278

سوال_سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل صحیح احادیث سے بیان کریں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-86”
سوال_سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل صحیح احادیث سے بیان کریں؟

Published Date:22-9-2018

جواب..!
الحمد..!!!

*سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ہیں،بہت سی صحیح احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکی فضیلت بیان فرمائی ہے*

🌷نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسن بن علیؓ اور سیدنا حسین بن علیؓ کے بارے میں فرمایا:“ھما ریحانتاي من الدنیا” وہ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں
(صحیح البخاری : حدیث نمبر-3753)

🌷رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((حسین مني و أنا من حسین، أحبّ اللہ من أحبّ حسیناً، حسین بن سبط من الأسباط)) حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے،
حسین میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے
(سنن الترمذی : حدیث نمبر_3775)

🌷 سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ جب یہ (مباہلے والی) آیت
﴿نَدعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَکُمْ﴾اور (مباہلے کے لئے) اپنے بیٹے بلاؤ۔ (آلِ عمران: ۱۶)
نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کو بلایا اور فرمایا :
((اَللّٰھُمَّ ھؤلاء أھلي))
اے اللہ ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔

(صحیح مسلم : حدیث نمبر-2404)

🌷 سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن صبح کو نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ کے جسم مبارک پر اونٹ کے کجاوں جیسی دھاریوں والی ایک اونی چادر تھی تو حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) تشریف لائے، آپ نے انھیں چادر میں داخل کرلیا۔ پھر حسین (رضی اللہ عنہ) تشریف لائے، وہ چادر کے اندر داخل ہوگئے ۔ پھر فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تشریف لائیں تو انھیں آپ نے چادر کے اندر داخل کرلیا، پھر (علی رضی اللہ عنہ) تشریف لائے تو انھیں (بھی) آپ نے چادر کے اندر داخل کرلیا۔
پھر آپﷺ نے فرمایا :﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا﴾
اے اہلِ بیت اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ تم سے پلیدی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے
(الاحزاب:۳۳) (صحیح مسلم: حدیث نمبر-2424)

🌷سیدنا واثلہ بن الاسقعؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دائیں طرف فاطمہ کو اور بائیں طرف علی کو بٹھایا اور اپنے سامنے حسنؓ و حسینؓ کو بٹھایا (پھر) فرمایا: ﴿اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا ﴾
اے اہلِ بیت اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ تم سے پلیدی دور کردےاور تمہیں خوب پاک و صاف کردے۔ (الاحزاب: ۳۳)
اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں،
(صحیح ابن حبان، الاحسان :6976)
و مسند احمد ۱۰۷/۴ و صححہ البیہقی ۱۵۲/۲ و الحاکم ۱۴۷/۳ ح ۴۷۰۶ علیٰ شرط الشیخین و وافقہ الذہبی علیٰ شرط مسلم و الحدیث سندہ صحیح)

🌷سیدہ ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ اور حسینؓ کے بارے میں فرمایا: “اللھم ھؤلاء أھل بیتي“ اے میرے اللہ ! یہ میرے اہلبیت ہیں۔(المستدرک ۴۱۶/۲ حدیث نمبر 3585
و سندہ حسن و صححہ الحاکم علیٰ شرط البخاری) مسند احمد (۲۹۲/۶ ح ۲۶۵۰۸ ب ) میں صحیح سند سے اس حدیث کا شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے ۔ سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے اہلِ بیت میں ہونے کے بیان والی حدیث عمر بن ابی سلمہؓ (ترمذی: ۳۷۸۷ و سندہ حسن) سے مروی ہے ۔

*مختصر یہ کہ سیدنا علیؓ، سیدنا حسینؓ اور سیدنا حسنؓ کا اہلِ بیت میں سے ہونا صحیح قطعی دلائل میں سے ہے ، اس کے باوجود بعض بدنصیب حضرات ناصبیت کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اہلبیت میں سے نہیں ہیں*

🌷!نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
((الحسن و الحسین سیدا شباب أھل الجنۃ)) حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
(مسند احمد ۳/۳ حدیث نمبر_ 10999
عن ابی سعید الخدریؓ و سندہ صحیح، النسائی فی الکبریٰ : ۸۵۲۵و فی خصائص علی: ۱۴۰)

🌷سیدنا حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔۔۔۔ ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔
(ترمذی: 3781 و اسنادہ حسن)
( صححہ ابن حبان، الموارد: ۲۲۲۹)
( ابن خزیمہ : ۱۱۹۴)

🌷نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ((ھذان ابناي و ابنا ابنتي، اللھم إنّي أحبھما فأحبھما وأحبّ من یحبّھما)) یہ دونوں (حسن و حسین) میرے بیٹے اور نواسے ہیں، اے میرے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت کر اور جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت کر۔
(الترمذی : حدیث نمبر-3769 و سندہ حسن)

🌷عطاء بن یسار (تابعی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک آدمی (صحابی) نے بتایا: انہوں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو سینے سے لگا کر فرما رہے تھے : ((اللھم إني أحبھما فأحبھما)) اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو (بھی) ان دونوں سے محبت کر۔
(مسنداحمد حدیث نمبر- 23133 و سندہ صحیح)

🌷سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(أحبوا اللہ لما یغذوکم من نعمہ، وأحبوني بحب اللہ، وأحبوا أھل بیتي لحبي)
اللہ تمہیں جو نعمتیں کھلاتا ہے ان کی وجہ سے اللہ سے محبت کرو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہلِ بیت سے محبت کرو۔
(سنن الترمذی : ۳۷۸۹ وسندہ حسن، وقال الترمذی:”حسن غریب” و صححہ الحاکم ۱۵۰/۳ ح ۴۷۱۶ و وافقہ الذہبی وقال المزی : “ھذا حدیث حسن غریب” / تہذیب الکمال ۱۹۹/۱۰ ، عبداللہ بن سلیمان النوفلی و ثقہ الترمذی و الحاکم و الذہبی فھو حسن الحدیث )

🌷سیدنا الامام ابوبکر الصدیقؓ نے فرمایا:“ارقبوا محمدًا ﷺ في أھل بیتہ“
محمد ﷺ کے اہلِ بیت (سے محبت) میں آپ کی محبت تلاش کرو۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر-3751)

🌷سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
(من أحبھما فقد أحبني ومن أبغضھما فقد أبغضني)) جس شخص نے ان (حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے محبت کی تو یقیناً اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض کیا تو یقیناً اس نے مجھ سے بغض کیا۔
(مسند احمد ۴۴۰/۲ ح 9673)
و فضائل الصحابۃ لاحمد: ۱۳۷۶
و سندہ حسن ،و صححہ الحاکم ۱۶۶/۳ ح ۴۷۷۷ ووافقہ الذہبی/ عبدالرحمٰن بن مسعود الیشکری و ثقہ ابن حبان ۱۰۶/۵ والحاکم والذہبی وقال الہیثمی فی مجمع الزوائد ۲۴۰/۵ :”وھو ثقۃ” فحدیثہ لا ینزل عن درجۃ الحسن)

اس روایت کو دوسری جگہ حافظ ذہبی نے قوی قرار دیا ہے ۔ (دیکھئے تاریخ الاسلام ۹۵/۵ وقال : “وفی المسند یاسناد قوي“)

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“۔
(الترمذی: حدیث نمبر-3774 و سندہ حسن)

🌷سیدنا عمرو بن العاصؓ کعبے کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے کہ حسین بن علی ؓ کو آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا :“ھذا احب أھل الأرض إلیٰ أھل السماء الیوم” یہ شخص آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے ۔
(تاریخ دمشق ۱۸۱/۱۴ و سندہ حسن،
یونس بن ابی اسحاق بریٔ من التدلیس کما فی الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ۲/۶۶ ص ۴۸)

*اے اللہ پاک ہمارے زنگ آلود دلوں کو ،*
*اپنی، اپنے نبی کی, اہل بیت کی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت سے منور فرما دے آمین یا رب العالمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج لائیک ضرور کریں۔۔.
آپ کوئی بھی سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کر سکتے ہیں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں