446

سوال_ ٹھیکے یا رہن والی زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار کا عشر ٹھیکہ نکالنے کے بعد فرض ہے یا کل پیداوار سے؟ اور یہ عشر زمین کا مالک دے گا یا ٹھیکہ پر لینے والا؟ کتاب و سنت کی دلیل سے واضح کریں۔؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-42”
سوال_ ٹھیکے یا رہن والی زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار کا عشر ٹھیکہ نکالنے کے بعد فرض ہے یا کل پیداوار سے؟ اور یہ عشر زمین کا مالک دے گا یا ٹھیکہ پر لینے والا؟ کتاب و سنت کی دلیل سے واضح کریں۔؟

Published Date: 3-4-2018

جواب:
الحمدللہ..!!

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 267

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَـكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الۡخَبِيۡثَ مِنۡهُ تُنۡفِقُوۡنَ وَلَسۡتُمۡ بِاٰخِذِيۡهِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِيۡهِ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ ۞
اے لوگو جوایمان لائے ہو! اُن پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں اور اُن میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں اور اس میں سے جوتم خرچ کرتے ہو گندی چیزکا ارادہ نہ کرو حالانکہ تم خود ہی اس کو لینے والے نہیں ہو مگر یہ کہ تم اس کے بارے میں آنکھیں بندکر لو اور جان لویقینا ﷲ تعالیٰ بڑا بے پروا، بےحد خوبیوں والا ہے۔
(سورہ البقرہ،آئیت نمبر-267)

📙(۔۔۔اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں)
کا تقاضا ہے کہ پیداوار کا عشر ٹھیکہ اور باقی تمام قسم کے اخراجات نکالے بغیر زمین سے حاصل ہونے والی ساری آمدنی سے ادا کرے گا،
کیونکہ اگر ٹھیکہ اور اخراجات نکال کر عشر نکالا جائے تو پھر اس آئیت کے مطابق سب سے عشر ادا نہیں ہو گا جو اللہ نے پیدا کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس سب سے عشر ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ نے زمین سے نکالی ہے،

دوسرے مقام پر اللہ فرماتے ہیں،

📚القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام
آیت نمبر 141

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّغَيۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّالنَّخۡلَ وَالزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَاٰتُوۡا حَقَّهٗ يَوۡمَ حَصَادِهٖ‌ ‌ۖ وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ۞
اور وہ اﷲ تعالیٰ ہی ہے جس نے باغات کوپیدا کیا چھجوں پرچڑھائے ہوئے اورنہ چڑھائے ہوئے اور کھجوروں کو اورکھیتوں کو کہ اس کے پھل مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار کو باہم ملتے جلتے بھی ہیں اورنہ ملتے جلتے بھی۔ جب وہ پھل لائیں اُن کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ پھل لائیں اُس کی کٹائی کے دن ﷲ تعالیٰ کاحق اداکرو اور حد سے نہ گزرو یقینا ﷲ تعالیٰ حدسے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورہ الانعام،آئیت نمبر-141)

اس آیت کریمہ میں لفظ کٹائی کے دن سے معلوم ہوتا ہے کہ عشر ، ٹھیکہ اور دوسرے اخراجات نکالنے سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔

دوسری دلیل

📚صحیح بخاری
کتاب: زکوۃ کا بیان
باب: باب: اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری (نہر ‘ دریا وغیرہ) پانی سے ہوئی ہو۔
حدیث نمبر: 1483
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ۔۔۔
ترجمہ:
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ‘ انہیں شہاب نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ  نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا۔ وہ زمین جسے آسمان  (بارش کا پانی)  یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خودبخود نمی سے سیراب ہوجاتی ہو تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔

*اس حدیث میں بھی پوری فصل سے عشر نکالنے کا حکم ہے, خرچہ یا ٹھیکہ نکالنے کا کوئی ذکر نہیں،ہاں اللہ پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔لیکن کہیں بھی پیداوار سے ٹھیکہ یا کوئی اور اخراجات نکالنے کی اجازت نہیں دی۔ اگر عشر ٹھیکہ کی رقم یا دوسرے اخراجات کی رقم نکانے کے بعد ہوتا تو کتاب وسنت میں اس پر کوئی نہ کوئی صحیح اور صریح نص ضرور آ جاتی، لیکن ایسی دلیل کوئی نہیں ہے*

*عہد رسالت میں بھی فصل کی کاشت ، کٹائی، گہائی،محنت اور پیسہ خرچ ہوتا تھا اور لوگ ٹھیکہ پر زمین لے کر بھی کاشت کاری کرتے تھے*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی ان اخراجات کو منہا کرنے کی اجازت نہیں دی۔اس لیے زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار میں سب سے پہلے اللہ ہی کا حق یعنی عشر نکالا جائے گا

پیداوار میں سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی پانی کی مشقت کی وجہ سے عشر( زکوٰۃ ) کو آدھا کر دیا ہے یعنی دسویں کے بجائے بیسواں حصہ ادا کرنے کا حکم ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بہت سے لوگ ٹھیکہ پر زمینیں لے کر کاشت کریں گے اور ان کے کٹائی، گھائی، سپرے ، کھاد وغیرہ پر اخراجات آئیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی وجہ سے عشر میں سے کسی چیز کو کم نہیں کیا تو بغیر شرعی دلیل کے انسانوں میں سے کسی کو کیسے یہ حق حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیکہ یا دوسرے اخراجات نکالنے کا فتویٰ دے؟

*زمین سے پیداوار حاصل کرنے والا کاشت کار اس پیداوار کا عشر دے گا اور زمین کا مالک ٹھیکہ سے حاصل ہونے والی رقم اپنی دوسری نصاب کو پہنچی ہوئی رقم کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ ادا کرے گا اور اگر زمین کے مالک کے پاس ٹھیکہ کی آمدنی سے پہلے زکوٰۃ کا نصاب نہیں تھا تو اس ٹھیکہ کی حاصل ہونے والی رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرےگا، بشرطیکہ یہ ٹھیکہ سے حاصل ہونے والی رقم سال بھر اس کے پاس پڑی رہی اور سال سے پہلے ہی خرچ ہو گئی تو پھر اس پر زکوٰۃ نہیں*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!

⁦  سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں