159

سوال-کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے؟ وہ غسل سے پہلے ہو یا بعد میں؟ اور کیا بیوی اپنے شوہر کی میت کو بوسہ دے سکتی ہے؟ برائے مہربانی دلیل سے جواب دیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-347”
سوال-کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے؟ وہ غسل سے پہلے ہو یا بعد میں؟ اور کیا بیوی اپنے شوہر کی میت کو بوسہ دے سکتی ہے؟ برائے مہربانی دلیل سے جواب دیں؟

Published Date: 12-8-2020
جواب:
الحمدللہ:

*میت کو بوسہ دینا جائز ہے یعنی کسی شخص کو وفات کے بعد بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے اسکے اپنے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، مرد مرد میت کو اور عورتیں عورت میت کو بوسہ دے سکتی ہیں، اسی طرح مرد اپنی محرم خواتین والدہ،بہن، بیٹی یا بیوی وغیرہ کی میت کو بوسہ دے سکتے ہیں اور خواتین اپنے محرم مردوں یعنی باپ، شوہر، بھائی بیٹا وغیرہ کی میت کو بوسہ دے سکتی ہیں، اور یہ بوسہ غسل سے پہلے بھی دینا جائز ہے اور غسل کے بعد بھی،کیونکہ مسلمان نا مرنے سے پہلے نجس ہوتا ہے اور نا مرنے کے بعد، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کو غسل سے پہلے بوسہ دیا تھا*

دلائل ملاحظہ فرمائیں..!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: میت کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ. حتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ.
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ عثمان بن مظعون ؓ کا بوسہ لے رہے تھے اور ان کا انتقال ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)،
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٧ (١٤٥٦)،
(تحفة الأشراف: ١٧٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ٢٠٦) (صحیح )
وضاحت::
عثمان بن مظعون ؓ رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، مدینہ میں مہاجرین میں سب سے پہلے انہیں کا انتقال ہوا۔

📚صحیح بخاری
کتاب: غزوات کا بیان
باب: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان،
حدیث نمبر: 4452،4453
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ:‏‏‏‏ أَنَّأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغَشًّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا.
قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اجْلِسْ يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلَايَ وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا، ‏‏‏‏‏‏عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ:
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ ؓ نے خبر دی کہ ابوبکر ؓ اپنی قیام گاہ، مسخ سے گھوڑے پر آئے اور آ کر اترے، پھر مسجد کے اندر گئے۔ کسی سے آپ نے کوئی بات نہیں کی۔ اس کے بعد آپ عائشہ ؓ کے حجرہ میں آئے اور نبی کریم ﷺ کی طرف گئے، نعش مبارک ایک یمنی چادر سے ڈھکی ہوئی تھی۔ آپ نے چہرہ کھولا اور جھک کر چہرہ مبارک کو بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت طاری نہیں کرے گا۔ جو ایک موت آپ کے مقدر میں تھی، وہ آپ پر طاری ہوچکی ہے۔
زہری نے بیان کیا اور ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ ابوبکر ؓ آئے تو عمر ؓ لوگوں سے کچھ کہہ رہے تھے۔ ابوبکر ؓ نے کہا: عمر! بیٹھ جاؤ، لیکن عمر ؓ نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ اتنے میں لوگ عمر ؓ کو چھوڑ کر ابوبکر ؓ کے پاس آگئے اور آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: امابعد! تم میں جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی وفات ہوچکی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل‏ کہ محمد صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ ارشاد الشاکرين‏ تک۔ ابن عباس ؓ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر ؓ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی۔ اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا۔ (زہری نے بیان کیا کہ) پھر مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ عمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس وقت ہوش آیا، جب میں نے ابوبکر ؓ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا، جس وقت میں نے انہیں تلاوت کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی ہے تو میں سکتے میں آگیا اور ایسا محسوس ہوا کہ میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گے اور میں زمین پر گر جاؤں گا۔

*شوہر اپنی بیوی کی میت کو غسل دے سکتے ہیں*

📚عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،
رجَع إليَّ رسولُ اللهِ ﷺ ذاتَ يومٍ مِن جِنازةٍ بالبقيعِ وأنا أجِدُ صُدَاعًا في رأسي وأنا أقولُ: وارَأْسَاه قال: (بل أنا يا عائشةُ وارَأْسَاه)ثمَّ قال: (وما ضرَّكِ لو مِتِّ قبْلي فغسَلْتُكِ وكفَّنْتُكِوصلَّيْتُ عليكِ ثمَّ دفَنْتُكِ)؟ قُلْتُ: لَكأنِّي بكَ أنْ لو فعَلْتَ ذلك قد رجَعْتَ إلى بيتي فأعرَسْتَ فيه ببعضِ نسائِك فتبسَّم رسولُ اللهِ ﷺ ثمَّ بُدِئ في وجَعِه الَّذي مات فيه
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کےرسول ﷺ جنت البقیع میں جنازہ سے فارغ ہوکر واپس لوٹے تو میرا سر درد کررہا تھا۔ اور اس وجہ سے میں’’ہائے میرا سر‘‘ کہہ رہی تھی۔ تو آپؐ نے فرمایا: بلکہ میں ہائے سر کہتا ہوں(یعنی میرا سر بھی درد کر رہا ہے)
’’، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں تو تمہیں کوئی ضرر نہیں، میں خود تمہیں غسل دوں گا ، کفن پہناؤں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھ کر خود تمہیں دفن کروں گا۔‘‘
(صحيح ابن حبان_حدیث نمبر_ 6586 • أخرجه في صحيحه • حدیث حسن
(الارواہ الغلیل،700)
(مسند احمد، ج6، ص228)
سنن ابن ماجہ،باب_ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها
باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے -حدیث نمبر-1465)
(نیل الاوطار:2؍58)

*بیویاں اپنے شوہر کی میت کو غسل دے سکتی ہیں*

📚ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں:
‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ:‏‏‏‏ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏مَا غَسَلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ
اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-3141)
(سنن ابن ماجہ/باب_ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها
باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے -حدیث نمبر: 1464)
(نیل الاوطار 2؍58)
امیر صنعائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ،
صححہ الحاکم‘‘ کہ ’’اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘
(سبل السلام 2؍550)
مزید علامہ البانی رحمہ اللہ سمیت متعدد محدثین کرام نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے،

*شوہر کے انتقال کرنیکی صورت میں چونکہ نکاح برقرار رہتا ہے اور بیوی عدت پوری کرتی ہے اس لیے بیوی کے لیے جائز ہے کہ شوہر کے جسم کو چھوئے اسے غسل دے، جیسا کہ ابو بکر صدیق رضی کو انکی وصیت کے مطابق غسل انکی بیوی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو انکی وصیت کے مطابق انکو غسل حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیا، جب میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں، اور جسم کے ہرحصے کو چھوسکتے ہیں تو یقیناً انکے لیے ایک دوسرے کی میت کو بوسہ دینا بھی جائز ہے*

📙ائمہ اربعہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ میت کے چہرے کو چومنا جائز ہے۔
(البحر الرائق لابن نجيم 187/2 ،)
(حاشية الطحطاوي ص: 376 )
(شرح مختصر خليل للخرشي 136/2 ،) (المجموع للنووي 127/5)
( مغني المحتاج للخطيب الشربيني 357/1 ،)
( كشاف القناع للبهوتي 85/2]۔

📙امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوا کہ میت کو بوسہ دینا جائز ہے۔
[شرح سنن أبي داود 6/ 94، ط. مكتبة الرشد]۔

📙امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل میت اور اسکے دوستوں کے لئے جائز ہے کہ وہ میت کے چہرے کو بوسہ دیں، کیونکہ ایسا کرنا احادیث سے ثابت ہے
۔[شرح المهذب111/5]

📙علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ نے نبی علیہ السلام کو بوسہ دیا گویا کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔[نيل الاوطار].

📙علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ میت کو اپنے محارم میں سے کوئی عورت یا کوئی مرد اسے بوسہ دے جیساکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام کو بوسہ دیا۔
[مجموع فتاوى ابن باز102/13]

*مذکورہ دلائل سے معلوم ہوا کہ میت کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن یاد رہے کوئی مرد کسی غیر محرم میت عورت کے چہرے کو نہ دیکھے اور نہ بوسہ دے اسی طرح کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی غیر محرم مرد کے چہرے کو دیکھے یا اسے بوسہ دے ایسا کرنا جائز نہیں ہے*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚سوال_کیا عورت اپنے شوہر کی میّت کو ہاتھ لگا سکتی اور اسے دیکھ سکتی ہے؟ نیز کیا شوہر بیوی کی میت کو غسل دے سکتا اور قبر میں اتار سکتا ہے؟
( دیکھیں سلسلہ نمبر-183 )

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں