324

سوال_دنیا بھر کے مسلمان، یومِ عرفہ کا روزہ کس دن رکھیں ؟ اپنے ملک کے قمری کیلنڈر کے حساب سے 9 ذی الحجہ کو یا حج کے دوران حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے دن؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-73″
سوال_دنیا بھر کے مسلمان، یومِ عرفہ کا روزہ کس دن رکھیں ؟ اپنے ملک کے قمری کیلنڈر کے حساب سے 9 ذی الحجہ کو یا حج کے دوران حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے دن؟

Published Date:18-8-2018

جواب۔۔!!
الحمدللہ..!

*9 ذوالحج یعنی عرفہ کا ایک روزہ دو سال کے گناہوں کی معافی کا سبب*

🌷ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ۔۔۔آپ ﷺسے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا ،
تو آپ ﷺنے فرمایا: گزرے ہوئے ایک سال اور آنے والے ایک سال (کے گناہوں )کا کفارہ بن جاتا ہے۔
(صحیح مسلم،كتاب الصيام، 1162)

*لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں لوگوں نے اس فضیلت والے روزے کو بھی اختلاف کی بھینٹ چڑھا دیا اور لوگ روزہ رکھنے میں اختلاف کا شکار ہو گئے* 😔

*اس اختلاف کا سبب دراصل رویت ہلال کی رو سے اور مختلف ممالک میں قمری تاریخ کے مختلف ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس اختلاف کا کوئی واضح ثبوت کم و بیش نصف صدی پہلے تک نہیں ملتا البتہ اب کچھ سالوں سے یہ اختلاف ابھر کر سامنے آ رہا ہے*

*حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ جس ملک میں جب 9۔ذی الحجہ ہوگی،وہ یومِ عرفہ ہوگا اور وہاں کے لوگوں کو اسی دن یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا ہوگا*

اس کی دلیل میں صحیح بخاری کی درج ذیل حدیث ہے :
🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ –
(صحیح بخاری ، کتاب الصوم-1909)
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو،

اس حدیث سے چاند دیکھنے کی اور قمری تاریخ کی اہمیت دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر برصغیر ، جاپان و کوریا کے مسلمان ، بغیر چاند دیکھے ، سعودی عرب کے مطابق رمضان کے روزے شروع کر دیں اور عید بھی منا لیں تو کیا یہ صحیح ہوگا؟

🌷صحیح مسلم میں ایک حدیث یوں ہے کہ
ملک شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت باقی لوگوں نے جمعہ کی رات چاند دیکھ کر روزہ رکھا،
اور مدینہ منورہ کے لوگوں نے اس کے اگلے دن ہفتہ کی شام کو چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کیا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم تو تیس روزے پورے رکھیں گے یا پھر چاند دیکھ کر عید کر لیں گے،
حضرت کریب کہنے لگے، کہ کیا معاویہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں؟
تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے
کہ_ نہیں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے،
(صحیح مسلم ، کتاب الصیام-1087)

اس حدیث میں فقہائے مدینہ نے اہلِ شام کے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی خبر کو بنیاد بنا کر اہلِ مدینہ کو یہ فتویٰ نہیں دیا کہ
: تم ایک روز قضا کرو کیونکہ شام میں چاند ہو چکا تھا۔ بلکہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ان کی رویت ان کے لیے اور ہماری رویت ہمارے لیے ہے اور (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے،،

🌷دوسری طرف کچھ لوگوں کا اختلاف ہے کہ
موجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔

اس عقلی دلیل پر چند اشکالات وارد ہوتے ہیں :
بعض ممالک ایسے بھی ہیں جب سعودیہ میں دن ہوتا ہے تو وہاں رات ہوتی،
اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے وقت روزہ رکھیں تو گویا وہ لوگ رات کا روزہ رکھیں گے؟؟
اور کچھ ایسے ممالک بھی ہونگے جہاں سعودیہ سے بھی پہلے چاند نظر آ جاتا، تو کیا وہ لوگ 10 ذوالحجہ یعنی عید کے دن عرفہ کا روزہ رکھیں گے؟؟

دوسری اہم بات یہ کہ :
اگر چاند کا مختلف ہونا معتبر نہیں ہے تو ہر چیز میں نہیں ہونا چاہئے۔
سورج کے اوقات میں بھی اختلاف نہیں ہونا چاہیے،
مثلاً ، افطار و سحری کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کے اوقات ہوں۔
نمازوں کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کی نمازوں کے اوقات ہوں۔
اگر یہ ممکن نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ :چاند کا مختلف ہونا نمازوں اور افطار و سحر کے معاملے میں تو معتبر ہے لیکن رمضان کے روزوں اور یومِ عرفہ کے روزے میں معتبر نہیں ؟؟
تو کیا یہ بات غلط نہیں؟؟

🌷کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عرفہ کا روزہ کا وقوف عرفات یعنی جگہ سے متعین ہے،
یہاں پر وہ غلطی کرتے ہیں وقف عرفات کا تعین کس سے ہوتا ہے ؟
لازمی سی بات ہے اس کا تعین بھی چاند دیکھ کر کیا جاتا ہے چاند دیکھنے کے بعد ۹ دن حجاج کرام عرفات میں جمع ہوتے ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ باقی تمام ماہ میں اپنے ملک کے چاند کا اعتبار کیا جاتا ہے مگر صرف اس دن کے لئے سعودی عرب کے چاند کا اعتبار پھر تو آپ کو قربانی بھی اسی دن کرنی چاہیے جس دن حجاج قربانی کرتے ہیں کیونکہ ۱۰ ذی الحجہ کو یوم النحر ہوتا ہے،
پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دن بعد ہم دوبارہ سعودی عرب کے چاند کو چھوڑ کر اپنے چاند کا اعتبار کر لیتے ہیں جبکہ اگر ۹ کو وقف عرفات کا دن کا تعلق مقام سے ہے تو پھر یوم النحر ۱۰ کا تعلق بھی مقام سے ہی ہے جب حجاج خاص مقام پر قربانی کرتے ہیں۔

🌷 *جب سعودیہ کے مفتی شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:*

چاندكا مطلع مختلف ہونے كي صورت ميں جب يوم عرفہ مختلف ہو جائے تو كيا ہم اپنےعلاقے كي رؤيت كےمطابق روزہ ركھيں يا كہ حرمين كي رؤيت كا اعتبار كيا جائےگا؟

شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:
يہ اہل علم كےاختلاف پر مبني ہے كہ: آياساري دنيا ميں چاندايك ہي ہے كہ مطلع مختلف ہونے كي بنا پر چاند بھي مختلف ہے؟

صحيح يہي ہے كہ: مطلع مختلف ہونےكي بنا پر چاند بھي مختلف ہيں، مثلا جب مكہ مكرمہ ميں چاند ديكھا گيا تو اس كےمطابق يہاں نوتاريخ ہو گي، اور كسي دوسرے ملك ميں مكہ سے ايك دن قبل چاند نظر آيا تو ان كےہاں دسواں دن يوم عرفہ ہوگا، لھذا ان كےليے اس دن روزہ ركھنا جائز نہيں كيونكہ يہ عيد كا دن ہے ، اور اسي طرح فرض كريں كہ رؤيت مكہ سے ليٹ ہو اور اور مكہ مكرمہ ميں نوتاريخ ہو تو ان كےہاں چاند كي آٹھ تاريخ ہوگي تو وہ اپنے ہاں نو تاريخ كےمطابق روزہ ركھيں گے جو كہ مكہ كےحساب سے دس تاريخ بنےگي، راجح قول يہي ہے .

اس ليے كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے :
( جب چاند ديكھو تو روزہ ركھو اور جب اسے ديكھو تو عيد كرو )

اوروہ لوگ جن كےہاں چاند نظر نہيں آيا انہوں نےچاند نہيں ديكھا، اور جيسا كہ سب لوگ بالاجماع طلوع فجر اور غروب شمس ميں ہر علاقے كے لوگ اسي علاقے كا اعتبار كرتےہيں، تواسي طرح مہينہ كي توقيت بھي يومي توقيت كےطرح ہي ہوگي،
(ديكھيں: مجموع الفتاوي ( 20)

🌷 *حافظ ابو یحییٰ نورپوری صاحب لکھتے ہیں کہ!!*
یوم عرفہ سے مراد 9 ذوالحجۃ ہی ہے،
کہ اگر حاجیوں کا عرفات میں ٹھہرنے کا دورانیہ ہی روزے کا وقت قرار دیا جائے تو ان بے چارے مسلمانوں کا کیا بنے گا جو ان ملکوں کے باسی ہیں، جہاں حاجیوں کے وقوف ِ عرفات کے وقت رات ہوتی ہے؟ وہ تو محروم ہو گئے روزہ رکھنے اور دو سالوں کے گناہ معاف کرانے سے!

حالانکہ اسلام کے احکامات ہمہ گیر بھی ہیں اور عالم گیر بھی۔ امریکہ جیسے ممالک جن میں حاجیوں کے وقوف ِ عرفات کے وقت رات ہوتی ہے، یومِ عرفہ کا روزہ تو ان کے لیے بھی مشروع ہے، یومِ عرفہ سے مراد حاجیوں کا وقوف ِ عرفات لینا اس لحاظ سے بالکل غیر منطقی ہے۔
دراصل نو ذو الحجہ کے روزے کو یومِ عرفہ کا روزہ اس ماحول کے مدنظر کہہ دیا گیا، جس میں یہ بات چیت ہوئی تھی،
کیوں کہ مدینہ میں یومِ عرفہ نو ذو الحجہ ہی کو ہوتا ہے۔
اس کو اگر تطبیقی انداز سے سمجھنا چاہیں تو یہ

🌷 فرمانِ رسول دیکھ لیں:
مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ قِبْلَةٌ.
”مشرق ومغرب کے درمیان تمہارا قبلہ ہے۔
”(سنن الترمذی : 342، وسندہ حسن)

اگر کوئی پاکستانی یا ہندوستانی مسلمان اس حدیث کے ظاہری الفاظ کو مدنظر رکھ کر اپنے قبلے کا تعین کرنے لگے تو یقینا وہ غیرقبلہ کو قبلہ بنا بیٹھے گا، کیوں کہ پاکستانی و ہندوستانی مسلمانوں کا قبلہ مشرق ومغرب نہیں، بل کہ شمال و جنوب کی درمیانی سمت میں ہے۔

اس حدیث میں دراصل یہ بات سمجھائی گئی کہ قبلہ رخ ہونے میں اگر تھوڑی بہت کجی ہو بھی جائے تو وہ مضر نہیں، کیوں کہ قبلے والی پوری سمت ہی قبلہ شمار ہو گی۔
اب یہ سمت اہل مدینہ کے حساب سے مشرق ومغرب کے درمیان بنتی تھی، اس لیے یہ الفاظ استعمال فرمائے گئے، لیکن ان ظاہری الفاظ کو دلیل بنا کر پوری دنیا میں ہر جگہ قبلے کی سمت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح اگر یومِ عرفہ کے الفاظ کے محل ورود پر غور کیے بغیر محض ظاہری الفاظ کا تتبع کیا جائے تو یہ صراحتا خطا پر مبنی ہو گا۔

🌷 *لہذا اس تفصیل کے بعد سمجھ آئی کہ عرفہ کا روزہ 9 ذوالحجہ کو ہی رکھا جائے گا*

*مختلف علاقوں میں چاند کا مطلع مختلف ہونے اور روزہ اپنے علاقے کی رؤیت کے مطابق رکھنے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیں!*
*سلسلہ نمبر-410*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں