504

سوال-حلال و حرام جانور/پرندوں کی پہچان کیا ہے؟ پانی کے کونسے جانور حلال اور کونسے حرام؟ نیز کیا برائلر مرغی، بھینس، مور اور زیبرے وغیرہ کا حلال ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-350”
سوال-حلال و حرام جانور/پرندوں کی پہچان کیا ہے؟ پانی کے کونسے جانور حلال اور کونسے حرام؟ نیز کیا برائلر مرغی، بھینس، مور اور زیبرے وغیرہ کا حلال ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں؟
Published Date : 06-01-2021
جواب..!!
الحمدللہ:
*جتنا یہ اہم مسئلہ ہے اتنا ہی اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور اس اختلاف کی وجہ کوئی دلائل نہیں بلکہ سب سے بڑی وجہ سب کی اپنی اپنی پسند نا پسند ہے، ہمارے ہاں ایک برا رواج یہ بھی ہے جسکو جو چیز نہیں پسند وہ فوراً اس پر حرام یا مکروہ کا فتویٰ لگا دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ چیز حلال ہوتی ہے، اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے والا جانے انجانے میں اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا ہے،*
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
📚وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَـتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ‌ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَؕ‏ ۞
ترجمہ:
اور اس کی وجہ سے جو تمہاری زبانیں جھوٹ کہتی ہیں، مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، تاکہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔( سورہ النحل-116)
📙تفسیر:
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمہاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوگا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے،
📖حافظ ابن کثیر (رح) نے تفسیر ابن کثیر میں فرمایا، اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جو دین میں کوئی نئی بات (بدعت) ایجاد کرے، جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو، یا محض اپنی عقل اور رائے سے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کردہ چیز کو حلال ہونے کا فتویٰ دے۔
📚رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے صحیح ہونے پر تو ساری امت کا اتفاق ہے :
مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ
” جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے (کیونکہ یہ درحقیقت اللہ پر جھوٹ ہے)
( بخاری، العلم، باب إثم من کذب علی النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :حدیث 107)
(تفسیر القرآن الکریم –
سورۃ النحل، آیت نمبر 116)
*اس آئیت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حلال وحرام کا قانون ہمارے اختیار میں نہیں، حلال وحرام صرف وہی ہے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حلال وحرام قرار دیا ہو، جسے اللہ اور اسکے رسول حرام قرار دے دیں وہ حرام اور جسے حلال قرار دے دیں وہ حلال، اب انکے بعد کسی کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں تبدیلی کرے،واضح رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامل دین لے کر آئے ہیں ، وہ دین جو آپکو واشروم جانے، استنجاء کرنے تک کے آداب بتلاتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ اتنے اہم مسئلہ حلال و حرام میں ہماری رہنمائی نا کرے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حلال وحرام کے بارے میں جامع اصول بیان کر دئیے ہیں جن کی روشنی میں ہم کسی بھی چیز کے حلال وحرام ہونے کا پتا لگا سکتے ہیں،*
__________&_________
*ہر وہ چیز حلال ہے جسے شریعت نے حلال قرار دیا ہے،اور ہر وہ چیز حرام ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے، اور انکے علاوہ ہر وہ چیز بھی حلال ہے جس سے شریعت نے خاموشی اختیار کی ہے، یعنی جس پر کوئی حکم نہیں لگایا گیا اور نا ہی اس میں حرام والی کوئی علامات پائی جاتی ہوں*
دلائل درج ذیل ہے،
📚یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ؟ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ
تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ؟ کہہ دے تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں،
سورہ المائدہ ، آئیت نمبر-4)
📚اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ
ترجمہ:
تمہارے لیے چرنے والے چوپائے حلال کیے گئے ہیں، سوائے ان کے(جنکے نام) تم پر پڑھے جائیں گے،( یعنی جنکی حرمت آگے چل کر واضح کر دی جائے گی)
(سورہ المائدہ ، آئیت نمبر-1)
ارشاد باری تعالٰی ہے!
📚اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡکُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز حرام کی ہے جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
(سورہ بقرہ-173)
(اِنَّمَا) کا لفظ حصر کے لیے آتا ہے، اس لیے آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ چار چیزیں حرام کی ہیں، ان کے سوا کچھ حرام نہیں اور دوسری آیت میں اس سے بھی صریح الفاظ میں یہ بات ذکر ہوئی ہے،
📚فرمایا،
قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہ، اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا،
ترجمہ:
”کہہ دیجئے کہ مجھ پر نازل کی گئی وحی میں کسی کھانے والے پر مردار اور دمِ مسفوح (جو خون ذبح کے وقت بہتا ہے)کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں ۔”
(سورہ الانعام آئیت نمبر-145)
📙حافظ ابنِ رجب لکھتے ہیں :
فھذا یدلّ علیٰ ما لم یوجد تحریمہ ، فلیس بمحرّم ۔ ”یہ آیت ِ کریمہ اس قانون پر دلیل ہے کہ (شریعت میں کھانے پینے اور پہننے کی)جس چیز کی حرمت نہ پائی جائے ، وہ حرام نہیں ہے
(جامع العلوم والحکم لابن رجب :ص381)
حدیث ملاحظہ فرمائیں:
📚سنن ابوداؤد
کتاب: کھانے پینے کا بیان
حدیث نمبر: 3800
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،
كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَلَا:‏‏‏‏ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت(خاموشی) فرمایا وہ معاف ہے، پھر آپ (سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما )نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
(قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا)
(الانعام : 145)(کہہ دیجئے کہ مجھ پر نازل کی گئی وحی میں کسی کھانے والے پر مردار اور دم ِ مسفوح کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔۔۔)
(سنن ابو داؤد :3800 وسندہ، صحیحٌ ، وقال الحاکم (٤/١١٥): صحیح الاسناد)
📙حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں،
”اس آیت ِ کریمہ کا مقصد مشرکین کا رد کرنا ہے ، جنہوں نے اپنی فاسد آراء سے اپنے آپ پر بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام وغیرہ کو حرام قرار دینے کی بدعت جاری کی ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کو خبر دیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحی میں یہ چیزیں حرام نہیں ہیں ، اس آیت ِ کریمہ میں مذکور مردار ، دم ِ مسفوح، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جو غیراللہ کی طرف منسوب کی جائے ، کو ہی حرام قرار دیا گیا ہے ، ان کے علاوہ کسی چیز کو حرام نہیں کہا گیا ، باقی جو کچھ بھی ہے ، وہ معاف ہے اور اس سے سکوت اختیار کیا گیا ہے ، (جن چیزوں کی حرمت سے شریعت نے سکوت کیاہے)تم نے یہ کیسے سمجھ لیا ہے کہ یہ چیزیں حرام ہیں اور انہیں کیسے حرام قرار دیتے ہو ؟ یہ قاعدہ ان چیزوں کی نفی نہیں کرتا ، جن کی حرمت اس کے بعد وارد ہو چکی ہے ، جیسا کہ پالتو گدھوں ، درندوں اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں کے گوشت کی حرمت ہے ، علماء کا مشہور مذہب یہی ہے ۔
(تفسیر ابن کثیر : ج3 /ص103- 104)
📙یعنی آپ اعلان کردیں کہ میری وحی میں ان چیزوں کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں، مگر اس پر اشکال یہ ہے کہ دوسری آیات و احادیث سے ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی حرمت ثابت ہے، مثلاً خمر یعنی ہر نشہ آور چیز اور درندے وغیرہ، تو یہاں صرف انھی چیزوں کو کیسے حرام کہا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تمام حلال و حرام کا ذکر نہیں، بلکہ ان مخصوص جانوروں کی بات ہو رہی ہے جنھیں مشرکین مکہ نے حرام کر رکھا تھا، جب کہ آیت میں مذکور چاروں حرام چیزوں سے وہ اجتناب نہیں برتتے تھے، اس لیے ان کے اس فعل کے بالمقابل انھیں بتایا گیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں چیزیں حرام ہیں جن سے تم اجتناب نہیں کرتے اور جو اللہ کے نزدیک حلال ہیں ان سے تم پرہیز کرتے ہو، گویا یہاں صرف ان مشرکین کی نسبت سے اور ان کے بالمقابل بات کی گئی ہے۔ اسے عربی میں حصر اضافی کہتے ہیں۔ یہ حصر مطلق یعنی عام قاعدہ نہیں،
( تفسیر القرآن الکریم )
_____________&________
*حرام و حلال سے متعلق قرآن و حدیث میں ان چار چیزوں کے علاوہ جو بنیادی احکام بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں*
جانور/پرندے دو طرح کے ہوتے ہیں،
1-سمندر (پانی) کے ،
2-خشکی کے ،
*1-پانی کے جانور*
*سمندر کا ہر جانور خواہ زندہ پکڑا جائے یا مردہ، چھوٹا ہو یا بڑا، نام اس کا کچھ بھی ہو، حلال ہے۔ مراد اس سے پانی میں رہنے والے وہ جانور ہیں جو پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، خواہ سمندر میں ہوں، یا دوسری جگہ پانی میں، یعنی دریا،نہر میں۔، جیسے مچھلی وغیرہ*
دلیل ملاحظہ فرمائیں:
ارشاد باری تعالیٰ ہے.!
📚اُحِلَّ لَـكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ‌ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡبَـرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا‌ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
تمہارے لیے سمندر کا شکار حلال کردیا گیا اور اس کا کھانا بھی، اس حال میں کہ تمہارے لیے سامان زندگی ہے اور قافلے کے لیے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے، جب تک تم احرام والے رہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے،
(سورہ المائدہ-96)
📙 تفسیر:
اس میں سمندر اور غیر سمندر سب پانی برابر ہیں اور اس میں وہ تمام جانور شامل ہیں جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتے، وہ مچھلی ہو یا کوئی اور جانور۔ زندہ بھی پکڑے جائیں تو ذبح کی ضرورت ہی نہیں
قرآن و حدیث میں پانی کے شکار کو حلال کہا گیا ہے اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں کہ مچھلی کے سوا سب حرام ہیں۔ ” صَيْدُ الْبَحْرِ “ سے مراد پانی کا ہر وہ جانور ہے جو زندہ پکڑا جائے اور ” طَعَام “ سے مراد پانی کا وہ جانور ہے جو وہیں مرجائے اور سمندر یا دریا اسے باہر پھینک دے، یا مر کر پانی کے اوپر آجائے۔
(تفسیر القرآن الکریم )
📚نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی تفسیر آئی ہے۔
ابن جریر (رح) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کیا ہے :
( طَعَامُہُ مَا لَفِظَہُ الْبَحْرُ مَیْتًا )
یعنی اس آیت میں ” طَعَام “ سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر مردہ حالت میں کنارے پر پھینک دے۔ ” ہدایۃ المستنیر “ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابن جریر نے بہت سے صحابہ سے یہی معنی نقل فرمایا ہے،)
بعض لوگوں نے صرف مچھلی کو حلال اور پانی کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام کہہ دیا ہے اور وہ بھی صرف وہ جو زندہ پکڑی جائے، اگر مر کر پانی کے اوپر آجائے تو اسے حرام کہتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں، کیونکہ وہ اس آیت کے خلاف ہیں۔
📚صحابہ کرام (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سمندر کے پانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا :
ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہُ ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ )
”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔“
( الموطأ، الطہارۃ، باب الطھور للوضوء : 12)
(سنن ابوداؤد :83)
(سنن ترمذی : 69) (صححہ الألبانی )
📚اسی طرح کچھ صحابہ کرام (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جنگی مہم پر بھیجا، ان کے پاس کھانے کی چیزیں ختم ہوگئیں تو انھوں نے ٹیلے جیسی ایک بہت بڑی مچھلی دیکھی، جسے سمندر کا پانی کنارے پر چھوڑ کر ہٹ چکا تھا۔ ابو عبیدہ (رض) امیر تھے، انھوں نے اسے کھانے کی اجازت دے دی، ایک ماہ تک تین سو آدمی اسے کھاتے رہے اور خشک کر کے ساتھ بھی لے آئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے تو ہمیں بھی دو ۔ “ چناچہ صحابہ نے کچھ گوشت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔
(مسلم، الصید والذبائح،
باب إباحۃ میتات البحر : 1935)
__________&_________
*خشکی کے جانور*
خشکی کے جانوروں میں کافی تفصیل ہے،اسکو آسان کرنے کیلئے ہم وہ علامات بیان کرتے ہیں جو کسی بھی جانور،پرندے پر حرام ہونے کا حکم لگاتی ہیں،
*تقریباً 8 قسم کے جانور/ پرندے ہیں جن میں حرمت والی علامات پائی جاتی ہیں:*
*1-جانوروں میں سے “ذی ناب” یعنی کچلی والے تمام جانور(درندے) حرام ہیں، جیسے شیر، کتا، بلی وغیرہ، انکے دانت کچلی والے ہوتے،*
*2-پرندوں میں “ذی مخلب” یعنی پنجہ مار کے شکار کرنے والے ( پرندے ) حرام ہیں، جیسے، شاہین، عقاب، شکرے، harpy eagle, وغیرہ،*
دلیل انکی درج ذیل ہے،
📚 ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں :
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَ عَنْ کُلِّ ذِیْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیْرٍ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر کچلی والے جانور اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں ( کے گوشت) کو حرام قرار دیا ہے۔ “
( صحیح مسلم، الصید والذبائح، باب تحریم أکل کل ذی ۔۔ : حدیث نمبر-1934)
_________&_________
*3-تیسرے نمبر پر وہ جانور بھی حرام ہیں جنکا نام لےکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے حرام قرار دے دیا چاہے وہ کچلی والے جانور ہوں یا بغیر کچلی کے، جیسے گھریلو گدھا یہ کچلی (نوکیلے دانتوں) والا درندہ بھی نہیں مگر صاحب شریعت نے نام لے کر اسکو حرام قرار دے دیا،*
دلیل درج ذیل ہے،
📚جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ،
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔
(صحیح بخاری،حدیث _ 4219)
(صحیح مسلم،حدیث _1941)
(سنن نسائی،حدیث _4327)
____________&________
*4-وہ جانور، پرندے، حشرات بھی حرام ہیں جنکو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل کرنے کا حکم دیا جیسے بچھو، چھپکلی چیل، کوا چوہا، سانپ وغیرہ اور اس قسم کے موذی جانور، ان تمام جانوروں کے ایذاء کی وجہ سے انہیں قتل کا حکم ہے*
دلیل درج ذیل ہے،
📚صحیح مسلم
کتاب: جانوروں کے قتل کا بیان
باب: چھپکلی کو مارنے کے استحباب کے بیان میں
انٹرنیشنل حدیث -2236
اسلام360 حدیث نمبر: 5842
عَنْ أُمِّ شَرِيکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ،
حضرت ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا۔
📚نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ
”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص حالت احرام میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بچھو، چوہا، کاٹ لینے والا کتا، کوا اور چیل،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-3315)
__________&________
*5-وہ جاندار ، پرندے وغیرہ بھی حرام ہیں جنکو آپ نے قتل کرنے سے منع فرمایا جیسے ہد ہد، اور مینڈک وغیرہ*
دلیل درج ذیل حدیث ہے،
📙سنن دارمي
من كتاب الاضاحي
قربانی کے بیان میں
26. باب النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ وَالنَّحْلَةِ:
مینڈک اور شہد کی مکھی وغیرہ کو مارنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر-2042
📚سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ،
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعَةٍ مِنَ الدَّوَابِّ : النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد اور چھوٹی چڑیا کے قتل کرنے سے منع فرمایا،
تخریج الحدیث:
«اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 5267] ،
[ابن ماجه 3224] ، [أحمد 332/1] ،
[ابن حبان 5646] ، [الموارد 1078] »
_________&_______
*6-وہ جانور پرندے بھی حرام ہیں جو جلالہ کے حکم میں آتے ہیں، جیسے گدھ وغیرہ، یعنی جنکی خوراک مردار یا گندگی ہو اور وہ اتنی کثیر تعداد میں گندگی کھائیں کہ انکے گوشت سے بو آتی ہو تو اس وقت تک جب تک کہ اسکا کھانا صاف اور بو دور نا ہو جائے ہر وہ جانور حرام ہو جائے گا چاہے وہ حلال کے حکم میں ہو جیسے اونٹ، اور جلالہ مرغی وغیرہ*
دلیل درج ذیل حدیث ہے،
📚سنن ابوداؤد
کتاب: کھانے پینے کا بیان
باب: گندگی کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم
حدیث نمبر: 3787
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلاظت کھانے والے اونٹ کی سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: ٧٥٨٩) (حسن صحیح )
اب اونٹ حلال جانور مگر گندگی کھانے کیوجہ سے اسکے دودھ اور سواری سے منع کیا گیا، کیونکہ غلاظت کھانے والے کا پسینہ وغیرہ بھی نجس ہوتا جو کپڑوں کو لگے گا،
📚سنن ابوداؤد
کتاب: کھانے پینے کا بیان
باب: گندگی کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم
حدیث نمبر: 3785
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جلالہ (نجاست خور ) جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔
تخریج دارالدعوہ:
(سنن الترمذی/الأطعمة ٢٤ (١٨٢٤)،
( سنن ابن ماجہ/الذبائح ١١ (٣١٨٩)،
(تحفة الأشراف: ٧٣٨٧) (صحیح )
📙امام ابن حزم نجاست خور مرغی کو اس میں شامل نہیں کرتے۔لیکن اکثریت کے مطابق مرغی سمیت تمام پرندے بھی اگر نجاست خور ہوں تو جلالہ ہی میں آیئں گے۔ ابو اسحاق المروزی۔امام الحرمین۔بغوی اور غزالی۔نے نجاست خور مرغی کے انڈے کو نجاست خور بکری گائے وغیرہ کے دودھ پر قیاس کیا ہے۔ بلکہ ہر اس جانور کوجلالہ کے حکم میں شامل کیاہے۔ جس کی پرورش نجس خورا ک پرہو۔ مثلا ایسا بکری کا بچہ جس کی پرورش کتیا کے دودھ پر کی گئی ہو۔دیکھئے۔
(فتح الباری۔کتاب لذبائع والصید باب لحم لادجاج)
اس حدیث سے جلالہ کی قطعی حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے استعمال سے اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک کہ اس گندی خوراک کی بدبو زائل نہ ہو،
📚جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح اثر سے ثابت ہے کہ:
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جلالہ مرغی کو تین دن بند رکھتے تھے (پھر استعمال کر لیتے تھے)۔”(رواہ ابنِ ابی شیبہ)
علامہ ناصرا لدین البانی نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ،
(ارواء الغلیل ج۸، ص۱۵۱)
یہ صرف اس لئے کرتے تھے تا کہ اس کا پیٹ صاف ہو جائے اور گندگی کی بو اس کے گوشت سے جاتی رہے،
اگر جلالہ کی حرمت گوشت کی نجاست کی وجہ سے ہوتی تو وہ گوشت جس نے حرام پر نشو ونما پائی ہے کسی بھی حال میں پاک نہ ہوتا۔
📙جیسا کہ ابنِ قدامہ نے کہا ہے کہ اگر جلالہ نجس ہوتی تو دو تین دن بند کرنے سے بھی پاک نہ ہوتی۔
(المغنی ج۹، ص۴۱)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس صحیح اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ جلالہ کی حرمت اس کے گوشت کا نجس اور پلید ہونا نہیں بلکہ علت اس کے گوشت سے گندگی کی بدبو وغیرہ کا آنا ہے۔
📙 جیسا کہ حافظ ابنِ حجر فرماتے ہیں:
”جلالہ کے کھانے کا لائق ہونے میں معتبر چیز نجاست وغیرہ کی بدبو کا زائل ہونا ہے۔ یعنی جب بدبو زائل ہو جائے تو اس کا کھانا درست۔”
علامہ صنعانی بھی فرماتے ہیں:
”کہ جلالہ کے حلال ہونے میں بدبو کے زائل ہونے کا اعتبار کیا جاتا ہے۔”
(سبل السلام ، ج۳، ص۷۷)
📙امام نووی کہتے ہیں۔
کہ اصل وجہ منع چونکہ بدبو ہے۔اس لئے جب یہ زائل ہوجائے تو جانورکا گوشت اوردودھ وغیرہ شرعا قابل استعمال ہوگا۔دیکھئے۔
(عون المبعود الاطعمۃ۔باب النھی عن اکل الحلالۃ ،البا نھا )
🚫نوٹ_
عطا اور دیگر فقہاء جلالہ جانور کو چالیس دن بند رکھ کر چارہ کھلانے کے بعد اس کا گوشت کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔اس سلسلے میں حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع حدیث کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔جس میں جلالہ کی حرمت اور حلت کےلئے جانور کوچالیس روز تک محبوس رکھنے کاحکم ہے۔لیکن یہ روایت سندا ضعیف ہے۔لہذا جلالہ جانور کے گوشت سے جب بدبو ختم ہو جائے تو اسکو کھانا حلال ہے،
________&__________
*7- ہر وہ جانور جو حرام و حلال جانور سے پیدا ہوا ہے ، جیسے کھچر جو گھوڑی اور گدھا کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے ،یہی حکم دیگر ایسے جانوروں کا ہے، کیونکہ جہاں حرام و حلال اکٹھا ہوں وہاں جانب حرام کو ترجیح حاصل ہوتی ہے،*
______&_____
*8- مذکورہ جانوروں کے علاوہ ہر وہ جانور جو شریعت کے بتلائے ہوئے قانون ، تجربے یا طب سے اس کا باعث ضرر(تکلیف،نقصان) ہونا یا اسکا غلیظ/نجس ہونا ثابت ہوجائے تو وہ بھی حرام ہے ،*
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
📚 وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ ( الأعراف : آئیت 157 )
[وہ رسول] ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے,
____________&___________
*اوپر ذکر کردہ جانوروں کی ان آٹھ اقسام کے علاوہ باقی تمام جانور خواہ وہ پالتو ہوں یا جنگلی وہ چرندے ہوں یا پرندے وہ سب حلال ہیں، ان پر بغیر دلیل کے حرام ہونے کا فتویٰ لگانا درست نہیں،*
اسکی دلیل ملاحظہ فرمائیں:
📚سنن ابوداؤد
کتاب: کھانے پینے کا بیان
حدیث نمبر: 3800
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،
كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَلَا:‏‏‏‏ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت(خاموشی) فرمایا وہ معاف ہے، پھر آپ (سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما )نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
(قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا)
(الانعام : 145)(کہہ دیجئے کہ مجھ پر نازل کی گئی وحی میں کسی کھانے والے پر مردار اور دم ِ مسفوح کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔۔۔)
(سنن ابو داؤد :3800 وسندہ، صحیحٌ ، وقال الحاکم (٤/١١٥): صحیح الاسناد)
*ہاں البتہ جس کو جو چیز نہیں پسند وہ نا کھائے، مگر اس پر حلال چیز پر، حرام یا مکروہ کا فتویٰ نا لگائے،*
*ظاہر سی بات ہے ہر علاقعے میں بہت ساری چیزیں مختلف ہوتی ہیں، جو چیز ہمارے علاقے میں نہیں کھائی جاتی،یا بچپن سے ہم نے وہ نہیں کھائی تو یقیناً وہ ہم کو اچھی نہیں لگیں گی،تو گزارش یہ ہے کہ جو حلال چیز آپکو پسند نہیں وہ آپ نہ کھائیں، زبردستی کس نے کی؟؟مگر اس پہ حرام یا مکروہ کا فتویٰ بھی نہ لگائیں*
📚ہمارے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی طریقہ تھا،
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گیا،
وہ حضرت خالد اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں،
اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، یہ انکی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لائیں تھیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا تو دو کہ پکا کیا ہے،
، پھر آپکو بتایا گیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے،
( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔
خالد بن ولید نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟
آپ نے فرمایا : “” نہیں, لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہوتا ،
اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں،(یعنی مجھے یہ پسند نہیں ہے،)
حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ٬اور آپ نے مجھے منع نہیں فرمایا،
(ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ، ﻛﺘﺎﺏ ذبح اور شکار کا بیان، 1946)
*اس حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ جو چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پسند آپ نے نہیں کھائی مگر آپ نے اس کو مکروہ یا حرام بھی نہیں کہا*
📚بلکہ جب سانڈ کے گوشت بارے آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا، نہ میں اسکو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں، اور آپکے دستر خواں پر سانڈ کا گوشت کھایا جاتا مگر آپ اسکو ہاتھ نہ لگاتے اور نہ ہی صحابہ کو منع کرتے،
(صحیح مسلم، ,1944,1945, 1943)
*ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ جس کو جو چیز نہیں پسند وہ اسے حرام یا مکروہ کہہ دیتا ہے، جبکہ اسے یہ نہیں پتا کہ وہ حلال چیز کو حرام کہہ کر اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کو چیلنج کر کے کتنے بڑے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو رہا ہے،*
*کبھی گوشت میں اوجھڑی ،کبھی کپورے کبھی پنجے، کبھی گھوڑا حرام تو کبھی سرخ چونچ والی لالی(Common myna)حلال اور پیلے چونچ والی حرام۔۔۔۔ کبھی مور حرام تو کبھی گھوڑا حرام وغیرہ کا فتویٰ لگا دیا جات اور اور اس سے بڑھ کر اور بہت کچھ۔۔۔۔۔*
تو محترم بھائیو!!
*خدارا یہ حلال ،حرام کا فتویٰ لگانا چھوڑ دیں، یہ میرے آپکے اختیار میں نہیں ہے، جو چیز شریعت نے حلال کی وہ حلال ہے اور جو حرام کی وہ حرام ہے، اور جس سے شریعت نے خاموشی اختیار کی ہے اور اس میں حرام والی علامات نہیں تو وہ بھی حلال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد شریعت میں کمی و بیشی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں،*
________&________
*بھینس، مور، زیبرا، اور برائلر مرغی سمیت ہر وہ جانور حلال ہے جس میں اوپر مذکورہ حرام والی صفات نا ہوں، چاہے اسکا نام لیکر حلال کہا گیا ہو یا نا اس سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ جب شریعت نے حلال و حرام کی پہچان بتا دی تو الگ الگ سب کا نام لیکر انکی حلت یا حرمت بیان کرنے کی ضرورت نہیں،*
*بھینس*
بھینس میں اوپر مذکور حرمت والی آٹھوں علامات میں سے کوئی علامت نہیں پائی جاتی، لہذا وہ قرآن و حدیث کے قواعد کے اعتبار سے حلال ہے،
*مور*
مور میں بھی حرام درندے والے نوکیلے دانت بھی نہیں اور پنجہ مار کے شکار بھی نہیں کرتا،نا ہی اسکو قتل کا حکم نا قتل کرنے منع کیا گیا اور نا ہی وہ غلاظت کھاتا ہے، لہٰذا مور بھی حلال ہے،
*زیبرا*
اسی طرح جنگلی گدھا یعنی زیبرا بھی گھاس پھوس کھاتا ہے اور اس میں بھی حرام ہونے والی کوئی علت نہیں پائی جاتی،لہذا وہ بھی حلال ہے، بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاظت کھاتا ہے، پہلی بات تو ایسا ہے نہیں اور اگر بالفرض زیبرے کی کوئی قسم غلاظت کھاتی ہے تو وہ بھی جلالہ کے حکم کیوجہ سے حرام ہو گا جب تک اسکے گوشت سے غلاظت کی بو زائل نا ہو جائے،
*برائلر مرغی*
اسی طرح برائلر مرغی بھی حلال ہے، بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برائلر کو خون وغیرہ سے بنی غلاظت والی پروٹین کھلائی جاتی ہے، تو انکے لیے بھی یہی گزارش ہے کہ مرغی ہو یا کوئی بھی جانور وہ جلالہ کے حکم میں تب آئے گا جب غلاظت کھانے کیوجہ سے اسکے گوشت سے بو وغیرہ آئے، اگر بو نہیں آتی تو وہ جلالہ کے حکم میں نہیں اور حلال ہے،
*لہذا ثابت ہوا کہ بھینس،برائلر مرغی، مور اور زیبرا کا حلال ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے*
__________&_________
*اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو خود پر حرام کرنے والے*
📚يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّ‌مُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ، وَكُلُوا مِمَّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّـهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزه چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بےشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو،
(سورہ المائدہ آئیت – 87،88)
📚ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے
وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ،
”اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس چیز کو نہیں کھاتے ہو ، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہے ، حالانکہ اس نے تم پر حرام چیزوں کی تفصیل بیان کر دی ہے ، سوائے ان (حرام)چیزوں کے ، جن کے کھانے پر تم مجبور ہو جاؤ۔”
(سورہ الانعام : 119)
📙حافظ ابنِ رجب لکھتے
ہیں :فعنفھم علی ترک الأکل ممّا ذکر اسم اللّٰہ علیہ معلّلا بأنّہ قد بیّن لھم الحرام ، وھذا لیس منہ ، فدلّ علی أنّ الأشیاء علی الاباحۃ والّا لما ألحق اللّوم بمن امتنع من الأکل ممّا لم ینصّ علی حلّہ بمجرأد کونہ لم ینصّ علی تحریمہ ۔
”اللہ تعالیٰ نے انہیں ان چیزوں کے نہ کھانے پر ڈانٹا ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو ، وجہ یہ بیان کی کہ حرام تو تم پر واضح کردیا گیا ہے اور یہ چیز اس میں شامل نہیں ہے ، یہ آیت ِ کریمہ دلیل ہے کہ چیزوں میں اصل اباحت ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو ملامت کیوں کیا ہے ، جو اس چیز کے کھانے سے رک گیا ہے ، جس کی حلت و حرمت پر کوئی نص (دلیل)موجود نہیں,
(جامع العلوم والحکم لابن رجب : ص381)
((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))
📙سوال_کیا گھوڑا حلال ہے اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے؟ نیز جو حرام کہتے ہیں انکے دلائل کی حقیقت کیا ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-192)
📙سوال_حلال جانوروں کے کونسے اعضاء کھانا حرام یا مکروہ ہیں؟ اور کیا یہ حرمت صحیح احادیث سے ثابت ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-76))
📙سوال_ٹڈی کونسا جانور ہے؟ اور اس کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ حلال ہے اور اسکو کھانا جائز ہے؟نیز اگر یہ حلال ہے تو کیا یہ ٹڈی کی کوئی خاص قسم ہے یا ہر طرح کی ٹڈی حلال ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-305))
_______&_________
📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!
*الفرقان اسلامک میسج سروس*
آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765
آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/
آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/
الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں