97

سوال-نماز توبہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ کب اور كيسے ادا كى جاتى ہے؟اس كى ركعات کتنی ہيں؟ نیز كيا يہ عصر كے بعد ادا كى جا سكتى ہے ؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-358″
سوال-نماز توبہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ کب اور كيسے ادا كى جاتى ہے؟اس كى ركعات کتنی ہيں؟ نیز كيا يہ عصر كے بعد ادا كى جا سكتى ہے ؟

Published Date: 9-6-2021

جواب..!
الحمد للہ..!

*اللہ سبحانہ و تعالى كى اس امت پر رحمت ہے كہ اس نے توبہ كا دروازہ كھلا ركھا ہے، اور يہ توبہ كا دروازہ اس وقت تك بند نہيں ہوگا جب تک موت کا فرشتہ نا آن پہنچے يا پھر سورج مغرب كى جانب سے طلوع نہ ہو جائے*
*اسى طرح اس امت پر اللہ تعالى كى يہ بھى رحمت ہے كہ اس نے ان كے ليے سب افضل ترين عبادات مشروع كى ہيں، جنہيں انسان اپنے گناہوں کی بخشش کے ليے وسيلہ بناتا ہے، اور اپنى توبہ كى قبوليت كى اميد ركھتا ہے جو كہ نماز توبہ ہے،*

اور ذيل ميں اس كے متعلقہ چند ايک مسائل پيش كيے جاتے ہيں:

*نماز توبہ كى مشروعيت*
نماز توبہ كى مشروعيت پر اہل علم كا اجماع ہے.

فرمان رسول ملاحظہ فرمائیں!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: استغفار کا بیان
حدیث نمبر: 1521
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ:
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا، مجھ سے ابوبکر ؓ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر ؓ نے سچ کہا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله ***(آل عمران 135) إلى آخر الآية جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔۔ آیت کے اخیر تک ۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٢ (٤٠٦)، و تفسیر آل عمران ٤ (٣٠٠٦)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤١٤، ٤١٥، ٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢، ٨، ٩، ١٠) (صحیح )

📚اور مسند احمد ميں ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَ لِي : يَا ابْنَ أَخِي، مَا أَعْمَدَكَ فِي هَذَا الْبَلَدِ ؟ أَوْ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا، إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” مَنْ تَوَضَّأَ، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ – أَوْ : أَرْبَعًا، شَكَّ سَهْلٌ – يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخُشُوعَ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غُفِرَ لَهُ “.
یوسف بن عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں: میں سیدنا ابو درداء ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انھوں نے مجھ سے پوچھا: بھتیجے! کس چیز نے تجھ سے اس شہر کا ارادہ کروایا؟ کون سی چیز لے آئی تجھے؟ میں نے کہا: جی کوئی چیز نہیں ہے، بس آپ اور میرے والد کے درمیان جو تعلق تھا، اس کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابو درداء ؓ نے کہا: یہ جھوٹ بولنے کا برا وقت ہے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو یا چار رکعت نماز پڑھی اور اس میں اچھے انداز میں ذکر اور خشوع اختیار کیا، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی، اس کو بخش دیا جائے گا۔
(مسند أحمد | مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ | وَمِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ , 27546)
(شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج المسند ٢٧٥٤٦ • إسناده حسن )
(الهيثمي (ت ٨٠٧)، مجمع الزوائد ٢‏/٢٨١ • إسناده حسن)
مسند احمد كے محققين كہتے ہيں: اس كى سند حسن ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 3398 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

*نماز توبہ كا سبب*
نماز توبہ كا سبب مسلمان شخص كا معصيت و نافرمانى كا مرتكب ہونا ہے، چاہے گناہ كبيرہ ہو يا صغيرہ، تو اس سے اسے فورا توبہ كرنى چاہيے، اور اس كے ليے يہ دو ركعت ادا كرنى مندوب(مستحب) ہيں، اور پھر اسے توبہ كے وقت اللہ كا قرب حاصل كرنے كے ليے كوئى اچھا اور نيك عمل كرنا چاہيے، اور ان اعمال صالحہ ميں سب سے زيادہ افضل نماز ہے، تو اس نماز كو اللہ تعالى كے ہاں اپنا وسيلہ بنا كر يہ اميد ركھنى چاہيے كہ اللہ تعالى اس كى توبہ قبول فرمائيگا، اور اس كے گناہ بخش دےگا.

*نماز توبہ كا وقت*
مسلمان شخص جب كسى گناہ سے توبہ كرنے كا عزم كر چكے تو اسے اس وقت نماز توبہ ادا كر كے توبہ كرنى چاہيے، اور يہ اس گناہ كے فورا بعد ہو يا دير كے ساتھ اس ميں كوئى فرق نہيں، گنہگار شخص پر واجب ہوتا ہے كہ وہ توبہ كرنے ميں جلدى كرے، ليكن اگر وہ توبہ ميں تاخيركرتا ہے، يا پھر يہ كہے كہ توبہ كر لونگا، اور بعد ميں توبہ كر لى تو اس كى توبہ قبول ہو جاتى ہے، كيونكہ توبہ اس وقت تك قبول ہوتى ہے جب تك درج ذيل امور ميں سے كوئى ايك چيز نہ ہو جائے:

1 – جب روح نرخرہ (گلے) تك پہنچ جائے يعنى نرخرہ بجنے لگے تو توبہ قبول نہيں ہوتى.

📚نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
” اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ ( موت کے وقت ) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے ”
(سن ترمذی -3577)
علامہ البانى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 3537 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

2 – جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے تو توبہ قبول نہيں ہو گى.

📚عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ!
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” جس نے بھى سورج مغرب كى جانب سے طلوع ہونے سے قبل توبہ كر لى اللہ تعالى اس كى توبہ قبول كرتا ہے ”
(صحيح مسلم حديث نمبر_ 2703 )

اور يہ نماز ہر وقت ادا كرنى مشروع ہے، اس ميں ممنوعہ اوقات ( مثلا نماز عصر كے بعد ) بھى شامل ہيں، كيونكہ يہ نماز ان نمازوں ميں شامل ہوتى ہے جو كسى سبب كى بنا پرادا كى جاتى ہے، تو اس كے سبب كے وجود كى بنا پر نماز ادا كرنى مشروع ہو گى.

📙شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” اسباب والى نمازوں كو اگر ممنوعہ وقت سے مؤخر كيا گيا تو وہ فوت ہو جائينگى، يعنى رہ جائينگى، مثلا: سجدہ تلاوت، اور تحيۃ المسجد سورج گرہن كى نماز، اور تحيۃ الوضوء كى دو ركعتيں، جيسا كہ بلال رضى اللہ عنہ كى حديث ميں ہے، اور اسى طرح نماز استخارہ اگر كسى شخص كو استخارہ كى ضرورت ہو اور اسے مؤخر كيا جائے تو وہ رہ جائيگا، اور اسى طرح نماز توبہ، تو جب گناہ كرے تو اس پر فورا توبہ كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے مندوب ہے كہ وہ دو ركعت ادا كر كے توبہ كرے، جيسا كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں آيا ہے ” انتہى.
(ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميہ ( 23 / 215 ).

4 – *نماز توبہ کی رکعات*
نماز توبہ دو ركعت ہيں، جيسا كہ ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں آيا ہے.

5- *نماز توبہ کی جماعت جائز نہیں*
توبہ كرنے والے كے ليے اكيلے اور خلوت ميں نماز توبہ ادا كرنا مشروع ہے، كيونكہ يہ ان نوافل ميں سے ہے جن كى جماعت مشروع نہيں، اور اس كے بعد اس كے ليے استغفار كرنا مندوب ہے، اس ليے كہ ابو بكر رضى اللہ كى حديث سے ثابت ہے.

6-*نماز توبہ کی قرآت*
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ان ركعتوں ميں كوئى مخصوص سورتيں پڑھنا اور مخصوص اذكار ثابت نہيں، اس ليے جو چاہے قرآت كر سكتے ہیں.

7- *اور نماز توبہ كے ساتھ توبہ كرنے والے كے ليے مستحب ہے كہ وہ نيک اور صالحہ اعمال كرے،*

📚كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
﴿﴿وَإِنّي لَغَفّارٌ لِمَن تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحًا ثُمَّ اهتَدى﴾
اور ہاں يقينا ميں انہيں بخش دينے والا ہوں جو توبہ كريں اور ايمان لائيں اور نيك عمل كريں، اور راہ راست پر بھى رہيں،
(سورہ طہ 82 )

8- *اور توبہ كرنے والے كے ليے نيك اور صالحہ اعمال ميں سب سے افضل عمل صدقہ ہے، كيونكہ صدقہ گناہوں كو مٹانے والے اسباب ميں سب سے بڑا اور عظيم عمل ہے*

📚اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿إِن تُبدُوا الصَّدَقاتِ فَنِعِمّا هِيَ وَإِن تُخفوها وَتُؤتوهَا الفُقَراءَ فَهُوَ خَيرٌ لَكُم وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِن سَيِّئَاتِكُم
اگر تم صدقہ و خيرات ظاہر كرو تو وہ بھى اچھا ہے، اور اگر تم اسے پوشيدہ پوشيدہ مسكينوں كو دے دو تو يہ تمہارے حق ميں بہتر ہے، اللہ تعالى تمہارے گناہوں كو بخش دےگا
(سورہ البقرۃ _ 271 )

📚اور كعب بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ سے ثابت ہے كہ جب اللہ تعالى نے ان كى توبہ قبول كى تو وہ كہنے لگے:
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرى توبہ ميں شامل ہے كہ ميں اپنا سارا مال اللہ اور اس كے رسول كے ليے صدقہ كردوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” اپنا كچھ مال ركھ لو، يہ تمہارے ليے بہتر ہے، تو وہ كہنے لگے: ميں اپنا خيبر والا حصہ روك ليتا ہوں ”
(صحیح بخاری حدیث نمبر-2757)

*تو خلاصہ يہ ہوا كہ*

1 – نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے نماز توبہ ثابت ہے.

2 – يہ نماز مسلمان كے ليے مشروع ہے جب بھى وہ كوئى گناہ كرے اور اس سے توبہ كرنے ليے نماز توبہ ادا كرے، چاہے گناہ كبيرہ ہو يا صغيرہ اور چاہے گناہ كے فورا بعد توبہ ہو يا كچھ مدت گزرنے كے بعد.

3 – نماز توبہ ہر وقت ادا كى جا سكتى ہے، اس ميں ممنوعہ اوقات بھى شامل ہيں.

4 – توبہ كرنے والے كے ليے نماز توبہ كے ساتھ ساتھ اللہ كے قرب والے دوسرے اعمال بھى كرنے مستحب ہيں، مثلا صدقہ وغيرہ.

*اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ا نكى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے_ آمین*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

(ماخذ: الاسلام سوال و جواب)

📙سوال_کن اوقات میں نماز پڑھنا ممنوع/مکروہ ہے؟ اور ان ممنوع اوقات کا دورانیہ کتنا ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -39 )

📙سوال_کیا عصر کے بعد نفلی نماز نہیں پڑھ سکتے..؟ قرآن و حدیث سے وضاحت کریں
(دیکھیں سلسلہ نمبر -40 )

_________&___________

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں