبائل پیغامات (massaging) کے ذریعہ ہو, یا سوشل میڈیا چَیٹ ہو۔! سب کے لیے اللہ سبحانہ وتعالى نے ایک ہی اصول وضابطہ مقرر فرمایا ہے*

اللہ کافرمان ذی شان ہے:
🌷وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ
اور جب تم ان سے کسی چیز کے بارہ میں پوچھو, تو پردے کی اوٹ میں بات کرو۔ یہ تمہارے دلوں اور انکے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
[سورہ الأحزاب :آئیت نمبر- 53]

🌷 اس آئیت کے شان نزول کے بارے حضرت عمر فاروق رض فرماتے ہیں کہ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ کاش! آپ اپنی بیویوں کو پردہ کا حکم دیتے، کیونکہ ان سے اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ دینی اور دنیاوی مسائل پر) بات کرتے ہیں۔ اس پر پردہ کی یہ آیت نازل ہوئی
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-402)

اس سے معلوم ہوتاہے کہ غیر محرم مرد اور عورت آپس میں بہت ضروری یا اہم کام کی بات کرسکتے ہیں۔
جسکی شرعی ضرورت ہو،
اور بات کرنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ عورت پردے کی اوٹ میں ہو۔ موبائل , یا میسنجرز پہ کال کرتے ہوئے, یا چیٹ کے دوران “پردہ کی اوٹ” تو موجود ہی ہوتی ہے۔ الا کہ کوئی ویڈیو کال کرکے اس “اوٹ” کو ختم کر دے،

*لیکن دوسرا اہم نقطہ*
*جو اس آیت میں بیان ہوا ہے وہ ہے “کام کی بات”!*
*جسے عموما پس پشت پھینک دیا جاتا ہے, اور اسکا لحاظ رکھے بغیر بات چیت کی جاتی ہے*
*اور وہ بات چیت بہن بھائی سے شروع ہو کر جانو،جان اور پھر لو یو تک پہنچ جاتی ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ اور گفتگو مزید گندی ہوتی جاتی ہے*

اس آیت کریمہ میں حجاب کا ذکر کرنے سے پہلے اس اہم نقطہ کو بیان کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ غیر محرم مرد و زن کی آپس میں بات چیت صرف “ضروری اور اہم کام” سے متعلق ہونی چاہیے۔ محض “گپ شپ” لگانے کی اجازت شریعت میں انکے لیے نہیں ہے!
خوب سمجھ لیں۔

اسی طرح دوسرے مقام پہ اللہ فرماتے ہیں:
🌷يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں جیسی نہیں ہو, اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو, تو پرکشش لہجہ میں گفتگو نہ کرو, وگرنہ جسکے دل میں مرض ہے وہ طمع لگا بیٹھے گا۔ اور معروف بات کہو۔
[سورہ الأحزاب : 32]

اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالى نے غیر محرموں سے گفتگو کرنے کے لیے مزید دو
اصول بیان فرمائے ہیں:

*1۔ لہجہ پرکشش نہ ہو۔*
*2۔ معروف یعنی اچھی بات ہو۔*

یعنی اگر کوئی عورت گفتگو کے دوران ایسے لہجے میں بات کرے جس سے مردوں کے دل میں “عشق” کا مرض جنم لے سکتا ہو, تو وہ لہجہ شرعا حرام ہے،
اسی طرح تحریری گفتگو میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھناضروری ہے کہ ایسے الفاظ سے اجتناب کیا جائےجو صنفی کشش کا باعث بنتے ہوں۔

اور دوسرا اصول کہ جو گفتگو مرد وعورت کر رہے ہیں وہ معروف یعنی اچھائی اور بھلائی اورنیکی کی گفتگو ہو اور شرعی مجبوری کی بنا پر بات کرے جس سے شریعت اسلامیہ منع نہیں کرتی۔،

لیکن ان سخط شرائط کے باوجود بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے فتنے سے بچنے کی نصیحت فرمائی،

🌷اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے بعد میری امت پر مردوں کیلئے خواتین سے بڑھ کر خطرناک فتنہ نہیں آئے گا)
(صحیح بخاری-حدیث نمبر-5096)

🌷اور ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔
جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-2165)

🌷نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔
(صحیح بخاری، 5233)

بیوی کو سفر میں تنہا چھوڑ کر جہاد پر جانے والے کو آپ نے جہاد سے روک دیا،

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ تنہائی میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! دیور (شوہر کے بھائی) کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو موت ہیں،
یعنی دیور یا ( جیٹھ ) ہی تو ہلاکت ہے۔
(صحیح البخاری، حدیث نمبر-5232)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1171)

🌷ابو نعیم نے “حِليہ” (4/84) میں میمون بن مہران سے نقل کیا وہ کہتے ہیں: “تین چیزوں سے اپنے نفس کو آزمائش میں مت ڈالنا:
کسی بھی حکمران کے پاس مت جانا چاہے تمہارا ارادہ اسے اطاعتِ الہی کے بارے میں نصیحت کرنے کا ہو،

کسی لڑکی کے پاس مت جانا چاہے تم نے قرآن ہی کیوں نہ سیکھانا ہو،

کسی بھی خواہش پرست کی بات پر کان مت دھرنا، اس لئے کہ تمہیں نہیں معلوم اس کی کونسی بات تمہارے دل میں اتر جائے

*اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے ان قواعد وضوابط کو ملحوظ رکھ کر غیر محرم مرد و عورت آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں*

*اس امت کی سب سے پاکیزہ خواتین یعنی امام الانبیاء جناب محمد مصطفى ﷺ کی ازواج مطہرات بھی غیر محرم مردوں سے انہی اصولوں کو مد نظر رکھ کر گفتگو کرتیں اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی براہ راست شاگردات یعنی صحابیات بھی انہی ضابطوں کی پابند رہ کر بات چیت کیا کرتی تھیں۔*

*سو آج بھی اگر کوئی ان ضابطوں کی پابندی کرے تو انکی گفتگو میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی بات ایسی ہو جو کہ مرد کو اس عورت سے یا عورت کو اس مرد سے “خود” کرنا ضروری ہو,گفتگو کا انداز پرکشش نہ ہو, معروف بات ہو, اور حجاب کے احکامات ملحوظ خاطر ہوں, تو کوئی حرج نہیں ہے۔،*
____&_____&_______________

🌷*شادی سے قبل منگیتر بھی “نامحرم” ہی شمار ہوتے ہیں۔ لہذا ان سے بھی گفتگو انہی ضوابط کی پابند ہے*
کچھ لوگ کہتے ہیں جی ہم بہت اچھے ہیں، ہمارا رشتہ بہت اچھا ہے، میں ویسا لڑکا نہیں،میں ویسی لڑکی نہیں۔۔۔۔
بھائی صاحب سبھی اچھے ہوتے ہیں مگر اچھا پن بہت جلد ختم ہو جاتا،

شیطان انسان کو دھوکہ دیتا ہے کہ آپ نے کونسا غلط بات کی، آپ نے تو بس ایک میسج بھیجا،
بس سلام کہا ہے،
بس تعریف کی ہے،
محبت کرنا کوئی غلط تھوڑی نا ہے،؟

میں تو اسکی نیکی اسکی اچھائی کی وجہ سے بات کرتا ہوں،
میرا ارادہ تو شادی کا ہے،
ٹائم پاس کرنا نہیں۔۔۔۔۔۔
یہ سب شیطان کی تدبیریں ہیں،

کہ “آپ کے ذہن میں کوئی حرام چیز نہیں آئی” کیونکہ شیطان انسان کو بڑے گناہوں کی طرف آہستہ آہستہ ہی لے کر جاتا ہے،
اگر آپ اس لڑکی کے بارے میں اپنے متعلق سوچیں تو آپ قدم بقدم شیطان کے پیچھے لگ کر حرام کے قریب ہوتے جا رہے ہیں ؛

ذرا سوچئے!

ابتدائی طور پر صرف بہن بھائی بن کر سلام دعا ہوتی،
پھر پیغام بھیجے جاتے تھے،
پھر میسج سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا،
پھر اچھے بھائی بہن سے اچھے دوست بن گئے،پھر یہ دوستی تکلف کی ساری حدیں پار کرتی ہوئی اچانک سے سچی محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے،
اور پھر سچی محبت ایک نظر دیکھنے کا اصرار کرتی ہے،
اور پھر یہ ایک نظر ایک چھوٹی ملاقات سے بڑی ملاقات میں تبدیل ہو جاتی ہے،

اسکے بعد کیا باقی رہ گیا ہے؟!

🌷شاعر احمد شوقی نے بالکل صحیح کہا ہے:
نَظْرَةٌ فَابْتِسَامَةٌ فَسَلَامٌ فَكَلَامٌ فَمَوْعِدٌ فَلِقَاءُ
وَأَنْتَ تَعْلَمُ مَاذَا سَيَكُوْنُ بَعْدَ اللِّقَاءِ .
یعنی: نظر کے بعد مسکراہٹ، پھر سلام و کلام، اور پھر وقتِ ملاقات، آگے آپ جانتے ہی ہیں کہ ملاقات کے بعد کیا ہوتا ہے!؟

*بہت سے نوجوان یہ کہتے ہیں کہ :*
میں اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرتا ہوں،
میں فلاں جیسا نہیں ہوں۔
اسی طرح بہت سے لڑکیاں یہ کہتی ہیں کہ : میں اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرتی ہوں میں فلاں کی طرح نہیں ہوں،
میں اپنے دوست پر بھروسہ کرتی ہوں وہ دیگر چھوکروں کی طرح نہیں ہے، یہ سب باتیں شیطانی دھوکہ ہیں۔

پھر جب پانی سر گزر جاتا ہے تو آنکھیں کھلتی ہیں، کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح ہی تھے، اُن میں لوگوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔، ان کے اندر بھی انسانی خواہشات تھیں ، وہ بھی غلطی کے پتلے تھے مگر جھوٹ اور فریب کے آئینہ میں شیطان انکو فرشتہ صفت صورت دکھاتا تھا،😢

پھر یہ تصور کریں کہ اگر آپکی بیٹی یا بہن نے یہی کچھ کیا کہ وہ بھی کسی نوجوان کے بارے میں پُر اعتماد ہے، اسکی نیکی کی وجہ سے اس سے محبت کرتی یا ملتی تو آپ کا اس کے بارے میں کیا جواب ہوگا؟!
اور آپ کا اپنی بیٹی یا بہن کے بارےمیں کیا موقف ہوگا؟ !
کیا آپ یہ بات اپنی بیٹی کیلئے قبول کرینگے؟ !
کہ آپ خود اپنی بیٹی کو ڈیٹ پر چھوڑنے جائیں کیونکہ آپکو ان دونوں پر اعتماد ہے؟؟

یا آپ پہلے ٹیلیفون پر اس سے رابطہ کروگے اور پھر اپنی بیٹی کو رسیور تھما کر چلے جاؤ گے تا کہ وہ آزادی سے آپس کی باتیں کرلیں!!
کیونکہ اس لڑکے پر آپکی بیٹی کو مکمل اعتماد ہے؟؟

یقیناً لوگ ایسی چیز یا ایسے عمل کے بارے سوال کرتے ہیں جو وہ اپنی ذات کے لیے پسند نہیں کرتے،اور انھیں پتہ بھی ہوتا کہ یہ کام یہ عمل حرام ہے،

لیکن شیطان ہی انسان کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے، اسی طرح انسان کا نفس امّارہ بھی اسے دھوکے میں ڈال دیتا ہے،
کیونکہ یہ تمام چیزیں انسان کی طبیعت اور شہوت کے موافق ہیں،
چنانچہ جس وقت یہ سب چیزیں یکجا ہو جائیں تو تب انسان اس حرام کام کیلئے گنجائش اور راستے ، حیلے بہانے تلاش کرنے لگتا ہے،

*صرف اس لئے کہ حرام کام کیلئے کوئی حل تلاش کیا جائے، اور ہوتا پھر یہی ہے کہ وہ حرام کام کے لیے حیلے بہانوں کے ذریعے بہت بڑے بڑے گناہوں کو کرتا چلا جاتا ہے، اور انکو گناہ سمجھتا بھی نہیں،*

*خواتین بھی سوشل میڈیا استعمال کر سکتی ہیں، مگر یہاں ایک اہم بات سمجھنا بہت ضروری ہے ,خصوصا سوشل میڈیا استعمال کرنے والی خواتین کے لیے کہ*

* انکی سوشل میڈیا آئی ڈیز انکے ولی امر (محرم مرد رشتہ دار جو عورت کا سرپرست ہے) کے علم میں ہونی چاہیے۔
اور اگر خواتین سوشل میڈیا مثلا فیس بک , ٹویٹر, واٹس ایپ , ٹیلی گرام وغیرہ کا استعمال کرتی ہیں تو انہیں بہت زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔،
اور درج ذیل غلطیوں سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا:

0- *پہچان چھپائیں*
اپنے اصل نام یا لڑکی کے نام کی بجائے اپنے والد یا بھائی وغیرہ کا ایسا نام استعمال کریں جس سے یہ ظاہر نہ ہو کہ آپ لڑکی ہیں،

1- *لڑکوں کو ایڈ کرنا:*
کسی بھی ایسی آئی ڈی جو مردوں یا لڑکوں کے ناموں سے ہوں ان کو ایڈ نہ کریں اور اگر اپ کو لڑکی کے نام سے فرینڈ ریکویسٹ آئی ہے تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ واقعی کسی بہن کی آئی ڈی ہے ، کہیں ایسا تو نہیں کہ لڑکی کے نام سے فیک آئی ڈی بناکر لڑکے آپ کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج رہے ہیں ۔ جن پر لڑکیوں کی تصاویر لگی ہوتی ہیں تاکہ ایسے لڑکیوں کی پروفائل میں گھسا جا سکے۔ الغرض آپ صرف اور صرف لڑکیوں کو ہی اپنی فرینڈ لسٹ میں ایڈ کریں اور وہ بھی ایسی لڑکیاں جنہیں آپ جانتی ہوں کہ واقعی یہ لڑکیاں ہی ہیں اور پابند شریعت بھی!

2-*اگر آپکو دینی معلومات درکار ہیں*
تو آپ فیس بک پر ایسے پیجز کو لائک کر لیں جو اسلامی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان سے ہی آپکی علمی ضرورت پوری ہو جائے گی،

2- *لڑکوں سے چَیٹ:*
لڑکوں سے چیٹ کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں, جیسا کہ اوپر دلائل سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ “گپ شپ “لگانے یا پھر محض “سلام دعاء, حال احوال” کی غرض سے نامحرموں سے چَیٹ یا گفتگو کرنے کی شریعت میں ہرگز اجازت نہیں ہے۔ ہاں بوقت ضرورت بقدر ضرورت جتنی شریعت نے اجازت دی ہے اسکے مطابق کوئی بات کی جاسکتی ہے, لیکن یہ ذہن میں رہے کہ یہ اجازت محض رخصت ہے, لہذا اسکا کم ازکم استعمال کریں۔

3- *ضرورت اور بلا وجہ کی گفتگو کے باریک فرق کو سمجھیں:*
اگر آپ کو کسی عالم دین سے معلومات درکار ہیں تو تین سے چار سطروں میں ایک ہی دفعہ میں اپنا مکمل سوال لکھ کر سینڈ کریں، ورنہ گفتگو طول پکڑے گی اور کہیں جا کر بھی نہیں رکے گی جس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔،

4-خواتین عموما مرد کو دیندار,
متقی, عالم دین, یا مجاہد سمجھ کر “گپ شپ” کرنا شروع کر دیتی ہیں جو کہ شریعت میں حرام ہے۔ اس سے اجتناب کریں۔ ٹو دی پوائنٹ یعنی جامع ومانع بات کریں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ آپ جب بھی کسی غیر محرم مرد سے چیٹ کریں تو اپنے کسی محرم والد ،بھائی کی موجودگی میں کریں, فتنہ سے محفوظ رہنے کا یہ بہت مؤثر ذریعہ ہے۔

5- *دوسروں کی پوسٹوں پہ کمنٹ کرنا:*
کسی بھی دینی یا فلاحی تنظیم یا جماعت کے پیج پہ موجود پوسٹوں پر اپنی آئی ڈی سے کمنٹ نہ کریں, وگرنہ اسکے نتیجہ میں آپکی آئی ڈی ہزاروں بلکہ لاکھوں مردوں تک پہنچ جائے گی اور یہ فتنہ کا سبب بن جائے گی!

6- *پروفائل پکچر:*
اپنی پروفائل پہ اپنی تصویر نہ لگائیں , خواہ نقاب والی ہی ہو۔ کچھ لڑکیاں اپنے ہاتھوں, پاؤں, لباس وغیرہ کی تصاویر کو اپنی پروفائل پہ لگا دیتی ہیں جبکہ شریعت نے ان سب کو چھپانے کا حکم دیا ہے۔

6- *پوسٹ کرنے میں احتیاط برتیں:*
اپنے دکھ اور غم مثلا :میں پریشان ہوں ،
ڈپریشن میں ہوں، میں بہت مصیبت میں ہوں وغیرہ انٹر نیٹ پہ اجنبیوں سے ہر گز نہ شئیر کریں,
اور نہ ہی اپنی جاننے والی لڑکیوں سے۔ یہ وہ غلطی ہے جو ہر لڑکی انٹر نیٹ پہ کرتی ہے اور بعد ازاں نقصان اٹھاتی ہے۔ اسی طرح اپنے رویے اور پسند ناپسند ، رنگ کیسا پسند ہے ، کھانے میں کیا پسند ہے ، جوتے کون سے پسند ہیں ، یہ معلومات اگر آپ انٹر نیٹ پہ ڈالیں گی تو وہ کسی نہ کسی تک تو پہنچیں گی جس سے نقصان کا اندیشہ ہے،

*خدا کی قسم ان چھپی دوستیوں نے بہت سارے متقی اور ایمان والے لوگوں ,عالموں ،قاریوں کی زندگی اور ایمان تباہ کر دیا۔۔۔۔😢😢اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو اس فتنہ سے محفوظ فرمائے،آمین یا رب العالمین۔۔۔!*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں