622

سوال-لونڈی/غلام سے کیا مراد ہے؟ اور کیا لونڈی سے بغیر نکاح کے ہمبستری جائز ہے؟ اور کیا گھریلو ملازمہ بھی لونڈی میں شامل ہے؟ قرآن و حدیث سے مسئلہ کو واضح کریں..!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-308”
سوال-لونڈی/غلام سے کیا مراد ہے؟
اور کیا لونڈی سے بغیر نکاح کے ہمبستری جائز ہے؟ اور کیا گھریلو ملازمہ بھی لونڈی میں شامل ہے؟ قرآن و حدیث سے مسئلہ کو واضح کریں..!

Published Date: 30-11-2019

جواب:
الحمدللہ:

لفظی معنی:
کنیز/لونڈی/غلام،
لفظی معنوں میں خدمت کرنے والے کو کہتے ہیں،

اصطلاحی معنی:
شرعی اصطلاح میں کفار کے ساتھ دوران جنگ پکڑے جانے والے قیدی جو مسلمانوں کو مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوتے ہیں اور امیر کی اجازت سے باقی مال کی طرح لوگوں میں بانٹ دیے جاتے ہیں، اور پھر لوگ ان غلاموں کو آزاد کریں، بیچیں، ان سے کام لیں یا انکا مالک ان قیدی عورتوں سے شرعی تقاضے پورے کر کے نکاح کرے یا بھلے بغیر نکاح کے مباشرت کرے۔۔۔۔!
سب جائز ہوتا ہے ،
انہیں غلام لونڈی یا کنیز کہا جاتا ہے،

*موجودہ وقت میں مسلم حکمرانوں کا جہاد کو ترک کرنے کیوجہ سے اب غلام، لونڈی یا کنیز کی اصطلاح اگرچہ ناپید ہو چکی ہے،لیکن اسلام دشمن لنڈے کے لبڑل آج بھی بڑے زور و شور سے اس مسئلہ کو اٹھاتے ہیں اور مسلمانوں پر تنقید کرتے ہیں کہ یہ کیسا دین ہے جو لونڈیوں کے ساتھ بغیر نکاح کے ہمبستری کی اجازت دیتا ہے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ادھر کچھ منکر حدیث قسم کے لوگ بڑی ڈھٹائی سے لونڈی سے ہمبستری وغیرہ کو ظلم کو اور غیر شرعی کہہ ڈالتے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ نام نہاد مسلمان لونڈی کے اصل معنی و مفہوم میں تحریف کرتے ہوئے گھریلو ملازمہ یا بازارو عورتوں کو بھی لونڈی شمار کرتے ہیں اور ان سے بغیر نکاح کے ہمبستری وغیرہ کو جائز سمجھتے ہیں*

*آج کے سلسلہ میں ہم ان شاءاللہ تعالیٰ لونڈی کی اصل معنی و مفہوم کی وضاحت کرلے ساتھ یہ دیکھیں گے کہ شرعی طور پر لونڈی کے ساتھ مباشرت جائز ہے یا نہیں*

*بغیر نکاح کے لونڈی ساتھ ہمبستری کے جواز سے متعلق قرآنی دلائل*

سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ لونڈیوں ساتھ ہمبستری کی اجازت خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے جیسے دین اسلام میں نکاح کا قانون رکھا گیا ہے ایسے ہی اللہ نے لونڈیوں کا قانون بھی رکھا ہے، اس لیے یہ اعتراض ہی ختم ہو جاتا ہے، بغیر نکاح کے مرد عورت کے تعلقات کو ہم گناہ سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ نے اس تعلق کو حرام ٹھہرایا ہے، لیکن اسی اللہ نے مالک اور لونڈی کے درمیان بغیر نکاح کے مباشرت کو جائز قرار دیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اس کو غلط کہنے والے؟ اور پھر حق ملکیت کی بنا پر تمتع کی اجازت قرآن مجید کی متعدد آیات میں صریح طور پر وارد ہوئ ہے، بہت سے لوگ اس معاملہ میں بڑی بے باکی کے ساتھ یہ سمجھتے ہوئے اعتراضات کر ڈالتے ہیں کہ یہ شاید محض “مولویوں” کا گھڑا ہوا مسئلہ ہو گا۔ اور بعض منکرین حدیث اس کو اپنے نزدیک “حدیث کے خرافات” میں سے سمجھ کر زبان درازی کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا ایسے سب لوگوں کو آگاہ رہنا چاہیے کہ ان کا معاملہ “مولویوں” کی فقہ اور محدثین کی روایات سے نہیں بلکہ خود خدا کی کتاب سے ہے،

اس کے لیے حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

📚وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ،
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار ، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو،
(سورہ نساء آئیت نمبر-3)

📚وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔
اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آ جائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،
(سورہ نساء آئیت نمبر-24)

📚وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ۔ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ،
اور جو (دائماً) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں، بیشک (احکامِ شریعت کے مطابق ان کے پاس جانے اور ہمبستری کرنے سے) ان پر کوئی ملامت نہیں
(سورہ المؤمنون، آئیت نمبر-5٫6)

📚يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا،
اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور ان عورتوں کو جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،
(سورہ الاحزاب آئیت نمبر-50)

آگے چل کر پھر فرمایا:

📚لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا،
اس کے بعد (کہ انہوں نے دنیوی منفعتوں پر آپ کی رضا و خدمت کو ترجیح دے دی ہے) آپ کے لئے بھی اور عورتیں (نکاح میں لینا) حلال نہیں (تاکہ یہی اَزواج اپنے شرف میں ممتاز رہیں) اور یہ بھی جائز نہیں کہ (بعض کی طلاق کی صورت میں اس عدد کو ہمارا حکم سمجھ کر برقرار رکھنے کے لئے) آپ ان کے بدلے دیگر اَزواج (عقد میں) لے لیں اگرچہ آپ کو ان کا حُسنِ (سیرت و اخلاق اور اشاعتِ دین کا سلیقہ) کتنا ہی عمدہ لگے مگر جو کنیز (ہمارے حکم سے) آپ کی مِلک میں ہو (جائز ہے)، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے
(سورہ الاحزاب آئیت نمبر-52)

*لونڈی سے جماع کے متعلق احادیث سے دلائل*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان عورتوں سے جماع کرنے میں حرج محسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی: «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں ( سورۃ النساء: 24 ) تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہو جائے،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-2155)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1456)

📚حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ”اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے“، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے۔
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر_2158)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1131)

📚ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تمہارے بارے میں جو مجھے خبر ملی ہے کیا وہ صحیح ہے؟“ ماعز رضی الله عنہ نے کہا: میرے بارے میں آپ کو کیا خبر ملی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے فلاں قبیلے کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے چار مرتبہ اقرار کیا، تو آپ نے حکم دیا، تو انہیں رجم کر دیا گیا۔
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1427)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1693)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-4425)

*ان آیات اور احادیث سے یہ بات صریح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ قرآن و حدیث کی رو سے لونڈیوں سے تمتع جائز ہے،اسکے لیے نکاح کی ضرورت نہیں،لیکن یہ ہمبستری اس کے لیے جائز ہے جو اس لونڈی کا مالک ہے اور پھر اگر وہ عورت حاملہ ہے تو وہ اسکے بچے کے پیدا ہونے سے پہلے ہمبستری نہیں کر سکتا اور اگر وہ حاملہ نہیں تو بھی اسکا مالک ایک حیض تک اس عورت کا انتظار کرے گا تا کہ کنفرم ہو جائے کہ وہ حاملہ نہیں ہے، اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی لونڈی ساتھ ہمبستری نہیں کر سکتا اگر کوئی کسی دوسرے کی لونڈی ساتھ ہمبستری کرے گا تو اسکو زنا شمار کیا جائے گا اور شرعی قانون کے مطابق اسکو رجم کیا جائے گا*

________&___________

*لیکن یاد رہے آج کے دور میں گھریلو ملازمہ لونڈی میں شامل نہیں، اور نا ہی اس سے بغیر نکاح ہمبستری جائز ہے،اور نا ہی کسی عورت کو پیسے دے کر یا یا اسکے والدین وغیرہ سے خرید کر اس کو لونڈی کے حکم میں شامل کیا جا سکتا ہے،کیونکہ لونڈی کی صرف اور صرف ایک ہی صورت ہے وہ ہے جنگ کے دوران کفار کی عورتیں جو قید میں آئیں اور پھر امیر کے حکم سے وہ قیدی عورت جسکے حوالے کی جائے گی وہی اس لونڈی کا مالک ہو گا*

*سعودی فتاویٰ کمیٹی سے اسی طرح کا ایک تفصیلی سوال پوچھا گیا جسکو ہم یہاں نقل کر رہے ہیں،*

📒سوال
کچھ برس قبل مجھے اپنے کام کاج اور آرام کے لیے چند ایک ملازموں کی ضرورت پڑی اور میرے پاس اتنی استطاعت تھی کہ میں ملازمین کی ہرضرورت پوری کرسکوں اور شروط کے مطابق انہیں آرم و راحت پہنچا سکوں ۔
ان ملازمین میں میں ایک کم عمر لڑکی بھی تھی جس نے معاھدے کی شروط پر اتفاق کیا ، یہ ملازمہ میرے ضرورت تک میرے پاس رہے گی اورجب ضرورت ختم ہو تو واپس چلی جاۓ گی ۔
یہ لڑکی کم عمر تھی اور اپنے والدین کے ساتھ رہتی اور غیر شادی شدہ تھی تو اس نے یہ قبول کیا میں اس کا سردار ہوں اورمجھے اجازت دے دی کہ میں اسے دیکھ اور چھو سکتا ہے ، ہم نے بہت وقت اکٹھے ہی گزارا پھرمیں نے اسےاس معاھدہ سے آزاد کردیا اوراس سے شادی کرلی ۔
– یہ ممکن ہے کہ دوران جنگ غلام بنا لیے جائیں ، لیکن یہ کب ہوسکتا ہے ؟
– ہم غلام کس طرح بنا سکتے ہیں اوراس کی شروط شرعیہ کیا ہیں ؟
– کیا مالک اور لونڈی کے درمیان جسمانی تعلقات قائم ہوسکتے ہیں اوراس کی حد کیا ہے ۔
– کیا مالک اورلونڈی کے درمیان کوئی عمرکی حدود ہیں ؟
– کیا یہ چوری چھپے کرنا ممکن ہے یا کہ اس کا اعلان کرنا ضروری ہے ؟
– مالک اورلونڈی کے درمیان عمرکی کم از کم حد کیا ہے ؟
– کیا لونڈیاں صرف جنگ کے وقت ہی پائي جاتی ہیں ؟
– اورکیا لونڈی کا مالک بننے کے لیے کوئی اورطریقہ بھی ہے ؟

متعلقہ جوابات:

کچھ سوال توتکرار کے ساتھ اورایک دوسرے میں داخل ہیں اس لیے ان شاءاللہ ہم سب سوالوں کا جواب مندرجہ ذیل نقاط میں دیں گے :

📒پہلا :

آپ نے ملازمہ کے ساتھ ایک حرام کام کیا ہے جوکہ آپ کے لیے جائز نہ تھا ، ملازمہ لونڈی نہیں کہ وہ آپ کے چھونے اورمعاشرت کے لیے جائز ہو ، اس لیے کہ ملازمہ آزاد عورت ہے وہ شادی کے بغیر آپ کے لیے جائز نہیں ، اور وہی کام آپ نے بعد میں کیا تو ہے لیکن افسوس کہ آپ نے اس میں تاخیر سے کام لیا ۔

اورملازمہ اورآپ کے درمیان جومعاھدہ تھا وہ گھر میں کام کاج کی ملازمت کا معاھدہ ہے ، یہ ایسا معاھدہ نہیں کہ وہ آپ کی معاشرت کے لیے حلال ہوجاۓ ، اورآپ کا یہ کہنا کہ اس نے یہ موافقت کرلی کہ آپ اس کے مالک ہیں اورآپ اسے دیکھ اورچھوسکتے ہیں اورآپ نے اسے اس معاھدہ سے آزاد کردیا ہے

آپ نے جوکچھ کیا ہے وہ سب کچھ شرعی اعتبار سے صحیح نہیں کیونکہ آزاد عورت لونڈی نہیں بن سکتی الا یہ کہ وہ کافرہ اورایسے ملک سے تعلق رکھتی ہو جومسلمانوں سے جنگ کرے اورمسلمان اس پر قبضہ کرلیں اورجس کے متعلق آپ نے پوچھا ہے وہ سب کچھ فی الحال مفقود ہے ۔

📒دوسرا :

مسلمان اورکفار کی جنگ کے دوران غلام اورلونڈیاں بنانا ممکن ہے ، نہ کہ مسلمانوں میں آپس کے فتنہ کے وقت ۔

رسالت محمدیہ سے قبل جوغلامی کے مصادر پاۓ جاتے تھے انہیں اسلام نے ایک ہی مصدرمیں محصور کرکے رکھ دیا ہے جو کہ لڑائي کی غلامی ہے کہ کفار قیدیوں کے مرد وعورت اوربچوں پر غلامی ہوسکتی ہے اورانہيں غلام بنایا جاسکتا ہے ۔

📚شیخ شنقیطی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
غلام کے مالک بننے کا سبب کفر اور اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ ہے ، لھذا جب اللہ تعالی مسلمان مجاھدین جوکہ اپنا مال و جان اوراللہ تعالی کی دی ہوئ ہرچيز اللہ تعالی کو دین اورکلمہ کوکفار پربلند کرنے کےلیے صرف کرتے ہیں اورانہيں جھاد کی قدرت دیتا ہے ۔ توکفار کوقیدی بنا کران کے غلام بنا تا ہے لیکن اگر امام المسلمین اسلام اورمسلمانوں کی مصلحت کی خاطران قیدیوں پر احسان کرتے ہوۓ یا پھر فدیہ لے کر انہيں رہا کردے ۔ اھـ
( اضواء البیان ( 3 / 387 )

📒تیسرا :

مجاھدین لونڈیوں کے بھی اسی طرح مالک بنتے ہیں جس طرح کہ وہ مال غنیمت کے مالک بنتے ہیں ، مالک لونڈی اور غلام کوبیچ سکتا ہے ، اوران دونوں حالتوں ( میدان جنگ اور خرید کرمالک بننے ) میں مالک کے لیے جائز نہیں کہ وہ استبراء رحم سے قبل ( یعنی حیض آنے سے قبل ) لونڈی کے ساتھ مباشرت کرے ، اوراگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل کا انتظار کرے گا اس سے قبل مباشرت نہیں کرسکتا ۔

📒چوتھا :

میاں بیوی کےجسدی تعلقات کی طرح مالک اورلونڈی کےدرمیان تعلقات قائم کرنا جائز ہيں ، لیکن اگراس نے لونڈی کی شادی کسی اور سے کردی توپھر مالک اس سے تعلقات نہيں رکھ سکتا اس لیے کہ عورت ایک ہی وقت میں دو مردوں کے لیے حلال نہیں ہوسکتی ۔

📒پانچواں :

مرد اوراس کی لونڈی کےدرمیان عمرکے بارہ میں حد فارق نہیں لیکن یہ ہے کہ لونڈی سے معاشرت اس وقت جائز ہے جب وہ اس کی طاقت رکھتی ہو ۔

📒چھٹا :

آدمی اورلونڈی کے تعلقات اعلانیہ ہونا ضروری ہیں نہ کہ سری طورپر ، اس لیے کہ اس اعلان پرکچھ احکام مرتب ہوتے ہیں مثلا : ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کی اولاد بھی پیدا ہو ، اوریہ بھی ہے کہ ان دونوں کے بارہ مشاھدہ کرنے والے لوگوں کا شک رفع ہو ۔

📒ساتواں :
شرعی معنی میں جس کے ساتھ غلام بنانا اوران سے اسمتمتاع وغیرہ کے جواحکام ذکر کیے گۓ ہيں کے ساتھ اس وقت غلاموں کا وجود نادر ہے اس کا سبب بہت عرصہ سے مسلمانوں کافریضہ جھاد کوترک کرنا ہے جس کی وجہ سے مسلمان دشمن کے مقابلہ میں کمزوری اورذلت واھانت کا شکار ہوچکے ہیں ، حتی کہ بہت سارے ممالک میں جن کے معاشرہ کے اکثریت مسلمانوں کی ہے وہاں بھی اقوام متحدہ کی غلامی کی ممانعت اوراسے ختم والی قرارداد 1953م نافذ ہے ۔

تو اس بنا پر آج خریدے اوربیچے جانے والےغلام کےاثبات کی کوشش کرنی ضروری ہے ، اوراسی طرح لونڈی کے غلط ترجمہ سے بھی بچنا چاہیے اس لیے کہ آج کچھ نئے مسلمان یہ سمجھتے ہيں کہ عورت کوصرف مال کی اد‏ائيگي اوراس کے سے نفع لینے پراتفاق کرنے سے ہی غلامی حاصل ہوجاتی ہے ۔

جیسا کہ آج فسق فجور کےبازاروں میں بازاری عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اوررات گزارنے کے لیے عورت اجرت پر حاصل کی جاتی ہے اورزنا کے لیے ٹیلی فون پر ہی عورت طلب کرلی جاتی ہے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اورآپ کواپنے دینی معاملات میں بصیرت عطا فرماۓ اوراپنی ناراضگی سے بچا کررکھے آمین،

(https://islamqa.info/ar/answers/26067/استاجر-امراة-لخدمته-ثم-اتفق-معها-على-ان-تكون-امة-له)
_________&_______________

*ان دلائل سے ثابت ہوا کہ جنگ میں قید ہونے والی کفار کی عورتوں کو لونڈی بنانا اور ان سے مباشرت کرنا جائز ہے،لیکن اب تحقیق طلب امر یہ ہے کہ لونڈی یا غلام بنانے کی یہ اجازت کن حالات میں کب کیسے اور کیوں دی گئی ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اور اس سے استفادہ کی کیا کیا صورتیں شارع نے تجویز کی ہیں؟*

اسکی تفصیل کے لیے دیکھیں آئندہ۔۔!
((( سلسلہ نمبر-309 )))

( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

______&___________

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں