114

سوال-حدیث کے مطابق جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی گھڑی کونسی ہے؟کہ جس میں انسان کوئی بھی جائز دعا کرے تو اسکی دعا قبول ہوتی ہے،برائے مہربانی صحیح احادیث سے وضاحت کریں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-339″
سوال-حدیث کے مطابق جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی گھڑی کونسی ہے؟کہ جس میں انسان کوئی بھی جائز دعا کرے تو اسکی دعا قبول ہوتی ہے،برائے مہربانی صحیح احادیث سے وضاحت کریں!

Published Date: 10-06-2020

جواب :
الحمد للہ:

*صحیح احادیث میں یہ بات ثابت ہے کہ جمعہ کے دن قبولیت کی ایک گھڑی ہے، اور اس گھڑی میں کوئی بھی مسلمان اللہ تعالی سے اچھی چیز مانگے تو اللہ تعالی اسے ضرور عنائیت فرماتے ہیں*

📚 صحیح بخاری
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: باب: جمعہ کے دن وہ گھڑی جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ فِيهِ:‏‏‏‏ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا.
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے امام مالک (رح) سے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ حالت نماز میں اس گھڑی کو پا لے اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ پاک اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ نے بتلایا کہ وہ ساعت(گھڑی) بہت تھوڑی سی ہے۔

صحیح مسلم کے الفاظ ہیں

📚صحیح مسلم
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ
ترجمہ:
عبدالرحمن بن سلام جمحی، ابن مسلم، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو بھلائی بھی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیں گے اور وہ گھڑی بہت تھوڑی دیر رہتی ہے۔

*اوپر والی احادیث سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ جمعہ کے دن قبولیت کی ایک گھڑی ہوتی ہے، اب وہ گھڑی کونسی ہے ، اس گھڑی کی تعیین کے بارے علماء کے متعدد اقوال ہیں، جن میں سے دو صحیح ہیں*

📚چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
” وأرجح هذه الأقوال : قولان تضمنتهما الأحاديث الثابتة ، وأحدهما أرجح من الآخر :
الأول : أنها من جلوس الإمام إلى انقضاء الصلاة ، والقول الثانى : أنها بعد العصر ، وهذا أرجح
“ان تمام اقوال میں سے صحیح دو اقوال ہیں، جو کہ ثابت شدہ احادیث کے ضمن میں آئے ہیں، ان دونوں میں سے بھی ایک صحیح ترین قول ہے:

پہلا قول:
یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے، اس قول کی دلیل درج ذیل حدیث ہے،

دوسرا قول یہ ہے کہ:
یہ گھڑی عصر کے بعد ہے، اور یہ قول پہلے سے زیادہ راجح ہے، اسی کے عبد اللہ بن سلام ، ابو ہریرہ، امام احمد، اور بہت سے لوگ قائل ہیں۔
(ماخوذ از: “زاد المعاد”:1/376)

پہلا قول:
*یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے، اس قول کی دلیل درج ذیل حدیث ہے،*

📚 صحیح مسلم
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 853

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُکَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَی أَنْ تُقْضَی الصَّلَاةُ
ترجمہ:
ابوطاہر، علی بن خشرم، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، ح، ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، مخرمہ، ابوبردہ بن ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنے باپ سے جمعہ کی گھڑی کی شان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا ہاں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز پوری ہونے تک ہے۔

دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں،

📚جامع ترمذی
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کے دن کی وہ ساعت جس میں دعا کی قبولیت کی امید ہے
حدیث نمبر: 490
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يَسْأَلُ اللَّهَ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ إِلَى الِانْصِرَافِ مِنْهَا قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي لُبَابَةَ،‏‏‏‏ وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ:
عمرو بن عوف مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس میں مانگتا ہے اللہ اسے عطا کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز (جمعہ) کھڑی ہونے کے وقت سے لے کر اس سے پلٹنے یعنی نماز ختم ہونے تک ہے

🚫حکم الحدیث- (ضعیف جداً )
(یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، کثیر ضعیف راوی ہیں، اور ان کے والد عبداللہ عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی مقبول یعنی متابعت کے وقت ورنہ ضعیف راوی ہیں،واضح رہے اس روایت کا آخری ٹکڑا جس میں نماز ختم ہونے تک کی بات ہے یہ ضعیف ہے، باقی شروع والی صحیح ہے،

قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا،
( ابن ماجة (1138) // ضعيف سنن ابن ماجة (235)، ضعيف الجامع الصغير (1890) //
(صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 490)

___________&_________

دوسرا قول یہ ہے،
*یہ گھڑی عصر کے بعد ہے، اور یہ قول پہلے سے زیادہ راجح ہے، اسی کے عبد اللہ بن سلام ، ابو ہریرہ، امام احمد، اور بہت سے لوگ قائل ہیں*

اس قول کی دلیل درج ذیل احادیث ہیں،

پہلی حدیث

📚مسند أحمد
مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
حدیث نمبر:7688

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ حَدِيثًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ “.
حكم الحديث: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف
ترجمہ:
ابو سعید خدری، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے، جس گھڑی میں کوئی بھی مسلمان بندہ اللہ تعالی سے کوئی بھی اچھی چیز مانگے تو اللہ اسے وہی عنائت فرماتا ہے، اور یہ گھڑی عصر کے بعد ہے،
[مسند احمد کی تحقیق میں ہے کہ:
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے]

دوسری حدیث

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: جمعہ کے دن قبو لیت کی گھڑی کس وقت ہوتی ہے؟
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْجُلَاحَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ يُرِيدُ سَاعَةً لَا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ.
ترجمہ:
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلاش کرو ۔

تخریج دارالدعوہ:
( سنن النسائی/الجمعة ١٤ (١٣٩٠)،
(تحفة الأشراف: ٣١٥٧)
حکم الحدیث (صحیح )

تیسری حدیث

📚 [عن سعيد بن منصور:]
قالَ أبو سلمةِ بنِ عبدِ الرَّحمنِ أنَّ ناسًا من الصَّحابةِ اجتمَعوا فتذاكَروا ساعةَ الجمُعةَ ثمَّ افترَقوا فلم يختلِفوا أنَّها آخرَ ساعةٍ من يومِ الجمُعةِ
اسی طرح سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے نقل کیا ہے کہ : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ایک جگہ جمع ہوئے، اور جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں گفتگو شروع ہوگئی، تو مجلس ختم ہونے سے پہلے سب اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ یہ جمعہ کے دن کے آخری وقت میں ہے”

[حافظ ابن حجر نے “فتح الباری” 2/489 میں اسکی سند کو صحیح قرار دیا ہے]

(ابن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)،
(فتح الباري لابن حجر ٢/٤٨٩ • إسناده صحيح)
(محمد ابن عبد الوهاب (١٢٠٦ هـ)، الحديث لابن عبدالوهاب ٢/١٦٢ • إسناده صحيح)
(الصنعاني (١١٨٢ هـ)، سبل السلام ٢/٨٨ • إسناده صحيح)
(البهوتي (١٠٥١ هـ)، كشاف القناع ٢/٤٤ • إسناده صحيح)

چوتھی حدیث

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: اقامت نماز اور اس کا طریقہ
باب: جمعہ گھڑی ( ساعت )
حدیث نمبر: 1139
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ:‏‏‏‏ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا قَضَى لَهُ حَاجَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَأَشَارَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعْضُ سَاعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ صَدَقْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ بَعْضُ سَاعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَيُّ سَاعَةٍ هِيَ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِيَ آخِرُ سَاعَه مِنْ سَاعَاتِ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ سَاعَةَ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا صَلَّى ثُمَّ جَلَسَ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ.
ترجمہ:
عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: ہم اللہ کی کتاب (قرآن) میں پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت (گھڑی) ہے کہ جو مومن بندہ نماز پڑھتا ہوا اس کو پالے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ اس کی حاجت پوری کرے گا، عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف اشارہ کیا کہ وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے میں نے کہا: آپ ﷺ نے سچ کہا، وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے، میں نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دن کی آخری ساعت ہے میں نے کہا: یہ تو نماز کی ساعت نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں! بیشک مومن بندہ جب نماز پڑھتا ہے، پھر نماز ہی کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہ،
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٢، ومصباح الزجاجة: ٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٥٠، ٤٥١) (حسن صحیح )

پانچویں حدیث

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: جمعہ کے احکام
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ:‏‏‏‏ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ بَلْ، ‏‏‏‏‏‏فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ:‏‏‏‏ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ فَأَخْبِرْنِي بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ:‏‏‏‏ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّيوَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلِّي فِيهَا ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ:‏‏‏‏ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ ذَاكَ.
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پالے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا ۔ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم ﷺ نے سچ فرمایا، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام ؓ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہوسکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ ﷺ نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے، (١)
تخریج دارالدعوہ:
( سنن الترمذی/الجمعة ٢ (٤٩١)،
(سنن النسائی/الجمعة ٤٤ (١٤٣١)،
(تحفة الأشراف: ٢٠٢٥، ١٥٠٠٠)،
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٧ (٩٣٥)، والطلاق ٢٤ (٥٢٩٤)، والدعوات ٦١ (٦٤٠٠)، (في جمیع المواضع مقتصراً علی قولہ: فیہ الساعة … )
صحیح مسلم/الجمعة ٤ (٨٥٢)، ٥ (٨٥٤ ببعضہ)، سنن النسائی/الجمعة ٤ (١٣٧٤)، ٤٥ (١٤٣١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٩ (١١٣٧)، موطا امام مالک/صلاة الجمعة ٧ (١٦)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٥٥، ٢٥٧، ٢٧٢، ٢٨٠، ٢٨٤، ٤٠١، ٤٠٣، ٤٥٧، ٤٦٩، ٤٨١، ٤٨٩)،
(سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٤ (١٦١٠) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎:
نماز پڑھتے ہوئے سے یہ مراد نہیں کہ وہ فی الواقع نماز پڑھ رہا ہو بلکہ مقصود یہ ہے کہ جو نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ بھی اس شخص کے مثل ہے جو نماز کی حالت میں ہو۔

_______&___________

*لہذا ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی زوال آفتاب سے لیکر سورج غروب ہونے تک میں سے ہے، اور اس میں سے بھی خاص وقت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز کے ختم ہونے تک اور اس سے بھی خاص وقت عصر کے بعد دن کی آخری گھڑ ہے،*

*شب قدر کی طرح اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں جمعہ کے خطبہ سے لیکر شام تک عبادت و دعا میں مشغول رہے،اور خطبے کے دوران قبولیت کی گھڑی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مقتدی دعا میں اتنا مشغول ہوجائے کہ خطبہ سننے سے بالکل توجہ ہٹ جائے، بلکہ خطبہ بھی سنے، اور امام کی دعا پر آمین بھی کہے،اپنی نماز میں سجدے ، اور تشہد میں سلام سے قبل بھی دعا کرے۔چنانچہ یہ عمل کرنے سے اس عظیم گھڑی میں دعا کرنے کا موقع پا سکتا ہے، اور اسکے ساتھ اگر عصر کے بعد غروب آفتاب سے قبل بھی دعا مانگ لے تو یہ اور بھی اچھا اور بہتر ہے*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📚سوال_دعا کے آداب بیان کریں، دعا کیسے کی جائے کہ جلدی قبول ہو جائے؟ نیز دعا کے وقت ہاتھوں کی کیسی کیفیت ہونی چاہیے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-318)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!


📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سوال-حدیث کے مطابق جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی گھڑی کونسی ہے؟کہ جس میں انسان کوئی بھی جائز دعا کرے تو اسکی دعا قبول ہوتی ہے،برائے مہربانی صحیح احادیث سے وضاحت کریں!

  1. ایک آدمی اپنی بیوی سے حمل کے دوران کب تک ہمبستری کر سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں