616

سوال_قربانی کے لئے کونسے جانور ذبح کرنے کا حکم ہے؟ اور کیا بھینس کی قربانی درست ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-60″
سوال_قربانی کے لئے کونسے جانور ذبح کرنے کا حکم ہے؟ اور کیا بھینس کی قربانی درست ہے؟

Published Date: 6-8-2018

جواب۔!
الحمدللہ!!

🌷قرآن کریم نے قربانی کےلیے ” بهيمة الانعام” کا انتخاب کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔”

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡۢ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسۡلِمُوۡا‌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِيۡنَ
اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ سو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔
(سورہ الحج،آیت نمبر، 34)

🌷اس کے بعد دوسری جگہ سورہ الانعام میں
اللہ پاک نے فرمایا!

ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ‌ ۚ
مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ‌ ؕ(143)
وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ‌ ؕ (144)

( بهيمة الانعام کی) آٹھ قسمیں،
بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو ۔
اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو،
(سورہ الانعام، آیت نمبر، 142__143_144)

🌷بہیمۃ الانعام سے مراد اونٹ ،گائے ،بھیڑ اور بکری ہے ۔اس کی وضاحت قرآن مجید
میں بھی ہے اور امام قرطبی نے بھی یہی ذکر کیا ہے
(تفسیر قرطبی ج۱۲ص۳۰)

🌷 امام شوکانی نے یہی چار جانور مراد لئے ہیں اور لکھا ہے کہ قربانی صرف انھیں چار جانوروں میں سے ہو گی
(فتح القدیر :ج۳ص۴۵۲،۴۵۱)

🌷نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :
الانعام کی قید اس لئے لگائی ہے کہ قربانی الانعام کے سوا اور کسی جانور کی درست نہیں اگرچہ اس کا کھانا درست ہی ہو
(ترجمان القرآن :۷۴۱)

🌷خود قرآن کریم نے ”بهيمة الانعام ” کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا، کہ الانعام سے مراد ضان،( بھیڑ) معز،(بکری) ابل،(اونٹ) اور بقر،(گائے)
چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ہے، کہ انکے نر اور مادہ ملا کر ٹوٹل آٹھ جانور شامل ہیں بهيمة الانعام میں،

*احادیث مبارکہ میں بھی بار بار انہی چار جانوروں کا ذکر ہے! چند ایک احادیث ملاحظہ کریں*

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں (بھیڑ کا نر، دنبہ) کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور ( ذبح کرتے وقت ) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1494)

🌷ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ،
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ قربانی کا دن آ گیا، چنانچہ ہم نے گائے کی قربانی میں سات آدمیوں اور اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کو شریک کیا،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1501)

🌷عطاء بن یسار کہتے ہیں،
میں نے ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1505)

🌷کلیب کہتے ہیں،
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے، بکریوں کی قلت ہو گئی، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ( قربانی کے لیے ) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے،
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-3140)

🌷انہی چار جانوروں کی قربانی وہ نر ہو یا مادہ پوری امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی و اتفاقی طور پر مشروع ہے۔اور تمام احادیث کی کتب میں بھی انہیں چار جانوروں کا ذکر ہوا ہے،

🌷بھینس کی قربانی نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ عمل صحابہ سے کیونکہ حجاز میں اسکا وجود ہی نہیں تھا،

🌷🌷 علماء عرب سمیت اہل لغت کے بہت سارے علماء بھینس کی قربانی کو جائز بھی کہتے ہیں،
اور انکی دلیل صرف یہ ہے کہ بھینس گائے کی ہی ایک قسم ہے تو اسکی قربانی بھی جائز ہے،
(مجموع فتاوی ورسائل فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین : 34/25)

🌷محترم علماء کا فتویٰ اپنی جگہ،
پر حقیقت یہ ہے کہ گائے اور بھینس میں زمین آسمان کا فرق ہے،دونوں کی جسامت، شکل و صورت، جلد، دونوں کی خوراک، پانی میں نہانے یا نا نہانے ، عادات و حرکات ، افزائش نسل ،گوشت،کھال اور دودھ تک ہر چیز میں فرق ہے، حالیہ ماہرین نے بھی بھینس کی الگ دو قسمیں ذکر کی ہیں،
https://ur.m.wikipedia.org/wiki/بھینس

جبکہ گائے ایک الگ جانور ہے بذات خود اس کی الگ سے بہت ساری نسلیں ہیں،
https://ur.m.wikipedia.org/wiki/گائے

*اس لیے بھینس کو گائے کی نسل بنانا سمجھ سے باہر ہے*

🌷 بھینس کی زکوٰۃ کے نصاب کے بارے
امام ابن المنذر فرماتے ہیں:
’’ واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر‘‘ اور اس بات پر اجماع ہےکہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے۔
(الاجماع کتاب الزکاۃ ص۴۳حوالہ:۹۱)

اس بنا پر کچھ علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ جب بھینس کی زکوٰۃ ہم گائے پر قیاس کر کے اسکے اعتبار سے دیتے ہیں تو بھینس کی قربانی گائے پر قیاس کر کے کیوں نہیں کر سکتے؟؟

🌷میں دین کا ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے ایک چھوٹی سی گزارش کرتا ہوں،
کہ قیاس کا اصول یہ ہے جب اصل چیز موجود نہ ہو پھر قیاس سے کام چلایا جاتا ہے،
مطلب جیسے اللہ پاک نے جانوروں کی زکوٰۃ فرض کی ہے، اب ہم نے بھینس کی زکوٰۃ نکالنی ہے،
جب ہمیں حدیث میں بھینس کی زکوٰۃ نکالنے کا نصاب نہیں ملتا تو ہم مجبور ہیں کہ بھینس کو گائے پہ قیاس کر کے اسکے مطابق زکوٰۃ نکالیں،
اور کوئی رستہ نہیں ہمارے پاس، تا کہ زکوٰۃ نہ ادا کرنے کی وجہ سے ہم گناہ میں ملوث نہ ہو جائیں،
اسی طرح اگر قربانی کے لئے بھیڑ،بکری،گائے،اونٹ اصل جانور ہیں،
اگر یہ جانور نہ ملیں تو پھر ہم مجبور ہیں کہ اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے ہم بھینس کو گائے پر قیاس کر کے اسکی قربانی کریں، اور یقیناً اس وقت یہ جائز بھی ہو گا،
لیکن جب قربانی کے لئے اصل جانور بھیڑ،بکری،گائے،اونٹ عام دستیاب ہیں تو پھر ہم آسانی یا چند پیسے بچانے کی خاطر قیاس کیوں کریں؟؟
اگر فرض کریں بھینس کی زکوٰۃ کا نصاب شریعت میں موجود ہوتا تو کیا اس بھینس کو گائے پر قیاس کیا جاتا؟
یقیناً نہیں کیا جاتا، تو یہ بات سمجھ آئی قیاس اس وقت ہوتا ہے جب اصل موجود نا ہو،
جب اصل موجود ہو تو قیاس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی،

🌷 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں ،
کہ نبی کریم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بغیر اونٹ ، گائے اور بکر ی کے کسی قسم کے حیوان کی قربانی کرنا منقول نہیں ہے
(تلخیص الحبیر :ج۲ص۲۸۴)

🌷حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔۔۔۔یاد رہے کہ بعض مسائل احتیاط کے لحاظ سے دو جہتوں والے ہوتے ہیں اور عمل احتیاط پر کرنا پڑتا ہے ام المومنین حضرت سودہ کے والد زمعہ کی لونڈی سے زمانہ جاہلیت میں عتبہ بن ابی وقاص نے زنا کیا لڑکا پید ا ہوا جو اپنی والدہ کے پاس پروش پاتا رہا زانی مر گیا اور اپنے سعد بن وقاص کو وصیت کر گیا کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے اس کو اپنے قبضہ کرلینا فتح مکہ کے موقع پر سعد بن ابی وقاص نے اس لڑکے کو پکڑ لیا اور کہا یہ میرا بھتیجہ ہے زمعہ کے بیٹے نے کہا کہ یہ میرے باپ کا بیٹا ہے لہذا میرا بھائی ہے اس کو میں لوں گا مقدمہ دربار نبوی میں پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا الولد للفراش وللعاہر الحجر ۔اولاد بیوی والے کی ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں یعنی وہ ناکام ہے اور اس کا حکم سنگسار کیا جانا ہے بچہ سودہ رضی اللہ عنھا کے بھائی حوالے کر دیا جو حضرت سودہ کا بھی بھائی بن گیا لیکن حضرت سودہ کو حکم فرمایا کہ وہ اس سے پردہ کرے کیونکہ اس کی شکل وصورت زانی سے ملتی تھی جس سے شبہ ہوتا تھا کہ یہ زانی کے نطفہ سے ہے۔
دیکھئے اس مسئلہ میں شکل و صورت کے لحاظ سے تو پردے کا حکم ہوا اور جس کے گھر میں پیدا ہوا اس کے لحاط سے اس کا بیٹا بنا دیا گویا احتیاط کی جانب کو ملحوظ رکھا ایسا ہی معاملہ بھینس کا ہے اس میں دونوں جہتوں میں احتیاط پر عمل ہوگا ،زکوۃ ادا کرنے میں احتیاط ہے اور قربانی نہ کرنے میں احتیاط ہے اس لئے بھینس کی قربانی جائز نہیں ۔
اور بعض نے جو یہ لکھا ہے کہ الجاموس نوع من البقر یعنی یعنی بھینس گائے کی قسم ہے یہ بھی زکوۃ کے لحاظ سے ہے ورنہ ظاہر ہے کہ بھینس دوسری جنس ہے
(فتاوی اہل حدیث_ ج۲ ص۴۲۶)

🌷اس فتوے پر تبصرہ کرتے محقق العصر عبدالقادر حصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
کہ آپ (محدث روپڑی صاحب)کے مجتہد اور جامع المغموص ہونے کا بندہ پہلے ہی معترف ہے مگر گزشتہ پرچہ (تنظیم اہل حدیث جلد ۱۶شمارہ ۴۲ ،۱۷ اپریل ۱۹۶۴ )میں بھینسا کی قربانی کے فتوی میں آ پ نے حدیث زمعہ سے اجتہاد فرما کر زکوۃ اور قربانی میں احتیاطی صورت کو جس طرح مدلل کیا ہے وہ آ پ کے مجتہد مطلق ہونے پر بین دلیل ہے ،اور ہمیں فخر ہے کہ ہماری جماعت میں بفضلہ تعالی مجتھد موجود ہیں ۔۔۔آپ نے جو جواب دیا ہے اس سے حنفیہ کا اعتراض اور استدلال رفع ہو گیا ہے
(فتاوی حصاریہ ج ۵ ص ۴۴۲)

🌷مفتی مبشر ربانی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
ائمہ اسلام کے ہاں جاموس یعنی بھینس کا جنس بقر سے ہونا مختلف فیہ ہے مبنی بر احتیاط اور راجح موقف یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ مسنون قربانی اونٹ ،گائے ،بھیڑ بکری سے کی جائے جب یہ جانور موجود ہیں تو ان کے ہوتے ہوئے مشتبہ امور سے اجتناب ہی کرنا چاہئے اور دیگر بحث و مباحثے سے بچنا ہی اولی وبہتر ہے۔
(احکام ومسائل ص۵۱۱)

🌷شیخ الاسلام حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں کہ،
زکوۃ کے سلسلے میں،اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھینس گائے کی ہی ایک قسم ہے۔ تا ہم چونکہ نبی کریمﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے صراحتا بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں لہذٰا بہتر یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ صرف گائے،اونٹ،بھیڑ اور بکری کی ہی قربانی کی جائے اور اسی میں احتیاط ہے۔واللہ اعلم
( فتاوی علمیہ،جلد/دوم_ص181)

🌷سید سابق رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
قربانی اونٹ ،بکری،بھیڑ اور گائے کے علاوہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ یاد کریں اس پر اللہ کا نام جو اللہ نے انہیں مویشیوں اور چوپایوں میں سے دی ہے،
(فقہ السنہ ج3/ص264)

🌷شیخ رفیق طاھر صاحب حفظہ اللہ،
فرماتے ہیں،
ان آٹھ جانوروں (۱،۲بکری نرومادہ، ۳ ،۴بھیڑ نرومادہ، ۵ ،۶اونٹ نرو مادہ، ۷ ،۸گائے نرومادہ) کے علاوہ دیگر حلال جانور (پالتو ہوں یا غیر پالتو) کی قربانی کتاب وسنت سے ثابت نہیں ۔ لہٰذا بھینس یا بھینسے کی قربانی درست نہیں ۔ قربانی ان جانوروں کی دی جائے جن کی قربانی رسول اللہﷺ کے قول وعمل و تقریر سے ثابت ہو،

http://www.rafeeqtahir.com/ur/play.php?catsmktba=514#.V8pWOw_1Zb8.facebook

🌷ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا فتوی:
ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنھما کے گھر بچہ پیدا ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو کسی نے کہا کہ عقیقہ کے لئے اونٹ ذبح کیا جائے تو آپ نے فرمایا معاذ اللہ ہم تو وہی کریں گے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ، ہم عمر دو بکریاں ذبح کی جائیں
(سنن الکبری للبیھقی :ج۹ ص۳۰۱)
اس واقعے سے دو باتیں ثابت ہوئیں،
کہ امی عائشہ رضی اللہ عنھا نے اونٹ کو عقیقہ میں ذبح کرنا درست نہیں سمجھا حالانکہ اونٹ قربانی میں ذبح کیا جاتا ہے ۔
اور یہی سنت کی اتباع ہے ،افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے آپ کو سنت کا متبع بھی قرار دیتے ہیں پھر عقیقہ میں بھینس کو بھی ذبح کرتے ہیں اسی طرح بھینس کی قربانی میں جواز کا فتوی دینے والے عقیقہ میں بھی بھینس کو ذبح کرتے ہیں۔
امی عائشہ رضی اللہ عنھا کے فتوی کی روشنی میں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب عقیقہ میں اونٹ ذبح نہیں کیا جا سکتا تو عقیقہ میں بھینس بالاولی ذبح نہیں کی جا سکتی جب بھینس عقیقہ میں ذبح نہیں ہو سکتی تو اس کو قربانی میں ذبح کرنا تو بہت دور کی بات ہے
یہی اتباع سنت ہے..!
نبی کریم ﷺ کے دور میں اونٹ عام تھے جب ان کی موجودگی میں بھی آپ نے عقیقہ میں ذبح نہیں کیے ،تو ان لوگوں کا اعتراض کہ آ پ کے زمانے میں بھینس نہیں تھی اس لئے آ پ نے قربانی نہیں کی تو یہ اعتراض بے جا ہے،
بات یہ نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ مسنون قربانی وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی بس اسی میں نجات ہے،

*خلاصہ یہ ہے کہ*

1 :قربانی کرنا عبادت ہے ،اس کے لئے وہی جانور کرنا ہو گا جس کا قرآن وحدیث سے ثبوت ملے گا ۔ہر عبادت کا طریقہ الگ الگ ہے ۔
اور وہ جانور ہیں اونٹ ،گائے، ،بھیڑ اور بکری۔

2 :رسول اللہ ﷺ ،صحابہ کرام ،تابعین ،تبعہ تابعین ،ائمہ دین اور متقدمین و متاخرین محدثین کرام میں سے کسی سے بھی بھینس کی قربانی کرنا ثابت نہیں ہے ۔حالانکہ تابعین وغیرہ نے جاموس(بھینس) کو الگ نام دیا ہے ۔

3 :ہر حلال جانور قربانی پر نہیں لگتا ہرن ،گھوڑا وغیرہ حلال ہیں لیکن قربانی پر جائز نہیں ہیں ۔کیونکہ ثابت نہیں ہیں ۔

4 :تمام محدثین نے بھینس کا ذکر کیا ہے زکوۃ کے بیان میں لیکن کسی نے بھی محدث نے قربانی بیان میں بھینس کا ذکر تک نہیں کیا ،کیونکہ زکوۃ ایک الگ عبادت ہے اور قربانی ایک الگ عبادت ہے ایک دوسری پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

5 :بھینس گائے کی جنس سے نہیں ہے اگر اسی جنس سے ہوتی تو بیل بھینس کو جفتی کرتا ۔اس طرح نہیں ہے کیونکہ ا ن دونوں کی جنس ایک نہیں ہے ۔

6 :زکوۃ کے بیان میں بعض اہل علم نے بھینس کو نوع من البقر کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوۃ دینے میں بھینس کو گائے کی طرح ایک قسم قرار دیا جائے گایعنی بھینس کو زکوۃ میں گائے کے ساتھ ملایا جائے گا،
“ملایا جائے گا ” اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بھینس گائے کی جنس سے نہیں ہے ،اگر جنس سے ہوتی تو بھینس کو نو ع کہنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔

7 :تابعین وغیرہ نے بھینس کی زکوۃ کے بارے میں فتوے دیے لیکن کسی نے قربانی کے متعلق اس کا ذکر تک نہ کیا ۔اگر کوئی کہے کہ وہ بھینس کو گائے ہی سمجھتے تھے اس لئے ذکر نہیں کیا تو عرض ہے کہ انھیں زکوۃ کے بیان میں بھینس کا الگ ذکر کیوں کیا ۔بس وہ زکوۃ میں بھی گائے کا ہی ذکر کرتے ۔زکوۃ کے باب میں گائے اور بھینس کو الگ الگ ذکر کرنا اورقربانی کے بیان میں صرف گائے کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین بھینس کی قربانی نہیں کیا کرتے تھے اور نہ گائے کی جنس سے سمجھتے تھے،

8:شک والی چیز کو چھوڑنا واجب ہوتا ہے اسی میں ایمان کی سلامتی ہوتی ہے ۔مجتھدین کی بھینس کی قربانی کے متعلق دو رائے ہی ہیں
چند متاخرین کہتے ہیں کہ جائز ہے حالانکہ یہ عمل رسول اللہ ﷺ ،صحابہ کرام ،تابعین ،تبعہ تابعین ،ائمہ دین اور متقدمین کرام میں سے کسی سے کرنا ثابت نہیں ہے ۔

9 : دین قرآن و حدیث کا نام ہے
افسوس کہ بھینس کی قربانی کے لئے دلیل قرآن و حدیث کو چھوڑ کر کسی اور سے دی جاتی ہے ،

🌷ایک محترم نے لمبی چوڑی بحث لکھی جس میں اہل لغت کے تمام دلائل اسی بات کے گرد گھومتے ہیں کہ بھینس گائے کی قسم سے ہے،اس لیے اسکی قربانی بھی جائز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!! آخر تک)

اس ساری بحث میں بھینس کی قربانی پر کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ۔
صرف لفظ بقر کو جاموس یعنی بھینس پر صادق کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اور اسکے لیے بھی اہل عرب کے اقوال پیش کیے گئے ہیں ۔
جبکہ اہل عرب کا قول اس میدان میں حجت نہیں ہے ۔ کیونکہ عرب میں گائے ہی پائی جاتی تھی بھینس موجود نہ تھی ۔ بھینس بعد میں وہاں پہنچی تو انہوں نے اسے گائے کی ہی جنس سمجھ لیا ۔ جبکہ برصغیر پاک وہند میں گائے اور بھینس دونوں جانور مدتوں سے موجود ہیں اور یہ لوگ عرب کی نسبت ان دونوں جانوروں کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ۔ اور موجودہ ماہرین بھی دونوں کو الگ الگ جانور قرار دیتے ہیں نہ کہ ایک ہی جانور کی دو نسلیں ۔
دونوں جانوروں میں بہت سے بنیادی فرق ہیں ۔
اہل عرب کو بھینس کا تعارف کرایا گیا اور بآسانی انہیں سمجھانے کے لیے لفظ ” گائے کی قسم ” استعمال کیا گیا ۔جیسا کہ لومڑی کتا اور گیدڑ تینوں الگ الگ جانور ہیں ۔ لیکن ظاہری طور پر کافی حدتک ملتے جلتے ہیں , اور عام آدمی گیدڑ اور کتے کے درمیان فرق نہیں کر پاتا ۔اور جس شخص کو گیدڑ کے بارہ میں معلوم نہ ہو کہ وہ کیا ہوتا ہے اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ بھی ایک قسم کا کتا ہی ہے ۔ بس یہ فرق ہے ۔
یہی حال گائے اور بھینس کا ہے ۔
خوب سمجھ لیں،

*لہذا تمام دوست بلا وجہ بحث مباحثے کی بجائے مسنون جانوروں کی ہی قربانی کریں جو سنت سے ثابت ہیں،اور اسی میں خیر اور بھلائی ہے،*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں