96

سوال_کیا حدیث میں مذکور طاعون کی بیماری میں کرونا وائرس بھی شامل ہے؟ نیز کیا کرونا سے مرنے والا شخص بھی شہید کا درجہ پائے گا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-341”
سوال_کیا حدیث میں مذکور طاعون کی بیماری میں کرونا وائرس بھی شامل ہے؟
نیز کیا کرونا سے مرنے والا شخص بھی شہید کا درجہ پائے گا؟

Published Date:15-6-2020

جواب:
الحمدللہ:

*طاعون اور کرونا وائرس میں مشترک بات صرف یہ ہے کہ یہ دونوں وبائی بیماریاں ہیں اور تیزی سے پھیلتی ہیں، اور دونوں بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن جیسی احتیاطی تدابیر لازم اختیار کی جاتی ہیں ،اس کے علاوہ حدیث میں مذکور طاعون کی بیماری اور کرونا وائرس یہ دونوں الگ الگ بیماریاں ہیں،دونوں کو ایک ہی حکم میں شامل کر کے کرونا وائرس سے فوت ہونے والے مریض کو بھی شہید کا درجہ دینا درست نہیں*

*یہاں ہم دونوں بیماریوں کے فرق کو واضح کرنے کیلئے طاعون کی بیماری کے اسباب اور علامات احادیث اور محدثین کی شرح کی روشنی میں ذکر کرتے ہیں*

احادیث میں ذکر کردہ طاعون ایک خاص بیماری ہے اور یہ جنوں کے نوک دار چیز چبھانے کی وجہ سے پھیلتی ہے،طاعون کی وجہ سے بہت زیادہ اموات ہوتی ہیں،طاعون کی وجہ سے فوت ہونے والا شخص شہید ہوتا ہے،

📚جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت کے درجے کا باعث ہے
(صحیح بخاری حدیث نمبر-2830)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1916)

📒قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

أصل الطاعون القروح الخارجة فى الجسد.

والوباء: عموم الأمراض. فسميت طاعوناً لشبهها بالهلاك بذلك، وإلا فكل طاعون وباء، وليس كل وباء طاعوناً على ما ذكرناه.

ويدل على ما أشرنا إليه قوله – عليه السلام – في حديث أبى موسى: الطاعون وخز أعدائكم من الجن .و وباء الشام الذى وقع به: إنما كان طاعونًا وقروحًا، وهو طاعون عمواس

“بنیادی طور پر طاعون کی صورت میں جسم پر پھوڑے نکلتے ہیں۔ جبکہ وبائی مرض کسی بھی پھیل جانے والی بیماری پر بولا جاتا ہے، ان وبائی امراض پر طاعون کا لفظ اس لیے بول دیا جاتا ہے کہ ان بیماریوں کی وجہ سے بھی ہلاکتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ ویسے تو ہر طاعون وبائی مرض ہوتا ہے، لیکن ہر وبائی مرض طاعون نہیں ہوتا، جیسے کہ ہم نے پہلے وضاحت کی ہے,
اس چیز کی وضاحت سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے کہ: (طاعون جنوں میں سے تمہارے دشمنوں کی طرف سے چرکا ہوتا ہے۔) اور ملک شام میں جو وبا پھوٹی تھی وہ طاعون اور پھوڑوں کی شکل میں تھی، اسی کو طاعونِ عمواس سے موسوم کیا جاتا ہے۔” ختم شد
(“اكمال المعلم”ج7/ ص132)

📒اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
والطاعون المذكور في باب الوصية: مرض معروف، هو بثر وورم مؤلم جدًا، يخرج مع لهب، ويسود ما حواليه أو يخضر أو يحمر حمرة بنفسجية كدرة، ويحصل معه خفقان القلب والقيء، ويخرج في المراقّ والآباط، غالبًا، والأيدي والأصابع وسائر الجسد”
“وصیت کے باب میں جس طاعون کا ذکر ہے اس سے مشہور بیماری مراد ہے، یہ جسم پر پھوڑوں اور سوزش کی شکل میں انتہائی المناک بیماری ہوتی ہے، جس میں ورم بھی آ جاتا ہے، پھوڑے پھنسی کے ارد گرد کا حصہ سیاہ، سبز، یا خاکی مائل بنفشی رنگ کا ہو جاتا ہے، اس ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور الٹیاں شروع ہو جاتی ہیں، عام طور پر یہ پھنسیاں بغلوں ،پیٹ کے نچلے حصے ، ہاتھوں، انگلیوں اور جسم کے دیگر حصوں میں نکلتی ہیں ۔” ختم شد
(“تهذيب الأسماء واللغات” ج3/ ص187)

📒نیز ابن حجر رحمہ اللہ اہل لغت، طبی ماہرین اور فقہائے کرام کی گفتگو ذکر کرنے کے بعد طاعون کی تعریف کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
“خلاصہ یہ ہے کہ: طاعون کی حقیقت یہ ہے کہ طاعون ایک سوزش ہے جو کہ خون کھولنے کی وجہ سے رونما ہوتی ہے، یا پھر خون کا بہاؤ کسی ایک عضو کی جانب زیادہ ہونے سے عضو متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی جتنی بھی بیماریوں کے بارے میں لفظ طاعون استعمال کیا جاتا ہے وہ مجازی طور پر ہوتا ہے؛ کیونکہ دونوں قسم کی بیماریوں میں مرض بہت زیادہ پھیلتا ہے، یا ان کی وجہ سے اموات کثرت سے واقع ہوتی ہیں۔
طاعون اور وبا میں تفریق کی دلیل اس باب کی چوتھی حدیث بھی ہے کہ طاعون مدینے میں داخل نہیں ہو گا، اور اس سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث گزر چکی ہے کہ: جب ہم مدینہ آئے تو یہ سب سے زیادہ وباؤں والی سر زمین تھی۔ اسی کے بارے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ: مشرکین مکہ نے ہمیں وبائی سرزمین میں بھیج دیا ہے۔ ایسے ہی کتاب الجنائز میں ابو الاسود کی روایت ہے کہ : میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مدینہ آیا تو ان میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہو رہی تھیں، اسی طرح کتاب الطہارۃ میں عرینہ قبیلے کے لوگوں کی حدیث میں ہے کہ : مدینے کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی۔ جبکہ دوسری حدیث میں الفاظ ہیں کہ[عرینہ کے لوگوں نے کہا]: مدینہ تو وبائی سرزمین ہے۔
تو ان سب احادیث اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ وبائیں مدینے میں آ چکی ہیں، اور پہلی حدیث میں ذکر ہے کہ طاعون مدینے میں داخل نہیں ہو گا؛ تو اس سے معلوم ہوا کہ وبائی امراض اور طاعون میں فرق ہے، تاہم ہر وبائی مرض کو طاعون کہنے والوں نے مجازی طور پر ان امراض طاعون کہا ہے
جیسے کہ اہل لغت کہتے ہیں:
وبا ہر پھیلنے والا مرض ہو سکتا ہے، عربی میں: {أَوْبَأَتِ الْأَرْضُ} اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی علاقہ وبائی امراض کے گھیرے میں آ جائے اسی طرح {وَبَئَتِ الْأَرْضُ}بھی اسی وقت بولا جاتا ہے یہ فاعل کے معنی میں جملہ ہے، یعنی زمین وبائی ہو گئی جبکہ {وُبِئَتِ الْأَرْضُ} مفعول کے معنی میں جملہ ہے، یعنی زمین پر وبائی مرض پھیلایا گیا۔
طاعون اور وبائی مرض میں ایک اور فرق جس کے بارے میں طبی ماہرین گفتگو نہیں کرتے اور نہ ان کے علاوہ طاعون کے متعلق لکھنے والوں نے یہ بات کی ہے کہ طاعون جنوں کے چرکے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے،
مذکورہ بات طبی ماہرین کی گفتگو سے متصادم بھی نہیں ہے کہ ان کے ہاں طاعون خون کھولنے یا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے؛ کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ طبی ماہرین کی بتلائی ہوئی وجہ جنوں کے غیر مرئی چرکے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہو، اور اس کی وجہ سے زہریلا مادہ پیدا ہو جائے اور پھر اس کے نتیجے میں خون کھولنے لگے یا خون کے بہاؤ میں خلل آ جائے، مزید یہ بھی ہے کہ جنوں کے چرکے کے متعلق طبی ماہرین اس لیے گفتگو نہیں کرتے کہ یہ چیز عقل یا مشاہدے سے معلوم نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا تعلق وحی اور شریعت سے ہے، اس لیے طبی ماہرین اپنے اصول و ضوابط کے مطابق ہی طاعون کے بارے میں گفتگو کر پائے ہیں۔۔۔
طاعون کے جنوں کے چرکے کی وجہ سے پیدا ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ : طاعون عام طور پر سب سے اچھے موسم میں ، اور سب سے بہترین آب و ہوا والے علاقے میں پھوٹتا ہے، اگر طاعون کے پھوٹنے کی وجہ آب و ہوا کی آلودگی ہو تو طاعون ہمیشہ ہی زمین پر رہے؛ کیونکہ آب و ہوا کبھی اچھی ہو جاتی ہے اور کبھی خراب ، جبکہ طاعون کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا، طاعون کے پھوٹنے کا کوئی اصول یا مشاہداتی ضابطہ نہیں ہے۔ اسی لیے کبھی تو ہر سال ہی پھوٹ پڑتا ہے اور کبھی سالہا سال نہیں پھوٹتا۔
نیز طاعون اگر آب و ہوا کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہو تو انسانوں اور حیوانات سب پر اس کا حملہ ہو، لیکن مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ طاعون بہت سی مخلوق پر حملہ آور ہوتا ہے ، لیکن پھر بھی یہ ایسی مخلوقات کو نقصان نہیں پہنچاتا جو انہی جنوں جیسا مزاج رکھتی ہیں۔
نیز اگر یہ بات ٹھیک ہو تو سارے جسم پر طاعون کا حملہ ہوتا لیکن طاعون جسم کے مخصوص حصوں پر ہی حملہ آور ہوتا ہے اس سے آگے اس کے اثرات نظر نہیں آتے۔
اسی طرح آب و ہوا کے خراب ہونے سے انسانی جسم کے اخلاط بدل جانے چاہییں، اور بیماریاں کثرت سے پھوٹ پڑیں، لیکن طاعون میں ایسے نہیں ہوتا صحت مند انسان اس میں مبتلا ہو کر لقمہ اجل بن جاتا ہے۔
تو ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون جناتی چرکوں سے پیدا ہوتا ہے، جیسے کہ اس بارے میں منقول احادیث میں یہ چیز ثابت ہے،
📚جیسے کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ “. فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : ” وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ، وَفِي كُلٍّ شُهَدَاءُ “.
(میری امت طعن [قتل و غارت] اور طاعون کی وجہ سے فنا ہو گی) کہا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ، یہ قتل و غارت کو تو ہم نے پہچان لیا ہے، لیکن یہ طاعون کیا چیز ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کا{ وَخْز} یعنی چرکا ہے، اور ہر ایک میں تمہارے لیے شہادت کا درجہ ہے،
(مسند أحمد | أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ. | حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ.، 19528)
اس حدیث کو امام احمد نے زیاد بن علاقہ کی سند سے بیان کیا ہے ، وہ ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں جو کہ سیدنا ابو موسی سے روایت کرتا ہے۔۔۔ تو اس اعتبار سے یہ حدیث صحیح ہے، یہی وجہ ہے کہ ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے اور نقل بھی کیا ہے،
(ابن حجر العسقلاني بذل الماعون-53حسن)
(والطيالسي في«المسند»536)
( مسند البزار -2986) باختلاف يسير •

📚جبکہ مسند احمد اور طبرانی میں ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت موجود ہے،
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَاأَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الطَّاعُونَ، فَقَالَ : ” وَخْزٌ مِنْ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ، وَهِيَ شَهَادَةُ الْمُسْلِمِ ”
اس میں ابو موسی اشعری کے بیٹے ابو بکر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: (یہ تمہارے دشمن جنوں کا چرکا ہے، اور وہ تمہارے لیے شہادت کے درجے کا باعث ہے،
(مسند أحمد | أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ، حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ.19708)
حكم الحديث:
أبو بلج مختُلف فيه، وباقي رجال الإسناد ثقات

اس روایت کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، صرف ابو بَلج جن کا نام یحییٰ ہے، انہیں ابن معین ، نسائی اور دیگر اہل علم نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ان کے علاوہ اہل علم نے اسے شیعہ ہونے کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، یہاں پر اس راوی کا شیعہ ہونا جمہور کے ہاں اس روایت قبول کرنے میں مانع نہیں ہے۔ ویسے اس حدیث کی ایک تیسری سند بھی ہے جو طبرانی میں موجود ہے۔

اس مسئلے میں اصل حدیث ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی ہے، اور اس کی اسانید متعدد ہونے کی وجہ سے اس کے صحیح ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔

حدیث میں مذکور { وَخْز} کا اعراب اس طرح ہے کہ واو پر زبر، خ پر سکون اور آخر میں ز ہے، اہل لغت کہتے ہیں یہ خراش کو کہتے ہیں بشرطیکہ گوشت تک نہ پہنچے۔

اور یہاں جنوں کے چرکے یا خراش سے اس لیے موصوف کیا گیا ہے کہ یہ در حقیقت جسم کی اندرونی جانب سے باہر کی طرف رونما ہوتی ہے، اس لیے پہلے جسم کے اندر اثر دکھاتی ہے اور پھر اس کا اثر باہر ظاہر ہونے لگتا ہے، اور بسا اوقات یہ باہر ظاہر ہی نہیں ہوتی۔
جبکہ انسانی خراش یا چرکا جسم کی بیرونی جانب سے لگ کر اندرونی جانب اثر کرتا ہے، اور بسا اوقات اندر تک اس کے اثرات نہیں پہنچتے ۔”
ختم شد
(“فتح الباری” 10ج/ص 180- 182)

📒شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
“طاعون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مخصوص قسم کی ایک جان لیوا بیماری ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر ایسا مرض جو بہت زیادہ خطرناک ہو اور وبائی ہو اسے طاعون کہتے ہیں، جیسے کہ ہیضے کے بارے میں ہے کہ یہ جس وقت کسی سرزمین پر رونما ہو جائے تو بہت جلد پھیل جاتا ہے۔ اسی طرح گردن توڑ بخار اور دیگر طبی ماہرین کے ہاں مشہور بیماریاں جنہیں ہم بھی نہیں جانتے ان سب کو طاعون میں شمار کیا گیا ہے۔
تو یہ تمام بیماریاں بڑی تیزی سے پھیلتی ہیں اور انسان کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہیں، تو ان تمام بیماریوں کے بارے میں حقیقی یا حکمی طور پر طاعون کا لفظ بولنا صحیح ہے۔
لیکن سنت نبوی سے جو بات محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ طاعون اور دیگر وبائی امراض میں فرق ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شہدائے امت محمدیہ شمار کرواتے ہوئے فرمایا: طاعون اور پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے۔
تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس کو پیٹ کی بیماری لگ جائے تو وہ طاعون کے مرض میں مبتلا شخص سے الگ شخصیت ہے؛ کیونکہ یہاں پیٹ کی بیماری سے مراد ایسا شخص ہے جسے اسہال لگ جائیں۔” ختم شد
(“الشرح الممتع” 11ج/ ص110)

*تو ان تمام تر تفصیلات کے بعد درج ذیل امور واضح ہوتے ہیں*

1- طاعون جنوں کی طرف سے انسانوں کو لگائے جانے والے چرکوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

2- طاعون کی بیماری میں جسم پر پھوڑے ، پھنسیاں اور انتہائی درد کے ساتھ بدن پر سوزش آ جاتی ہے، پھوڑوں کے ارد گرد کا حصہ سیاہ، سبز، یا خاکی مائل بنفشی رنگ کا ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور الٹیاں شروع ہو جاتی ہیں، عام طور پر یہ پھنسیاں بغلوں ،پیٹ کے نچلے حصے ، ہاتھوں، انگلیوں اور جسم کے دیگر حصوں میں نکلتی ہیں ۔

3- ایسی وبائی بیماریاں موجود ہیں جن سے بہت زیادہ اموات واقع ہوتی ہیں، تو ان بیماریوں کو مجازی طور پر طاعون کہہ دیا جاتا ہے، لیکن ان بیماریوں کو وہ طاعون نہیں کہہ سکتے کہ جس کی وجہ سے مرنے والے کو حدیث میں شہادت کا درجہ دیا گیا ہے، ہاں ان بیماریوں میں بھی طاعون کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر پابندی اور لاک ڈاؤن ہو گا؛ کیونکہ دونوں میں یکساں علت پائی جاتی ہے۔

4- طاعون کی بیماری ایک خاص بیماری ہے اس میں پھوڑے پھنسیاں، اور زخم ہوتے ہیں،

📚اس کی دلیل مسند احمد: اور سنن نسائی : میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ : إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا. وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ : إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا عَلَى فُرُشِنَا. فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ، فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ. فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ “.
شہدائے کرام اور اپنے بستروں پر وفات پانے والے ؛طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی کے ہاں فیصلہ کروانے کے لیے آئیں گے، تو شہداء کہیں گے کہ یا اللہ! ان کا حکم ہمارے والا ہی ہے؛ کیونکہ انہیں بھی قتل کیا گیا جیسے کہ ہمیں قتل کیا گیا، جبکہ اپنے بستروں پر وفات پانے والے کہیں گے کہ ان کا حکم ہمارے والا ہے؛ کیونکہ یہ بھی اپنے بستروں پر فوت ہوئے جیسے ہماری وفات ہوئی تھی! اس پر اللہ تعالی فرمائیں گے: تم ان کے زخموں کی جانب دیکھو؛ اگر ان کے زخم قتل کر دینے والے گھاؤ جیسے ہی ہیں تو پھر یہ بھی شہیدوں میں ہیں اور انہی کے ساتھ ہوں گے، تو جب ان کے زخم دیکھے جائیں گے تو ان کے زخم بھی شہیدوں کے زخموں جیسے ہوں گے۔)
(مسند أحمد | مُسْنَدُ الشَّامِيِّينَ | حَدِيثُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،حدیث نمبر-17159) حسن لغیرہ
(سنن نسائی حدیث نمبر-3164) صحیح
اس حدیث کو ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: (10/194) میں حسن قرار دیا ہے، جبکہ صحیح سنن نسائی میں علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

📒علامہ سندھی ؒ مسند پر اپنے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ:
“اللہ تعالی کا فرمان : (ان کے زخم بھی شہیدوں کے زخموں جیسے ہوں گے۔) کے عربی الفاظ میں لفظ “جراح” جیم کی زیر کے ساتھ ہے، اور ان کی مشابہت اس طرح سے ہو سکتی ہے کہ ان کا خون بھی سرخ رنگت والا تو ہو گا لیکن اس کی خوشبو کستوری جیسی ہو گی۔” ختم شد

5- تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا احادیث میں ذکر ہونے والا طاعون نہیں ہے کہ طاعون کی وجہ سے مرنے والے کو شہادت کے درجے کا وعدہ دیا گیا ہے

*اوپر والی بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ طاعون ایک الگ بیماری ہے، اور حدیث میں مذکور طاعون کیوجہ سے جو شہادت کا مرتبہ ملتا ہے وہ کرونا وائرس کو شامل نہیں،*
________&____________

*ہاں البتہ کرونا وائرس کی وجہ سے فوت ہونے والے شخص کے لیے تین اعتبار سے شہادت کی امید کی جا سکتی ہے*

📖پہلی وجہ:
*جس شخص کے پھیپھڑے کرونا وائرس کی وجہ سے تلف ہو جائیں اور اسی وجہ سے اس کی موت بھی واقع ہو تو اس کے لیے شہادت کی امید کی جا سکتی ہے*

کیونکہ ایسا شخص سِل یعنی تپ دق
(ٹی بی TB)کی بیماری والا حکم رکھتا ہے، بلکہ TB سے بھی شدید نوعیت کی بیماری میں مبتلا ہے؛ کیونکہ اس مرض میں پھیپھڑے میں پھوڑا نکل آتا ہے،

📚اور سلمان رضی اللہ عنہ سے روائیت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ: السِّلّ شهادة
سل کا مرض باعث شہادت ہے،
(الطبرانی المعجم الأوسط ج2/ص59)
لم يرو هذا الحديث عن عاصم إلا مندل تفرد به بكر)

📚اسی طرح ابو الشیخ نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے،
[عن عبادة بن الصامت:] السّلّ شهادةٌ
سل کا مرض باعث شہادت ہے،
الألباني صحيح الجامع 3691 •صحيح)
(أخرجه أبو نعيم في«الطب النبوي»608)

انہوں نے اس کی نسبت مسند احمد کی طرف بھی کی ہے کہ امام احمد نے اسے راشد بن حبیش کی سند سے بیان کیا ہے، یہ نسبت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں بھی بیان کی ہے۔

📒جیسے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“مسند احمد میں راشد بن حبیش کی حدیث بھی اسی کے مطابق ہے، اور اس میں لفظ ” السِّلّ ” وارد ہوا ہے جس میں سین کے نیچے زیر اور لام پر تشدید ہے۔”
فتح الباری (6/ 43)

📚مسند احمد میں راشد بن حبیش کی روایت: اس طرح ہے کہ
أنَّ رسولَ اللهِ ﷺ دخل على عُبادةَ بنِ الصّامتِ رضِي اللهُ عنه يعودُه في مرضِه فقال رسولُ اللهِ ﷺ أتعلمون من الشَّهيدُ من أمَّتي فأرَمَّ القومُ فقال عبادةُ سانِدوني فأسندوه فقال يا رسولَ اللهِ الصّابرُ المحتسِبُ فقال رسولُ اللهِ ﷺ إنَّ شهداءَ أمَّتي إذًا لقليلٌ القتلُ في سبيلِ اللهِ عزَّ وجلَّ شهادةٌ والطّاعونُ شهادةٌ والغرقُ شهادةٌ والبطنُ شهادةٌوالنُّفَساءُ يجُرُّها ولدُها بسَرَرِه إلى الجنَّةِ قال وزاد أبو العوّامِ سادنُ بيتِ المقدسِ والحرْقُ والسُّلُّ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تمہیں معلوم ہے کہ میری امت میں سے شہید کون ہے؟) تو لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، اس پر عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے سہارا دو، تو لوگوں نے انہیں سہارا دیا، پھر وہ کہنے لگے: “اللہ کے رسول! شہید وہ ہے جو صبر کرنے والا اور ثواب کی امید رکھنے والا ہو” اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تب تو میری امت کے شہدا یقینی طور پر بہت ہی کم ہوں گے: اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے، طاعون شہادت ہے، پانی میں ڈوب کر مرنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں شہادت ہے، زچہ کو اس کا بچہ اپنے نال سے جنت کی طرف کھینچے گا۔) راوی کہتے ہیں کہ: ابو العوام جو کہ بیت المقدس کے خادم ہیں انہوں نے اس میں دو چیزیں مزید زائد بیان کی ہیں: (جل کر مرنے والا شہید ہے، سیل کی وجہ سے مرنے والا بھی شہید ہے)
(مسند أحمد | مُسْنَدُ الْمَكِّيِّينَ. | حَدِيثُ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ.حدیث نمبر-15999) صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف
(الألبانی صحيح الترغيب 1396• حسن صحيح)
(المنذری الترغيب والترهيب ٢/٢٩١ • إسناده حسن)

📒علامہ مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“حدیث کے عربی لفظ ” السيل ” سین پر زبر اور اس کے بعد نیچے دو نقطوں والی یا ہے ، یعنی مطلب یہ ہے کہ پانی میں ڈوب کر فوت ہونے والا شخص شہید ہے، مصنف نے اپنے ہاتھ سے اس لفظ کا ضبط اسی طرح لکھا ہے، اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے مصنف کی کتاب میں اسے دیکھا ہے، چنانچہ بہت سے نسخوں میں جو لفظ ” السِّلّ ” وارد ہوا ہے وہ ناسخ کی غلطی ہے۔ ” ختم شد
“فیض القدیر” (4/ 533)

📒جبکہ مسند احمد کے محققین (25 / 380)کہتے ہیں کہ:
“حدیث کا لفظ: ” السيل ” تمام کے تمام نسخوں میں اسی طرح لکھا ہوا ہے، اسی طرح کتاب: ” غاية المقصد” میں بھی یہی ہے، اس اعتبار سے اس کا معنی پانی میں ڈوب جانے والے کا ہو گا،

📒لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: (6/43) میں اسے ” السِّلّ “یعنی سین کے نیچے زیر اور لام پر تشدید کے ساتھ لکھا ہے، تو اس کا مطلب ہو گا کہ معروف بیماری جسے تپ دق بھی کہتے ہیں، تو اس وقت ممکن ہے کہ اس بیماری سے متاثر شخص طاعون کی وجہ سے مرنے والے افراد میں شامل ہو گا۔”
ہم پہلے حدیث ذکر کر چکے ہیں کہ (سل کا مرض باعث شہادت ہے)۔

📒علامہ مناوی رحمہ اللہ فيض القدير (4/ 145) میں لکھتے ہیں کہ:
“(سل کا مرض باعث شہادت ہے) اور سل سے مراد پھیپھڑوں میں نکلنے والا پھوڑا ہے، اس کے ساتھ ساتھ معمولی بخار بھی ہوتا ہے۔”

📖دوسری وجہ:
*جس وقت کرونا وائرس جگر یا گردے کے تلف ہونے کا سبب بنے اور اسی وجہ سے انسان فوت ہو جائے تو ایسی صورت میں فوت ہونے والا شخص “مبطون” ہو گا*

📚 چنانچہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:
الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ ، وَالْمَبْطُونُ ، وَالْغَرِقُ ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
(شہدا پانچ ہیں: طاعون کی بیماری والا، مبطون یعنی پیٹ کی بیماری والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا
(صحیح بخاری حدیث نمبر-2829)
( صحیح مسلم حدیث نمبر-1914)

📒امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
“حدیث میں مذکور لفظ مبطون سے پیٹ کی بیماری اسہال یعنی پیچش مراد ہیں، قاضی کہتے ہیں: مبطون کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد استسقا اور پیٹ پھولنے کی بیماری ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ا س سے مراد وہ شخص ہے جس کا پیٹ خراب ہو، یہ بھی موقف ہے کہ مطلق طور پر پیٹ کی جو بھی بیماری ہو وہ مبطون کے اطلاق میں شامل ہے۔” ختم شد

📒شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ایک سوال پوچھا گیا کہ:
“حدیث میں آیا ہے کہ مبطون شخص شہید ہے، تو یہاں پر مبطون کا کیا مطلب ہے؟ اور کیا اگر کوئی شخص جگر میں خرابی کی وجہ سے فوت ہو تو وہ بھی مبطون میں شامل ہو گا؟”
تو انہوں نے جواب دیا کہ:
“مبطون کے بارے میں اہل علم کہتے ہیں کہ: جو شخص پیٹ کی بیمار ی کی وجہ سے فوت ہوا ہو وہ مبطون ہے، اب ظاہر تو یہی ہے کہ جو شخص اپینڈکس کی وجہ سے فوت ہو تو وہ بھی اسی میں شامل ہو گا؛ کیونکہ یہ بھی پیٹ ہی کی مہلک بیماری ہے، اور امید ہے کہ جو شخص جگر میں خرابی کی وجہ سے فوت ہوا وہ بھی اس میں شامل ہو؛ کیونکہ یہ بھی پیٹ کی جان لیوا بیماری ہے”
(مجلۃ الدعوۃ میں شائع ہونے والے فتاوی الشیخ ابن عثیمین)

📖تیسری وجہ:
*طاعون کیطرح کرونا وائرس والا شخص جب صاحب شریعت کا حکم مانتے ہوئے اس علاقے سے باہر نا نکلے اور اللہ پر توکل کر کے اپنی تقدیر پر راضی ہو کر گھر میں رہے، اور جو تکلیف ملے اس پر صبر شکر کرے، تو وہ بھی درج ذیل حدیث کے مطابق شہادت کا مرتبہ پا لے گا ان شاءاللہ*

📚حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
فَلَيْسَ مِنْ رَجُلٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ، فَيَمْكُثُ فِي بَيْتِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ
“جو شخص طاعون کا شکار ہوجائے پھر وہ اپنے گھر میں بیٹھ رہے، صبر کرے، ثواب کی امید رکھے، اسے علم ہو کہ اسے وہی تکلیف آئے گی جو اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں لکھی ہے تو اس کے لئے شھید کے اجر کے برابر (اجر ہوتا) ہے”.
(مسند أحمد |مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،حدیث نمبر-26139)
حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط البخاري.

📒 امام ابن حجر رحمه الله اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں
“اقتضى منطوقه أن من اتصف بالصفات المذكورة يحصل له أجر الشهيد وإن لم يمت”
“اس حدیث کے منطوق کا تقاضا ہے کہ جو شخص مذکورہ صفات سے متصف ہو اسے شھید کا اجر حاصل ہوگا اگرچہ اسے موت نہ بھی آئے”
[فتح الباري: 194/10)]

یعنی جو شخص بھی طاعون کی صفات والی دیگر وبائی بیماریوں میں اللہ پر توکل کرے اور وبائی علاقے سے نکلنے کی بجائے اپنے گھر میں رہے، اور جو بھی تکلیف آئے اس پر صبر کرے تو ایسا شخص بھی شہید کا مرتبہ حاصل کر لے گا،

اور چونکہ کرونا وائرس بھی ایک خطرناک وبائی بیماری ہے اور طاعون کیطرح اس میں بھی عام لوگوں اور مریضوں کو گھر سے نکلنے اور ایک سے دوسرے علاقے کے سفر سے منع کیا جاتا ہے،لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ جو شخص بھی اس بیماری میں اللہ پر توکل کرے، تقدیر کو غالب سمجھے ،اور احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے علاقے/ گھر سے نا نکلے اور اس دوران جو بھی تکلیف آئے اس پر صبر کرے تو وہ بھی شہادت کا مقام حاصل کر لے گا، ان شاءاللہ

________&_________

*اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ جو شخص بھی کرونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوا تو اس کے لیے تین اسباب کیوجہ سے شہادت کی امید کی جا سکتی ہے،*

1- پہلا سبب پھیپڑوں کی بیماری سے مرنے والے کیلے شہادت کا رتبہ ہے اور کرونا وائرس بھی پھیپھڑوں پر اثر کرتی ہے،

2- دوسرا سبب پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے تو کرونا وائرس بھی پیٹ کی بیماریوں میں ہی شامل ہے،

3- تیسرا سبب طاعون کی وبا میں گھر رہنے اور صبر شکر کرنے والے کیلے شہادت کا رتبہ ہے، تو اسی طرح کرونا وائرس میں بھی یہ علت پائی جاتی ہے کہ اس وبا میں بھی مریضوں کو گھر میں رہنے اور سفر نا کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں، لہذا ایسی صورت میں کرونا وائرس کے شکار مریض جو صبر، توکل اور احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھر میں رہیں وہ بھی اس سبب میں شامل ہیں،

*یہاں ہم یہ پھر تنبیہ کرتے جائیں کہ کرونا وائرس طاعون میں شامل نہیں ہے اور نا ہی طاعون کیوجہ سے شہادت والی حدیث کرونا وائرس پر فٹ ہو سکتی ہے،جیسے کہ ہم اس کی مکمل وضاحت اوپر کر آئے ہیں،لہذا کرونا وائرس سے مرنے والے کیلے آخر پر جو تین اسباب ہم نے بیان کیے انکی وجہ سے امید ہے کہ کرونا سے مرنے والے بھی شہادت کا رتبہ پائیں گے ان شاءاللہ*

*ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اس وبائی مرض کو ختم کر دے اور ہم سب مسلمانوں کو عافیت سے نوازے،*
*آمین یارب العالمین*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📒سوال_شہید کی کتنی اقسام ہیں؟ موت کی کون کون سی وجوہات شہادت میں آتی ہیں؟ قرآن و حدیث سے واضح کریں!
((دیکھیں گزشتہ سلسلہ نمبر-340))

📒سوال-کیا حدیث کے مطابق کرونا وائرس 12 مئی تک ختم ہو جائے گا؟ کچھ علماء یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ ثریا ستارہ نکلنے سے پھلوں کی بیماریاں، اور عام وبائی بیماریاں زمین سے ختم ہو جاتی ہیں؟ کیا یہ حدیث صحیح سند سے ثابت ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-333)

📒سوال:کیا انسان پر آنے والی مصیبتیں/بیماریاں اللہ کی طرف سے عذاب ہوتی ہیں؟ اور اگر مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ یہ مصیبت/بیماری اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے یا اس کے درجات میں بلندی کیلئے ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-327))

📒سوال_مصیبتوں اور وبائی امراض جیسے کرونا وائرس وغیرہ سے بچنے کیلئے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ نیز ایسی کونسی مسنون دعائیں اور اعمال ہیں جو کہ وبائی امراض اور مصیبتوں سے بچاؤ کے لیے مفید ہیں ؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-326))

📒سوال_کسی وبائی مرض یا مصیبت/آفت کیوجہ سے نمازوں کے علاوہ گھروں یا مساجد میں اجتماعی آذانیں دینے کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا کوئی عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-325))

📒سوال-کرونا وائرس/یا کسی اور وبائی مرض کے پھیلنے کے خوف سے جماعت /جمعہ یا مصافحہ چھوڑنا کیسا ہے؟ اور کیا یہ عمل توکل الی اللہ کے خلاف ہے؟ نیز مؤذن کا اذان میں یہ کلمات کہنا کہ “گھروں میں نماز پڑھو” صرف بارش کیلئے ہے یا کسی اور وجہ سے بھی یہ کلمات کہے جا سکتے ہیں؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-324))

📒بیماری کے متعدی ہونے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ عقیدہ رکھنا درست ہے کہ کوئی بیماری کسی ایک شخص سے دوسرے کو بھی لگ جاتی ہے؟ کیا بیماری سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا شرعاً ناجائز اور توکل الی اللہ کے خلاف ہیں؟ نیز کیا کسی متعدی بیمار شخص سے تقوی کی بنیاد پر شادی کرنا جائز ہے؟
(( دیکھیں سلسلہ نمبر-315 ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!


📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں