64

سوال:كيا نماز باجماعت يا انفرادى نماز كى ايک ہى ركعت ميں دو سورتيں پڑھ سكتے ہیں؟ یا ایک ہی سورة یا سورة کی کچھ آیات کو بار بار نماز میں دہرا سکتے ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-337″
سوال:كيا نماز باجماعت يا انفرادى نماز كى ايک ہى ركعت ميں دو سورتيں پڑھ سكتے ہیں؟ یا ایک ہی سورة یا سورة کی کچھ آیات کو بار بار نماز میں دہرا سکتے ہیں؟

Published Date: 01-06-2020

جواب :
الحمد للہ:

*نماز باجماعت ہو یا انفرادی اور امام ہو يا مقتدى سب كے ليے سورۃ فاتحہ كے بعد ايک يا دو سورتيں پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں، اسی طرح ایک سورة کو بار بار دہرانے یا سورہ کے کسی حصے،آئیت کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں*

*اور بعض اوقات امام كو اس كا جواز بيان كرنے كے ليے ايسا كرنا چاہيے، ليكن وہ نمازيوں كو لمبى نماز نہ پڑھائے جيسا كہ فرضى اور نفلى نماز ميں ايسا كرنا جائز ہے،بہت سى نمازوں ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سورۃ فاتحہ كے بعد دونوں رکعت میں ایک سورت اور ایک رکعت میں دو دو سورتوں كا پڑھنا ثابت ہے*

دلائل درج ذیل ہیں!

📚معاذبن عبداللہ جہنی بیان کرتے ہیں کہ بنوجہینہ کے ایک آدمی نے انہیں بتایا کہ اس نےنبی ﷺ کوسناکہ آپﷺ نماز فجر کی دونوں رکعتوں میں
’’إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْ‌ضُ زِلْزَالَهَا‘‘
’’جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی‘‘(سورۃ الزلزلۃ:1)
کی تلاوت کررہے تھے،مجھے نہیں معلوم کہ آپﷺ بھول گئے تھے یا آپﷺ نے عمدا اس کی تلاوت کی تھی۔
(سنن ابوداود حدیث نمبر-816 )
(سنن بیہقی:390/2)اسنادہ حسن۔

📒یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ دو رکعتوں میں ایک ہی سورت کو مکرر پڑھنا جائز ہے اور امام ابوداود رح نے اس حدیث پر یہ عنوان
’’باب الرجل يعيد سورة واحدة في الركعتين‘‘
(اس مسئلہ کا بیان کہ انسان دو رکعتوں میں ایک سورت دہراسکتا ہے) قائم کرکے اس عمل کوسندجواز دی ہے۔

📚ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ایک آدمی نے سنا کہ ایک آدمی
’’قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ‘‘
’’آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے‘‘(سورۃ الاخلاص:1)
کی تلاوت کر رہا تھا اور (رات کی نماز میں)اسے بار بار پڑھ رہا تھا۔پھر جب صبح ہوئی تو شخص رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اورآپ کو یہ واقعہ بیان کیا ،گویا وہ شخص اسے کم (اجر) محسوس کر رہا تھا ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم ،جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!بلاشبہ یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5013)

📚ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،وہ بیان کرتے ہیں:نبی ﷺنے ایک ہے آیت کے ساتھ رات بھر قیام کیا حتی کہ صبح ہوگئی، آپﷺ مسلسل یہ آیت
’’إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ‌ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ‘‘
’’اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو، تو زبردست ہے حکمت واﻻ ہے‘(سورۃ المائدۃ:118) تلاوت کرتے رہےـ
(سنن النسائی حدیث نمبر-1011)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1350)
اسنادہ صحیح،
علامہ البانی نے مشکوٰۃ المصابیح کی تخریج میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔حافظ ابن حجررحمہ اللہ کا جسرہ بنت دجاجہ کو مقبول کہنا درست نہیں ،یہ ثقہ راویہ ہیں کیونکہ حافظ ابن حبان نے اسےٰ کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے اور حافظ عجلی نے اس الثقات میں ثقہ قرار دیاہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موضوع پر باب باندھا ہے اور تفصیل سے اس پر لکھا یے،

📒صحيح البخاری
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَةِ:
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں ایک ساتھ پڑھنا۔
ويذكر عن عبد الله بن السائب قرا النبي صلى الله عليه وسلم المؤمنون في الصبح حتى إذا جاء ذكر موسى، وهارون او ذكر عيسى اخذته سعلة فركع وقرا عمر في الركعة الاولى بمائة وعشرين آية من البقرة وفي الثانية بسورة من المثاني وقرا الاحنف بالكهف في الاولى وفي الثانية بيوسف او يونس، وذكر انه صلى مع عمر رضي الله عنه الصبح بهما وقرا ابن مسعود باربعين آية من الانفال وفي الثانية بسورة من المفصل، وقال قتادة: فيمن يقرا سورة واحدة في ركعتين او يردد سورة واحدة في ركعتين كل كتاب الله ‏‏.‏

‏‏‏‏ اور سورت کے آخری حصوں کا پڑھنا اور ترتیب کے خلاف سورتیں پڑھنا یا کسی سورت کو (جیسا کہ قرآن شریف کی ترتیب ہے) اس سے پہلے کی سورت سے پہلے پڑھنا اور کسی سورت کے اول حصہ کا پڑھنا یہ سب درست ہے۔ اور عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورۃ مومنون تلاوت فرمائی، جب آپ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے ذکر پر پہنچے یا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر تو آپ کو کھانسی آنے لگی، اس لیے رکوع فرما دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے پہلی رکعت میں سورۃ البقرہ کی ایک سو بیس آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں مثانی (جس میں تقریباً سو آیتیں ہوتی ہیں)میں سے کوئی سورت تلاوت کی اور احنف رضی اللہ عنہ نے پہلی رکعت میں سورۃ الکہف اور دوسری میں سورۃ یوسف یا سورۃ یونس پڑھی اور کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھی تھیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۃ الانفال کی چالیس آتیں (پہلی رکعت میں) پڑھیں اور دوسری رکعت میں مفصل کی کوئی سورۃ پڑھی اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے متعلق جو ایک سورۃ دو رکعات میں تقسیم کر کے پڑھے یا ایک سورۃ دو رکعتوں میں باربار پڑھے فرمایا کہ ساری ہی کتاب اللہ میں سے ہیں۔ (لہٰذا کوئی حرج نہیں)

اسکے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نیچے یہ احادیث لائے ہیں

📚عبیداللہ بن عمر نے ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انصار میں سے ایک شخص(کلثوم بن ہدم) قباء کی مسجد میں لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا۔ وہ جب بھی کوئی سورۃ (سورۃ فاتحہ کے بعد)شروع کرتا تو پہلے «قل هو الله أحد‏» پڑھ لیتا۔ پھر کوئی دوسری سورۃ پڑھتا۔ ہر رکعت میں اس کا یہی عمل تھا۔ اس کے ساتھیوں نے اس سلسلے میں اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تم پہلے یہ سورۃ پڑھتے ہو اور صرف اسی کو کافی خیال نہیں کرتے بلکہ دوسری سورۃ بھی (اس کے ساتھ) ضرور پڑھتے ہو۔ یا تو تمہیں صرف اسی کو پڑھنا چاہئے ورنہ اسے چھوڑ دینا چاہئے اور بجائے اس کے کوئی دوسری سورۃ پڑھنی چاہئے۔ اس شخص نے کہا کہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اب اگر تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں تو برابر پڑھتا رہوں گا ورنہ میں نماز پڑھانا چھوڑ دوں گا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ان سب سے افضل ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص نماز پڑھائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ کو واقعہ کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے ان کو بلا کر پوچھا کہ اے فلاں! تمہارے ساتھی جس طرح کہتے ہیں اس پر عمل کرنے سے تم کو کون سی رکاوٹ ہے اور ہر رکعت میں اس سورۃ کو ضروری قرار دے لینے کا سبب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں اس سورۃ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سورۃ کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-775)

📚ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے رات ایک رکعت میں مفصل کی سورۃ پڑھی۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اسی طرح ( جلدی جلدی ) پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں۔ میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ آپ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا۔ ہر رکعت کے لیے دو دو سورتیں۔
(صحيح بخارى حديث نمبر- 775)
(صحيح مسلم حديث نمبر- 822 )

اسی طرح
📚علقمہ اور اسود رحمہ اللہ تعالى بيان كرتے ہيں كہ ايک شخص ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كے پاس آ كر كہنے لگا: ميں سور مفصل ايک ركعت ميں پڑھتا ہوں، تو انہوں نے جواب ديا:
كيا يہ شعر كى طرح تيزى اور ردى كھجور كى طرح نثر ہے؟
ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايک
ک ركعت ايك جيسى نظائر دو سورتيں پڑھا كرتے تھے، نجم اور الرحمن ايك ركعت ميں، اور اقتربت الساعۃ اور الحاقۃ ايك ركعت ميں، سورۃ الطور اور الذاريات ايك ركعت ميں، اور اذا وقعت الواقعۃ اور سورۃ نون ايك ركعت ميں، اور سال سائل اور سورۃ النازعات ايك ركعت ميں، اور ويل للمطففين اور سورۃ عبس ايك ركعت ميں سورۃ المدثر اور المزمل ايك ركعت ميں ھل اتى على الانسان اور لا اقسم بيوم القيمۃ ايك ركعت ميں، اور عم يتسالون، اور المرسلات ايك ركعت ميں اور سورۃ الدخان اور اذا الشمس كورت ايك ركعت ميں ”
(سنن ابو داود حديث نمبر_1396 )
علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے،

📚اور ايک حديث ميں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قيام الليل كى ايک ركعت ميں سورۃ البقرۃ، النساء اور آل عمران پڑھى، جيسا كہ حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ نے بيان كيا ہے اور اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے
(صحيح مسلم حديث نمبر_772 )
ميں روائیت کیا ہے،

📒حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فتح الباری (3/327) میں اس عمل کو جائز قرار دیا ہے،

📒شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
انسان كے ليے سورۃ فاتحہ كے بعد دو يا تين سورتيں پڑھنا جائز ہے، اور ايك سورۃ پر اقتصار كرنا بھى جائز ہے، يا پھر وہ ايك سورۃ كو دو حصوں ميں تقسيم كر سكتا ہے، يہ سب جائز ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا عمومى فرمان ہے:
چنانچہ تمہارے ليے جتنا قرآن پڑھنا آسان ہو اتنا پڑھو المزمل ( 20 ).
اور اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” پھر آپ كے ليے جو آسان ہو قرآن كى قرآت كرو”
(ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 13 ) سوال نمبر ( 500 ).

📒شيخ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
بعض اوقات نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك ہى ركعت ميں دو يا زيادہ سورتيں جمع كر كے پڑھا كرتے تھے
ديكھيں: صفۃ صلاۃ النبى صلى اللہ عليہ وسلم ( 103 – 105 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اس ميں اس كے متعلقہ احاديث ذكر كے ان كى تخريج كى ہے، لھذا اس كا مطالعہ كريں.

______&_______

*سعودی فتاویٰ کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ،*

سوال
سوال: میری نند نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد ایک اور سورت پڑھتی ہے، اور پھر اسکے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے کے بعد رکوع میں جاتی ہے، اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پڑھتی ہے، اور پھر کوئی اور سورت بھی ساتھ میں ملاتی ہے، تو کیا یہ معاملہ درست ہے؟
مجھے دلیل کیساتھ جواب بتلا دیں، اور اس بارے میں نصیحت بھی کر دیں کہ کیا کرنا چاہئے؟

جواب
الحمد للہ:

اگر کوئی نمازی سورہ فاتحہ کے بعد ایک سورت پڑھے اور اسکے بعد یا سورت سے پہلے آیۃ الکرسی یا سورہ اخلاص وغیرہ پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایک سریّہ میں ایک صحابی کو امیر بنا کر بھیجا، تو وہ اپنے ساتھیوں کو جماعت کرواتے ہوئے ہر رکعت میں سورہ اخلاص بھی پڑھتے تھے، جب یہ تمام لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا ماجرا سنا ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان سے پوچھو کہ وہ ایسے کیوں کرتے تھے؟) تو انہوں نے اپنے امیر سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: “کیونکہ یہ رحمن کی صفت بیان کرتی ہے، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں” تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے بتلا دو کہ اللہ تعالی اس سے محبت کرتا ہے)
بخاری (6940) اور مسلم (813) نے اسے روایت کیا ہے۔
تو یہ عمل جائز ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سنت نہیں ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں ایسے نہیں کیا، چنانچہ مناسب یہی ہے کہ اس عمل پر ہمیشگی نہ کی جائے، تا کہ اسے سنت مؤکدہ کا درجہ نہ ملے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سب سے اعلی و افضل طریقہ ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
“کیا ایک رکعت میں ایک سے زائد سورت پڑھنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کیا دو سورتوں کو پڑھتے ہوئے قرآن کریم کی ترتیب کو سامنے رکھنا لازمی ہے؟ یا کہ سورتوں کی ترتیب آگے پیچھے بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں؟
تو انہوں نے جواب دیا:
“سورہ فاتحہ کے بعد ایک یا ایک سے زائد سورتیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ، سورہ نساء اور آل عمران [اسی ترتیب کیساتھ] ایک ہی رکعت میں پڑھی، اور کچھ صحابہ کرام نے سورہ فاتحہ کے بعد ایک اور سورت ملائی اور آخر میں سورہ اخلاص پڑھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے بعد دو سورتیں پڑھیں۔

چنانچہ خلاصہ یہ ہے کہ:
اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے سورتوں کی ترتیب قرآنی ترتیب سے الٹ بھی ہوجائے تو تب بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سنت یہی ہے کہ ایسے ترتیب رکھی جائے جیسے قرآن مجید میں ہے، یہی افضل ہے، جیسے کہ صحابہ کرام سے ثابت ہے، چنانچہ قرآن مجید کی ترتیب کے مطابق ہی پڑھا جائے، لیکن اگر کسی سورت سے پہلے کوئی اور سورت پڑھے تو کفایت کر جائے گی”
” فتاوى نور على الدرب ” از: ابن باز (8/250)

*خلاصہ کلام یہ ہے کہ نمازی کیلئے ایک سورت کو ایک سے زائد رکعتوں میں پڑھنا،ایک سورت کو دورکعتوں میں مکرر پڑھنا اور ایک آیت کو متعدد رکعتوں میں مکرر پڑھنا جائز و مباح ہے، اور نماز میں تلاوت کی مذکورہ صورتیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📚سوال_کیا نماز میں سورتوں کو ترتیب سے پڑھنا ضروری ہے؟ یعنی کیا جائز ہے کہ نماز میں بعد والی سورہ پہلی رکعت میں پڑھ لی جائے اور پہلی سورہ بعد والی رکعت میں….؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر_222))

📲اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📝آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر
واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

📖سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.یا آفیشل ویب سائٹ سے تلاش کریں،

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل فیس بک پیج

https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

آفیشل ویب سائٹ
Alfurqan.info

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں