735

سوال_حلال جانوروں کے کونسے اعضاء کھانا حرام یا مکروہ ہیں؟ اور کیا یہ حرمت صحیح احادیث سے ثابت ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-76″
سوال_حلال جانوروں کے کونسے اعضاء کھانا حرام یا مکروہ ہیں؟ اور کیا یہ حرمت صحیح احادیث سے ثابت ہے؟

Published Date:21-8-2018

جواب..!!
الحمدللہ..!

*كھانے اور پينے والى تمام اشياء ميں اصل حلت ہے،یعنی تب تک تمام چیزیں حلال ہیں جب تک اس كى حرمت میں كى كوئى دليل نہ مل جائے*

🌷اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اس اللہ تعالى نے زمين ميں جو كچھ بھى ہے وہ سب تمہارے ليے پيدا كيا ہے }
(سورہ البقرۃ_29 )

🌷اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے انہوں نے فرمايا كہ:
” اہل جاہليت كچھ اشياء كو كھاتے اور كچھ اشياء كو گندا سمجھ كر چھوڑ ديتے تو اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو مبعوث كيا اور اپنى كتاب نازل فرمائى اور حلال كو حلال اور حرام كو حرام كيا،
چنانچہ اللہ تعالى نے جو حلال كيا ہے وہ حلال ہے، اور جسےحرام كيا وہ حرام ہے، اور جس سے خاموشى اختيار كى ہے وہ معاف ہے، پھر انہوں نے يہ آيت تلاوت فرمائى:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

🌷‌قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ‌‌ۚ فَمَنِ
{ كہہ ديجئے كہ جو احكام ميرى طرف بذريعہ وحى آئے ہيں ان ميں تو ميں كوئى حرام نہيں پاتا كسى كھانے والے كے ليے جو اس كو كھائے، مگر يہ كہ وہ مردار ہو يا كہ بہتا ہوا خون ہو يا خنزير كا گوشت ہو، كيونكہ يہ بالكل ناپاك ہے، يا جو شرك كا ذريعہ ہو كہ غير اللہ كے ليے نامزد كر ديا گيا ہو }(سورہ الانعام،آئیت نمبر- 145 )

سنن ابوداود،حدیث نمبر-3800 )
علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے،

*اس حدیث سے واضح پتا چلتا ہے حلال جانور کے گوشت میں سے ہر چیز حلال ہے سوائے اسکے جسکی حرمت پر شریعت نے کوئی دلیل نازل کی ہو، جیسے ذبح کرتے وقت بہتا خون حرام ہے اور اسکی دلیل قرآن میں موجود ہے،اسکے علاوہ کوئی اور چیز حرام یا مکروہ نہیں*

🌷حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ، اس ترکاری ۔ لہسن ۔ پر جا پڑے ، لوگ بھوکے تھے اورہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا ، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ نے بو محسوس کی ۔
آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قر یب نہ آئے ۔ ‘ ‘
اس پر لوگ کہنے لگے : ( لہسن ) حرام ہو گیا ، حرام ہو گیا ۔
یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا :
’’ اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے،
(صحیح مسلم حديث نمبر_565)

*تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ واضح كر ديا اور بيان كيا كہ ان كا اسے ناپسند كرنا اور لوگوں كو يہ كھا كر مسجد ميں آنے سے منع كرنے كا معنى يہ نہيں كہ يہ حرام ہے*

🌷اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ضب ( گوہ ) كھانا ناپسند كى تو اسے دوسروں كے ليے حرام قرار نہيں ديا،
جيسا كہ درج ذيل قصہ ميں موجود ہے:

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گیا،
وہ حضرت خالد اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں،
اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا (ضب،گوہ) لا یا گیا ، یہ انکی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لائیں تھیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا تو دو کہ پکا کیا ہے،
پھر آپکو بتایا گیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے،
( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔
خالد بن ولید نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟
آپ نے فرمایا : “” نہیں, لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں،(یعنی مجھے یہ پسند نہیں ہے،)
حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ٬اور آپ نے مجھے منع نہیں فرمایا،
(ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ،ﻛﺘﺎﺏ ذبح اور شکار کا بیان،1946)

*اس حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ جو چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پسند آپ نے نہیں کھائی مگر آپ نے اس کو مکروہ یا حرام بھی نہیں کہا*

بلکہ جب (گوہ )سانڈے کے گوشت بارے آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا، نہ میں اسکو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں، اور آپکے دستر خواں پر سانڈ کا گوشت کھایا جاتا مگر آپ اسکو ہاتھ نہ لگاتے اور نہ ہی صحابہ کو منع کرتے،
(صحیح مسلم، حدیث نمبر-,1944,1945, 1943)

🌷 سعودیہ کے عظیم مفتی شیخ صالح المنجد سے اس بارے جب سوال ہوا تو انہوں نے ذبیحہ کے تمام اعضاء کے کھانے کو جائز قرار دیا ہے۔
سوال:لدي بعض الأسئلة التي تتعلق ببعض الأطعمة 1) هل يجوز أكل خصية الذبيحة ۔۔۔۔۔
يجوز أكل خصية الذبيحة ؛ حيث لا دليل على عدم الجواز ، والأصل الإباحة .قال في “المدونة” : ” مَا أُضِيفَ إلَى اللَّحْمِ مِنْ شَحْمٍ وَكَبِدٍ وَكَرِشٍ وَقَلْبٍ وَرِئَةٍ وَطِحَالٍ وَكُلًى وَحُلْقُومٍ وَخُصْيَةٍ وَكُرَاعٍ وَرَأْسٍ وَشِبْهِهِ ، فَلَهُ حُكْمُ اللَّحْمِ ” . انتهى
۔”تهذيب المدونة” ، للبراذعي (1/93) ،
وانظر: مواهب الجليل (6/204) .
سوال:کیا ذبیحہ کے خصیتین کھانا جائز ہے؟
جواب:ذبیحہ کے خصیتین کھانا جائز ہے کیونکہ ان کے عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اصل اباحت ہے۔ ’مدونہ“ میں ہے کہ گوشت کے ساتھ ملی ہوئی چربی،جگر،معدہ یا اوجھڑی،دل،پھیپھڑے،تلی،گردے،گردن،خصیتین یا کپورے،پائے اور سری وغیرہ کا حکم وہی ہے جو گوشت کا ہے، (یعنی سب کچھ حلال ہے)

*لہذا پتا چلا کہ ذبح کے وقت بہنے والا خون بالاتقاق حرام ہے اس کے علاوہ حلال جانور کے تمام اعضاء و اجزا ء حلال ہیں*

*حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کے لیے ہر اعضاء کھانا واجب ہے، جس کو جو حصہ نہیں پسند وہ چھوڑ دے ،نا کھائے، مگر اپنی پسند نا پسند کے باعث اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار نا دے،*
________________&&_________

*لیکن کچھ خاص مکتبہ فکر کے نزدیک حلال جانور میں سات اجزاء حرام ہیں،انکا استدلال دو احادیث سے ہے اور وہ دونوں سخت ضعیف ہیں*

اب ان کے دلائل کا مختصر تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے :
دلیل نمبر : ➊

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا : المرارة، المثانة، والحياء، والذكر، والأنثيين، والغدة، والدم۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری (وغیرہ) میں ان سات اجزاء کو مکروہ خیال کرتے تھے : ① پتہ ② مثانہ ③ پچھلی شرمگاہ ④ اگلی شرمگاہ ⑤ کپورے ⑥ غدود ⑦ خون (وقتِ ذبح بہتا ہوا)۔“
[المعجم الاوسط للطبراني : 9480]

تبصرہ :
اس کی سند موضوع (من گھڑت) کیونکہ :
➊ امام طبرانی کے استاذ یعقوب بن اسحاق کا تعین اور توثیق درکار ہے۔
➋ اس کا مرکزی راوی یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی جمہور محد ثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔
◈ حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ضعفه الجمهور۔ ”اسے جمہورمحدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔“ [البدر المنير لابن لابن الملقن : 3/227]
➌ عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم بھی جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ اور ”متروک“ راوی ہے۔ اس کے بارے میں :
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
والأكثر على تضعيفه ”اکثر محدثین اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔“
[مجمع الزهوائد للهيثمي : 20/2]
——————

دلیل نمبر : ➋

مجاہد بن جبر تابعی کہتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا : الدم، الحياء، والأنثيين، والغدة، والذكر، والمثانة، والمراراة۔
”رسول صلی اللہ علیہ وسلم بکری (وغیرہ) سے ان سات اعضاء کو ناپسند کرتے تھے : ① خون (بوقت ذبح بہنے والا) ② شرمگاہ ③ خصیتین ④ غدود ⑤ اگلی شرمگاہ ⑥ مثانہ ⑦ پتہ۔“
[مصنف عبدالرزاق : 55/4، ح : 8771، السنن الكبري للبيهقي : 7/10]

تبصرہ :
یہ روایت کئی علتوں کی وجہ سے ”ضعیف“ اور باطل ہے :
➊ یہ ”مرسل“ ہونے کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔ مجاہد تابعی رحمہ اللہ ڈائریکٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہیں ۔

➋ اس کا راوی واصل بن ابی جمیل ”ضعیف“ ہے۔
اس کے بارے میں امام یحٰیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لاشيء ”یہ حدیث میں کچھ بھی نہیں۔“[الجرح التعديل لا بن ابي حاتم : 30/9، وسنده صحيح]

➌ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعيف [سنن الدارقطني : 76/3]

نیز اسے امام ابن شاہین رحمہ اللہ
[الضعفاء : 666] اور حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بھی ضعفاء میں ذکر کیا ہے ۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ الثقات [7/559] کے علاوہ کسی نے ثقہ نہیں کہا لہٰذا یہ ”ضعیف“ ہے۔

◈ حافظ ابن القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
واصل لم تثبت عدالته۔
”واصل کی عدالت ثابت نہیں۔“
[التقدير للطحاوي : 200/2]

◈ مجاہد اس روایت کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے موصول بھی بیان کرتے ہیں۔ [الكامل لابن عدي : 12/5، السنن الكبريٰ للبيهقي : 7/60]
لیکن یہ روایت بھی موضوع (من گھڑت) ہے، کیونکہ اس کاراوی عبر بن موسی الوجہیی بالاتفاق ائمہ محدثین ”ضعیف“، ”منکرالحدیث“ اور ”متروک الحدیث“ ہے۔

◈ امام بیہقی رحمہ اللہ اس راوی کو ”ضعیف“ قرار دے کر لکھتے ہیں :
ولا يصح وصله۔ ”اس حدیث کا موصول ہونا دُرست نہیں۔“
[السنن الكبريٰ للبيهقي : 70]

↰ ثابت ہو کہ حلال جانور میں سوائے دم مسفوح (وقت ذبح بہتے ہوئے خون) حرام نہیں ہے۔
*سات اجزاء کو حرام کہنے والوں کا قول باطل وعاطل اور فاسد وکاسد ہے کیونکہ ان کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں*

فائدہ : جہاں تک اوجھڑی کا تعلق ہے، اس کا کھانا بھی جائز ہے، لیکن حنفیوں اور بریلویوں کے نزدیک یہ بھی مکروہ ہے :

➊ جناب عبدالحئی لکھنوی حنفی کہتے ہیں :
”اوجھڑی کا کھانا مکروہ ہے۔“
[مجموع الفتاوي لعبد لحي : 397/7، 29/7]

➋ جناب احمد رضا خان بریلوی کہتے ہیں :
”اوجھڑی کا کھانا مکروہ ہے۔“
[ملفوضات : جزء ص 35]

↰ بعض لوگوں نے حلال جانور میں 22 چیزیں مکروہ یا حرام قرار دے دی ہیں۔

گردے کے بارے میں جناب رشید احمد گنگوی دیوبندی کہتے ہیں :
”بعض (حنفی فقہ کی) روایات میں گردہ کی کراہت لکھتے ہیں اور کراہت تنزیہ پر عمل کرتے ہیں۔“ [تذكرة الرشيد : جزء 1 ص 147]

↰ ہم کہتے ہیں کہ اوجھڑی اور گردے کے مکروہ ہونے پر کیا دلیل ہے ؟

◈ جناب احمد رضا خان بریلوٰ ی لکھتے ہیں :
”ہمارے امام اعظم ابوحنفیہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ المتوفی180ھ نے فرمایا : خون توبحکم قرآن حرام ہے اور باقی چیزیں میں مکروہ سمجھتاہوں۔ “ [فتاويٰ رضويه : جزء 20، ص 234]

یہ اُڑتی اُڑتی ہوا ہے۔
امام ابوحنفیہ سے یہ قول باسند صحیح ثابت کریں، ورنہ مانیں کہ یہ امام صاحب پر صریح جھوٹ ہے۔ دلائل سے تہی دست لوگوں سے ایسی باتوں کا صادر ہونا بعیداز عقل نہیں۔

*الحاصل :حلال جانور میں ذبح کے وقت بہنے والے خون کے علاوہ اس کا کوئی بھی عضو حرام یا مکروہ نہیں،*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر
واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں