262

سوال- نماز جمعہ کن پر فرض ہے؟ کیا جمعہ کی نماز کیلئے شہر/آبادی یا لوگوں کی تعداد کی کوئی شرط موجود ہے؟ نیز جمعہ صرف مسجد میں ادا کر سکتے یا ضرورت کے تحت کسی اور جگہ جیسے کھیت،ڈیروں یا گھروں وغیرہ میں بھی جمعہ کا اہتمام کر سکتے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-328”
سوال- نماز جمعہ کن پر فرض ہے؟ کیا جمعہ کی نماز کیلئے شہر/آبادی یا لوگوں کی تعداد کی کوئی شرط موجود ہے؟ نیز جمعہ صرف مسجد میں ادا کر سکتے یا ضرورت کے تحت کسی اور جگہ جیسے کھیت،ڈیروں یا گھروں وغیرہ میں بھی جمعہ کا اہتمام کر سکتے؟

Published Date: 01-04-2020

جواب:
الحمدللہ:

*کلمہ پڑھنے والے تمام مسلمانوں پر جمعہ کی نماز فرض ہے،اور جمعہ کیلے نا تو لوگوں کی تعداد کی کوئی شرط قرآن و سنت میں موجود ہے اور نا ہی شہر یا گاؤں کی کوئی شرط موجود ہے،اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں،*

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
(سورہ الجمعہ،آئیت نمبر-9)

📚نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ
ہر بالغ شخص پر جمعہ کے لیے جانا فرض ہے
(سنن ابو داود حدیث نمبر-342)
حدیث صحیح

📚ایک دوسری روایت میں ہے کہ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً:‏‏‏‏ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوِ امْرَأَةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ صَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَرِيضٌ،
جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں:
غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے،
(سنن ابو داود حدیث نمبر-1076)
حدیث صحیح

📚عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لیس علی مسافر جمعۃ)
مسافر پر جمعہ نہیں ہے،
( المعجم الاوسط للطبرانی 1، 249/ح:818) وقال الالبانی صحیح
( دیکھئے الجامع الصغیر : 5405)

*اوپر ذکر کردہ قرآن کی آیت اور احادیث اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ نابالغ بچے، غلام، عورت،مریض اور مسافر کے علاوہ جمعہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ایمان لا چکے ہیں،خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی بستی یا بادیہ میں*

📒امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے :
”صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْجُمُعَةُ | بَابُ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرَى وَالْمُدُنِ.
“ ( بستیوں اور شہروں میں جمعہ کا باب )

📚اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث لائے ہیں انہوں نے فرمایا :
( إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ.
کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں جمعہ کے بعد جو پہلا جمعہ ادا کیا گیا وہ عبد القیس قبیلے کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے جواثی ٰ مقام پر تھی
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-892)

📚اور سنن ابو داؤد میں ابن عباس (رض) کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں,
قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْبَحْرَيْنِ.
جواثا بحرین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے “۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-1068)
باب الْجُمُعَةِ فِي الْقُرَى
باب: دیہات (گاؤں) میں جمعہ پڑھنے کا بیان

📚کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع (بستی، گاؤں) “ھزم النبیت” میں جمعہ کی نماز پڑھائی،
(سنن ابو داود حدیث نمبر-1069)
حسن

📒وضاحت:
اوپر بحرین سے مراد سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ہے، اور ”جواثی“ منطقہ احساء کے ہفوف نامی شہر کے ایک گاؤں میں واقع ہے،اور مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام ہزم النبیت تھا،

*ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ گاؤں وغیرہ میں پڑھنا درست ہے، اس لئے کہ جواثی اور ہزم النبیت دونوں گاؤں ہیں،*

*اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آیت میں جمعہ کے دن صلاۃ کی ندا پر اللہ کے ذکر کی طرف سعی کا حکم ہے اور باجماعت صلاۃ ادا کرنا صرف شہر میں نہیں بلکہ ہر بستی اور بادیہ میں فرض ہے*

📚ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے“۔
زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے،
(سنن ابو داود حدیث نمبر-547)

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے قبرستان اور حمام ( غسل خانہ ) کے ساری زمین مسجد ہے“
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے،
(سنن ترمذی حدیث نمبر-317)
(سنن ابو داود حدیث نمبر-492)

📚ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق سوال کیا ،
انہوں نے جواب میں لکھا
(جَمِّعوا حيثُما كنتُم)
تم جہاں کہیں بھی ہو جمعہ ادا کرو،
(مصنف ابن ابی شیبہ :ج٢، ص١٠١/ح 5108)
(الألباني إرواء الغليل ٣/٦٦ • إسناده صحيح على شرط الشيخين)

*جن لوگوں نے جمعہ کے لیے شہر یا حاکم وغیرہ کی شرط لگائی ہے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں*

🚫اور ایک مشہور روایت
” لا جمعۃ ولا تشریق الا فی مصر جامع
یعنی جمعہ اور عید جامع شہر کے سوا نہیں،

(ابن حجر العسقلاني الكافي الشاف ٢٩١ • لم أره مرفوعاً وإسناده ضعيف)
(النووي المجموع ٤/٥٠٥ • ضعيف متفق على ضعفه وهو موقوف على علي رضي الله عنه بإسناد ضعيف منقطع)
(الإمام أحمد (٢٤١ هـ)، التلخيص الحبير ٢/٥٦٤ • ضعيف )
(أخرجه عبدالرزاق في «المصنف» (٥١٧٥)
(وابن الجعد في «مسنده» (٢٩٩٠)،
(وابن أبي شيبة في «المصنف» (٥٠٩٨)

*یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں، یہ حضرت علی (رض) کا مشہور قول ہے جو کہ اوپر بیان کردہ صحیح احادیث اور حضرت عمر (رض) کے صحیح سند کے ساتھ مروی قول کے خلاف ہے، جب صحابہ میں اختلاف ہو تو اصل کتاب و سنت کی طرف رجوع واجب ہے اور کتاب و سنت کے مطابق تمام مسلمانوں پر ہر جگہ جمعہ فرض ہے،جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے*

*اور پھر جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ کے لیے آئیں تو اجر کا باعث ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں عورتیں بھی جمعہ کے لیے آتی تھیں ، اس سے اجر کے علاوہ قرآن کی آیات سن کر انہیں یاد کرنے کا موقع ملتا ، قرآن و سنت سن کر علم میں اضافہ ہوتا اور نصیحت سن کر اصلاح ہوتی تھی،*

📚 ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان (رض) فرماتی ہیں ،میں نے سورة ٔ (ق والقرآن المجید) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ اسے ہر جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے منبر پر پڑھا کرتے تھے، اگلی روایت کے الفاظ ہیں کہ
اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مسجد میں آکر اجر اور قرآن و سنت کے علم سے اپنا حصہ حاصل کریں،
(صحیح مسلم حدیث نمبر-873)

*جمعہ کے دن کی بدعات میں سے ایک بدعت ظہر احتیاطی ہے ۔ کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ اسلامی حاکم کے بغیر جمعہ نہیں ہوتا اور دیہات میں بھی جمعہ نہیں ہوتا ، شہروں اور گاؤں میں جمعہ کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد احتیاطاً ظہر کی چار رکعتیں بھی پڑھتے ہیں ، یہ بد ترین بدعت ہے ، کیونکہ اس کی بنیاد شک پر ہے جو کفار کا معمول ہے، کسی مومن کا نہیں،جو عبادت پہلے ہہ شک پر کی جائے کہ پتہ نہیں جمعہ ہو گا یا نہیں چلو ظہر پڑھ لیں انکی عبادت کیا قبول ہو گی*

________&_________

*ڈیروں، آبادیوں، بستیوں، وغیرہ میں جمعہ*

📒حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
امام بخاری نے ان حضرات سے اختلاف فرمایا ہے۔ جو صرف شہروں میں جمعہ جائز سمجھتے ہیں دیہات میں درست نہیں سمجھتے ابن ابی شیبہ نے حضرت حذیفہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مسلک نقل فرمایا ہے،
اس کے بعد حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اثر ذکر فرمایا ہے:انہ کتب الی اھل البحرین ان جمعوا حثیما کنتم ۔’’بحرین والوں کو فرمایا جہاں ہو جمعہ ضرور پڑھو۔‘‘
(ابن ابی شیبہ و صححہ ابن خزیمۃ)
(صحیح بخاری مع الفتح ۲۵۹، ج۲)

📒حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول شہر و دیہات دونوں کو شامل ہے۔ فتح الباری میں ہے۔ ھذا یشمل المدن والقری حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اہل میاہ کو اپنی اپنی بستیوں میں نمازِ جمعہ پڑھتے دیکھتے تھے۔ اور ان پر کچھ انکار نہیں فرماتے تھے۔ فتح الباری میں ہے وعند عد الرزاق باسناد صحیح عن ابن عمر انہ کان یری اھل المیاہ بین مکۃ والمدینۃ یجمعون فلا یعیب علیھم
صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد تابعین واتباع تابعین وغیرہم بھی دیہات میں جمعہ پڑھتے رہے اور اس کا فتویٰ دیتے رہے۔ ولید بن مسلم نے امام لیث بن سعد رحمۃ اللہ علیہ سے نمازِ جمعہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہر شہر ودیہات میں جس میں مسلمانوں کی جماعت ہو تو نمازِ جمعہ پڑھنا چاہیے۔ اس واسطے کہ مصر اور سواحل مصر کے لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ان دونوں خلیفوں کے حکم سے نمازِ جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ اور مصر وسواحل مصر میں متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔
فتح الباری میں ہے۔ وروی البیھقی من طریق الولیدبن مسلم سألت اللیث بن سعد فقال کل مدینۃ او قریۃ فیھا جماعۃ المسلمین امرو بالجمعۃ فان اھل المصر وسواحلھا کانوا یجمعون علی عھد عمر وعثمان بامرھما وفیھا رجال من الصھابۃ انتھی
(فتح الباری ص۲۵۹،ج۲)

*ابن منیر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ جمعہ کے لیے نہ امیر شرط ہے نہ شہر بلکہ دیہات میں جمع کی اجازت ظاہر ہوتی ہے۔اسی طرح اسعد بن زرارہ کی روایت سے ظاہر ہے وہ نقیع الخفات میں جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ یہ بستی مدینہ منورہ سے قریباً ایک میل ہے۔ ان آثار کا تذکرہ حافظ شوکانی نے نیل الاوطار میں اور حضرت مولانا شمس الحق نے عون المعبود میں بھی فرمایا ہے۔ امام بیہقی نے ان آثار کا تذکرہ سنن کبریٰ میں ج ۳ صفحہ ۱۷۹۔ ۱۷۸ میں اپنی سند سے فرمایا ہے ان آثار سے ظاہر ہوتا ہے اس وقت عام دیہات بلکہ ڈیروں میں بھی جمعہ بلا نکیر ہوتا تھا،*

📒صحابہ میں سے کوئی بھی لوگوں کو جمعہ پڑھتے سے روکنے کی کوشش نہیں کرتے تھے جیسا کہ آجکل اور خاص کر کے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ منع کرتے تھے کہ جمعہ دیہاتوں اور بستیوں میں نہیں ہوتا،

📒حافظ خطابی معالم السنن صفحہ ۱۰ جلد ۲ میں اسعد بن زرارہ کی حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وفی الحدیث من الفقہ ان الجمعۃ جوازھا فی القریٰ کجوازھا فی المدن والاثار لان حرۃ بنی بیاضۃ یقال قریۃ علی میلٍ من المدینۃ۔
اس حدیث کی فقہ میں سے یہ ہے کہ دیہات میں جمعہ اس طرح جائز ہے جس طرح چھوٹے اور بڑے شہروں میں، کیوں کہ حرہ بنی بیاضہ مدینہ سے ایک میل پر ایک گاؤں ہے جہاں اسعد بن زرارہ آنحضرتﷺ کی تشریف آوری سے پہلے جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔

📚وعن الحسن البصري: إذا كان رجلان والإمام ثالثهما صلوا الجمعة بخطبة ركعتين وهو أحد قولي سفيان الثوري وقول أبي يوسف، وأبي ثور
وعن إبراهيم النخعي: إذا كان واحد مع الإمام صليا الجمعة بخطبة ركعتين. وهو قول الحسن بن حي، وأبي سليمان، وجميع أصحابنا،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
جب دو لوگ ہوں اور تیسرا امام ہو تو وہ جمعہ کی نماز پڑھیں گے، سفیان ثوری اور ابو ثور اور ابو یوسف کا بھی یہی قول ہے،
اور ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ جب ایک شخص ہو امام کے ساتھ تو وہ جمعہ کی دو رکعت پڑھیں گے، یہی قول حسن بن حیی ابو سلیمان کا ہے،

*اس موضوع پر امام ابن حزم رحمہ اللہ نے بڑی تفصیل سے بحث کی ہے*

📒اسعد بن زرارہ کی حدیث کے متعلق ابن حزم فرماتے ہیں:
اما الشافعی فانہ احتج بخبر صحیح رویناہ من طریق الزھری
( محلٰی ص۴۷ جلد۵۔)
صحیح احادیث سے صراحۃً اور قرآن عزیز اور اقوال صحابہ سے دیہات میں جمعہ کا ثبوت ملتا ہے اور بعض اہل علم تک یہ اطلاع نہیں پہنچی یا وہ اسے اس طرح نہیں سمجھ سکے جس طرح باقی آئمہ نے سمجھا ہے تو ان کے مقلدین کو دیہات میں جمعات روکنے کا حق نہیں وہ خود بپابندی تقلید نہیں پڑھنا چاہتے تو وہ مختار ہیں۔

📚ابن حزم فرماتے ہیں:
یصلیھا المسجونون والمخفتون رکعتین فی جماعۃ بخطبۃٍ کسائر الناس وتصلی فی کل قریۃ صغرت ام کبرت اھ
(محلی جلد ۵ صفحہ ۴۹۔)
قیدی مفرور لوگ دو رکعت خطبہ کے ساتھ ادا کریں اور بستی چھوٹی ہو یا بڑی اس میں جمعہ درست ہے۔
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
قال بعض الحنفین لوکان ذلک لکان النقل بہ متصلا اھ
بعض حنفی کہتے ہیں کہ اگر جمعہ دیہات میں جائز ہوتا تو تواتر اور تعامل سے اس کا ثبوت ملتا۔

📒ابن حزم اس کے جواب میں فرماتے ہیں :
فیقال لہ نعم قد کان ذٰلک حتی قطعہ المقلدون بضلالھم عن الحق وقد شاھدنا جزیرۃ میورقہ یجمعون فی قرئھا حتی قطع ذٰلک بعض المقلدین لما لک وباء باثم النھی عن صلوٰۃ الجمعۃ وروینا ان ابن عمر کان یَمُرُّ علی المیاہ وھم یجمعون فلا ینھا ھم عن ذلک عن عمر بن عبدالعزیز انہ کان یامز اھل المیاہ ان یجمعوا ویأمر اھل کل قریۃ لا ینتقلون بان یؤمر علیھم امیر یجمع بھم
(محلی جلد ۵ ص۵۲)
ان حضرات سے کہنا چاہیے کہ واقعی جمعہ تمام دیہات میں ہوتا تھا اور اس کا تعامل موجود تھا۔ یہاں تک کہ بعض غلط کار مقلدین نے اسے بند کرا دیا۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ جزیرہ میورقہ کے تمام دیہات میں جمعہ ہوتا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ کے مقلدین نے اسے بند کرا دیا اور جمعہ سے روکنے کی معصیۃ اپنے ذمہ لے لی۔ ابن عمر پانیوں اور ڈیروں پر لوگوں کو جمعہ پڑھتے دیکھتے تھے اور منع نہیں فرماتے تھے، عمر بن عبدالعزیز نے اہل میاہ کو جمعہ ادا کرنے کا حکم دیا اور ہر بستی کو جس کی اقامۃ مستقل ہو حکم دیا کہ ان کا امیر جمعہ پڑھائے۔

📒پھر صفحہ ۵۴ جلد ۵ میں فرماتے ہیں:
ومن اعظم البرھان علیھم ان رسول اللہ ﷺ آتٰی الی المدینۃ وانما ھی قری صغار مفرقۃ بنو مالک بن الخبار فی قریتھم موالی دورھم اموالھم وبنو عدے بن النجار فی دارھم کذلک وبنو مازن بن النجار کذالک وبنو سالم کذالک وبنو ساعدۃ کذالک وبنو الحارث بن الخزرج کذالک وبنو عمر وبن عوف کذالک وبنو عبد الا شھد کذالک سائر یطون الانصار کذاک فبنی مسجدہ فی مالک بن النجار فجمع فیہ فی قریۃ لیست بالکبیرۃ ولا مصر ھنالک فبطل قول من ادعٰی ان لاجمعۃ الا فی مصرو ھذا امر لا یجھلہ احد لامومن ولا کافر بل ھو نقل الکوان من شرق الارض الی غربھا وبا اللّٰہ تعالٰی التوفیق اھ
( محلی جلد ۵ ص ۵۴ )۔
دیہات میں جمعہ سے روکنے والوں کے خلاف بڑی عظیم الشان دلیل ہے کہ جب آنحضرت مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہ خود چھوٹی چھوٹی بستیوں کی صورت میں تھی بنو مالک بن نجار کا مال اور کھجوروں کے باغ الگ تھے، بنو عدی بن نجار اور بنو مازن کے اموال اور زمینوں کا بھی یہی حال تھا بنو سالم بنو ساعدہ بنو حارث بن خزرج اور بنو عمرو بن عوف اور بنو اشہل بھی اسی طرح الگ الگ دیہاتی زندگی بسر کرتے تھے انصار کے تمام قبائل اسی طرح قبائلی زندگی گزارتے تھے، آنحضرت نے مسجد کی بنیاد بنو مالک بن نجار میں رکھی اور جمعہ قائم فرمایا یہ چھوٹی سی آبادی تھی، یہاں کوئی شہر آباد نہ تھا۔ یہ صورت حال ہر مسلمان اور کافر پر ظاہر ہے بلکہ مشرق و مغرب کے مورخین نے اس نقل کیا ہے۔

__________&__________

*جمعہ کی نماز فیکٹری،گھر،دکان ،دیہات وغیرہ میں پڑھنے کے بارے سعودی فتاویٰ کمیٹی کے چند فتوے*

📚اور مستقل فتوى كميٹى كے فتوى نمبر ( 957 ) ميں بيان كيا گيا ہے كہ:
( نماز جمعہ ادا كرنے كے ليے جو تعداد كى شرط لگائى جاتى ہے، ہمارے علم ميں تو اس كى تحديد كے ليے كوئى دليل نہيں، اور كوئى ايسى نص نہ ملنے كى بنا پر جس سے تعداد كى تعيين ہوتى ہو علماء كرام ميں نماز جمعہ كى ادائيگى ميں اشخاص كى تعداد كا اختلاف ہے:
اس سلسلے ميں درج ذيل اقوال ہيں:
تين رہائشى اشخاص كى موجودگى ميں نماز جمعہ ادا كيا جائيگا، يہ امام احمد سے روايت ہے، اور اسے اوزاعى اور شيخ ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى نے اختيار كيا ہے؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:
اللہ تعالى كے ذكر كى طرف دوڑو.
يہ جماعت ہے اور اس كى كم از كم تعداد تين ہے.( 8 / 210 ).
واللہ اعلم
(ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد)

___________&_____________

سوال:
نماز جمعہ لازم ہونے كے ليے كم از كم نمازيوں كى تعداد كتنى ہے، ميں نے اس موضوع كے متعلق مختلف آراء سنى ہيں:
بعض لوگ كہتے ہيں كہ: چاليس نمازى ہونے لازم ہيں، ليكن كچھ دوسرے بھائى كہتے ہيں كہ دو نمازى ہوں، اور ايك اور كہتا ہے كہ دو شخص جماعت بن جاتے ہيں، كيا آپ اس معاملے كى وضاحت كر سكتے ہيں ؟

جواب،
الحمد للہ :

فتوى كميٹى سے مندرجہ ذيل سوال كر كے فتوى مانگا گيا:
نماز جمعہ صحيح ہونے كے ليے كتنے لوگ ہونے ضرورى ہيں، كيونكہ بعض لوگ كہتے ہيں كہ چاليس اشخاص نہ ہوں تو جمعہ صحيح نہيں، اگر چاليس سے كم ہوں تو وہ نماز ظہر ادا كرينگے ؟

كميٹى كا جواب تھا:
مسلمانوں پر جمعہ كے روز بستيوں اور ديہاتوں ميں نماز جمعہ كا انعقاد كرنا واجب ہے، اس كے صحيح ہونے كے ليے جماعت كى شرط ہے، اس ميں كسى معين تعداد كى كوئى شرعى دليل نہيں ملتى، نماز جمعہ كے صحيح ہونے كے ليے تين يا تين سے زيادہ اشخاص كا ہونا كافى ہے، جس شخص پر نماز جمعہ واجب ہو اس كے ليے چاليس سے كم تعداد ہونے كى بنا پر نماز ظہر ادا كرنى جائز نہيں، علماء كرام كا صحيح قول يہى ہے.
اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے
(ماخذ: الاسلام سوال وجواب)

__________&_________

📚سوال
كام كے مالك نے ہمارے ليے ملازمت والى جگہ پر ايك چھوٹى سى جگہ نماز كے ليے مقرر كر دى ہے، ہم چار اشخاص وہاں نماز ظہر اور عصر پابندى كے ساتھ ادا كرتے ہيں، كيا شرعى طور پر ہمارے ليے اس كمرہ ميں نماز جمعہ ادا كرنا جائز ہے؟ اس اعتبار سے ہمارے پاس كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس كمرہ ميں كوئى نماز جمعہ ادا كرتا ہے ؟

جواب :
جہاں آپ رہتے ہيں اگر تو اس شہر ميں كسى مسجد كے اندر نماز جمعہ ادا كى جاتى ہے، تو ان كے ساتھ آپ كا نماز جمعہ ادا كرنا واجب ہے، اور تمہارے ليے دوسرا جمعہ جائز نہيں، ليكن اگر جس شہر ميں آپ رہتے ہيں وہاں نماز جمعہ نہيں ہوتى تو آپ پر نماز جمعہ كى ادائيگى واجب ہے، اور جمعہ كى بجائے نماز ظہر ادا كرنا جائز نہيں، كيونكہ:
( مسلمانوں پر اپنى بستيوں ميں جمعہ كى نماز ادا كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے جماعت شرط ہے، نماز جمعہ كے صحيح ہونے كے ليے معين تعداد كى حد كى شريعت ميں كوئى دليل نہيں ملتى، لہذا تين افراد يا اس سے زائد پر نماز جمعہ ادا كرنے كے ليے كافى ہيں، اور علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق جس پر نماز جمعہ واجب ہو اس كے اس كى جگہ نماز ظہر ادا كرنا جائز نہيں كہ چاليس اشخاص كى تعداد پورى نہيں ہے ).
(ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 178 ) فتوى نمبر ( 1794 )

______________&________

📚كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:
تقريبا تيرہ سے پندرہ ملازمين پٹرول صاف كرنے كے كارخانے ميں ملازم ہيں، اور وہ كام كى بنا پر وہاں سے نماز جمعہ كے ليے كہيں اور نہيں جا سكتے اس ليے وہ وہيں نماز جمعہ ادا كرتے ہيں، كيا ان كا يہ عمل صحيح ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:
” اگر تو معاملہ ايسے ہى ہے جيسے بيان ہوا ہے، تو آپ لوگ وہيں نماز جمعہ ادا كر سكتے ہيں، كيونكہ فرمان بارى تعالى ہے:
حسب استطاعت اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو. اھـ
(ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 194 )

________&______________

*جمعہ کی نماز گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ پڑھنے کے بارے مصر کے دار الافتاء کے چند فتوے*

*وباء كورونا وصلاة الجمعة في البيت*

وإن منعت صلاة الجماعة والجمعة في المسجد، فيمكن للإنسان المسلم أن يصلي الجمعة في بيته مع أبنائه، نعم نعلم أن الجمعة لها هدف وهو اجتماع المسلمين لسماع خطبة الخطيب

📒جواب از عصام تليمة من علماء جامعہ الازھر الشریف مصر

بعد إعلان وباء كورونا وباء عالميا، وتأثر العالم كله بتداعياته، وآثاره الخطيرة، ما بين مرض وموت، صدرت فتاوى معتبرة من علماء كبار وهيئات علمائية كبرى، ترخص للناس ترك الجمعة والجماعات في المساجد، مخافة أن تنتقل إليهم عدوى كورونا، وقد بادر بإصدار قرار بإغلاق المساجد، وعدم القيام بشعائر صلاة الجماعة والجمعة.
وقد عزَّ على الكثيرين هذا الإجراء، وأن تعطل الشعائر في المساجد، ولكن لأجل الضرر على الناس أن تتحمل القرار، وهناك مساحة لتعويض الصلاة في المساجد، فمن حيث عدم خلو المساجد من العبادة، فيمكن للمؤذن أن يؤذن ويصلي في ميكرفون المسجد بحيث يظل في أسماع الناس الأذان والصلاة.
وإن منعت صلاة الجماعة والجمعة من المسجد، فيمكن للإنسان المسلم أن يصلي الجمعة في بيته مع أبنائه، نعم نعلم أن الجمعة لها هدف وهو اجتماع المسلمين لسماع خطبة الخطيب، ولكن هذا الهدف الآن لا يمكن أن يتحقق كاملا، لظرف طارئ وليس دائما، ويمكن للأب في بيته مع أبنائه وأهل بيته، أن يخطب فيهم خطبة قصيرة، ويصلي بهم الجمعة جماعة، وبذلك يكون تعويضا عن الحرمان من صلاة الجمعة في المسجد، ويؤدي بعض الغرض، وإن كان ترك الجمعة في هذا الوقت بهذه الظروف هو رخصة يحق للمسلم أن يستفيد بها ويصلي ظهرا، ولكن لمن يرتبط بالحنين للخطبة والمسجد وصلاة الجماعة، يستطيع أن يعوض ذلك بأن يصلي في بيته.

شروط المكان:
قد يرفض ذلك البعض، بأن الفقهاء اشترطوا شروطا للمكان الذي يجوز فيه صلاة الجمعة، كأن يكون جامعا، وأن يكون العدد معينا، حسب شروط وضعها الفقهاء، ولكن الفقهاء ليسوا مجمعين على هذه الشروط، وكثير منها ليس عليها دليل شرعي يسلم من النقاش من الكتاب والسنة، فأقوى الأقوال المستندة إلى الأدلة، أن صلاة الجمعة كصلاة الجماعة، والشروط فيهما واحدة، فإذا اجتمع اثنان فصليا فهي صلاة جماعة، وكذلك يمكن أن تكون صلاة جمعة، وقد دار نقاش في تراثنا الفقهي حول الجمعة والعدد الذي تصح به۔۔۔۔۔۔! انتہی

(http://mubasher.aljazeera.net/opinion/وباء-كورونا-وصلاة-الجمعة-في-البيت)

📚”فتوی کا خلاصہ”

پوری دنیا میں مشہور مصر کے عظیم شہرت یافتہ جامعہ الازھر الشریف کے علماء کا اس فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ کرونا وائرس وغیرہ کیوجہ سے جمعہ کی نماز گھر میں پڑھنا جائز ہے کہ گھر میں اولاد وغیرہ ساتھ ملکر کچھ لوگ اگر جمع ہو جائیں اور جمعہ کا خطبہ دیں اور جمعہ کی نماز با جماعت ادا کریں تو یہ جائز ہے، جمعہ کی نماز کیلے کچھ علماء جو جگہ شہر آبادی اور لوگوں کی تعداد وغیرہ کی شرط لگاتے ہیں مگر ایسی کوئی دلیل شریعت میں موجود نہیں، اور صحیح بات یہی ہے کہ جمعہ کی نماز با جماعت بھی دوسری نمازوں کی طرح ہے، اور اس میں صرف ایک شرط ہے کہ جب دو یا اس سے زیادہ لوگ جمع ہوں تو وہ جمعہ کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔۔۔
(مزید شیخ نے وہ دلائل دیے ہیں جو ہم اوپر ذکر کر چکے)

_______________&____________

📚هل يجوز أن أصلى الجمعة مع أهلى فى المنزل ؟..
سؤال أجاب عنه الشيخ عبدالله العجمي، أمين الفتوى بدار الإفتاء المصرية، وذلك خلال لقائه بالبث المباشر لصفحة دار الإفتاء عبر موقع التواصل الإجتماعي فيسبوك.

وأجاب “العجمي”، قائلًا: نعم، يجوز صلاة الجمعة من المنزل مع أهلك، ولكن إذا كنت ممن يجيدوا ويعلموا شروط الجمعة فى ذلك فإن لم يتيسر لك هذا فالصلاة فى بيتك تكون ظهر، لأن المشروع أن الجمعة تكون فى المساجد، والجماعة شرط لصحة الجمعة، والأولى بك أن تجعلها ظهرًا فى بيتك وصليها مع أولادك .
وتابع: أن هناك خلاف بين العلماء فى العدد الذى تنعقد به الجمعة منهم من قال العدد 40 ومنهم من قال 12 فحتى تخرج من هذا الخلاف صلى ظهرًا .

#اليوم_السابع | صلاة الجمعة فى البيت ولا المسجد.. الإفتاء: يجوز الصلاة بالمنازل فى الكوارث
(http://www.youm7.com/4668659)

*اس فتویٰ کا مختصر خلاصہ*

مصر کے دار الافتاء کے ایک اور مشہور مفتی الشیخ عبداللہ العجمی سے جب گھر میں اپنے اھل عیال کے ساتھ جمعہ پڑھنے کے بارے پوچھا گیا تو وہ فرماتے ہیں:
کہ گھر میں اہل وعیال کے ساتھ جمعہ پڑھنا جائز ہے، جب جمعہ کی شرائط یعنی خطبہ وغیرہ کا اہتمام ہو،
اگر خطبہ وغیرہ کا اہتمام نا ہو تو جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھی جائے گی،اور جمعہ اصل میں مساجد میں مشروع ہے اور اسکے لیے اجتماع( لوگوں کے اکٹھ) کی شرط ہے، اور اولی یہ ہے کہ گھر میں اولاد کے ساتھ ظہر پڑھ لی جائے،
اس طرح کچھ علماء جو جمعہ کیلے آدمیوں کے 40 اور 12 ہونے کی شرط لگاتے ہیں تو ظہر پڑھ کے انکے اختلاف سے بھی نکلا جا سکتا ہے،

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

_______________&_____________

*سلسلہ خلاصہ*

*اوپر ذکر کردہ آئیت کریمہ ، تمام احادیث ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال، ائمہ احادیث کی وضاحت اور علمائے کرام کے فتاویٰ جات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جمعہ کی نماز تمام مسلمانوں پر فرض ہے سوائے بچے، عورت، مریض، مسافر اور غلام کے،*
*اور جب کسی جگہ دو،تین یا اس سے زیادہ لوگ جمع ہوں تو وہاں جمعہ کی نماز پڑھی جا سکتی ہے،جمعہ کی نماز کیلے مسجد یا شہر اور آبادی کی کوئی شرط نہیں، کیونکہ اللہ نے ہمارے لیے قبرستان اور حمام کے علاوہ پوری زمین کو مسجد بنا دیا ہے،اور حسب ضرورت خود صاحب شریعت نے گھروں، ڈیروں، میدانوں، جنگلوں، صحراؤں وغیرہ میں نماز با جماعت پڑھی اور ہمیں پڑھنے کی اجازت دی ہے، جب نماز با جماعت گھر میں پڑھ سکتے ہیں تو جمعہ بھی گھر میں پڑھ سکتے ہیں، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جہاں مسجد میں اذان ہو اور با جماعت نماز اور جمعہ کا اہتمام ہو اور کوئی شرعی عذر مانع نا ہو تو سب کیلئے مسجد جانا ضروری ہے، گھر میں جمعہ نہیں ہو گا، لیکن جہاں مسجد نا ہو یا مسجد میں جمعہ و باجماعت نماز کا اہتمام نا ہو یا کسی شدید عذر جیسے کرونا جیسی وبا وغیرہ کے پھیلنے کی وجہ سے جب پورے گھر یا پورے محلے سے کوئی بھی مسجد نہیں جا سکتا تو گھر ،محلے، دکان، فیکٹری، چھت، میدان وغیرہ کسی بھی جگہ جمعہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے،جہاں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ نا ہو،اور کوئی جمعہ وغیرہ پڑھانے والا بھی موجود ہو،لیکن اگر کسی جگہ جمعہ پڑھانے والا کوئی نہیں تو گھر میں اہل عیال کے ساتھ مل کر ظہر کی نماز با جماعت پڑھی جائے گی،*

*اللہ پاک صحیح معنوں میں ہمیں دین اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📚جمعہ کی نماز میں فرض اور نفل رکعات کی تعداد کیا ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-165)))

ا📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://web.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں