650

سوال_اذان کے دوران بات کرنا کیسا ہے؟ کیا اذان کے دوران بات کرنے والے کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-78”
سوال_اذان کے دوران بات کرنا کیسا ہے؟ کیا اذان کے دوران بات کرنے والے کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا؟

Published Date:28-8-2018

جواب.!
الحمدللہ!!

*اس میں کوئی شک نہیں کہ افضل یہی ہے کہ اذان کے وقت خاموشی اختیار کی جائے اور بغور اذان سنی جائے اور اس کا جواب دیا جائے،مگر عقلی اور نقلی دلائل سے پتہ چلتا ہے کہ اذان کے دوران بات کرنا بھی جائز ہے،مثلا درس و تدریس ہو، کسی کو ضرورتا مخاطب کرنا ہو یا کوئی کام سونپنا ہو یا پھر کوئی کام ہی کیوں نہ ہو وغیرہ*

دلائل ملاحظہ ہوں..!

🌷اذان کے وقت بات کرنے کی صریح دلیل ملتی ہے ، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے : “باب الكلام في الأذان”
*یعنی باب :اذان کے دوران بات کرنے کے بیان میں”*
اور اس بات کے تحت مندرجہ ذیل نصوص ذکر کرتے ہیں۔
وتكلم سليمان بن صرد في أذانه. وقال الحسن لا بأس أن يضحك وهو يؤذن أو يقيم.
ترجمہ : اور سلیمان بن صرد صحابی نے اذان کے دوران بات کی اور حضرت حسن بصری نے کہا کہ اگر ایک شخص اذان یا تکبیر کہتے ہوئے ہنس دے تو کوئی حرج نہیں۔

امام بخاری نیچے یہ حدیث ذکر کرتے ہیں،

🌷 عبداللہ بن حارث بصری سے، انھوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن ہم کو جمعہ کا خطبہ دیا۔ بارش کی وجہ سے اس دن اچھی خاصی کیچڑ ہو رہی تھی۔ مؤذن جب حی علی الصلوٰۃ پر پہنچا تو آپ نے اس سے الصلوٰۃ فی الرحال کہنے کے لیے فرمایا کہ لوگ نماز اپنی قیام گاہوں پر پڑھ لیں۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اسی طرح مجھ سے جو افضل تھے، انھوں نے بھی کیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-616)

*پہلے نص میں دوران اذان ہنسنے کا ذکر ہے ، یہ بھی ایک عمل ہے ، اتفاقا اگر کوئی دوران اذان ہنس دے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح دوسرے نص میں دوران اذان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے باقاعدہ کلام ثابت ہے۔معلوم ہوا کہ ایسے خاص موقع پر دوران اذان کلام کرنا درست ہے*

🌷امام مالک رح نے ( موطا ) میں بروایت ابن شھاب ذکر کیا ہے،
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُمْ كَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ، فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ، وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ، قَالَ ثَعْلَبَةُ : جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ.
حضرت ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جمعہ کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے لئے باہر تشریف لانے سے پہلے ہم لوگ نوافل پڑھتے تھے پھر جب حضرت عمر ممبر پر تشریف فرماتے اور مؤذن اذان دیتا تو ثعلبہ کہتے ہیں کہ :ہم بیٹھ کر باتیں کرتے جب مؤذن اذان (دے کر) خاموش ہو جاتا اور عمر رض کھڑے ہو جاتے اور خطبہ دیتے تو ہم خاموش ہوجاتے پھر کوئی بات نہ کرتا،
(موطأ مالك | كِتَابٌ : الصَّلَاةُ | مَا جَاءَ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ
حدیث نمبر-274)
(امام نووی رحمہ اللہ نےاس روائیت کو_ الخلاصة ٢/٨٠٨ میں صحیح ذکر کیا ہے)

*تو مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ صحابہ تابعین خیر القرون میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اذان کے دوران باتیں کرتے تھے جو واضح حجت ہے اس کے جواز پر دلالت کرنے میں*

🌷مسلم شریف میں ہے،
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺ طلوع فجر کے وقت دشمنوں پر حملہ کرتے تھے اور کان لگا کر اذان سنتے اگر آپ ﷺ اذان سنتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو اَللَّهُ أَکْبَرُاَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے سنا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ مسلمان ہیں پھر اس نے ( أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه ُ) کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ جہنم سے آزاد ہوگیا اس کے بعد جب لوگوں نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-382)

*اس روایت میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اذان کے وقت بات کرنا ثابت ہے*

🌷تو واضح ہوگیا کہ اذان کے سننے والے کے لئے اذان کے دوران بات چیت کرنا جائز ہے ،
رہا مسئلہ خود مؤذن کا باتیں کرنا تو اس سلسلہ میں بعض اہل علم کراہت کے قائل ہیں اور بعض بلا کراہت جائز کہتے ہیں لیکن مؤذن کی بات چیت کرنا اگر طویل ہوجائے یہاں تک کہ پے در پے اذان دینے کے خلاف ہوجائے تو اذان از سر نو دینا چاہیے،

🌷مذہب حنبلی کی کتاب ( المغنی ) میں ہے : مؤذن کے لئے اذان کے دوران باتیں کرنا مناسب نہیں ہے بعض علماء کے نزدیک مکروہ ہے ۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ : مجھے معلوم نہیں کہ کوئی معتبر عالم نے ایسا کیا ہو ۔
تاہم حسن بصری، عطاء ، قتادہ اور سلیمان بن صرد جواز کے قائل ہیں بشرطیکہ مختصر بات کی ہومگر جب بات طویل ہوکر معاملات میں خلل ڈالے جو اذان کی شرط ہے تو اذان باطل ہوگی چونکہ معلوم ہی نہیں ہو گا کہ اس نے اذان دی ۔

🌷امام احمد سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اذان دیتے ہوئے بات کرتاہے ؟ کہا : ہاں
پھر دریافت کیا گیا کہ اگر اقامت دیتے ہوئے بات کرے ؟ تو جواب دیا : نہیں

🌷اہل علم سے دوران اذان کلام کرنا بھی منقول ہے ، اور اس پہ جید علماء کے فتاوے بھی ہیں۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اذان کے دوران اور اس کے بعد کلام کرنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مؤذن اور اس کا جواب دینے کے لئے سنت یہ ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔ (کلام کا جزء)

🌷 بات کرنا ایک جائز عمل ہےاس کی ممانعت کہاں کہاں ہے اسلام نے وضاحت کردی ہے ، اذان وہ مقام نہیں جہاں اسلام نے بات کرنے سے منع کیا ہو

🌷اذان ہوتے وقت اس کا جواب زبان حال سے دینا ہے ، اور کلام کا تعلق زبان قال سے ہے ۔ ایک آدمی بات کرتے ہوئے بھی اذان کا جواب دے سکتا ہے ۔

🌷لوگوں میں اذان کے دوران بات کرنے کا خوف جھوٹی روایات منتشر ہونے کی وجہ سے ہے ۔جیساکہ لوگوں میں مشہور ہے :”اذان کے وقت بات کرنے موت کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا”۔ یہ جھوٹی بات ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔

🌷اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ :”اذان کے وقت بات کرنے والے پہ فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے”۔ یہ بھی جھوٹی اور گھڑی ہوئی بات ہے ۔ اس لئے ان باتوں کو نبی ﷺ کی طرف قطعی منسوب نہ کریں۔

خلاصہ کلام ضرورت کے تحت دوران اذان بات کرسکتے ہیں مگر یاد رہے اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اذان ہوتے وقت فضول باتیں کی جائیں ۔ کتنے تعجب کی بات ہے لوگ اذان کے وقت بات کرنے سے ڈرتے ہیں مگر اس وقت برائی کرنے سے نہیں ڈرتے ، یا اذان کی پکار پہ مسجد کو نہیں جاتے جو کہ فریضہ ہے،

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں