304

سوال: بیعت سے کیا مراد ہے؟ کیا بیعت کرنا یا بیعت ہونا جائز ہے؟ اور پیر و مرشد عوام سے جو بیعت لیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے کہ جس کا کوئی پیر و مرشد نہ ہو، اس کا پیر و مرشد شیطان ہوتا ہے؟ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-320″
سوال: بیعت سے کیا مراد ہے؟ کیا بیعت کرنا یا بیعت ہونا جائز ہے؟ اور پیر و مرشد عوام سے جو بیعت لیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے کہ جس کا کوئی پیر و مرشد نہ ہو، اس کا پیر و مرشد شیطان ہوتا ہے؟ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں!

Published Date: 04-03-2020

جواب:
الحمدللہ:

*چونکہ یہ ایک اہم اور اختلافی مسئلہ ہے،لہذا اسکے بارے وضاحت کیلئے ہمیں مکمل تفصیل جاننا ہو گی،یہاں ہم بیعت کے بارے ذکر کردہ قرآنی آیات اور احادیث نقل کر کے یہ دیکھیں گے کہ شرعی طور پر بیعت کرنا/ہونا کب کیسے اور کس کیلئے جائز ہے، پھر ہمارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو گا کہ ہمارے ہاں جو بیعت کا رواج ہے وہ شرعی طور پر جائز ہے یا ناجائز*

*لفظی معنی*

بیعت کا لفظ بیع سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے: سودا کرنا، چاہے یہ سودا مال کا ہو یا کسی اور ذمہ داری کا،

📚 اللہ عز وجل ارشاد فرماتے ہیں :
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَ‌ىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَ‌ٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْ‌ءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُ‌وا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم
بِهِۦ ۚ وَذَ‌ٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
(سورہ توبہ آئیت نمبر-111)
ترجمہ:
”بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے انکی جانوں کو اور انکے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور کون ہے اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا؟ تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے، خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔”

*اصطلاحی معنی*
اور اصطلاحاً بیعت اس معاہدے کو کہتے ہیں جو امیر کی اطاعت کے لئے کیا جاتا ہے۔ بیع و شراء میں چونکہ خریدنے والا، بیچنے والے کے ہاتھ میں پیسہ تھماتا ہے اور بیچنے والا مشتری کے ہاتھ میں اس کی خرید کردہ چیز دیتا ہے، اُسی طرح بیعت کرنے والا اپنے امیر کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کا اقرار کرتا ہے۔

قرآنِ مجید میں تین مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اہل ایمان کی بیعت کا ذکر ہے:

*عمومی بیعت*

📚جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّـهَ يَدُ ٱللَّـهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ
بِمَا عَـٰهَدَ عَلَيْهُ ٱللَّـهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرً‌ا عَظِيمًا
(سورة الفتح آئیت نمبر-10)
”جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں، وہ یقینا اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ تو جو شخص عہد شکنی کرے، وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا۔”

*بیعت ِرضوان*

جو چھ ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقع پر لی گئی تھی:
ارشاد ہوتا ہے
📚لَّقَدْ رَ‌ضِىَ ٱللَّـهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَ‌ةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَـٰبَهُمْ فَتْحًا قَرِ‌يبًا..!
(سورة الفتح آئیت نمبر-18)
”یقینا اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کررہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا، اسے اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔”

📚فتح مکہ اور اس کے بعد عورتوں سے خاص طور پر بیعت لی۔ فرمایا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُؤْمِنَـٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰٓ أَن لَّا يُشْرِ‌كْنَ بِٱللَّـهِ شَيْـًٔا وَلَا يَسْرِ‌قْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَـٰدَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَـٰنٍ يَفْتَرِ‌ينَهُۥ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْ‌جُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِى مَعْرُ‌وفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَٱسْتَغْفِرْ‌ لَهُنَّ ٱللَّـهَ ۖ إِنَّ ٱللَّـهَ غَفُورٌ‌ۭ رَّ‌حِيمٌ
(سورة الممتحنہ آئیت نمبر-12)
”اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی اورکوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری حکم عدولی نہ کریں گی تو آپ اُن سے بیعت کر لیا کریں اور اُن کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے والا ہے۔”

*انفرادی بیعت*

📚عمرو بن العاصؓ اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں :
”جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کرسکوں۔ تو آپؐ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا، لیکن میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپؐ نے کہا: عمرو! کیا ہوا۔؟ میں نے کہا: میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے کہا: کون سی شرط۔؟ میں نے کہا کہ اللہ میری مغفرت فرمائیں !
تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام لانے سے پچھلے (تمام گناہ) ختم ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی ہجرت کرنے اور حج کرنے سے جو کچھ پہلے کیا تھا، سب معاف ہوجاتا ہے؟”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْإِيمَانُ | بَابٌ : كَوْنُ الْإِسْلَامِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ حدیث نمبر-121)

*بیعت سے متعلق چند دیگر احادیث بھی ملاحظہ ہوں*

*حاکم وقت کی اطاعت کا عہد*

📚عبادة بن صامتؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں پر بیعت کی:آپ کی سمع و اطاعت کریں گے چاہے تنگی کا عالم ہو یا فراخی کا، چاہے پسندیدہ بات ہو یا ناپسندیدہ، چاہے ہمارے اوپر کسی کو ترجیح ہی کیوں نہ دی گئی ہو، اس شرط کے ساتھ کہ ہم صاحب ِامر کے ساتھ جھگڑا نہیں کریں گے، اور یہ کہ ہم جہاں کہیں ہوں حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔”
(صحیح بخاری: حدیث نمبر-7199)
(صحیح مسلم: حدیث نمبر-1709)
( سنن نسائی: حدیث نمبر-4160)

📒ابن کثیر نے البدایة والنھایة میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیعت وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے آنے والوں سے مقامِ عقبہ (منیٰ) میں لی تھی:
”اور یہ کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم یثرب آئیں تو ہم ان کی مدد کریں گے اور جس طرح ہم اپنی جانوں، اپنی اَرواح اور اپنی اولاد کا دفاع کرتے ہیں، ویسا ہی اُن کا بھی دفاع کریں گے اور ہمارے لئے جنت ہوگی۔”
( البدایة والنہایة:3؍189)

*بیعت بھی صرف اس خلیفہ کی ہی کرنی چاہئیے جس پر مسلمانوں کا اجماع ہو*

📒جیسا کہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
( دیکھئیے : المسند من مسائل الامام رحمہ اللہ
[قلمي 1، بحواله الامامة العظميٰ عند اهل سنة و الجماعة ص 217]
[و مسائل الامام احمد لابن ہانیء
[158/2رقم : 2011]
[السنہ للخلال [ص 80، 81 رقم : 10 وهو صحيح عن احمد رحمه الله ]

📚 شیخ علی حسن الحلبی فرماتے ہیں :
لا تكون البيعة إلا لأمير المؤمنين فقط
”امیر المومنین کے علاوہ کسی دوسرے کی بیعت جائز نہیں ہے۔“
[البيعه ص 23]

📚 علی حسن الحلبی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :
لا تعطي البيعة على أنواعها إلا لخليفة المسلمين المنفذ للأحكام، المطبق للحدود
”بیعت اپنی تمام اقسام کے ساتھ صرف اسی کی کرنی چاہئے جو مسلمانوں کا خلیفہ ہو، جس نے احکام کو نافذ اور (اسلامی) حدود کو نافذ (لاگو) کر رکھا ہو۔“
[البيعه ص 28]

*یاد رہے یہ اطاعت مشروط ہے*

📚حضرت ابن عمرؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے لیے سمع و اطاعت کرنا لازم ہے، چاہے پسندیدہ امر ہو یا ناپسندیدہ امر میں، الا یہ کہ اسے کسی گناہ کا حکم دیا جائے۔ ایسی صورت میں سمع و اطاعت نہیں۔”
(صحیح مسلم: حدیث نمبر-1839 )
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-2626)

*ایک امام کی بیعت کے بعد دوسرے امام کی بیعت جائز نہیں :*

📚عبداللہ بن عمرو بن العاص آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ایک طویل خطبہ نقل کرتے ہیں، جس میں یہ الفاظ شامل ہیں :
”جس کسی نے کسی امام کی بیعت کی یا اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا اور اپنا دل اس کے حوالہ کردیا تو جب تک استطاعت ہے، اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص (امامت میں) اسکے ساتھ نزاع کرے تو دوسرے شخص کی گردن مار دو۔”
( صحیح مسلم: حدیث نمبر-1844 )

*جماعت سے خروج ناجائز ہے*

📚حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص حلقہ اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، اور جو شخص کسی اندھے جھنڈے کے نیچے قتال کرتا ہے، یا کسی عصبیت کی بنا پر غصہ میں آجاتا ہے یا عصبیت کی طرف دعوت دیتا ہے یا عصبیت کی مدد کرتا ہے اور اس دوران قتل ہوجاتا ہے تو اس کی موت بھی جاہلیت کی موت ہوگی اور جو شخص میری اُمت پر خروج کرتا ہے، نیکو کار یا گناہگار، سب کومارتا ہے اور کسی مؤمن کے ساتھ برائی کرنے سے باز نہیں آتا اور جس سے عہدکیا ہے اُس عہد کو پورا نہیں کرتا تو وہ مجھ سے نہیں اور میں اُس سے نہیں۔”
( صحیح مسلم: حدیث نمبر-1848 )

*آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بیعت کے سلسلہ میں صحابہ کرامؓ کا بھی یہی طرزِ عمل تھا*

📚 نافع روایت کرتے ہیں کہ
”عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے اور یہ وہ وقت تھا جب یزید بن معاویہؓ کے زمانہ میں حرہ کا واقعہ پیش آیا۔ ابن مطیع نے کہا:
”ابوعبدالرحمن کے لئے تکیہ بچھا دو۔”
عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: میں بیٹھنے کے لئے نہیں آیا، تمہیں صرف ایک حدیث سنانے آیا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور وہ یہ کہ،
”جس نے اپنا ہاتھ، حلقہ اطاعت سے ہٹا لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس عالم میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل (عذر خواہی) نہ ہوگی، اور جو شخص اس عالم میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔”
( صحیح مسلم: حدیث نمبر-1851 )

*مذکورہ بالا آیات و احادیث سے یہ باتیں معلوم ہوئیں*

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کسی دوسرے خلیفہ یا امام کی بیعت سے مختلف ہے، اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت گویا اللہ سے بیعت ہے۔
آپؐ نے عقبہ میں جب انصارِ مدینہ سے بیعت لی تھی تو گو اس وقت آپؐ کے پاس اقتدار نہ تھا، لیکن بحیثیت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ؐ نے یہ بیعت لی تھی، اور یہ بھی ایک خاص مقصد کے لئے تھی کہ جب آپ مدینہ پہنچ جائیں گے تو انصار آ پؐ کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔
مدینہ پہنچ کر آپؐ بلاشرکت ِغیرے اقتدار کے مالک تھے۔ آپؐ نے صحابہ کرام ؓسے مختلف مواقع پرسمع و اطاعت کی بیعت لی، اور بعض مواقع پر خاص خاص باتوں پربیعت لی۔ حدیبیہ کے مقام پرجب یہ افواہ پھیلی کہ مکہ والوں نے آپؐ کے ایلچی حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا ہے تو آپؐ نے اپنے چودہ، پندرہ سو رفقاء سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ وہ راہِ فرار اختیار نہ کریں گے اور دوسری روایت کے مطابق یہ بیعت موت پر تھی۔

صلح حدیبیہ کے بعد جو خواتین ہجرت کرکے مدینہ آئیں یا فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئیں، اُن سے “سورہ الممتحنہ” کی آیت کے مطابق چند مخصوص باتوں پر بیعت لی گئی۔ یہ عورتیں چونکہ نئی نئی مسلمان ہوئیں تھیں، اس لئے اُن چیزوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جو ایامِ جاہلیت میں عام تھیں۔ آپؐ نے تو مسلم مردوں سے بھی انہی باتوں پربیعت لی تھی۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر حال میں واجب ہے اور بعد کے امراء و خلفا کے لئے بھی سمع و اطاعت کی بیعت کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر وہ گناہ کی طرف بلائیں گے تو ان کی اطاعت نہیں ہوگی۔
خلیفہ کی بیعت اتنی اہم ہے کہ اگر کوئی دوسرا دعویدارِ خلافت پیدا ہوجائے تو اُس کی گردن مارنےکا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اس لئے ہے کہ اسلامی مملکت میں بدامنی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب خلیفہ کے پاس مکمل اقتدار ہو، وہ حدود نافذ کرسکتا ہو، جنگ اور صلح کے معاہدے کرسکتا ہو۔
خلیفہ کے ہوتے ہوئے اس کی اطاعت نہ کرنا اور جماعت سے خروج کرنا قابل مؤاخذہ جرم ہیں اور ایسے آدمی کی موت جاہلیت کی موت ہے اور ایسے ہی اُن لوگوں کی بھی جو کسی مذموم عصبیت (برادری، قومیت، زبان، رنگ اور پارٹی) کی بنا پر قتل و قتال پر آمادہ ہوجائیں۔
بنی اُمیہ کے دور کے بعد جب بنی عباس سریر آرائے خلافت ہوئے، لیکن اندلس جیسے دور دراز علاقہ میں بنی اُمیہ کے امراء نے اپنی حکومت قائم کرلی، تو علمائے امت نے فتنہ و فساد کا دروازہ بند کرنے کے لئے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک وقت میں دور دراز کے علاقوں میں دو علیحدہ علیحدہ خلافتیں ہوسکتی ہیں۔ اور پھر اس اُصول کے تحت، بعد کے ادوار میں، خراسان اور ہندوستان کی مملکتیں بھی برداشت کی گئیں۔

صحابہ کرامؓ نے اس شخص کی بیعت نہیں کی جس نے خلیفہ وقت کے خلاف خروج کیا ہو۔

*اس تمام تفصیل سے یہ تو واضح ہوگیا کہ بیعت کا دائرہ “امامت ِکبریٰ” تک محدود ہے، ایسے امام کی بیعت ہی کی جاسکتی ہے جو واقعی اقتدار رکھتا ہو، حدود نافذ کرسکتا ہو، صلح و جنگ کےمعاہدے کرسکتا ہو۔ وہ چاہے جہاد پر بیعت لے یا کسی فعل خیر پر یا کسی برائی سے رُکنے پر۔ بیعت لینا اس کا حق ہے، البتہ اگر وہ کسی غیر اسلامی کام پربیعت لینا چاہے تو اس کی بات ہر گز نہ مانی جائے گی*

______________&____________

*پیر و مرشد کی بیعت*

صوفیائے کرام کے حلقہ میں “بیعت ِاصلاح و ارشاد” کے نام سے ایک نئی روایت ڈالی گئی ہے جس کا خیرالقرون میں وجود نہیں ملتا۔ اگر اس فعل کا مقصود لوگوں کی اصلاح ہے تو وہ مسجد کے منبر سے، خطیب کے خطبات سے، معلم کی تعلیم سے اور بڑے بوڑھوں کی فہمائش سے بھی حاصل ہوسکتی ہے اور ان سب سے بڑھ کر نیک لوگوں کی صحبت اس کام کیلئے ایک نسخہ کیمیا ہے،

مروجہ بیعت میں مريد کي طرف سے اوامر پر کاربند رہنے، نواہي سے بچنے اور بلا چوں چراں اپنے شيخ ومرشد کے ہرحکم کے سامنے سر تسليم خم کرنے ،اس کي اتباع ميں جان ومال صرف کرنے کي يقين دہاني کو اصطلاح ميں بيعت کہتے ہيں،،

📒ديوبندي صوفيوں کے ہاں بيعت کا مطلب يوں ہے ، مولوي زکريا صاحب تبليغي ،لکھتے ہيں
(۔۔۔۔۔اس کي خدمت گزاري کر، اور اس کے سامنے مردہ بن کر رہ ،وہ تجھ ميں جس طرح چاہے تصرف کرے ،اور تيري کوئي بھي خواہش نہ رہے،(فضائل تبليغ )

جبکہ عام مسلمان کي صوفيا اور شيوخ کے ہاتھ پر مروجہ بيعت کا کوئي ثبوت نہيں ،ديکھئے صحابہ کرام رضوان اللہ عليہم ،نے وعظ ونصحيت اور دعوت و ارشاد کا وسيع اور بے مثال کام کيا ليکن بحيثيت شيخ کسي سے بيعت نہيں لي ،،

اور پھر شریعت اپنے ماننے والوں کو کوئی ایسا حکم نہیں دیتی جو غیر ضروری اور بے فائدہ ہو، وہ شیخ یامرشد جسے کوئی اختیار حاصل نہ ہو، اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے آخر کون سا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟ بالفرض اگر ایک لمحہ کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ لوگوں کی اصلاح کے لئے یہ طریقہ کارگر ہو سکتا ہے، تب بھی مندرجہ ذیل قباحتوں کی بنا پر اسے قبول نہیں کیا جاسکتا :

📚وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَ‌ٰ‌طِى مُسْتَقِيمًا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّ‌قَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(سورة الانعام آئیت نمبر-153)
”اور یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔”

📚اور فرمایا:
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّ‌قُوا۟ وَٱخْتَلَفُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(سورة آل عمران آئیت نمبر-105)
”تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا۔ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔”

*اُمت ِمسلمہ میں ایک طرف مذہبی فرقہ بندی شروع ہوگئی تھی تو دوسری طرف طریقت کے نام پر بےشمار سلسلے وجود میں آگئے اور پھر ہر سلسلہ ایک مستقل فرقہ اور جماعت بنتی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ناجی جماعت کی نشانی یہ بتائی تھی:
(ما أنا علیہ وأصحابي ) ”جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ” لیکن اس کے بالکل برعکس ہر صاحب ِسلسلہ اور ہر وہ جماعت جو بیعت کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے، اپنے طرزِ عمل سے یہ کہہ رہی ہوتی ہے: ”ما أنا علیہ و سلسلتي أو حزبي” ”یعنی جس پر میں ہوں اور میرا طریقہ یا میری جماعت۔’چنانچہ اس سلسلہ یا جماعت کو چھوڑنے کا مطلب ہے کہ گویا وہ شخص اسلام سے خارج ہوگیا ہے،*

مثال کے پور پر

📒یہاں مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمة اللہ علیہ کا ذکر کردہ ایک واقعہ پیش کرتا ہوں،
جو ان کے جریدہ “اہل حدیث” امرتسر کے شمارہ 17؍ مارچ 1924ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں :
”یہاں پر ایک واقعہ بلاکم و کاست ناظرین کے سامنے رکھتا ہوں۔
حافظ عزیز الدین صاحب مرادآبادی (جو میرے گمان میں مردِ صالح ہیں) مولوی اشرف علی تھانوی کے مرید تھے۔ بعد بیعت آپ مسئلہ تقلید کی تحقیق کر کے مقلد سے غیر مقلد ہوگئے مگر مولانا مرحوم کے حق میں اُنہوں نے کسی قسم کی بدگمانی نہیں کی۔ اس پر بھی مولانا کا ایک پوسٹ کارڈ (جو میں نے بچشم خود دیکھاہے) موصوف کو پہنچا جس کا مضمون یہ تھا کہ “غیر مقلد ہوجانے کی وجہ سے میں تم کو اپنےحلقہ بیعت سے خارج کرتا ہوں۔ اب میرا تمہارا پیری مریدی کا تعلق نہیں رہا۔” (اوکما قال) ایسا کیوں ہوا۔؟ اس کا جواب ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔”
( فتاویٰ ثنائیہ:1؍356)

📒شیخ سے بیعت کرنا عذابِ قبر سے چھٹکارا دلاتا ہے، پہلے یہ واقعہ پڑھئے اور پھر تبصرہ ملاحظہ کیجئے :
”شیخ الاسلام خواجہ فرید الدین احمد نے فرمایا کہ اُن کے داداپیر شیخ معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری قدس سرہ العزیز کی یہ رسم تھی کہ جو کوئی ہمسایہ میں سے اس دنیا سے نقل (انتقال) کرتا، اس کے جنازہ کے ساتھ جاتے اور خلق کے لوٹ جانے کے بعد اس کی قبر پر بیٹھتے اور جو درود، کہ ایسے وقت میں پڑھتے آئے ہیں، پڑھتے۔ پھر وہاں سے آتے۔ چنانچہ اجمیر میں آپ کے ہمسایوں میں سے ایک نے انتقال کیا۔ دستور کے مطابق آپ جنازہ کے ساتھ گئے، جب اُسے دفن کرچکے، خلق لوٹ آئی اور خواجہ وہیں ٹھہر گئے اور تھوڑی دیر کے بعد آپ اُٹھے۔ شیخ الاسلام قطب الدین فرماتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ تھا۔ میں نے دیکھا کہ دم بدم آپ کا رنگ متغیر ہوا، پھر اسی وقت برقرار ہوگیا۔ جب آپ وہاں سے کھڑے ہوئے تو فرمایا: الحمدﷲ! بیعت بڑی اچھی چیز ہے۔”
شیخ الاسلام قطب الدین اوشی نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جب لوگ اس کو دفن کرکے چلے گئے تھے تو میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ عذاب کے فرشتے آئے اور چاہا کہ اس کو عذاب کریں، اسی وقت شیخ عثمان ہارونی (آپ کے پیر، م634ھ) قدس سرہ العزیز حاضر ہوئے اور کہا کہ یہ شخص میرے مریدوں میں سے ہے۔ جب خواجہ عثمان نے یہ کہا تو فرشتوں کو فرمان ہوا کہ کہو: ”یہ تمہارے برخلاف تھا۔” خواجہ نے فرمایا: بے شک اگرچہ برخلاف تھا مگر چونکہ اس نے اپنے آپ کو اس فقیر کے پلے باندھا تھا، تو میں نہیں چاہتا کہ اس پر عذاب کیا جائے، فرمان ہوا: اے فرشتو! شیخ کے مرید سے ہاتھ اُٹھاؤ، میں نے اس کو بخش دیا۔ پھر شیخ الاسلام کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور فرمانے لگے کہ اپنے آپ کو کسی کے پلے باندھنا بہت ہی اچھی چیز ہے۔”
( بحوالہ شریعت و طریقت از مولانا عبدالرحمن کیلانی: ص305)

*سبحان اللہ نہ شریعت پرعمل کرنے کی ضرورت نہ کتاب و سنت کا کوئی لحاظ، شیخ کی بیعت جنت کا پروانہ ہوگیا۔ اور پھر جس طرح سے یہاں کتاب و سنت کی دھجیاں اُڑائی گئی ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمالیں، اللہ عالم الغیب ہے، لیکن یہاں شیخ عذابِ قبر کا سارا انتظام دیکھ رہے ہیں۔ اللہ کے رسول فرشتہ جبرئیل ؑ سے ہم کلام ہوتے تھے، یہاں شیخ عذاب کے فرشتوں سے مجادلہ کررہے ہیں*

حدیث کے مطابق انبیا شہداء اور صلحاء کو قیامت کے دن شفاعت کا موقع دیا جائے گا، یہاں عین عذابِ قبر سے پہلے شفاعت کی جارہی ہے، جو فوراً ہی اجابت کے مراحل طے کرگئی۔

جس صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو قبروں پر سے گزرنے، دونوں کوعذابِ قبر ہونے، آپ ؐ کے ان دونوں قبروں پر ٹہنی لگانے کا واقعہ نقل ہوا ہے اور پھر ٹہنیوں کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف کا ذکر ہے، اُسے ذرا ذہن میں تازہ کیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں الہامِ خداوندی سے دو اشخاص کے عذابِ قبر کے بارے میں بتایا گیا، وہ یقینا مسلمان تھے، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت میں داخل تھے، لیکن اُنہیں تو یہ بیعت کام نہ آئی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی اور بطورِ علامت دو ٹہنیاں بھی لگائیں کہ جن کے خشک ہونے تک دونوں کے عذاب میں تخفیف کی گئی تھی،

کیا یہ ایک قباحت ہی کافی نہیں کہ جس سے مزعومہ بیعت کی قلعی کھل جاتی ہے۔؟

*طریقت اور بیعت چونکہ لازم و ملزوم ہیں، چنانچہ اس تعلق سے بھی نئے نئے شگوفے کھلتے رہتے ہیں*

📒مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”بیعت کے سلسلہ میں صوفیاء نے ایک اور شاندار کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اُنہوں نے جب دیکھا کہ اویس قرنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا، نہ بیعت کی، تو اُن کی ارواح کی آپس میں بیعت کرا دی اور اسے نسبت ِاُویسیہ کا نام دیا اور راستہ کی اس رکاوٹ کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ فلاں شیخ کی فلاں شیخ سے ملاقات ہی ثابت نہیں یا پیر کی وفات کےبہت عرصہ بعد مرید کی پیدائش ہو تو وہ یہی نسبت ِاُویسیہ قائم کرکے اپنا سلسلہ جاری فرما کر کام چلا لیتے ہیں۔’
(شریعت و طریقت:ص433)

انہی غلط رسموں کو جائز کرنے کے لئے قرآن و سنت کی نصوص کی ایسی تاویلاتِ فاسدہ کی جاتی ہیں کہ انسان اپنا سرپکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔

📒ابن الجوزی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
محمد بن طاہر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :”پھٹے ہوئے کپڑے (مرقعہ) پہننے کے بارے میں شیخ کا مرید پر شرط رکھنا، اور بطورِ دلیل عبادة بن صامت کی حدیث پیش کی کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور فراخی ہر حال میں سمع و اطاعت کریں گے۔”
دیکھئے کیا خوب نکتہ نکالا ہے، کہاں شیخ کا مرید پر مذکورہ شرط رکھنا اور اُسے جوڑنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت ِاسلام سے جو کہ نہ صرف لازم ہے بلکہ خود رسول کی اطاعت بھی واجب ہے۔”
( تلبیس ابلیس: ص192)

*اگر اُمت ِمسلمہ ایک بڑے جہاز کی مانند ہے تو یہ مختلف فرقے اور طریقے چھوٹی چھوٹی کشتیوں کی مانند ہیں۔ شدید طوفان کی صورت میں جہاز تو بچ جاتا ہے، لیکن چھوٹی کشتیاں غرقِ آب ہو جاتی ہیں۔ تعجب ہے کہ کتاب وسنت کے جہاز کو چھوڑ کر لوگ ان بجروں (چھوٹی کشتیوں) پر کیوں سوار ہوتے ہیں۔؟ جب کہ سمندر میں تلاطم ہی تلاطم ہے اور کشتی کسی وقت بھی ڈوب سکتی ہے*

_________________&_____________

*قائلین بیعت کے شبہات*

اور آخر میں ان چند شبہات کا جائزہ بھی لے لیا جائے جو قائلین بیعت کی طرف سے پیش کئےجاتے ہیں :

*پہلا شبہ*
”تین آدمی بھی سفر کر رہے ہوں تو ایک کو امیر بنانے کا حکم ہے، چہ جائیکہ پوری جماعت ہو اور اس کا امیرنہ ہو،

*ازالہ*
سفر میں امیر بنانا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے، لیکن وہاں بیعت کا ذکر نہیں ہے، اور یہ امارت سفر کے ختم ہونے کے ساتھ تمام ہوجاتی ہے۔ گویا وقتی طور پر نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لئے ایسے امیر کی اطاعت لازمی قرار دی گئی لیکن اس کا قیاس امامت ِکبریٰ پر نہیں کیا جاسکتا جہاں دوسرے مدعی ٔامارت کو برداشت نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی گردن مار دی جاتی ہے۔من

*دوسرا شبہ*
”بیعت ِاصلاح و ارشاد کو نماز کی امامت کی طرح سمجھا جائے، یعنی امامت ِکبریٰ کے ساتھ امامت صغریٰ کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔”

*ازالہ*
امارتِ سفر کی طرح نماز کی امامت بھی نماز کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔جونہی امام نے ‘السلام علیکم ورحمتہ اﷲ’ کہا، مقتدی اور امام کا تعلق ختم ہوگیا۔ دوسرے یہ کہ خلیفہ وقت کی موجودگی میں کیا صرف ایک ہی نماز باجماعت کا اہتمام کیا جاتا تھا یا ہر علاقے بلکہ ہر محلے کی مسجد میں
نماز نہیں ہوتی تھی۔؟

حضرت معاذؓ بن جبل عشاء کی نماز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے اور پھر عوالی جا کر اہل محلہ کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ لیکن امامِ وقت یا خلیفہ حاضر سے بیعت کرنے کے بعد کیا ہر شہر یا ہر محلہ میں جزوی بیعت ہوا کرتی تھی جو ہر مرشد اپنے لئے روا رکھتا ہو؟ کم از کم خیرالقرون کے زمانہ میں تو ایسی بیعت کا نام و نشان نہ تھا۔ قرونِ ثلاثہ (زمانۂ رسول ؐ اور زمانۂ صحابہؓ ، زمانۂ تابعین رحمة اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمة اللہ علیہ) کے بعد جہاں فرقہ بازی کی بدعت پیدا ہوئی، وہاں تصوف کے سلسلوں کے نام پر مشائخ کے ہاتھ پر بیعت اصلا ح و ارشاد کا دروازہ بھی کھول دیا گیا،

📚فرمانِ نبویؐ ہے:
”جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں طوقِ بیعت نہ تھا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔’
( صحیح مسلم : حدیث نمبر-1851)

یعنی جب امارت،خلافت ہو تو اس وقت بیعت لازمی ہے،واضح رہے یہ حکم بھی استطاعت کے ساتھ مشروط ہے

ٹھیک اسی طرح شریعت کے تمام احکامات استطاعت سے مشروط ہیں۔ ایک شخص حج کی استطاعت رکھتا ہو لیکن بیت اللہ تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود ہوں، چاہے جنگ و جدال کی بنا پر یا کسی دوسرے سبب کی بنا پر، تو ایسے شخص پر حج کرنا واجب نہ ہوگا جب تک کہ راستے کھل نہ جائیں۔
حالانکہ ایسی ہی وعید حج پر نہ جانے والوں کے لئے بھی ہے،

ایسے ہی زکوٰة نہ ادا کرنے والوں کو سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، لیکن جس شخص کے پاس اتنا مال ہی نہ ہو کہ جس میں زکوٰة واجب ہو تو وہ زکوٰة دینے سے مستثنیٰ ہے۔

وضو میں ہاتھ پیر دھونے لازم ہیں، لیکن اگر کسی کا ہاتھ یا پیر کٹا ہوا ہو تو وہ اُسے کیسے دھوئے گا۔؟

بعینہٖ اگر ایسا خلیفہ موجود ہو جو صاحب ِاقتدار ہو، حدود کو نافذ کرسکتا ہو، صلح و جنگ کے جھنڈے بلند کرسکتا ہو، قرآن و سنت کو نافذ کرسکتا ہو تو جہاں جہاں اس کا اقتدار ہے، وہاں وہاں تمام لوگوں پر اس کی بیعت لازم ہے۔ بیعت نہیں کریں گے تو بموجب ِحدیث ِمذکور جاہلیت کی موت مریں گے۔ لیکن اگر ایسا خلیفہ سرے سے موجود ہی نہ ہو تو پھر بیعت کا محل نہ ہونے کی بنا پر یہ حکم بھی ساقط ہوجائے گا، اور ایسے ہی وہ لوگ جو ایک خلیفہ کے دائرہء اقتدار سے خارج رہتے ہوں، اُن کے لئے بھی ایسے خلیفہ کی بیعت لازم نہ ہوگی۔

کیونکہ صرف مسلمانوں کے خلیفہ اور امام کی بیعت کرناجائز ہے،اہل حل وعقد علماء،فضلاء اور ذمہ داران حکومت اس کی بیعت کریں گے۔ جس سے اس کی ولایت ثابت ہو جائیگی۔ عامۃ الناس کے لئے اس
کی بیعت کرنا ضروری نہیں ہے۔ ان پر صرف اتنا لازم ہے کہ وہ اطاعت الہی میں اس کی
فرمانبرداری کریں،

📒امام مارزی فرماتے ہیں:
’’يَكْفِي فِي بَيْعَةِ الإِمَامِ أَنْ يَقَع مِنْ أَهْل الْحَلِّ وَالْعَقْدِ وَلا يَجِب الاسْتِيعَاب , وَلا يَلْزَم كُلّ أَحَدٍ أَنْ يَحْضُرَ عِنْدَهُ
وَيَضَع يَدَهُ فِي يَدِهِ , بَلْ يَكْفِي اِلْتِزَامُ طَاعَتِهِ وَالانْقِيَادُ لَهُ بِأَنْ لا يُخَالِفَهُ وَلا يَشُقَّ الْعَصَا عَلَيْهِ انتهى‘‘
(نقلاً من فتح الباري )
امام کی بیعت میں اہل حل وعقد کی بیعت ہی کافی ہے۔ بیعت بالاستیعاب واجب نہیں ہے۔ ہر شخص پر ضروری نہیں ہے کہ وہ امام کے پاس حاضر ہو اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے۔ بلکہ اس پر اتنا ہی لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے،اور اس کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے۔

📒امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’أَمَّا الْبَيْعَة : فَقَدْ اِتَّفَقَ الْعُلَمَاء عَلَى أَنَّهُ لا يُشْتَرَط لِصِحَّتِهَا مُبَايَعَة كُلّ النَّاس , وَلا كُلّ أَهْل الْحَلّ وَالْعِقْد , وَإِنَّمَا يُشْتَرَط مُبَايَعَة مَنْ تَيَسَّرَ إِجْمَاعهمْ مِنْ الْعُلَمَاء وَالرُّؤَسَاء وَوُجُوه النَّاس , . . . وَلا يَجِب عَلَى كُلّ وَاحِد أَنْ يَأْتِيَ إِلَى الأَمَام فَيَضَع يَده فِي يَده وَيُبَايِعهُ , وَإِنَّمَا يَلْزَمهُ الانْقِيَادُ لَهُ , وَأَلا يُظْهِر خِلافًا , وَلا يَشُقّ
الْعَصَا انتهى.‘‘
اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بیعت کی صحت کے لئےتمام لوگوں یا تمام اہل حل وعقدکا بیعت کرنا شرط نہیں ہے۔اس میں صرف اتنی شرط ہے کہ جو علماء سردار اور ذمہ داران آسانی سے دستیاب ہو سکتے ہوں وہ بیعت پر اجماع کرلیں تو بیعت واقع ہو جائے گی۔ ہر شخص پر ضروری نہیں ہے کہ وہ امام کے پاس حاضر ہو اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے۔ بلکہ اس پر اتنا ہی لازم ہے
کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے،اور اس کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے۔

*اور بیعت کے حوالے وارد تمام احادیث سے امام کی بیعت مراد ہے۔ دیگر افراد یا جماعتوں کی بیعت مراد نہیں ہے*

📒شیخ صالح الفوزان ایسی بیعتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
” البيعة لا تكون إلا لولي أمر المسلمين ، وهذه البيعات المتعددة مبتدعة ، وهي من إفرازات الاختلاف ، والواجب على المسلمين الذين هم في بلد واحد وفي مملكة واحدة أن تكون بيعتهم واحدة لإمام واحد ، ولا يجوز المبايعات المتعددة
[ المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان 1/367]
صرف مسلمانوں کے خلیفہ اور امام کی بیعت کرناجائز ہے،اور یہ متعدد بیعتیں بدعت ہیں،اور اختلافات کا ذریعہ ہیں۔
مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ایک ملک میں صرف ایک ہی امام کی بیعت کریں(اگر واقعی کوئی امام موجود ہو) اور متعدد بیعتیں کرنا جائز نہیں ہے

۱۹۲۴ء میں خلافت ِعثمانیہ کے ختم کئے جانے کے بعد اوّل تو مسلم ممالک پر استعمار کاغلبہ ہوگیا، خود ہندوستان بھی سو ڈیڑھ سو سال انگریزی استعمار کا ہراول دستہ بنا رہا، جب خلیفہ ہی نہ رہا تو بیعت کس کے ہاتھ پر کی جاتی؟ مسلم ممالک آزاد ہوناشروع ہوئے تو اکثر نے جمہوری یا آمرانہ نظام اپنایا، بیعت کے اُس طریقہ کو خیر باد کہہ دیا گیا جو اہل حل و عقد کی مشاورت سے منعقد ہوتی ہے، لہٰذا نظامِ بیعت بھی معطل ہوتا چلا گیا۔ اب جہاں جہاں کسی درجے میں بھی ایسانظام قائم ہو جو کتاب وسنت کو نافذ کرتا ہو، لیکن بادشاہ کی بیعت کے بعد ہی اس کی حکومت کا آغاز ہوتا ہے۔

*تیسرا شبہ*

بیعت ِاصلاح و ارشاد کو ایک “عہدنامہ” کی طرح اختیار کیا جائے تو کیا حرج ہے۔؟ کیا یہاں بھی یہی کہا جائے گا کہ سلف صالح میں اس کا رواج نہ تھا۔

*ازالہ*

📒ابونعیم اصبہانی اپنی کتاب حلیة الأولیاء (2؍204) میں اپنی اسناد ذکر کرنے کے بعد مطرف بن عبداللہ بن شخیر (تابعی) کی یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم زید بن صوحان کے پاس جایا کرتے تھے جو کہا کرتے تھے:
”اے اللہ کے بندو! اکرام کرو اور (عمل میں) خوبصورتی پیدا کرو!
بندے اللہ تک ان دو وسیلوں سے پہنچ سکتے ہیں : خوف اور طمع”
ایک دن ہم ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ (شاگردوں) نے ایک عبارت اس مضمون کی لکھی ہے:
”اللہ ہمارا ربّ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبیؐ ہیں، قرآن ہمارا امام ہے، جو ہمارے ساتھ ہوگا، ہم اس کے ساتھ ہیں اور اس کے لئے ہیں۔ جو ہمارے مخالف ہوگا، ہمارا ہاتھ اس کے خلاف ہوگا اور ہم ایسا ویسا کریں گے۔”
پھر اُنہوں نے یہ مکتوب لیا اور ہر شخص سے باری باری یہ کہا:
اے فلاں ! کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو؟ یہاں تک کہ میری باری آگئی اور اُنہوں نے کہا: اے لڑکے!
تم بھی اقرار کرتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگے: اس لڑکے کے بارے میں جلد بازی نہ کرو، پھر مجھ سے پوچھا: بچے! تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ نے اپنی کتاب میں مجھ سے ایک عہد لیا ہے اور میں اس عہد کے بعد کسی اور عہد کا پابند نہیں ہوں۔” یہ سننا تھا کہ تمام کے تمام لوگ اس عہد نامے سے رجوع کرگئے، کسی ایک نے بھی اقرار نہ کیا۔ میں نے مطرف سے پوچھا: تمہاری تعداد کیا تھی؟
بولے: ”تیس کے قریب آدمی تھے۔”
( بحوالہ عربی کتابچہ: ”بیعت،سنت و بدعت کے مابین” از شیخ علی حسن)

📒امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے اس مسئلہ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ وہ ایک فتویٰ کےضمن میں کہتے ہیں :
”اگر لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت اور بر و تقویٰ پر تعاون کرنے پر جمع ہوں تو بھی ہر شخص دوسرے شخص کے ساتھ ہر بات میں معاون نہ ہوگا بلکہ صرف اس حد تک جہاں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہوگی، اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہو رہی ہو تو وہ ساتھ نہ دے گا، یہ لوگ سچائی، انصاف، احسان، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، مظلومین کی مدد اور ہر اس کام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔ وہ نہ ظلم کرنے پر، نہ کسی جاہلی عصبیت پر، نہ ہی خواہشات کی پیروی پرتعاون کریں گے، نہ ہی فرقہ بازی اور اختلاف پر، اور نہ ہی اپنی کمر کے گرد پیٹی باندھ کر کسی شخص کی ہر بات ماننے پر تعاون کریں گے اور نہ ہی کسی ایسے حلف نامے میں شریک ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہو۔”
”ان میں سے کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ اپنے یا کسی دوسرے کے استاد کی خاطر اپنی کمر کے گرد پیٹی باندھے اور جیسے سوال میں پوچھا گیا ہے، کسی ایک معین شخص کے لئے پیٹی باندھنا یا اس کی طرف نسبت کرنا، جاہلیت کی بدعات میں سے ہے اور ان حلف ناموں کی مانند ہے جو اہل جاہلیت کیا کرتے تھے یا قیس و یمن کی فرقہ بازیوں کی طرح ہے۔ اگر اس کے باندھنے سے مراد بر و تقویٰ پر تعاون ہے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی ایسے بندھن کے اس کا حکم دیا ہے اور اگر اس سے مراد گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون ہے تو وہ ویسے ہی حرام ہے، یعنی اگر اس طرح خیر کا کام کرنا مقصود ہے تو اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اس کام کی پوری رہنمائی ملتی ہے، استاد کے ساتھ (اس نسبت) کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر برائی مقصود ہے تو اللہ اور اس کے رسول اُسے حرام قرار دے چکے ہیں ۔۔۔
کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ کسی دوسرے شخص سے اپنی ہر بات منوانے پر عہد لے یا اس بات پر کہ جس کا میں دوست ہوں ، اس سے دوستی رکھو اور جس کا میں دشمن ہوں، اُس سے دشمنی رکھو، بلکہ ایسا کرنے والا چنگیز خان اور اس کے حواریوں جیسا ہے جو ہر اس شخص کو اپنا دوست اور حمایتی سمجھتے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہو اور ہر اس شخص کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں جو ان کی مخالفت کرتا ہو، بلکہ اُنہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا عہد یاد رکھنا چاہئے کہ اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہے۔
اسے وہی کام کرنا ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسولؐ نے دیا ہے، ہر اُس چیز کو حرام ٹھہرانا ہے جسے اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ وہ اپنے اساتذہ و مشائخ کے حقوق کاضرور خیال رکھے، لیکن اُتنا جتنا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اگر
کسی کا اُستاد مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے، اگر ظلم کرے تو اس کی ظلم پر اعانت نہ کرے بلکہ اُسے ظلم کرنے سے روکے،
جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم!”
آپؐ سے کہا گیا: مظلوم ہو تو ہم اس کی مدد کرتے ہیں، لیکن ظالم ہو تو اس کی مدد کیسے ہوگی؟
آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”تم اُسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔’
( فتاویٰ ابن تیمیہ:8؍16تا18)

*پھر آپ دیکھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی خلیفہ وقت کے علاوہ کتنے عظیم صحابہ کرام مختلف علاقوں میں موجود تھے، مگر کسی نے بھی خلیفہ وقت کے علاوہ کسی دوسرے صحابی سے نیکی کرنے یا گناہ چھوڑنے پر بھی بیعت نہیں کی، کسی تابعی نے کسی صحابی کی ایسی بیعت نہیں کی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سمیت کسی امام نے نا بیعت لی اور نا کسی کی بیعت کی،اگر یہ عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت شدہ ہوتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ضرور یہ عمل جاری رکھتے اور سب کے لاکھوں مرید ہوتے، لیکن کیونکہ یہ سنت کی بجائے بدعتی عمل ہے لہذاٰ سلف صالحین سے بھی ہمیں اس مروجہ بیعت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا*

*باقی یہ کہنا کہ ”جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر و مرشد شیطان ہے،ایسی کوئی ضعیف حدیث بھی نہیں اور یہ بات سرا سر جہالت پر مبنی ہے،اور یہ بات اُس شخص کے لئے تودرست ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا طوق اپنی گردن سے اُتار پھینکا ہو، لیکن وہ شخص جو صرف اپنی نسبت اللہ کے رسولؐ اور اُن کی حدیث کی طرف کرتا ہو، اُسے شیطان کی طرف منسوب کرنا، اپنے ایمان کو ضائع کرنا ہے، ”ما أنا علیہ وأصحابي” کا تقاضا یہی ہے کہ ہر اُس عمل سے اجتناب کیا جائے جس پر مہر نبوت ثبت نہ ہو اور جسے صحابہ کرامؓ نے نہ کیا ہو۔*

*اللہ تعالیٰ تمام کلمہ گو حضرات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں،*

( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

📚مسلمان حاکم کی اطاعت کرنا کس قدر واجب ہے؟ اگر حکمران ظالم ،جابر عیاش ہوں تو کیا پھر بھی انکی اطاعت لازم ہے؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-254))

📚بدعت کی تعریف اور اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-275)

📚تقلید کی تعریف اور اسکی شرعی حیثیت؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-286)

🌹اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں