93

سوال- اذکار گنتی کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ دائیں ہاتھ سے گنتی کریں یا بائیں ہاتھ سے؟ اور کیا ڈیجیٹل تسبیح یا دانوں وغیرہ کی مالا پر ذکر کرنا جائز ہے؟ نیز انگلیوں کے پوروں پر اذکار گننا افضل ہے یا تسبیح کے دانوں پر ؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-348″
سوال- اذکار گنتی کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ دائیں ہاتھ سے گنتی کریں یا بائیں ہاتھ سے؟ اور کیا ڈیجیٹل تسبیح یا دانوں وغیرہ کی مالا پر ذکر کرنا جائز ہے؟ نیز انگلیوں کے پوروں پر اذکار گننا افضل ہے یا تسبیح کے دانوں پر ؟

Published Date: 09-10-2020

جواب:
الحمدللہ:

*سب سے پہلی بات کہ گنتی والے جتنے بھی اذکار ہیں انکو ہاتھوں کی انگلیوں پر گننا سنت ہے اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے گنتی کرنا افضل ہے*

دلائل ملاحظہ فرمائیں!

📚جامع ترمذی
کتاب: دعاؤں کا بیان
باب: نبی اکرم ﷺ کی دعا اور فرض نماز کے بعد تعوذ کے متعلق
حدیث نمبر: 3583
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا يُسَيْرَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ.
ترجمہ:
حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی یسیرہ ؓ سے روایت کرتی ہیں، یسیرہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: تمہارے لیے لازم اور ضروری ہے کہ تسبیح پڑھا کرو تہلیل اور تقدیس کیا کرو ١ ؎ اور انگلیوں پر (تسبیحات وغیرہ کو) گنا کرو، کیونکہ ان سے (قیامت میں) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کردی جائے گی، اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ (اللہ کی) رحمت کو بھول بیٹھو ۔
تخریج دارالدعوہ:
( سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٥٠١)
(تحفة الأشراف: ١٨٣٠١)،
و مسند احمد (٦/٣٧١) (حسن)
قال الشيخ الألباني: حدیث حسن،
وضاحت: ١ ؎:
«تسبیح» «سبحان اللہ» کہنا، «تہلیل» «لا إله إلا الله» کہنا اور «تقدیس» «سبحان الملک القدوس» یا «سبوح قدوس ربنا ورب الملائکۃ والروح» کہنا ہے،

📚سنن ابوداؤد
کتاب: دعاؤں کا بیان
باب: کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا
حدیث نمبر: 1501
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُسَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ.
ترجمہ:
یسیرہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ،
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات ١٢١ (٣٥٨٣)،
(تحفة الأشراف: ١٨٣٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٠، ٣٧١) (حسن )

📚 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
القرآن – سورۃ نمبر 24 النور
آیت نمبر 24
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَـتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞
ترجمہ:
جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے،

تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے اور اس حدیث میں انگلیوں پر اذکار کرنے کا حکم ہے، کیونکہ وہ قیامت کے دن گواہی دینگی،

*اب دائیں ہاتھ پر گنتی کرنے کی روایت دیکھیں*

📚سنن ابوداؤد
کتاب: دعاؤں کا بیان
باب: کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي آخَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ:‏‏‏‏ بِيَمِينِهِ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے) : اپنے دائیں ہاتھ پر ۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات ٢٥ (٣٤١١)، ٧٢ (٣٤٨٦)، سنن النسائی/السہو ٩٧ (١٣٥٦)،
(تحفة الأشراف: ٨٦٣٧) (صحیح )

📙الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح أبي داود ١٥٠٢ • صحيح

📙 شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سير أعلام النبلاء ٦‏/١١١ • إسناده صحيح

📙النووي (ت ٦٧٦)، الأذكار ٢٤ • إسناده حسن

📙ابن باز (ت ١٤١٩)، مجموع فتاوى ابن باز ١٨٦‏/١١ • [ثابت

📙شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سنن أبي داود ١٥٠٢ • إسناده صحيح

محدثین کرام کی اکثریت نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے،جبکہ بعض علماء نے اس روائیت کو ضعیف کہا ہے،کیونکہ اسکی سند میں اعمش مدلس ہیں اور انہوں نے عن سے روایت کیا ہے،

اگر اس حدیث کو ضعیف بھی مان لیں تو بھی بھی دائیں ہاتھ سے تسبیح کا استحباب درج ذیل روایت سے مستفاد ہوتاہے :

📚سنن ابوداؤد
کتاب: ادب کا بیان
باب: سوتے وقت سبحان اللہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 5065
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ:‏‏‏‏ يُسَبِّحُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْمَدُ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ ؟،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يَأْتِي أَحَدَكُمْ يَعْنِي الشَّيْطَانَ فِي مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْتِيهِ فِي صَلَاتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں (برابر) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں (١) ہر نماز کے بعد دس بار سبحان الله اور دس بار الحمد الله اور دس بار الله اکبر کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے) اور سونے کے وقت چونتیس بار الله اکبر، تینتیس بار الحمد الله، تینتیس بار سبحان الله کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہاتھ (کی انگلیوں) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: (اس طرح کہ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند میں آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی (ضروری) کام یاد دلا دے گا، (اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا) ۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات ٢٥ (٣٤١٠)،
سنن النسائی/السہو ٩١ (١٣٤٩)،
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (٩٢٦)،
(تحفة الأشراف: ٨٦٣٨)، وقد أخرجہ:
مسند احمد (٢/١٦٠، ٢٠٥) (صحیح )

اس میں ’’بِيَدِهِ‘‘ میں‌ ’’ید‘‘ واحد مستعمل ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی ہاتھ سے تسبیح گنتے تھے،

اور یہ بات بھی معروف ہے کہ آپ صلی اللہ علہ وسلم ہر اہم اور اچھے کام میں
دائیں ہاتھ کو اور داہنی طرف کو پسند کرتے تھے،

جیسا کہ حدیث میں ہے!!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: پاکی کا بیان
باب: استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَطَعَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى.
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٧)،
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 31 (١٦٨)، الصلاة ٤٧ (٤٢٦)، الجنائز ١٠ (١٢٥٥)، الأطمعة ٥ (٥٣٨٠)، اللباس ٣٨ (٥٨٥٤)، اللباس 77 (٥٩٢٦)، صحیح مسلم/الطہارة ١٩ (٢٦٨)، سنن الترمذی/الجمعة ٧٥ (٦٠٨)، سنن النسائی/الطہارة ٩٠ (١١٢)، وفي الزینة برقم: (٥٠٦٢)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٢ (٤٠١)، مسند احمد (٦/١٧٠، ٢٦٥) (صحیح) (وأبو معشر هو زياد بن کليب )

اسی طرح صحیح بخاری میں ہے!

📚صحیح بخاری
کتاب: کھانے کا بیان
باب: کھانے وغیرہ میں دائیں ہاتھ سے کام کرنے کا بیان، عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا اپنے دائیں ہاتھ سے کھا
حدیث نمبر: 5380
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَشْعَثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ قَالَ بِوَاسِطٍ قَبْلَ هَذَا فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.
ترجمہ:
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اشعث نے، انہیں ان کے والد نے، انہیں مسروق نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جہاں تک ممکن ہوتا پاکی(وضو وغیرہ ) حاصل کرنے میں، جوتا پہننے اور کنگھا کرنے میں داہنی طرف سے ابتداء کرتے۔ اشعث اس حدیث کا راوی جب واسط شہر میں تھا تو اس نے اس حدیث میں یوں کہا تھا کہ ہر ایک کام میں نبی کریم ﷺ داہنی طرف سے ابتداء کرتے،

📙امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث‌ کو ’’بَابُ التَّيَمُّنِ فِي الأَكْلِ وَغَيْرِهِ‘‘ (باب: کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا) کے تحت نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ حدیث‌ کا مفاد یہ ہے کہ ہرکام کی شروعات دائیں طرف سے کی جائے اوراگرکوئی کام ایک ہی ہاتھ سے کیا جانے والا ہو تواس میں دائیں ہاتھ ہی کو استعمال کیا جائے۔

بعض حضرات کا یہ کہنا کہ حدیث میں‌ ’’ید‘‘ جنس کے لئے ہے تو دونوں‌ مراد ہے یا مفرد مضاف ہے اس لئے عموم کی بنا پر دونوں مراد ہے یہ بات محل نظر ہے۔
کیونکہ اگر ید کو جنس کے لئے مان لیں اوراسے عام بھی مان لیں تو سارا عموم مفرد یعنی ایک ہی ہاتھ میں‌ ہوگا یعنی ایک ہاتھ کیسا بھی ہو اسی سے یہ کام ہوگا۔

اور پھر اہل عرب کے ہاں ہاتھوں پر شمار کرنے کا جو طریقہ کار رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں رائج تھا وہ کچھ یوں تھا کہ دائیں ہاتھ پر اکائیاں اور دہائیاں شمار کی جاتیں اور بائیں پر سینکڑے اور ہزار ، دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو بند کرنے سے ایک اسکے ساتھ والی کو بند کرنے سے دو درمیانی انگلی کو بھی بند کرنے سے تین , پھر آخری کو کھول دینے اور باقی دونوں کو بند رکھنے سے چار آخری چھوٹی انگلی کے ساتھ والی انگلی کو کھول دینے سے پانچ اور پھر اسی چھوٹی انگلی کے ساتھ والی کو بند کرکے باقی تمام انگلیوں کو کھول دینے سے چھ اور پھر صرف آخری چھوٹی انگلی کو انگوٹھے کی جڑ میں بند کرنے سے آٹھ اور چھوٹی انگلی کے ساتھ والی انگلی کو وہیں رکھنے سے آٹھ اور درمیانی انگلی کو بھی وہیں پر رکھ دینے سے نو کا اشارہ بنتا ہے ، یہ تو تھیں اکائیأں،اور دہائیوں کے لیے انگوٹھے کے پورے کو شہادت والی انگلی کے پورے کی پشت یعنی ناخن والی جانب رکھنے سے دس , انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کے پورے کی درمیانی انگلی والی طرف رکھنے سے بیس اور انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کے پورے کی اندرونی جانب رکھنے سے تیس , انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کے درمیانی جوڑ پر رکھنے سے چالیس اور انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کی جڑ میں رکھنے سے پچاس کا اشارہ بنتا ہے ،اور حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلى ا للہ علیہ وسلم تشہد کے دوران ترپن کی گرہ باندھتے تھے تو وہ ترپن کی گرہ کچھ اسطرح بنے گی کہ انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کی جڑ میں رکھا جائے اور آخری تینوں انگلیاں بند کر لی جائیں تو یہ پچاس اور تین یعنی ترپن کی گرہ یا اشارہ ہو گا،

*اوپر ذکر کردہ تمام احادیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں پر ذکر کرنا سنت ہے، کیونکہ ساری انگلیاں مسعولات اور مستطقات ہیں (یعنی تسبیحات کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان سے نطق کرایا جائے گا) اور دونوں ہاتھوں میں سے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر ذکر کرنا افضل ہے، جیسے کہ ابن عمر رض والی حدیث میں ہے، بعض علماء نے ابن عمر رضی اللہ عنھما والی حدیث کو ضعیف کہا ہے لیکن عائشہ رضی اللہ عنھا کی اوپر ذکر کردہ حدیث اسکی تائید کرتی ہے جس میں آپ فرماتی ہیں’’ کہ رسول اللہ ﷺ کا داہنا ہاتھ صفائی(وضو وغیرہ) اور کھانے کے لیے تھا اور آپکا بایاں ہاتھ استنجاء اور گندی چیزوں کو ہٹانے کے لیے تھا،لہٰذا ہم دائیں ہاتھ سے اذکار گننے کو ترجیح دیتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے اذکار گنتی کرنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں*

__________&________

*تسبیح کے ساتھ ذکر کرنے کی شرعی حیثیت*

رہا تسبیح کے ساتھ ذکر کرنا تو ہم پہلے اس کے بارے میں آثار ذکر کریں گے اور پھر اس سے استنباط بیان کریں گے ۔

گٹھلیوں اور کنکروں کے ساتھ ذکر کے بارے میں کچھ حدیثیں آئی ہیں :

پہلی حدیث :

📚سنن ابوداؤد
کتاب: دعاؤں کا بیان
باب: کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا
حدیث نمبر: 1500
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُزَيْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَفْضَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ.
ترجمہ:
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: سبحان الله عدد ما خلق في السماء و سبحان الله عدد ما خلق في الأرض و سبحان الله عدد ما خلق بين ذلک و سبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلک والحمد لله مثل ذلک ‏.‏ ولا إله إلا الله مثل ذلک ‏.‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات ١١٤ (٣٥٦٨)،
(تحفة الأشراف: ٣٩٥٤)
🚫(ضعیف)
(اس کے راوی خزیمہ مجہول ہیں )

دوسری حدیث :
📚جامع ترمذی
کتاب: دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 3554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُمَوْلَى صَفِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تَقُولُ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ آلَافِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَبَّحْتُ بِهَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُعَلِّمُكِ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَبَّحْتِ بِهِ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى عَلِّمْنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُولِي سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ هَاشِمِ بْنِ سَعِيدٍ الْكُوفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمَعْرُوفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ:
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں کہ میں نے صفیہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اس وقت میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیوں کی ڈھیر تھی، میں ان گٹھلیوں کے ذریعہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، میں نے کہا: میں نے ان کے ذریعہ تسبیح پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تسبیح کا طریقہ بتادوں جتنی تو نے پڑھی ہیں؟ میں نے کہا: (ضرور) مجھے بتائیے، تو آپ نے فرمایا: «سبحان اللہ عدد خلقه» میں تیری مخلوقات کی تعداد کے برابر تیری تسبیح بیان کرتی ہوں ، پڑھ لیا کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صفیہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ہاشم بن سعید کوفی کی روایت سے اور اس کی سند معروف نہیں ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٩٠٤) ،
( مستدرک الحاکم (1؍537)
حاکم نے کہا یہ صحیح الا سناد ہے لیکن انہوں (بخاری ،مسلم) نے اسے نہیں روائیت کیا،
امام ذھبی رح نے انکی موافقت کی ہے،

🚫(حکم الحدیث منکر)
(سند میں ” ہاشم بن سعید کوفی ” ضعیف ہیں ،جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلہ الضعیفہ رقم : (73)کے تحت ذکر کیا ہے،قال الشيخ الألباني: منکر الرد علی التعقيب الحثيث (35 – 38) // ضعيف الجامع الصغير (2167 و 4122) //

تیسری حدیث :
📚امام جرجانی تاریخ جرجان (68)میں لاتے ہیں ’’ ابوھریرہ سے مرفوع روایت ہے کہ وہ کنکروں پر تسبیح پڑھتے تھے،

🚫یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں القدامی ہے جیسے السلسلہ الضعیفہ (3؍47)رقم :(1002) میں ذکر کیا گیا ہے ۔

چوتھی حدیث :
📚دیلمی مسند فردوس میں بھی علی سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ
’’تسبیحات اچھا یاد دلانے والا ہے ‘‘

🚫لیکن اس کی سند بعض راویوں کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے
دیکھیں السلسلہ الضعیفہ(1؍110)

پانچویں حدیث :
📚جو ابوداؤد نے (1؍295) رقم :اور ابن ابی شیبہ نے (2؍390) میں روایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ طُفَاوَةَ، قَالَ : تَثَوَّيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَشْمِيرًا، وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ يَوْمًا وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ، وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى أَوْ نَوًى، وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ، وَهُوَ يُسَبِّحُ بِهَا، حَتَّى إِذَا أَنْفَدَ مَا فِي الْكِيسِ أَلْقَاهُ إِلَيْهَا فَجَمَعَتْهُ فَأَعَادَتْهُ فِي الْكِيسِ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ،
ابو نضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث سنائی طفاوۃ کے شیح نے وہ کہتے ہیں میں ٹھہرا ابوھریرہ کے پاس مدینہ میں تو میں نے صحابہ میں سے زیادہ اہتمام کرنے والا اور مہمانوں خیر گیری کے لیے کھٹرا ہونے والا نہیں دیکھا ، ایک دن میں ان کے پاس تھا اور وہ اپنی چار پائی پر بیٹھے تھے ان کے پاس ایک تیھلی تھی جس میں کنکریاں گٹھلیاں تھیں ان سے نیچے ان کی کالی لونڈی تھی او روہ ان ( کنکروں ) سے تسبیح کر رہے تھے یہاں تک کہ تھیلی میں جو کچھ تھا ختم کر دیا اسکی طرف پھینک دیا تو اس (لونڈی ) نے اکٹھی کرکے دوبارہ تھیلی میں ڈال کر انہیں دیدیں،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-2174)

🚫 یہ حدیث بھی ضعیف ہے،
ابوھریرہ سے روایت کرنے والے راوی شیخ طفاوی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

📙شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سنن أبي داود ٢١٧٤ • إسناده ضعيف. ولبعض فقرات هذا الحديث طرق وشواهد تقويه

📙الألباني (ت ١٤٢٠)، نقد النصوص ١٢ • فيه علتان

📙شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سير أعلام النبلاء ٢‏/٥٩٤ • إسناده ضعيف

چھٹی حدیث:
📚ابن ابی شیبہ : (2؍390)میں حکیم بن الدیلمی سے لاتے ہیں وہ سعد کی لونڈی سے روایت کرتے ہیں کہ سعد کنکروں اور گٹھلیوں کے ساتھ تسبیحات کرتے تھے ۔

🚫 لیکن یہ روایت سعد کی لونڈی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

📙اور ابن سعد (2/134)میں حکیم بن الدیلمی سے روایت کرتے ہیں کہ سعد کنکریوں کےساتھ تسبیح کرتے تھے اور اس نے لونڈی کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

ساتویں حدیث :
📚ابن ابی شیبہ (2؍390)ابن اخنس سے روایت لاتے ہیں وہ کہتے ہیں مجھے حدیث سنائی ابو سعید کے مولیٰ نے ابوسعید سے کہ وہ تین مٹھیاں لیکر اپنی ران پر رکھ لیتے تھے پھر تسبیح کہتے اور ایک رکھ دیتے ،پھر تسبیح کہتے اور دوسری رکھ دیتے پھر تسبیح کہتے اور تیسری رکھ دیتے پھر انہیں اٹھا کر اسی طرح کرتے

🚫لیکن مولی کی جہالت کی وجہ سے سند اس کی بھی ضعیف ہے،

آٹھویں حدیث:
📚 ابن ابی شیبہ (2؍390)میں زاذان سے روایت لاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ام یعفور سے ان کی تسبیح اٹھا لایا، جب علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو مجھے تعلیم دی اور کہا کہ اے ابو عمر ام یعفور کی تسبیح اسے لوٹا دے ۔

📚نویں حدیث:
ابن ابی شیبہ (2؍391)میں کہتے ہیں کہ ہیں ہمیں حدیث سنائی ابن افضل نے وفاء سے انہوں نے سعد بن جبیر سے انہوں نے کہا ،دیکھا عمر بن خطاب نے ا یک شخص کو کہ اپنی تسبیح کے ساتھ ذکر کر رہا تھا تو عمر نے فرمایا،کہ تیرا یہ کہنا کافی ہے کہ تو کہے ،سبحان اللہ باندازہ زمین و آسمانوں کے بھر نے کے اور اندازہ بھر نے اس چیز کے جو تو چاہے ان کے ‘‘ الحدیث۔

📚دسویں حدیث :
وہ حدیث جو امام ذھبی تذکرۃ الحافظ (1؍35)میں لاتے ہیں زید بن حباب روایت کرتے ہیں عبدالواحد بن موسیٰ سے کہ ابو نعیم بن المحرر بن ابی ھریرۃ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا ایک دھاگہ تھا جس میں ہزار گرھیں تھیں وہ اس پر تسبیح پڑھ کرہی سوتے تھے ۔
( اس حدیث کو عبد اللہ بن الامام احمد نے زوائد الزھد میں، اور الحاوی للفتاوٰی (2؍3)میں ذکر کیا ہے ، اور ابونعیم نے الحلیہ (1؍383)میں ذکر کیا ہے)

📚گیارھویں حدیث:
وہ روایت جو ابن احمد نے کتاب الزھد (ص:175)میں ابو الدرداء کے زید کے بارے میں لاتے ہیں ہمیں حدیث سنائی عبداللہ نے انہوں نے کہا مجھے حدیث سنائی میرے والد نے انہوں نے کہا مجھے حدیث سنائی مسکین بن بکیر نے وہ کہتے ہیں انہیں خبر دی ثابت بن عجلان نے قاسم سے وہ روایت کرتے ہیں عبد الرحمٰن سے کہ انہوں نے کہا کہ ابوالدرداء کے پاس عجرہ کی گٹھلیاں تھیں میرا خیال ہے وہ دس تھیں ایک تھیلی میں اور وہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنے فرش پر بیٹھ جاتے اور اس تھیلی میں سے ایک ایک نکالتے جاتے اور تسبیح کہتے جاتے جب ساری نکال لیتے تو پھر ایک ایک اس میں ڈالتے جاتے اور تسبیح کہتے جاتے یہاں تک کہ ام الدرداء ان کے پاس آکر کہتیں آپکا کھانا حاضر ہے اور کبھی کہتے اٹھا لیجاؤ میرا روزہ ہے ۔

📚بارھویں حدیث:
وہ حدیث جسے امام بغوی اور ابن کثیر البدایہ والنھایہ (5؍279) میں لاتے ہیں ابو القاسم بغوی کہتے ہیں ہمیں حدیث سنائی احمد بن مقدام نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث سنائی معمر نے وہ کہتے ہیں سنائی ابو کعب نے اپنے دادا بقیہ سے وہ روایت کرتے ہیں نبی ﷺکے غلام ابو صفیہ سے ان کے لیے چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا جاتا پھر کنکروں کی ایک زبیل لائی جاتی تو اس پر نصف النھار تک تسبیح کہتے پھر اٹھا لی جاتیں جب ظہر کی نماز پڑھ لیتے تو پھر شام تک تسبیح پڑھتے رہتے ،
( اس کو ابن سعد نے (7؍60)میں ،ابن حجر نے الاصابہ (4؍109) میں اور احمد نے الزھد میں اسی طرح حاوی (2؍2) میں ذکر کیا گیا ہے،)
دیکھیں ۔ کاندھلوی کی حیاۃ صحابہ :(3؍322)۔

📚تیرھویں حدیث:
وہ حدیث جو محمد بن وضاح القرطبی ’’ کتاب البدع والنھی عنھا ‘‘ ص(10) باب کل ما احدث من الھمات فھی بدعہ یجب ازالتھا ‘‘ میں لاتے ہیں :
حدیث سنائی ہمیں اسد نے عبداللہ بن رجاء سے وہ روایت کرتے ہیں عبیداللہ بن عمر سے وہ روایت کرتے ہیں یسار بن ابی الحکم سے عبد اللہ بن مسعود کو بتایا گیا کہ کوفہ میں کچھ لوگ مسجد میں کنکریوں پر تسبیح پڑھتے ہیں وہ آئے تو ہر آدمی نے اپنے سامنے کنکروں کی ایک ڈھیری بنائی ہوئی تھی ابو الحکم کہتے ہیں کہ وہ انہیں کنکر مارتے رہے یہاں تک کہ انہیں مسجد سے نکال دیا اور کہتے تھے تم اندھیری بدعت نکال لاتے ہو یا تم محمد ﷺکے صحابہ سے علم میں بڑھ چکے ہو ۔ اسے اور صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

📚چودھویں حدیث:
محمد بن الوضاح ،ابان بن عباس سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں میں نے حسن سے منکوں اور گٹھلیوں کی لڑی کے بارے میں پوچھا (دھاگہ جس میں موتی اور منکے پروئے ہوئے ہوتے ہیں )جس پر تسبیح پڑھی جاتی ہیں تو انہوں نے کہا نبیﷺکی زرجات اور مہاجرات میں سے کسی نے یہ نہیں کیا۔

📚پندرھویں حدیث:
حدیث جیسے ابن ابی شیبہ نے (2؍391)میں ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو منع کرتے تھے ،کہ وہ عورتوں کی تسبیح کے دھاگے کے بٹنے میں اعانت کرے ۔ جس پر تسبیح کی جاتی ہے ،سند اس کی اچھی ہے (مقطوع)

____________&______________

*تسبیح پر ذکر کرنا علمائے کرام کی نظر میں*

📙امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (١٥٨۔٢٣٣ھ)بیان فرماتے ہیں: وکان یحییٰ معہ مسباح ، فیدخل یدہ فی ثیابہ ، فیسبّح ۔ ”ان(امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ ) کے پاس ایک آلہ تسبیح تھا۔ وہ اپنے کپڑے میں ہاتھ داخل کر کے تسبیح کرتے رہتے۔”
(تاریخ یحیی بن معین : ٤/٣١٤)

📙شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
وأمّا التسبیح بما یجعل فی نظام من الخرز ونحوہ ، فمن الناس من کرہہ ومنہم من لم یکرہہ ، وإذا أحسنت فیہ النیّۃ فہو حسن غیر مکروہ ، وأمّا اتّخاذہ من غیر حاجۃ أو إظہارہ للناس مثل تعلیقہ فی العنق أو جعلہ کالسوار فی الید أو نحو ذلک ، فہذا إمّا ریاء للناس أو مظنّۃ المراء اۃ ومشابہۃ المرائین من غیر حاجۃ ، الأول محرّم ، والثانی أقلّ أحوالہ الکراہۃ ۔
”موتیوں وغیرہ کی لڑی کے ساتھ تسبیح کرنے کو بعض لوگوں نے مکروہ جانا ہے اور بعض نے اسے مکروہ نہیں سمجھا۔ جب اس فعل میں نیت اچھی ہو تو یہ اچھا ہی ہو گا، مکروہ نہیں ہو گا۔ ہاں اسے بغیر ضرورت کے یا لوگوں کو دکھانے کے لیے اختیار کرنا ، مثلاً اسے گردن میں لٹکا لینا یا ہاتھ میں کنگن کی طرح پہن لینا وغیرہ ۔۔۔ تو یہ یا تو ریا کاری کے لیے ہو گا یا اس میں ریاکاری کا خدشہ ہو گا اور ریاکاروں سے مشابہت لازم آئے گی۔ پہلی صورت حرام ہے اور دوسری کم از کم مکروہ ضرور ہے۔
”(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ٢٢/٥٠٦)

📙ابن عابدین شامی حنفی (١١٩٨۔١٢٥٢ھ) لکھتے ہیں :
لا بأس باتّخاذ السبحۃ لغیر ریاء کما بسط فی البحر ۔
”اگر ریاکاری کی نیت نہ ہو تو آلہ تسبیح کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ البحرالرائق میں تفصیلی طور پر موجود ہے۔”
(فتاوی شامی : ١/٦٥٠)

📙اسی طرح امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس مسئلے کی تحقیق کی اور فرمایا،
توجو تسبیح کو بدعت قرار دیتے ہیں تو ان کی کلام حمل کی جائے گی کہ تسبیح تب بدعت ہوگی اسے دین بنا لیا جائے اور ہاتھوں پر تسبیحات گننے پر اسے فضیلت دی جائے،
لیکن جو جو تسبیح اس لیے رکھے کہ اسے یاد رہے جیسے تجربہ سے ثابت ہے تو یہ بدعت نہیں کیونکہ بدعت اسے کہا جاتا ہے جو کہ عبادت کے طور پر دین میں نئی چیز نکالی جائے اور اگر عبادت کے طور پر کوئی نئی چیز نکالی نہ جائے تو وہ بدعت نہ ہو گی اس کے ساتھ گزرے ہوئے آثار سے گٹھلیوں اور کنکروں کے ساتھ تسبیحات پڑھنے کی اباحت معلوم ہوتی ہے ۔اور منکوں کی لڑی بھی اسی معنی میں ہے،
(نیل الاوطار (2؍258)باب جواز عقد التسبیح بالید وعد بالنوی ونحوہ ‘‘)

📙علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ (٩٥٢۔١٠٣١ھ) لکھتے ہیں :
ولم ینقل عن أحد من السلف ولا الخلف کراہتہا ، نعم محلّ ندب اتّخاذہا فیمن یعدّہا للذکر بالجمعیّۃ والحضور ومشارکۃ القلب للسان فی الذکر والمبالغۃ فی إخفاء ذلک ، أمّا ما ألفہ الغفلۃ البطلۃ من إمساک سبحۃ یغلب علی حباتہا الزینۃ وغلوّ الثمن ، ویمسکہا من غیر حضور فی ذلک ولا فکر ویتحدث ویسمع الأخبار ویحکیہا وہو یحرّک حباتہا بیدہ مع اشتغال قلبہ ولسانہ بالأمور الدنیویۃ ، فہو مذموم مکروہ من أقبح القبائح ۔
”سلف و خلف میں سے کسی سے بھی اس کا مکروہ ہونا منقول نہیں بلکہ جو شخص آلہ تسبیح کو دلجمعی ، حضور قلبی ، دل کی زبان کے ساتھ ذکر میں شمولیت اور ذکر کو بہت زیادہ مخفی رکھنے کے ساتھ استعمال کرتا ہے ، اس کے لیے یہ مستحب بھی ہے۔
رہے وہ لوگ جو آلہ تسبیح کو استعمال کرنے میں سخت غفلت کا شکار ہیں ، ان کے آلہ تسبیح کے دانوں پر زیب و زینت اور مہنگی قیمت کا رنگ غالب ہے اور وہ اسے بغیر حضور قلبی و ذہنی کے اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ باتیں کرتے ، خبریں سنتے اور آگے بیان کرتے وقت بھی اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے دانوں کو حرکت دیتے رہتے ہیں ، ان کے دل اور زبانیں دنیاوی امور میں مشغول ہوتی ہیں، تو ان لوگوں کا یہ فعل قابل مذمت ، اور قبیح ترین مکروہات میں سے ہے۔”
(فیض القدیر للمناوی : ٤/٣٥٥)

📙عالَمِ عرب کے مشہور عالِمِ دین ، علامہ ، فقیہ ، فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ آلہ تسبیح کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
السبحۃ یرید بہا السائل الخرز التی تنظّم فی سلک بعدد معیّن یحسب بہ الإنسان ما یقولہ من ذکر وتسبیح واستغفار وغیر ذلک ، وہذہ جائزۃ لا بأس بہا لکن بشروط : أوّلاً : ألّا تحمل الفاعل علی الریاء أی علی مراء اۃ الناس کما یفعلہ بعض الناس الذین یجعلون لہم مسابح تبلغ ألف خرزۃ ، ثمّ یضعونہا قلادۃ فی أعناقہم کأنّما یقولوا للناس : انظروا إلینا نسبّح بمقدار ہذۃ السبحۃ ، أو ما أشبہ ذلک ، الشرط الثانی : ألّا یتّخذہا علی وجہ مماثل لأہل البدع الذین ابتدعوا فی دین اللّٰہ مالم یشرعہ من الأذکار القولیّۃ ، أو الاہتزازات الفعلیّۃ لأنّ (( من تشبّہ بقوم فہو منہم )) ، ومع ذلک فإنّنا نقول : إنّ التسبیح بالأصابع أفضل لأنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أرشد إلی ذلک ، فقال : ((اعقدنّ بالأنامل ، فإنّہن مستنطقات )) ، أی سوف یشہدن یوم القیامۃ بما حصل ، فالأفضل للإنسان أن یسبّح بالأصابع لوجوہ ثلاث : الأوّل أنّ ہذا ہو الذی أرشد إلیہ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ، الثانی أنّہ أقرب إلی حضور القلب لأنّ الإنسان لابدّ أن یستحضر العدد الذی یعقدہ بأصابعہ بخلاف من کان یسبّح بالسبحۃ ، فإنّہ قد یمرّر یدہ علی ہذہ الخرزات وقلبہ ساہ غافل ، الثالث أنّہ أبعد عن الریاء کما أشرنا إلیہ آنفا ۔
”سائل کی مراد اگر وہ موتی ہیں جو ایک لڑی میں معین مقدار میں پروئے جاتے ہیں اور اس لڑی کے ذریعے انسان اپنے ذکر ، تسبیح ، استغفار وغیرہ کو شمار کرتا رہتا ہے تو یہ جائز ہے لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ : پہلی شرط تو یہ ہے کہ آلہ تسبیح اپنے استعمال کرنے والے کو ریاکاری پر آمادہ نہ کرے جیسا کہ بعض ان لوگوں کا طریقہ ہے جو ہزار ہزار موتیوں والی لڑیاں لے کر ان کو اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں ، گویا کہ وہ لوگوں کو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہماری طرف دیکھو ، ہم اتنی مقدار میں تسبیح کرتے ہیں۔۔۔دوسری شرط یہ ہے کہ آلہ تسبیح استعمال کرنے والا اسے ان اہل بدعت کی مشابہت میں استعمال نہ کرے جنہوں نے اللہ کے دین میں وہ قولی اذکار یا جھومنے والے افعال ایجاد کر لیے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : (( من تشبّہ بقوم فہو منہم )) کہ جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی ، وہ انہی میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤدا: ٤٠٣١،و سندہ، حسنٌ)
اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ انگلیوں کے ساتھ تسبیح کرنا افضل ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اعقدنّ بالأنامل ، فإنّہنّ مستنطقات )) کہ تم اپنی انگلیوں کے ساتھ تسبیح شمار کیا کرو کیونکہ یہ انگلیاں بلوائی جائیں گی (سنن ابی داؤد : ١٥٠١، وسندہ، حسنٌ)، یعنی روز ِ قیامت یہ ان اذکار کی گواہی دیں گی جو ان کے ذریعے شمار کیے گئے ہوں گے۔چنانچہ انگلیوں کے ساتھ تسبیح کرنا تین وجوہ سے افضل ہوا : ایک تو اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف رہنمائی فرمائی ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ حضور ِ قلب کے لیے زیادہ موزوں ہے کیونکہ جس چیز کو انسان اپنی انگلیوں کے ساتھ شمار کرتا ہے ، اس پر اس کا استحضار رہتا ہے جبکہ آلہ تسبیح کے ساتھ اذکار کرنے والا بسا اوقات موتیوں پر اپنے ہاتھ پھیرتا رہتا ہے لیکن اس کا دل غافل ہوتا ہے۔ تیسرے اس لیے کہ اس میں ریاکاری کا خدشہ نہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کر دیا ہے۔”
(فتاوی نور علی الدرب لابن العثیمین ، الاذکار، نقلا عن المکتبۃ الشاملۃ)

“خلاصہ سلسلہ”

*اوپر ذکر کردہ تمام احادیث، آثارِ صحابہ اور علمائے کرام کے اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ ذکر ہاتھوں کی انگلیوں پر کرنا چاہیے، کیونکہ یہی مسنون طریقہ ہے، اور پھر قیامت کے دن یہ گواہی بھی دیں گی اور دونوں ہاتھوں میں سے بھی دائیں ہاتھ پر گنتی کرنا افضل ہے، رہی بات تسبیح کی تو جو شخص اچھی نیت سے تسبیح پر گنتی کرے یعنی اسکا مقصد لوگوں کو دکھاوا کرنا نا ہو اور اسکے لیے انگلیوں پر گنتی کرنا مشکل ہو یا بھول جاتا ہو تو تسبیح کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، لیکن واضح رہے جسکا مقصد لوگوں کو دکھانا ہو یا دکھاوے کے مقصد بغیر بھی ہر وقت بڑی بڑی تسبیح ہاتھ میں یا گلے میں لپیٹ کر رکھے تو یہ عمل درست نہیں، کیونکہ اگر اسکی نیت دکھاوے کی نہیں بھی ہے تو بھی اس پر ریا کاری کا اثر نظر آئے گا، یا ریاکاری میں پڑنے کا خدشہ ہو گا، کوشش کریں کہ کم عدد والی گنتی بغیر تسبیح کے ہی کریں ہاں جسے بہت زیادہ ضرورت ہو کہ زیادہ گنتی انگلیوں پر نہیں کر سکتے تو چھوٹی تسبیح وغیرہ استعمال کریں وہ بھی لوگوں سے چھپا کر اور پوری توجہ ساتھ، یہ نا ہو کہ ہاتھ میں تسبیح کے منکے گر رہے ہوں اور آپکی نظر ٹی وی پر ہو یا باتوں میں لگے ہوں*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سوال- اذکار گنتی کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ دائیں ہاتھ سے گنتی کریں یا بائیں ہاتھ سے؟ اور کیا ڈیجیٹل تسبیح یا دانوں وغیرہ کی مالا پر ذکر کرنا جائز ہے؟ نیز انگلیوں کے پوروں پر اذکار گننا افضل ہے یا تسبیح کے دانوں پر ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں