287

سوال- ننگے سر نماز پڑھنے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ننگے سر نماز نہیں ہوتی؟ نیز کیا امامہ یا پگڑی، ٹوپی وغیرہ سے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا افضل ہے؟ برائے مہربانی تفصیلی رہنمائی فرمائیں.!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-354”
سوال- ننگے سر نماز پڑھنے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ننگے سر نماز نہیں ہوتی؟
نیز کیا امامہ یا پگڑی، ٹوپی وغیرہ سے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا افضل ہے؟
برائے مہربانی تفصیلی رہنمائی فرمائیں.!

Published Date: 27-03-2021

جواب:
الحمدللہ:

*شریعت اسلامیہ میں فقھائے کرام نے مسائل کی نوعیت کو سمجھانے کیلئے انکی مخلتف کیٹیگریز بنائی ہیں، بعض ارکان دین میں فرض، واجب کا درجہ رکھتے ہیں تو بعض سنت, نوافل کا، اور بعض اعمال فرض سنت کی بجائے مستحب اور مباح کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن کم علمی اور شدت پسندی کیوجہ سے بعض احباب ان کیٹیگریز کو ایسے مکس اپ کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مباح کاموں کو نوافل اور سنت کا درجہ دے دیتے ہیں اور سنت، نوافل کو فرائض کا درجہ دے دیتے ہیں، مثال کے طور پر مرد حضرات کیلئے داڑھی رکھنا اور کپڑا ٹخنوں سے اوپر رکھنا لازم اور واجب ہے، لیکن لوگ عام نفلی سنت سمجھ کر اس پر عمل نہیں کرتے،*
*اسی طرح انگوٹھی پہننا ایک مباح یعنی جائز عمل ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو اپنے لیے بطور ضرورت بنوایا تھا، خط وغیرہ پر مہر لگانے کیلئے کیونکہ جن بادشاہوں کو خط بھیجنے تھے وہ مہر کے بغیر خط پڑھتے نہیں تھے، لیکن آج لوگوں نے اپنے شوق کی وجہ سے اس مباح عمل کو پسندیدہ ترین سنت سمجھ لیا ہے،*
*اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لباس، پگڑی، عمامے میں سرخ ،سبز، کالے کپڑے کے استعمال کا ذکر ملتا ہے، لیکن آپ نے لباس میں خاص حکم اور فضیلت سفید رنگ کی بیان کی ہے، تو جیسے سفید کپڑوں کو پہننا سنت ہے ایسے باقی رنگ کالا، سرخ یا سبز سنت ثواب نہیں، یعنی وہ رنگ جو آپ نے عام روٹین میں پہنے وہ پہننا (مباح) جائز تو ہیں مگر سفید کپڑے کی طرح سنت نہیں ہو سکتے، لیکن کچھ لوگوں نے سبز رنگ کو ایسا پکڑا کہ مستقل سبز رنگ کو دین کی علامت بنا دیا، اور بعض نے کالے رنگ کو مستقل اپنا لیا ہے*
*انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ ننگے سر نماز پڑھنے کا بھی ہے، ہمارے ہاں اس مسئلے میں بھی دو عملوں کو آپس میں مکس کر دیا گیا ہے،*
*عام روٹین میں سر ڈھانپ کر رکھنا یقیناً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اور ہمارے لیے مباح/ مستحب اور بعض علماء کے مطابق سنت بھی ہے*
*لیکن یہ سنت نماز کی نہیں، بلکہ آپکی عام عادات والی سنت ہے، کہ اکثر اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک ڈھکا ہوتا تھا، جسکے لیے عمامہ، پگڑی وغیرہ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اپنا سر مبارک ڈھک کر رکھتے تھے سپیشل نماز یا مسجد کیلئے نہیں، بلکہ اس وقت آپکا لباس اس طرح کا ہوتا تھا کہ سر مبارک بھی ہر وقت یا اکثر اوقات ڈھکا ہوتا تھا، یعنی گھر میں ہوتے تب بھی، بازار ہوتے تب بھی، سفر میں ہوتے تب بھی، تو یقیناً ان اوقات کے درمیان جب آپ نماز پڑھتے تو خودبخود ہی سر مبارک پہلے سے ہی ڈھکا ہوتا تھا، سپیشل نماز کیلئے آپ نے کبھی سر مبارک نہیں ڈھکا*

*ہمارے ہاں کم علمی کیوجہ سے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس عام عادات والی سنت یا مستحب عمل کو نماز کی سنتوں کے ساتھ مکس کر دیا ہے، بلکہ کئی لوگ تو اس کو فرض کا درجہ دیتے ہیں اور ننگے سر نماز کے نا ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں، اور بعض کی کوشش ہوتی ہے کہ سر پر کچھ نا کچھ رکھ کر ہی نماز پڑھیں، جسکے لیے انہیں بھلے کرکٹ کیپ الٹی رکھنی پڑی سر پر، یا کھجی یا پلاسٹک کی ٹوٹی پھوٹی میلی کچیلی ٹوپی یا بھلے تھوڑا بہت ٹکڑا رومال یا مسجد میں پڑے قرآن کے غلاف اتار کر سر ڈھانپنا پڑے وہ ہر صورت سر ڈھانپ کر ہی نماز پڑھتے ہیں، بلکہ بعض اللہ کے لال ایسے ہیں کہ اگر کوئی ننگے سر نماز پڑھ رہا ہو یا دوران نماز کسی کی ٹوپی گر جائے تو ٹوپی اٹھا کر اسکے سر پر رکھ دیتے ہیں، اور بعض تو اس عمل کو بار بار دہراتے ہیں، اور اس شدت کیوجہ یقیناً انکی نظر میں ننگے سر نماز یا تو ہوتی نہیں یا پھر گناہ تصور کرتے،*

*جبکہ اگر ہم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کو دیکھیں تو کوئی ایک بھی ایسی صحیح حدیث نہیں ملتی جس میں یہ بات ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سپیشل نماز کیلئے کبھی سر ڈھانپا ہو، یا صحابہ کرام کو نماز کیلئے سر ڈھانپنے کی ترغیب دلائی ہو، یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نماز کیلئے خصوصی طور پر کبھی کسی کپڑے یا عمامے وغیرہ کا اہتمام کیا ہو*

*بلکہ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے ایک کپڑے میں (ننگے سر) نماز پڑھی، تا کہ لوگ جان جائیں کہ ایک کپڑے میں ( ننگے سر ) نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے جسکی دلیل آگے آ رہی ہے ان شاءاللہ*

*مرد حضرات کیلئے ننگے سر نماز پڑھنے کے دلائل درج ذیل ہیں*

سنن ابوداؤد ،سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے کہ..!
📚جامع ترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: جوان عورت کی نماز بغیر چادر کے قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 377
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ الْحَائِضِ إِلَّا بِخِمَارٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَوْلُهُ الْحَائِضِ يَعْنِي الْمَرْأَةَ الْبَالِغَ يَعْنِي إِذَا حَاضَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَدْرَكَتْ فَصَلَّتْ وَشَيْءٌ مِنْ شَعْرِهَا مَكْشُوفٌ لَا تَجُوزُ صَلَاتُهَا، ‏‏‏‏‏
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے،
٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب عورت بالغ ہوجائے اور نماز پڑھے اور اس کے بال کا کچھ حصہ کھلا ہو تو اس کی نماز جائز نہیں
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة ٨٥ (641)،
(سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٢ (655)،
( تحفة الأشراف: 17846)،
(مسند احمد (6ج/ 150، 218، 259) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح،

*یہ حدیث صحیح ہے شیخ البانی حفظہ اللہ نے اس کو صحیح ابن ماجہ اور صحیح ابوداود میں درج فرمایا ہے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بالغ عورت کی نماز ننگے سر نہیں ہوتی، کیونکہ عورت پوری کی پوری ستر ہے یعنی اسکو پوراجسم چھپانے کا حکم ہے، دوسرے انداز میں دیکھیں تو اس کا معنی و مفہوم یہ ہوا کہ مرد اور نابالغ عورت کی نماز ننگے سر ہو جاتی ہے لہٰذا اگر کوئی مرد ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز بالکل درست ہے اور ہو جاتی ہے،کیونکہ سر ڈھک کر نماز پڑھنے کی پابندی صرف بالغ عورت کے لیے ہے اور مرد کے لیے سر ڈھک کر نماز پڑھنے کی فرضیت یا سنت کا ذکر کتاب وسنت میں کہیں موجود نہیں،*

ہاں مردوں کیلئے جو حکم ہے کہ وہ اپنا ستر چھپائیں یعنی تہبند اور کچھ کپڑا کندھوں پر ہونا چاہیے، جیسا کہ حدیث میں ہے،

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: جب ایک کپڑے میں کوئی نماز پڑھے تو اس کو کندھوں پر ڈالے۔
حدیث نمبر: 359
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَيْءٌ.
ترجمہ:
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک (رح) کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو،

*یعنی عورت کیلئے سر کے بال چھپانا بھی لازمی ہیں جب کہ مرد کیلئے ستر یعنی ناف سے گھٹنوں تک اور کپڑے کا کچھ حصہ کندھوں پر ہونا چاہیے، سر ڈھانپنا لازم نہیں، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح بغیر سر ڈھانپے ایک کپڑے میں کئی بار نماز پڑھی،*

دلیل درج ذیل حدیث ہے!

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے۔
حدیث نمبر: 356
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ.
ترجمہ:
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، وہ اپنے والد سے جن کو عمر بن ابی سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کناروں کو دونوں کاندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔

*اب کوئی شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ جی اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اس لیے مجبوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام ایک کپڑے میں (ننگے سر نماز پڑھ لیتے تھے،) اس اعتراض کا جواب بخاری کی دوسری حدیث کے اندر ہی موجود ہے کہ صحابی رسول کے پاس دوسرا کپڑا بھی موجود تھا اور آپ پھر بھی ایک کپڑے میں (ننگے سر) نماز پڑھ رہے تھے،اور ان کے اس عمل پر اعتراض کرنے والے کو صحابی رسول نے کیا جواب دیا آئیے حدیث ملاحظہ فرمائیں:*

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: نماز میں گدی پر تہبند باندھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ قَائِلٌ:‏‏‏‏ تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واقد بن محمد نے محمد بن منکدر کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی۔ جسے انہوں نے گدی(سر کے پچھلی طرف گردن) تک باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے۔ بھلا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو کپڑے بھی کس کے پاس تھے؟

*دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں،*

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: بغیر چادر اوڑھے صرف ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 370
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏تُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏أَحْبَبْتُ أَنْ يَرَانِي الْجُهَّالُ مِثْلُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا.
ترجمہ:
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے محمد بن منکدر سے، کہا میں جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ (اسے اوڑھے بغیر) نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں، میں نے بھی نبی کریم ﷺ کو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔

اللہ اکبر۔۔!
*صحابی رسول نے اس شخص کو کیسے سخت الفاظ سے جواب دیا جو بلاوجہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے پر آپ پر تنقید کر رہا تھا،اور آج ہمارے ہاں لوگ سر پر کپڑا نا رکھنے کیوجہ سے نماز نا ہونے کا ہی فتویٰ لگا دیتے، گستاخ/متکبر اور سنت کا تارک کہہ دیتے ہیں،
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے،*

یہ بات ٹھیک ہے کہ جب کپڑا وافر موجود ہو تو پھر ایک کپڑے کی بجائے مکمل لباس میں نماز ادا کرنی چاہیے،جس میں پورا بدن چھپ جائے، لیکن کیا وافر کپڑا موجود ہونے کی صورت میں سر ڈھانپنا بھی نمازی کے لباس میں شامل ہے؟ آئیے ذرا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انکی نظر میں ایک نمازی کا بہترین لباس کیسا ہونا چاہیے..؟

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: قمیص اور پاجامہ اور جانگیا اور قباء (چغہ) پہن کر نماز پڑھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا، ‏‏‏‏‏‏جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَحْسِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ.
ترجمہ:
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب کے واسطہ سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، آپ نے فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم سب ہی لوگوں کے پاس دو کپڑے ہوسکتے ہیں؟
پھر (یہی مسئلہ) عمر ؓ سے ایک شخص نے پوچھا تو انہوں نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں فراغت دی ہے تو تم بھی فراغت کے ساتھ رہو۔ آدمی کو چاہیے کہ نماز میں اپنے کپڑے اکٹھا کرلے، کوئی آدمی تہبند اور چادر میں نماز پڑھے، کوئی تہبند اور قمیص، کوئی تہبند اور قباء میں، کوئی پاجامہ اور چادر میں، کوئی پاجامہ اور قمیص میں، کوئی پاجامہ اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قمیص میں نماز پڑھے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی جانگیا اور چادر میں نماز پڑھے۔

*یہاں بھی نمازی کیلئے مکمل لباس سے مراد دو کپڑے یعنی شلوار قمیض یا کرتا تہبند وغیرہ ہے،*

جیسا کہ ایک اور روایت میں ہے کہ،

📚نافع تابعی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا : ”کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے ؟ …کیا میں تمہیں اس حالت میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے ؟ ”نافع نے کہا : نہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا اللہ عزوجل اس کا زیادہ مستحق نہیں ہے کہ اس کے سامنے زینت اختیار کی جائے یا انسان اس کے زیادہ مستحق ہیں ؟ پھر انہوں نے نافع رحمہ اللہ کو ایک حدیث سنائی جس سے دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔
[السنن الكبريٰ للبيهقي ملخصًا 236/2 و سنده صحيح]

*قارئین کرام!*
آپ نے حدیث ملاحظہ کی، کہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خوشحالی میں بھی نمازی کیلئے جو بہترین لباس اور کپڑے اکٹھے کرنے یعنی نماز میں جن کپڑوں کے پہنے کا ذکر فرمایا ان میں تہنبد، چادر، جانگیا، قمیض، پاجامہ، قباء تک ہر لباس گنوا دیا، مگر نمازی کے سر کو ڈھانپنے کیلئے کسی عمامے، پگڑی یا ٹوپی کا ذکر نہیں فرمایا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امامے پگڑی یا ٹوپی کا نماز سے کوئی تعلق نہیں،

*اب ذرا چند ایک ان علمائے کرام کے فتاویٰ جات ملاحظہ فرمائیں جن کے فالورز ننگے سر نماز نا ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں*

📙علمائے احناف کی معتبر و مستند کتاب ”در مختار“ میں لکھا ہوا ہے کہ جو شخص عاجزی کے لئے ننگے سر نماز پڑھے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
(الدرالمختار مع رد المختار 474/1)

📙 ایک دیوبندی فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :
”سوال : ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جو شخص ننگے سر اس نیت سے نماز پڑھے کہ عاجزانہ درگاہ خدا میں حاضر ہو تو کچھ حرج نہیں۔“
جواب : یہ تو کتب فقہ میں بھی لکھا ہے کہ بہ نیت مذکورہ ننگے سر نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ہے۔“
[فتاويٰ دارالعلوم ديوبند 94/4]

📙 احمد رضاخان بریلوی صاحب نے لکھا ہے :
”اگر بہ نیت عاجزی ننگے سر پڑھتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ “
[احكام شريعت حصه اول ص 130]

📙مولانا رشید اھمد گنگوہی فتاوی رشیدیہ (ص: 34) میں لکھتے ہیں:
“تارک عمامہ سے جھگڑنے والا جاہل ہے اور عمامہ کے بغیر نماز مکروہ نہیں۔”

*قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ عموماً جو لوگ نماز میں سر ڈھانپنے کو واجب سمجھتے وہ لا علم لوگ ہیں، جبکہ علم والے احباب کے نزدیک ننگے سر نماز بالکل جائز ہے*

________________&______

*اب ان لوگوں کے دلائل ک جائزہ لیتے ہیں جو نماز کے وقت سر ڈھانپنے کو لازم ، سنت یا افضل قرار دیتے ہیں*

سب سے بڑی اور مضبوط دلیل جو دی جاتی ہے، وہ قرآن کی یہ آئیت ہے،

*پہلی دلیل*

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

📚یا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ
اے بنی آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو
(سورہ الاعراف-31)

اس آئیت میں سر ڈھانپنے سے متعلق کوئی حکم نہیں، اس کا شان نزول تفسیر ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں..!

📙امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ،
برہنہ ہو کر طواف ممنوع قرار دے دیا گیا،
اس آیت میں مشرکین کا رد ہے ۔ وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے،
📚سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو ، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں!
(صحیح مسلم:3028)
پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جائیں ، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کا حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپا لے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ، اور کپڑوں میں اچھا پسندیدہ لباس سفید ہے۔۔۔۔۔انتہی..!
(تفسیر ابن کثیر )

*اس آئیت سے مرد کے لیے سر ڈھک کر نماز پڑھنے کی فرضیت یا مسنون ہونے پر استدلال درست نہیں،اگر اس آئیت سے سر ڈھانپنا یعنی امامہ وغیرہ رکھنا مراد ہوتا تو یقیناً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس آئیت کو ہم سے بہتر جانتے تھے،*
📚اور اوپر ہم نے حدیث پڑھی کہ جب امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں فراغت دی ہے تو تم بھی فراغت کے ساتھ رہو آدمی کو چاہیے کہ نماز میں اپنے کپڑے اکٹھا کرلے، کوئی آدمی تہبند اور چادر میں نماز پڑھے، کوئی تہبند اور قمیص، کوئی تہبند اور قباء میں، کوئی پاجامہ اور چادر میں، کوئی پاجامہ اور قمیص میں، کوئی پاجامہ اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قمیص میں نماز پڑھے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی جانگیا اور چادر میں نماز پڑھے(بخاری-365)

*یعنی خوشحالی میں بھی مرد نمازی کیلئے جو بہترین لباس یعنی نماز میں جن کپڑوں کے پہنے کا ذکر فرمایا ان میں تہنبد، چادر، جانگیا، قمیض، پاجامہ، قباء تک ہر کپڑا گنوا دیا، مگر نمازی کے سر کو ڈھانپنے کیلئے کسی عمامے، پگڑی یا ٹوپی کا ذکر نہیں فرمایا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امامے پگڑی یا ٹوپی کا نماز سے کوئی تعلق نہیں،*

________&____

*دوسری دلیل*

📚شمائل ترمذی
کتاب: حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالوں میں کنگھا کرنے کا بیان۔
باب: حضور اقدس ﷺ کے بالوں میں کنگھا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی قَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ هُوَ الرَّقَاشِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يُکْثِرُ دَهْنَ رَأْسِهِ وَتَسْرِيحَ لِحْيَتِهِ وَيُکْثِرُ الْقِنَاعَ حَتَّی کَأَنَّ ثَوْبَهُ ثَوْبُ زَيَّا
ترجمہ:
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ اپنے سر مبارک پر اکثر تیل کا استعمال فرماتے تھے اور اپنی داڑھی مبارک میں اکثر کنگھی کیا کرتے تھے۔ اور اپنے سر مبارک پر ایک کپڑا ڈال لیا کرتے تھے جو تیل کے کثرت استعمال سے ایسا ہوتا تھا جیسے تیلی کا کپڑا ہو۔

پہلی بات کہ اس حدیث میں بھی نماز کے وقت سر ڈھانپنے کا ذکر نہیں بلکہ عام روٹین میں سر ڈھانپنے کا ذکر ہے، جو کہ نماز کے دوران سر ڈھانپنے کی دلیل نہیں بن سکتی،

🚫کلام:
دوسری بات کہ یہ حدیث بھی یزید بن ابان الرقاشی کی وجہ سے ضعیف ہے،
دیکھیں:
شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج زاد المعاد ١‏/١٧٠ • إسناده ضعيف
الألباني (ت ١٤٢٠)، ضعيف الجامع ٤٦٠١ • ضعيف • أخرجه الترمذي في «الشمائل المحمدية» (١٢٧)، وابن سعد في «الطبقات الكبرى» (١٣٢٦)، والبيهقي في «شعب الإيمان» (٦٤٦٤) مطولاً )

لہذا یہ دوسری روایت بھی نمازی کیلئے سر ڈھانپنے کی دلیل نہیں بن سکتی،

______&_____

*تیسری دلیل*
📚علیکم بالعمآئم فإنھا سیما الملآئکة وأرخوا لھا خلف ظھورکم” ”(طبرانی کبیر ) عن ابن عمر (شعب الایمان للبیہقی ) عن عبادة ”
”تم پر پگڑیاں باندھنا لازم ہے، کیونکہ یہ فرشتوں کی علامت ہے۔ اور ان کے شملے پیٹھ پیچھے چھوڑ ا کرو۔”
(ملاحظہ ہو، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:4؍345)

🚫کلام:
یہ روایت منکر ہے،
اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام سیوطی رحمہ اللہ نے حرف ”ض” لکھا ہے، جس سے اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے۔ اس حدیث کی شرح میں علامہ مناوی لکھتے ہیں کہ:
”اس کی سند میں عیسیٰ بن یونس ہے، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے جناب عبادةؓ سے یہ روایت کی ہے لیکن شارح فرماتے ہیں کہ ان ہر دو سندوں میں الحوص بن حکیم نامی ایک راوی ہے، جسے علامہ زین الدین العراقی نے شرح ترمذی میں ضعیف لکھا ہے۔”
( الجامع الصغیر:2؍64)

📙 امام ذہبیؒ نے المیزان (4/396) میں ذکر کیا ہے ۔
📙اسی طرح علامہ ابن طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (الفوائد المجموعہ للشوکانی صفحہ 187)
📙نیز ”اللآلي المصنوعة في الأحادیث ” میں ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔
( تحفة الاحوذی:3؍50)

الضعيفة (2/119) رقم (699) اور طبرانی (کبیر) (3/201) میں ہے ، المقاصد الحسنة میں ہے بعض بعض سے زیادہ کمزور ہیں

____&___
*چوتھی دلیل*
📚”صلوٰة تطوع أو فریضة بعمامة تعدل خمسا و عشرین صلوٰة بلا عمامة وجمعة بعمامة تعدل سبعین جمعة بلا عمامة”
ابن عساکر عن ابن عمرؓ (صحت حدیث)
”عمامہ کے ساتھ ایک نفلی یا فرضی نماز بغیر عمامہ کے پچیس نمازوں کے برابرہے۔ اور عمامہ باندھ کر ایک جمعہ ادا کرنا بغیر عمامہ کے ستر جمعوں کے برابر ہے۔”
( الجامع الصغیر:2؍486)
نکالا اسے ابن النجار ، الدیلمی اور ابن عساکر نے،

🚫کلام:
اسے اگرچہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے لیکن محققین علماء و محدثین مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ و امام شوکانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق یہ موضوع ہے۔
( دیکھئے الفوائد المجموعة في الأحادیث الموضوعة للشوکانی صفحہ 188)
(ضعیف الجامع رقم_352)
(السلسلة الضعيفة (1/158) رقم (127) کیونکہ اس کی سند میں چار راوی مجہول ہیں : عباس ، ابو بشر، محمد بن مہدی اور مہدی بن میمون

_____&____
*پانچویں دلیل*
📚”إن اللہ تعالیٰ و ملٰئکته یصلون علیٰ أصحاب العمائم یوم الجمعة”
(طبرانی۔ کبیر) عن ابی الدرداء ؓ (ضعیف)
”جمعہ کے روز پگڑی باندھنے والوں پر اللہ تعالیٰ رحمت کرتے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔”
(الجامع الصغیر:1؍73)

🚫کلام:
اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے، جس کے متعلق میزان الاعتدال او رلسان المیزان میں ہے کہ وہ کذاب راوی ہے۔
زین الدین عراقی رحمہ اللہ اور امام ہیثمی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق ابن معین رحمہ اللہ نے بھی اسے کذاب کہا۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے متروک کہا
اور اس کی منکر (غیر مقبول۔ ضعیف) روایات میں سے یہی مذکورہ روایت پیش کی۔
نیز ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو موضوعات میں ذکر کیا اور لکھا کہ اس کا کوئی اصل نہیں۔
اس کے بیان کرنے میں ایوب متفرد ہے، جس کے متعلق ازدی لکھتے ہیں کہ یہ روایت اس کی خود ساختہ ہے، اور یحییٰ بن معین نے اسے جھوٹا اور امام دارقطنی نے متروک کہا۔
(حوالہ کےلیے دیکھئے فیض القدیر:2؍270)
(ابن حجر العسقلاني التلخيص الحبير ٢‏/٥٩٠ • إسناده ضعيف)
(السخاوي المقاصد الحسنة ٣٤٦ • لا يثبت)
(الألباني ضعيف الجامع ١٦٦٥ • موضوع)
س میں ایوب بن مدرک کذاب ہے جیسے کہ المجمع (2/126) میں ہے ۔ حدیث موضوع اور باطل ہے،
السلسلة الضعيفة (1/188) رقم (159)۔
_____&____

*چھٹی دلیل*
📚الصلوٰة في العمامة عشرة آلاف حسنة ”
(مسند فردوس دیلمی)
”عمامہ میں نماز ادا کرنا دس ہزار نیکیاں ہیں۔”
(کنوز الحقائق مع الجامع الصغیر:2؍5)

🚫کلام:
ایک معمولی عمل پر بے حد و حساب ثواب کا ذکر ہونا بھی موضوع روایات کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔لہٰذا اس روایت کا معنی و مفہوم اس کے وضع کی دلیل ہے۔

📙علاوہ ازیں امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس کے ایک راوی کو متہم قرار دیا اور علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے ”المقاصد الحسنة في الأحادیث المشتهرة علی الألسنة” میں اس روایت کو موضوع کہا ہے
( الفوائد المجموعة في الأحادیث الموضوعة صفحہ 188)
(تنزيه الشريعة (2/257)
موضوعات علي القاري (ص: 15)
الضعيفة (1/161) رقم (129) اور اس کی سند میں ابان راوی متہم ہے
_____&____

*ساتویں دلیل*
‘📚عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اعتموا تزدادواحلما”
”عمامہ باندھا کرو اس سے تمہاری حلم کی صفت بڑھے گی۔”
(المستدرک للحاکم :4؍193)

🚫کلام:
اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابی حمید ہے، جو امام احمد رحمہ اللہ کے بقول متروک ہے۔( المستدرک للحاکم :4؍193)
دیگر تمام محدثین کرام نے بھی اس روایت کو ضعیف اور موضوع کہا ہے،
📙(البخاري (ت ٢٥٦)، العلل الكبير ٢٩٥ • [فيه] عبيد الله بن أبي حميد ضعيف ذاهب الحديث لا أروي عنه شيئا)
📙(ابن الجوزي (ت ٥٩٧)، موضوعات ابن الجوزي ٣‏/٢١٢ • لا يصح)
📙(الصغاني (ت ٦٥٠)، الدر الملتقط ٢٩ • موضوع)
📙 امام جرجانی نے بھی خلاصہ میں اس روایت کو موضوع کہا ہے۔
( الفوائد المجموعہ صفحہ 188)
_____&____

*آٹھویں دلیل*
📚عن علي قال عممني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم غدیر خم بعمامة و سدلھا خلفي ثم قال إن اللہ عزوجل أمدني یوم بدر و حنین بملائکة یعتمون ھٰذا العمة فقال إن العمامة حاجزة بین الکفر والإیمان”
”حضرت علی ؓ کابیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غدیر خم کے روز مجھے عمامہ پہنایا او راس کا شملہ میرے پیچھے لٹکایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بدروحنین کے موقعوں پر جن فرشتوں کے ذریعہ میری مدد فرمائی تھی ، وہ بھی اسی انداز پر عمامے باندھے ہوئے تھے۔” نیز فرمایا کہ ”عمامہ ایمان و کفر کے درمیان رکاوٹ ہے۔”
(مسندابی داؤد الطیالسی صفحہ 23)

🚫کلام:
اولاً تو اس حدیث کا بھی معنی و مفہوم اس کے موضوع ہونے پر دال ہے کہ عمامہ کو ایمان و کفر کے درمیان رکاوٹ اور حائل قرار دیا گیا۔ حالانکہ صحیح روایات میں نماز کو ایمان و کفر کے درمیان فارق بیان کیا گیاہے۔اگر یہ چیز شرعاً اتنی ہی اہم تھی تو اس بارہ میں کوئی روایت تو صحیح سند سےمروی ہوتی۔

📙ثانیاً: اس کی سند پر بھی کلام ہے۔اس میں ایک راوی الاشعث بن سعد السمان ہے جو کہ ضعیف ہے۔
(دیکھئے المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة:2؍258 بحوالہ الاصابہ:2؍282)
_____&____

*نویں دلیل*
📚روی القضاعي والدیلمي في مسند الفردوس عن علي مرفوعاً العمائم تیجان العرب والاحتباء حیطانھا وجلوس المؤمن في المسجد رباطه”
”پگڑیاں عربوں کے تاج ہیں اور گوٹھ مارنا ان کے آداب مجلس ہیں اور مومن کا مسجد میں بیٹھ رہنا ہی اس کا رباط (جہاد کی تیاری کرنا) ہے۔”

🚫کلام:
امام سخاوی رحمہ اللہ نے المقاصد الحسنة میں اسے ضعیف کہا ہے۔
(الفوائد المجموعہ صفحہ 187)
(الألباني (ت ١٤٢٠)، ضعيف الجامع ٣٨٩٢ • ضعيف •)
(الألباني (ت ١٤٢٠)، السلسلة الضعيفة ١٥٩٣ • منكر )
_____&____
*دسویں دلیل*
📚”صلوٰة علیٰ کور العمامة یعدل ثوابھا عنداللہ غزوة في سبیل اللہ”
”عمامہ کے بَل پرایک نماز کا ثواب، اللہ کے ہاں جہاد فی سبیل کے برابر ہے۔”

🚫کلام:
اس حدیث کا معنیٰ و مفہوم بھی اس کے موضوع ہونے کی واضح دلیل ہے کیونکہ عمامہ سمیت نماز کوجہاد فی سبیل اللہ کے برابر قرار دیا گیا ہے، جو کہ صاف کذب ہے۔ نیزاس روایت کو امام شوکانی رحمہ اللہ نے موضوع کہا ہے۔
( الفوائد المجموعہ صفحہ 188)
_____&____

*گیارہویں دلیل*
📚وَعَن ركَانَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ» .
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَاده لَيْسَ بالقائم ترجمہ:
حضرت رکانہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہمارے اور مشرکین کے درمیان جو فرق ہے وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھنا ہے ۔‘‘
امام ترمذی نے حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد درست نہیں ۔
(سنن ترمذی-1784)
(سنن ابوداؤد-4078)

🚫کلام
سند میں ابو جعفر مجہول راوی ہیں اور محمد علی اور انکے دادا یعنی رکانہ کے درمیان انقطاع ہے،
درج ذیل تمام محدثین کرام نے اس روایت کو بھی من گھڑت اور ضعیف کہا ہے،
📙(شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سنن أبي داود ٤٠٧٨ • إسناده ضعيف)
📙(المباركفوري (ت ١٣٥٣)، تحفة الأحوذي ٥‏/١٨٦ • فيه ثلاثة مجاهيل)
📙(الألباني (ت ١٤٢٠)، السلسلة الضعيفة ٦٠٧٢ • موضوع)
📙(الذهبي (ت ٧٤٨)، ميزان الاعتدال ٣‏/٥٤٦ • لم يصح)
📙(السخاوي (ت ٩٠٢)، المقاصد الحسنة ٣٤٦ • لا يثبت)
📙(البخاري (ت ٢٥٦)، التاريخ الكبير ١‏/٨٢ • إسناده مجهول لا يعرف سماع بعضه من بعض

📙ابن الدیبع شیبانی رحمہ اللہ کی تحقیق :
علامہ موصوف لکھتے ہیں:
”وردمعناہ بألفاظ مختلفة و کله ضعیف”
کہ ”فضیلت عمامہ کی روایات مختلف الفاظ سے روایت ہوئی ہیں اور سب ضعیف ہیں۔”
( تمییز الطیب من الخبیث فیما یدور علیٰ ألسنة الناس من الحدیث، صفحہ 107)

_____&____

*بارہویں دلیل*
📚عن جابر بن عبدالله:] ركعتانِ بعِمامةٍ خيرٌ من سَبْعِينَ ركعةً بلا عِمامةٍ
أخرجه الديلمي في «الفردوس» (٣٢٣٣)
پگڑی کے ساتھ دو رکعتیں بغیر پگڑی کے ستر رکعتوں سے بہتر ہیں ۔

🚫کلام
یہ موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں محمد بن نعیم کذاب اور ایک مجہول راوی ہے۔
(الألباني (ت ١٤٢٠)، السلسلة الضعيفة ١٢٨ • موضوع • )
(الألباني (ت ١٤٢٠)، ضعيف الجامع ٣١٢٩ • موضوع • )
_____&____

*تيرهویں دلیل*
📚 ابو امامہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کسی شخص کو پگڑی باندھے بغیر والی نہیں بناتے تھے اور اس کے کنارے کان کی جانب لٹکاتے تھے۔ اسے طبرانی نے روایت کیا،

🚫کلام
اس میں جمیع بن ثقت نام کا راوی متروک ہے۔ مراجعہ کریں مجمع الزوائد (5/120 – 121 )
_____&____

*چودہویں دلیل*
📚معاذؓ سے مرفوعا روایت ہے ؛ احتباء (تہبند باندھنا) عربوں کی حفاظت ہے ، تکیہ لگانا عربوں کی رھبانیت ہے اور پگڑی باندھنا عربوں کا تاج ہے تو تم پگڑی باندھا کرو تمہارا حلم بڑھے گا۔ اور جو پگڑی باندھتا ہے اس کیلئے پگڑی کے بل کو عوض ایک نیکی ہے اور جب وہ پگڑی کھولتا ہے تو ہر بل کے کھلنے پر اس کا ایک گناہ ختم ہو جاتا ہے ۔
کنز العمال (15/358) رقم (41146) هيثمي نے أحكام اللباس (2/9) میں ذکر کیا ہے،

🚫کلام
الضعيفة (2/152) رقم (718) ۔
حدیث موضوع ہے اس میں تین کذاب ہیں۔

_____&____
*پندرہویں دلیل*
📚خالد بن معدان سے مرسل روایت ہے پگڑی باندھو اور پہلی امتوں کی مخالفت کرو۔
روایت کیا اسے بیہقی نے شعب الایمان میں کنز العمال میں (15/302) رقم (1137) میں ذکر کیا ہے،

🚫کلام
اور حدیث بہت ضعیف ہے جیسے کہ
ضعیف الجامع (ص: ۱۳۳) میں موضوع کہا ہے۔
(الألباني (ت ١٤٢٠)، ضعيف الجامع ٩٣٣ • موضوع •)
السيوطي (ت ٩١١)، الجامع الصغير ١١٣٩ • ضعيف
_____&____
*سولہویں دلیل*
📚علیؓ سے مرفوعا روایت ہے مساجد میں پگڑی کے ساتھ یا بغیر پگڑی کے آو ، پگڑیاں مسلمانوں کا تاج ہیں۔
(اسے ابن عباس ، عدی نے روایت کیا)

🚫کلام
اور اس میں میسرۃ بن عبید راسی متروک ہے جیسے کہ المناوی نے فیض القدیر (1/67) میں کہا ہے ، حدیث موضوع ہے،
الضعيفة (3/459) رقم (1296)۔
الألباني (ت ١٤٢٠)، تمام المنة ١٦٥ • ضعيف جداً بل موضوع
_____&____

*سترہویں دلیل*
📚ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق پگڑی کا ٹوپی پر باندھنا ہے ، سر پر پگڑی کا ہر بل گھمانے پر نور دیا جائیگا۔ اسے بارودی نے روایت کیا ہے جیسے کہ کنز العمال (15/305 ) میں رکانہ سے مروی ہے،

🚫کلام
اور حدیث باطل ہے جیسے السلسلة الضعيفة (3/362) رقم (1217) میں ہے ، دیکھیں ضعیف جامع (ص: 567) رقم (389)۔
_____&____

*اٹھارہویں دلیل*
📚ابن عباسؓ سے مرفوعا مروی ہے “پگڑیاں عربوں کا تاج ہیں اور تہبند جب یہ پگڑی اتاردیں گے تو عزت بھی اتار پھینکیں گے ۔” اسے دیلمی نے مسند الفردوس میں نکالا ہے ، کنز العمال (15/305) رقم (41133)

🚫کلام
حدیث ضعیف ہے الضعيفة (3/96)
رقم (1593) ضعیف الجامع رقم (3891)۔

_____&____
*انیسویں دلیل*
📚علیؓ سے مرفوعا روایت ہے : “پگڑیاں عربوں کا تاج اور تہبند کی حفاظت ہے اور مومن کا مسجد میں بیٹھنا رباط ہے۔”

🚫کلام
یہ روایت منکر ہے دیکھیں الضعيفة (4/96) رقم (1593) ضعيف الجامع (ص: 567) رقم (3592)۔
_____&____

*بیسویں دلیل*
📚عمران بن حسینؓ سے مرفوعا روایت ہے : پگڑی مومن کا وقار اور عرب کی عزت ہے جب عرب پگڑیاں چھوڑ دیں گے تو وہ عزت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔اسے دیلمی نے مسند الفردوس (2/315) میں روایت کیا ہے ۔،

🚫کلام
دیکھیں الضعيفة تحت رقم (1593) اور دیکھیں المقاصد الحسنة للسخاوي(291) رقم (717) اور حدیث منکر ہے اور دیکھیں کنز العمال (5/308) رقم (41147)۔

_____&____

*اکیسویں دلیل*
📚علیؓ سے مرفوعا روایت ہے :”اللہ تعالی نے بدر کے دن ایسے فرشتوں کے ساتھ مدد فرمائی جنہوں نے یہ پگڑیاں باندھ رکھی تھیں ، یقینا پگڑی ایمان و کفر کے درمیان رکاوٹ ہے۔”
اسے روایت کیا طیالسی نے بیہقی نے اس سے ،

🚫کلام
اور حدیث بالکل کمزور ہے جیسے کہ ضعیف الجامع رقم (1563) اور السلسلة الضعيفة (رقم : 3052) میں ہے ، مراجعہ کریں کنز العمال (15/306) رقم (41141)۔
_____&____

*بائیسویں دلیل*
📚دن کا سر ڈھانپنا عقل مندی اور رات کو ڈھانپنا مشکوک ہے ، اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے،

🚫کلام
اور اس کی سند ضعیف ہے جیسے کہ فیض القدیر اور ضعیف الجامع رقم (2463) (ص: 362) میں ہے ۔

*قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ عمامے ٹوپی پگڑی وغیرہ کی فضیلت میں کوئی ایک حدیث بھی صحیح سند سے ثابت نہیں،بلکہ تمام روایات موضوع اور شدید قسم کی ضعیف ہیں*
__________&_______

📙شیخ البانی ؒ الضعيفة (1/162) رقم (127)
میں کہتے ہیں ان بے ثبوت احادیث کا یہ اثر ہے کہ ہم بعض لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ سر یا ٹوپی پر رومال لپیٹ لیتے ہیں تاکہ انہیں اپنے خیال کے مطابق ثواب مذکور ملے جبکہ وہ نفس کی طہارت وتزکئے کا کوئی عمل نہیں کرتے ، عمامہ کی اگر کوئی فضیلت ہے تو اس سے مراد وہ عمامہ ہے جس کے ساتھ مسلمان عام حالت میں زینت حاصل کرتا ہے اور جو نماز کے وقت مستعار پگڑی استعمال کرتا ہے اس کی مثال تو ایسی ہے جو نماز پڑھاتے وقت مستعار و مصنوعی داڑھی لگالے۔ الخ۔ تلخیص کے ساتھ۔

📙اور علامہ البانی رحمہ اللہ (3/362) رقم (1217) میں حدیث ہمارے اور مشرکوں کے مابین فرق پگڑی کا ٹوپی پر باندھنا ہے ، (باطل ہے) کے تحت کہتے ہیں ؛ یہ حدیث میرے نزدیک باطل ہے کیونکہ پگڑی کے بل زیادہ کرنے نبیﷺ کی سیرت کے خلاف ہے جو شہرت کا لباس ہے اور اس سے روکا گیا ، امام بخاریؒ فرماتے ہیں عمامہ کی فضیلت والی حدیثیں بعض بعض سے زیادہ کمزور ہیں۔
دیکھئے المقاصد الحسنة (ص: 291)

📙فاضل محقق علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ کی تحقیق:
آپ لکھتے ہیں:
”لم أجد في فضل العمامة حدیثا مرفوعا صحیحا وکل ماجاء فيه فھي إما ضعیفة أو موضوعة”
”مجھے عمامہ کی فضیلت میں کوئی صحیح مرفوع حدیث نہیں ملی او رجو روایات اس بارہ میں ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔”
( تحفة الاحوذی:3؍50)

_________&________

*خلاصہ یہ کہ اس بارہ میں وارد شدہ تمام روایات اپنےمعنیٰ و مفہوم کے علاوہ استنادی حیثیت سے بھی ناقابل استدلال وغیر معتبر ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ پگڑی مسلمانوں کا شعار رہی ہے، لیکن اس کی نماز یا علماء و ائمہ سے کوئی خصوصیت نہیں، اور پگڑی یا پگڑی میں نماز پڑھنے کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں ۔ اس کی فضیلت میں یہی کافی ہے کہ اسے نبیﷺ صحابہ ؓ اور ائمہ نے استعمال کیا۔ پگڑی کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی استحباب کے درجے میں نبیﷺ کی تابعداری کی نیت سے عام روٹین میں استعمال کرتا ہے تو اسے اجر ملے گا اور اگر شہرت و ریاء کیلئے استعمال کرتا ہے تو گنہگار ہے اور جو استعمال نہیں کرتا تو وہ معذور ہے اس پر نہ کوئی گناہ ہے نہ ملامت اور جو استعمال عمامہ کا انکار کرتا ہے یا واجب سمجھتا ہے تو وہ شریعت غراء کے محاسن سے نا واقف ہے۔اور نماز کیلئے پگڑی پہننا اور نماز کے بعد اتار کر رکھ دینا بدعت ہے اور نمازیوں کے ساتھ ترک عمامہ اور ایسے دیگر مسائل پر جھگڑنا بدعت اور غلو فی الدین ہے، بعض مساجد میں نماز کے دوران میں سر ڈھانپنے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اس لئے انہوں نے تنکوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھی ہوتی ہیں، ایسی ٹوپیاں نہیں پہننی چاہئیں، کیونکہ وہ عزت اور وقار کے منافی ہیں کیا کوئی ذی شعور انسان ایسی ٹوپی پہن کر کسی پروقار مجلس وغیرہ میں جاتا ہے ؟ یقیناً نہیں تو پھر اللہ عزوجل کے دربار میں حاضری دیتے وقت تو لباس کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔اس کے علاوہ سر ڈھانپنا اگر سنت ہے اور اس کے بغیر نماز میں نقص رہتا ہے تو پھر داڑھی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ ضروری بلکہ فرض ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کے بغیر کوئی نماز پڑھی ہے ؟ پھر تو مصنوعی داڑھیوں کی ٹوکری مسجد میں رکھنی چاہیے تا کہ جو داڑھی مونڈا مسجد آئے وہ نماز کیلئے عارضی داڑھی لگا لے…..؟ اللہ تعالیٰ فہم دین اور اتباع سنت کی توفیق عطا فرمائے*

*نوٹ*
اس تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ جو عمامے پگڑی یا ٹوپی رکھتے ہیں وہ اتار دیں، بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر وقت سر پر عمامہ ،ٹوپی یا پگڑی وغیرہ رکھنا ایک اچھا اور مستحب عمل ہے، جو عام روٹین میں ہر وقت سر ڈھانپ کر رکھتے وہ نماز بھی سر ڈھانپ کر پڑھیں، لیکن جو لوگ ٹوپی، پگڑی یا عمامہ کو صرف نماز کے ساتھ خاص سمجھتے یا سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کو افضل قرار دیتے، انکا یہ عمل قرآن و سنت سے ثابت نہیں،

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

(احادیث کی تخریج ماخوذ از
( محدث میگزین شمارہ جنوری 1986)
(فتاویٰ الدین الخالص جلد1صفحہ239 )

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوال- ننگے سر نماز پڑھنے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ننگے سر نماز نہیں ہوتی؟ نیز کیا امامہ یا پگڑی، ٹوپی وغیرہ سے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا افضل ہے؟ برائے مہربانی تفصیلی رہنمائی فرمائیں.!” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں