298

سوال: کیا ماہِ صفر کی تاریخی و شرعی لحاظ سے کوئی خاص فضیلت ہے؟ اور کیا یہ مہینہ منحوس ہے؟ کیونکہ میں نے بہت سے لوگوں کو اسے منحوس مہینہ کہتے ہوئے سنا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-296”
سوال: کیا ماہِ صفر کی تاریخی و شرعی لحاظ سے کوئی خاص فضیلت ہے؟ اور کیا یہ مہینہ منحوس ہے؟ کیونکہ میں نے بہت سے لوگوں کو اسے منحوس مہینہ کہتے ہوئے سنا ہے؟

Published Date: 11-10-2019

جواب:
الحمدللہ:

*ماہ محرم کی طرح اس مہینہ “صفر” کو بھی لوگوں نے طرح طرح کی بد عقیدگیوں کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے،اس سلسلہ میں ہم ماہ صفر کے معنی اور اسکی تاریخی و شرعی حیثیت کے ساتھ ساتھ ان بد عقیدگیوں اور من گھڑت موضوع روایات کا بھی قرآن و حدیث کی روشنی اور سلف صالحین کے اقوال سے جائزہ لیں گے جو جہالت کی وجہ سے عوام میں بہت مشہور ہیں*

*اس مضمون میں ہم ان شاءاللہ درج ذیل نکات پر گفتگو کریں گے*

📒دور جاہلیت میں اس ماہ صفر کے متعلق نظریات،

📒دور جاہلیت کے نظریات کی نفی میں شرعی دلائل،

📒اسلام کی طرف نسبت رکھنے والے لوگوں میں اس ماہ کے متعلق پائی جانے والی بدعات اور نظریات بد،

📒ماہِ صفر کے بارے میں من گھڑت روایات کی حقیقت،

_________&_________

*ماہ صفر کی وجہ تسمیہ*

📚ماہِ صفر ہجری سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک ہے، جو کہ محرم الحرام کے بعد آتا ہے، اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: اس ماہ میں اہل مکہ سفر کرتے تھے اور مکہ میں لوگوں کی تعداد “صفر” ہو جاتی، کچھ کا یہ بھی خیال ہے کہ حرمت والے مہینے گزرنے کے بعد اس ماہ لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا اور چورا چکے لوگوں کو لوٹ کر انکی جمع پونجی “صفر” کر دیتے تھے۔
(دیکھیں: لسان العرب، از ابن منظور: (4/462-463)

______&_____

*دور جاہلیت میں اس ماہ کے متعلق نظریات*

عربوں کے ہاں ماہ صفر میں دو بڑی برائیاں تھیں:

اول_ ماہ صفر کو اپنی جگہ سے آگے پیچھے کرنا

دوم_ ماہ صفر کو منحوس سمجھنا

*اول*
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ایک سال میں مہینوں کی تعداد بارہ رکھی ہے، اور ان مہینوں میں سے چار کو حرمت والے قرار دیا، چنانچہ ان چار مہینوں میں قتال لڑائی جھگڑا کرنا حرام ہے، حرمت والے چار مہینے یہ ہیں:
ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم، اور رجب

📚اس کی قرآن مجید میں دلیل فرمانِ باری تعالی ہے:

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ
ترجمہ: بیشک آسمان و زمین کی تخلیق سے ہی اللہ تعالی کے ہاں کتاب میں سال کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، یہی مضبوط دین ہے، چنانچہ ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم مت کرو
(سورہ التوبہ آئیت نمبر-36)

لیکن مشرکین جانتے بوجھتے ہوئے بھی ماہِ صفر کو اپنی مرضی سے آگے پیچھے کرتے رہتے تھے، جیسے کہ انہوں نے محرم کی بجائے ماہ صفر کو حرمت کا مہینہ قرار دیا۔

مزید برآں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا سب سے بڑا گناہ ہے، درج ذیل میں ہم اہل علم کے اس سے متعلقہ اقوال ذکر کرتے ہیں:

📚ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : عرب سمجھتے تھے کہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ محرم کو صفر بنا لیتے اور کہتے کہ جب اونٹ کی پیٹھ سستا لے اور اس پر خوب بال اگ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے ( یعنی حج کے ایام گزر جائیں ) تو عمرہ حلال ہوتا ہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھی کی صبح کو حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ بنا لیں، یہ حکم ( عرب کے پرانے رواج کی بنا پر ) عام صحابہ پر بڑا بھاری گزرا۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! عمرہ کر کے ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر-1564)

📒ابن عربی کہتے ہیں: “نسیء”[ماہ صفر کو اپنی اصلی جگہ سے آگے پیچھے کرنے] کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟
اس کے بارے میں تین اقوال ہیں:

📑پہلا قول:
ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی ہر سال حج کیا کرتا تھا، اور یہ صدا لگاتا : “ابو ثمامہ[جنادہ کی کنیت] پر کوئی انگلی نہ اٹھائے، اور نہ ہی اس کی بات مسترد کرنے کی کوشش کرے! پہلے سال میں ماہِ صفر کو حرمت والا مہینہ شمار نہیں کیا ، اور ہم ایک سال اس ماہ کو حرمت والا شمار کرتے ہیں اور ایک سال شمار نہیں کرتے” اس کے ساتھ قبیلہ ہوازن، غطفان، اور بنی سلیم بھی ہوتے تھے۔

ایک جگہ پر یہ الفاظ بھی ہیں: جنادہ کہتا : ” ہم محرم کو حرمت والا ہی شمار کرینگے، جبکہ صفر کو مؤخر کرینگے” اور پھر آئندہ سال کہتا : “ہم اس سال محرم کی بجائے حرمت والے مہینے کو مؤخر کرتے ہوئے صفر کو حرمت والا شمار کرینگے” اسی من مانی کو حرمت والے مہینوں کے بارے میں “تاخیر” سے تعبیر کیا گیا ہے۔

📑دوسرا قول:
“نسیء” کا ایک مفہوم حرمت والے مہینوں میں زیادتی کا بھی ہے، چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: “کچھ گمراہ لوگوں نے صفر کو بھی حرمت کے مہینوں میں شامل کر کے ان کی تعداد چار سے بڑھا کر پانچ کر دی، یہ لوگ اعلان کرتے ہوئے کہتے: “تمہارے معبودوں نے اس سال محرم کو حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے” یہ اعلان سن کر وہ اس سال محرم کو حرمت والا مہینہ شمار کرتے، پھر آئندہ سال اعلان ہوتا: “تمہارے معبودوں نے صفر کو بھی حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے” تو پھر اس سال صفر کو حرمت والا مہینہ شمار کرتے، اور کہتے کہ اس سال صفر کے دو ماہ ہیں”

ابن وہب اور ابن قاسم نے امام مالک سے بھی یہی بات نقل کی ہے، انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ: اہل جاہلیت اس سال میں دو بار صفر مناتے، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “[ایک سال میں دو بار ]صفر منانے کا کوئی تصور نہیں” اسی طرح کی روایت امام مالک سے اشہب نے بھی بیان کی ہے۔

📑تیسرا قول:
حج کے مہینے میں تبدیلی،
اس بارے میں مجاہد سے إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ بیشک “نسیء”[قمری مہینوں کی من مانی تقدیم و تاخیر] کفر میں اضافے کا باعث ہے۔[التوبہ: 37] کی تفسیر مروی ہے کہ : دور جاہلیت کے لوگ دو سال تک ذو الحجہ میں حج کرتے پھر آئندہ دو سال محرم میں، اس کے بعد اگلے دو سال صفر میں اسی طرح حج پورے سال گھومتا یہاں تک کہ جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو وہ ذو القعدہ میں تھا، اس کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا کیا تو وہ ذو الحجہ میں ہی تھا، یہی وجہ ہے کہ صحیح حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے الفاظ کچھ یوں تھے: (بیشک زمانہ اپنی اسی اصلی حالت پر لوٹ آیا ہے جس پر اللہ تعالی نے اسے پیدا کیا تھا) ابن عباس وغیرہ نے نقل کیا ہے، اسی خطبہ کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! میری بات غور سے سنو! مجھے علم نہیں ہے کہ شاید دوبارہ میری اور تمہاری یہاں ملاقات ہو سکے، لوگو! تمہارے مال و جان قیامت کے دن تک ایک دوسرے کیلئے قابل احترام ہیں، بالکل اسی طرح جیسے آج کا دن، اس ماہ اور اس شہر میں محترم ہے، یہ بات ذہن نشین کر لو! تم اپنے رب سے ملو گے، اور اللہ تعالی تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں مکمل حساب لے گا، میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے، لہذا جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے وہ صاحب امانت تک پہنچائے، ہر قسم کا سود آج سے کالعدم ہے، تمہیں صرف تمہارا اصل مال ہی ملے گا، اس لئے تم کسی پر ظلم کرو، اور نہ ہی تم پر کوئی ظلم کرے، اللہ تعالی نے فیصلہ کر دیا ہے کہ سود بالکل نہیں چلے گا، چنانچہ سب سے پہلے عباس بن عبد المطلب کا سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اسی طرح دور جاہلیت کے قتل کا قصاص بھی کالعدم ہے، چنانچہ دور جاہلیت کے قصاص کالعدم کرنے کیلئے سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کے بیٹے کا قصاص ختم کرتا ہوں، جسے قبیلہ ہذیل نے بنی لیث میں رضاعت کے دوران قتل کر دیا تھا۔

اس کے بعد : لوگو! شیطان تمہاری سرزمین پر اپنی پرستش سے بالکل مایوس ہو چکا ہے، لیکن اسےدیگر گناہوں پر امید ہےجو تمہاری نظر میں چھوٹے ہیں، اس لیے اپنے دین کو بچا کر رکھنا۔
پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ
ترجمہ: بیشک “نسیء” کفر میں مزید اضافے کا باعث ہے، اس کے ذریعے کفر میں ملوّث لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، وہ [کچھ قمری مہینوں کو ] کبھی حرمت والا قرار دیتے ہیں اور کبھی نہیں، تا کہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں کی تعداد بھی پوری ہو جائے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بھی کر لیں۔ [التوبہ : 37]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ ایک بار پھر اپنی اصلی حالت پر واپس آگیا ہے جو زمین و آسمان کی تخلیق کے دن تھی، نیز مہینوں کی تعداد ایک سال میں اللہ تعالی کے ہاں بارہ ہی ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، جن میں تین مسلسل ہیں، اور چوتھا مہینہ جمادی ثانی اور شعبان کے درمیان والا ماہ یعنی رجب ہے)” اس کے بعد ابن عربی نے مکمل حدیث بیان کی ہے۔
( أحكام القرآن ” ( 2 / 503 – 504 )

*ماہ صفر کو منحوس اور اس سے بد شگونی لینا دور جاہلیت میں بہت ہی مشہور تھا، بلکہ آج کل بھی بہت سے اسلام کا دعوی کرنے والے لوگوں میں یہ چیزیں پائی جاتی ہیں*

📚ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیماری خود بخود متعدی نہیں ہوتی، بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے، نہ ہی مردوں پر الّو بولتے ہیں، اور نہ ہی صفر کے مہینے میں کوئی نحوست ہے۔۔۔انتہی!
( صحیح بخاری: حدیث نمبر-5707)

📒شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں:
“حدیث میں مذکور “صفر” کی شرح میں متعدد اقوال ہیں:

پہلا قول:
اس سے مراد ماہِ صفر ہی ہے، اور عرب اس مہینے کو منحوس بھی سمجھتے تھے۔

دوسرا قول:
یہ پیٹ کی ایک بیماری ہے جو کہ اونٹوں کو لاحق ہو کر پورے باڑے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
اس صورت میں یہ متعدی بیماری کی اقسام میں سے ایک قسم شمار ہوگی۔

تیسرا قول:
اس سے مراد صفر کے مہینے کیساتھ ہونے والی تقدیم و تاخیر ہے جسے شرعی اصطلاح میں “نسیء” کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں ماہِ محرم کی حرمت کو صفر تک مؤخر کر دیا جاتا ، اور اس طرح کبھی صفر کو حرمت والا مہینہ شمار کرتے اور کبھی عام مہینہ ہی رہنے دیتے۔

*ان تینوں اقوال میں سے پہلا موقف سب سے راجح ہے، کیونکہ دورِ جاہلیت میں لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے تھے۔حالانکہ تقدیری معاملات میں وقت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، اس لئے ماہِ صفر بھی دیگر اوقات میں سے ایک وقت ہے، اس میں اچھائی برائی سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے*

دوسری جانب کچھ لوگ ماہِ صفر میں کچھ کام مکمل کریں تو بطور تاریخ لکھتے ہوئے کہتے ہیں: مثال کے طور پر: ” 25 صفر المظفر کو یہ کام مکمل ہوا” یہ صفر کیساتھ مظفر کا لاحقہ بھی بدعت کا علاج بدعت سے کرنے کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ ماہ صفر کو کسی بھی اچھے یا برے کام کیساتھ منسلک نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین کے پاس کسی نے الّو کی آواز سنی تو کہنے والے نے کہا: “ان شاء اللہ خیر ہوگی” تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہ: یہاں خیر و شر کی بات ہی نہیں کرنی چاہیے، الّو بھی بقیہ پرندوں کی طرح ہی بولتا ہے، اسے خیر و شر کا کیا علم۔

چنانچہ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار چیزوں کی تردید فرمائی ہے ان تمام کا نچوڑ یہ ہے کہ توکل و اعتماد صرف اللہ تعالی پر ہو، اور اگر کسی کو ان میں سے کوئی بھی چیز در پیش ہو جائے تو کسی صورت میں بھی کام کرنے سے گریز مت کرے بلکہ اللہ تعالی پر اعتماد کرتے ہوئے کام کو نمٹا دے۔

لیکن اگر پھر بھی کوئی مسلمان ان چیزوں کو خاطر میں لے آئے تو اس کی دو میں سے ایک حالت ہوگی:

📑پہلی حالت:
اگر ان چیزوں کو دیکھ کر پیش قدمی کرے یا گریز کرے تو ایسی صورت میں اس نے اپنے کاموں کو ایسے امور سے منسلک کر دیا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

📑دوسری حالت:
ایسی باتوں کی طرف دھیان نہ دے، لیکن پھر بھی اس کے دل میں کھٹکا لگا رہے ، یہ حالت اگرچہ پہلی سے کمتر ہے، لیکن پھر بھی اس بات کو یقینی بنائے کہ ان چیزوں کی طرف مطلق طور پر بالکل بھی توجہ نہ دے، اور اپنا اعتماد و بھروسہ صرف اللہ تعالی پر رکھے۔

اس حدیث میں ان چار چیزوں کے وجود کی نفی نہیں ہے؛ کیونکہ یہ چیزیں موجود ہیں، حسی طور پر نظر آتی ہیں، لیکن یہاں پر نفی ان کے مؤثر ہونے کی ہے ؛ کیونکہ تاثیر پیدا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے، لہذا اس حدیث میں اس بات کی نفی ہے کہ یہ چیزیں خود بخود ایسا کر سکتی ہوں، ہاں مگر جب تک اللہ کی منشا اس میں شامل حال نہ ہو”
(مجموع فتاوى الشیخ ابن عثیمین ” ( 2 / 113 ، 115 )

_________&_________

*ماہ صفر کی نحوست و بدعات اورموجودہ مسلمان *

کتا ب وسنت کی روشنی میں کچھ مہینے ایام اور راتیں ایسی ہیں جن کو دوسرے مہینوں، ایام اور راتوں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت حاصل ہیں،جیسے یوم عرفہ، شب قدراور یوم عاشوراء وغیرہ ،مگرکسی ماہ یا دن یارات کے بارےمیں صحیح احادیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ منحوس ہے اور اس سے بدشگونی لینی جائزہے ۔

لیکن افسوس کہ موجودہ دورکے بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں اوراہل جاہلیت کی روش پر ابھی بھی قائم ہیں ، وہ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ:

1- اس ماہ میں مصائب وآلام کی ہوائیں پوری تیزی کے ساتھ چلنے لگتی ہیںاور غم وتکلیف کے دریا تندی وروانی کے ساتھ بہنے لگتے ہیں –یعنی سال میں دس لاکھ اسّی ہزار بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان میں صرف ایک مہینہ (صفر) میں نولاکھ بیس ہزاربلائیں نازل ہوتی ہیں ۔

2-بعض بد عقیدہ مسلم خواتین اس مہینے کو(طیرۃ طیری) یا (تیرۃ تیری) کے نام سے موسوم کرتی ہیں چنانچہ وہ اس مہینہ کو منحوس خیال کرتی ہوئیں چنے ابال کر اس مہینہ میں صدقہ کرتی ہیں تاکہ اس نحوست سے محفوظ رہیں ۔

3-بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ مہینہ رحمتوں اوربرکتوں سے خالی رہتا ہے اسی لئے اس سے نحوست پکڑتے ہیں ۔

4-بعض لوگ جب صفرکی پچیس تاریخ کو اپنے کسی کام سے فارغ ہوتے ہیں تو اسکی تاریخ لکھتے ہوئے کہتے ہیں : خیر کے مہینہ پچیس تاریخ کو یہ کا م ختم ہوا ،(یہ بدعت کا علاج بدعت کےذریعے ہے ،یہ مہینہ نہ تو خیرکا ہے اور نہ ہی شر کا) ۔

5-بعض لوگوں کے یہاں نئے شادی شدہ جوڑوں کو اس ماہ کے ابتدائی تیرہ دنوں میں ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا ہے، انہیں ایک دوسرے کی صورت تک نہیں دیکھنے دی جاتی ہے،حتی کہ عام شوہر اور بیوی کو بھی تین دن تک ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا ہے ، تاکہ وہ نحوست کا شکار نہ ہوجائیں ۔

6-بعض مسلمان ماہ محرم میں اورصفر میں اس بنا پر شادی اورکوئی خوشی کا کا م نہیں کرتے کہ محرم میں سیدناحسین رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے اورصفر میں سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا- ان دونوں واقعات کی بنا پر دونوں مہینوں کو شادی اورخوشی کیلئے غیر مناسب اورمنحوس سمجھتے ہیں ، حالانکہ کسی کی وفات اور شہادت کا دنوں اور مہینوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، ورنہ ما ہ ربیع الاول اس بنا پر منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں رسول ﷺکی وفات ہوئی – جمادی الاول کو اس لئے منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں خلیفہ اول، یار غاررسول سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا – اور ذی الحجہ اسلئے منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں خلیفہ ثانی سیدناعمر فاروق اور خلیفہ ثالث سیدناعثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت ہوئی اورماہ رمضان اس واسطے منحوس سمجھا جاتا کہ اس میں خلیفہ چہارم سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی – اس طرح تما م انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام اورائمہ اسلام کی وفات اور شہادت کے ایام ومہینوں کو منحوس قراردیں ، تو کوئی مہینہ، بلکہ کوئی دن نحوست سے خالی نہ رہے ، اس لئےسیدناحسین کی شہادت کی وجہ سے محرم کو اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے صفر کو منحوس سمجھنا اور ان میں شادی بیاہ نہ کرنا سراسر باطل اورغلط ہے ۔

کوئی مہینہ اور دن منحوس نہیں ہوتا منحوس آدمی کا اپنا نا جائز عمل اور غلط عقیدہ ہوتا ہے ۔

7- ماہ صفر کی بدعات میں سے ایک بدعت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ اس ماہ کے آخر میں مغرب وعشاء کے درمیان مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں ، اور ایک ایسے کاتب کے پاس حلقہ بناکر بیٹھتے ہیں جو انھیں کاغذ پرانبیاء علیہم السلام کے اوپر سلام والی آیتوں کو لکھ کر دیتا ہے وہ آیات یہ ہیں :

1۔سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِیمٍ (یس58)
2۔سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِی الْعَالَمِینَ (الصافات79)
3۔ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاھِیمَ (الصافات109)
4۔ سَلَامٌ عَلَی مُوسَی وَھَارُونَ (الصافات120)
5۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوھَا خَالِدِینَ (الزمر 73)
6۔سَلَامٌ ھِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر:5)

اسکے بعد یہ اسے پانی کے برتن میں ڈالتے ہیں اورپھراسے اس اعتقاد کے ساتھ پیتے ہیں کہ اس سے انکی تمام مصیبتیں دورہوجاتی ہیں ،اسی طرح وہ اس پانی کو ایک دوسرے کو ہدیہ کے طور پر بھی بھیجتے ہیں،

_________&_______

*بدھ کےدن سےنحوست، اورماہ صفر کے آخری بدھ کی تاریخی حیثیت*

📒بدھ کے دن سےعمومی نحوست :
دمشق میں بعض لوگ بدھ کے روز مریض کی عیادت کو منحوس اور بد فال سمجھتے ہیں ،چنانچہ بدھ کے دن عوام اور خواص اوررشتہ داروں کے لئے عیادت مریض ممکن نہیں – بظاہر ان لوگوں کی دلیل یہ حدیث ہے کہ :
(یوم الاربعاء یوم نحس مستمر ) بدھ کا دن مسلسل نحوست کا دن ہوتاہے اس روایت کے بارے میں امام صاغانی اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے –امام سخاوی فرماتے ہیں کہ بدھ کے دن کی فضیلت میں متعدد احادیث مروی ہیں مگر سب کی سب ضعیف اور ساقط الاعتبار ہیں –
(المقاصد الحسنۃ للسخاوی 1/574)

اسی طرح لوگوں میں رائج خرافات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جس نے بدھ کے روزکسی مریض کی عیادت کی تو جمعرات کو وہ اس مریض کی عیادت کرے گا – انکا مطلب یہ ہے کہ بدھ کے روز اگر مریض کی عیادت کی جائے گی تو وہ مریض اس کے بعد دوسرے دن جمعرات کو مرجائے گا جس کی زیارت جمعرات کو قبرستان میں ہوگی۔ –

📒شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سےپوچھا گیا کہ کیا بدھ جمعرات یا سنیچر کے روزسفر کرنا مکروہ ہے ؟ یا ان ایام میں کپڑوں کی کانٹ چھانٹ اور کپڑوں کی سلائی سوت کی کتائی یا اس قسم کے کاموں کا کرنا مکروہ ہے یا فلان فلان تاریخوں کی راتوں میں جماع کرنا مکروہ ہے ، کیونکہ ایساکرنے سے پیدا ہونے والے بچوں کے لئے خوف وخطرہ لگا رہتا ہے –

اس کے جواب میں انھوں نے فرمایا :

کہ سؤال میں مذکورہ عقائدوخیالات باطل اوربے اصل ہیں اورآدمی جب استخارہ کرکے کوئی مباح عمل کرے جس وقت بھی کرنا آسان ہو قطعی طورپر وہ کام کرسکتا ہے – کسی دن بھی کپڑے کی کاٹ چھانٹ یا سلائی یا سوت کی کتائی مکروہ نہیں ہے رسول ﷺ نے بدفالی سے منع فرمایا ہے :

📚”سیدنا معاویہ بن حکم سلمی سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ؟ ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس آتے ہیں –آپ ﷺنے فرمایا تم لوگ کاہنوں کے پاس مت جاؤ انہوں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ بدفالی لیتےہیں – ﷺنے فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے جس کو تم میں سے بعض لوگ اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں مگراسکی وجہ سے کوئی کام کرنے سے تمہیں باز نہیں رہنا چاہئیے،
(صحیح مسلم حدیث نمبر-537)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-930)

آگے چل کر شیخ الاسلام اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں جب رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ جس کام کا آدمی نے عزم کیا اس کا م کو بدفالی کے سبب کرنے سے بازنہیں آنا چاہئے –تو ،رات اوردن میں سے کسی کو منحوس سمجھنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ بلکہ جمعرات اورسنیچر اوردوشنبہ کو سفر کرنا مستحب ہے اورتما م ایام میں کسی دن سفر کرنے یا کسی کام سے روکا نہیں گیاہے –البتہ جمعہ کے بارے میں اختلاف ہے اگرسفر کے سبب نماز جمعہ فوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو اس دن جمعہ سے پہلے سفر کرنے سے بعض علماء منع کرتے ہیں، اور بعض علماء کرام جائز بتاتے ہیں لیکن کاروبار اورجماع تو کبھی اور کسی دن مکروہ و ممنوع نہیں،
(واللہ أعلم)
(دیکھئیے خانہ ساز شریعت ص/174)

_________&________

*ماہ صفر کے آخری بدھ کی تاریخی حیثیت*

ماہ صفر کے آخری بدھ کے بارے میں عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ اس روز رسول ﷺنے بیماری سے شفا پائی اور آپ ﷺنے غسل صحت فرمایا اسی لئے بعض لوگ ماہ صفر کے آخری بدھ کو کاروبار بند کرکے عید کی طرح خوشیاں مناتے ہیں ،اورسیروتفریح کے لئے شہر سے باہر نکلتے ہیں اور آپ کی صحت یابی کی خوشی میں جلوس نکالتے ہیں – حالانکہ اس کا ثبوت نہ احادیث کی کتابوں سے اور نہ تاریخ وسیر کی کتابوں سے ملتا ہے،

📚بلکہ تاریخ وسیر کی کتابوں سے اس کے خلاف ثبوت ملتا ہے چنانچہ اسد الغابہ( 1/41) میں ہے :
بدأ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرضہ الذی مات منہ یوم الاربعاء لیلتین بقیتا من صفر سنۃ احدی عشرۃ فی بیت میمونۃ ثم انتقل حین اشتد مرضہ الی بیت عائشۃ وقبض یوم الاثنین ضحی فی الوقت الذی دخل فیہ المدینۃ لاثنتی عشرۃ من ربیع الاول

رسول ﷺکی اس بیماری کا آغاز جس میں آپ ﷺاس دنیا سے تشریف لے گئے سن11ھ میں صفرکے مہینے کی جب دوراتیں باقی رہ گئی تھیں بدھ کے روز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں ہوا پھر جب آپ ﷺ کی بیماری شدت اختیارکر گئی تو آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہوگئے اور 12ربیع الاول سوموار کے دن چاشت کے وقت جس وقت آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے آپ کی روح اقدس کو قبض کرلیا گیا –

📚یہی عبارت الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (1/20) میں بھی ہے اور تاریخ خمیس (2/161) میں ہے
ابتدأبہ صداع فی اواخرصفرلیلتین بقیتا منہ یوم الاربعاء فی بیت میمونۃ
یعنی رسول ﷺکی بیماری کی ابتداء بدھ کے روز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں صفرکے آخرمیں ہوئی۔

📚حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری (8/164)ترجمۃ الباب باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم و وفاتہ کی شرح میں لکھا ہے کہ بیماری کا آغازصفر کے آخر میں ہوا

📚اور طبقات ابن سعد (2/377) میں سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 29 صفر سن 11ھ یو م چہار شنبہ کو بیمار ہوئے اور 12ربیع الاول سن 11ھ بروزدوشنبہ آپ ﷺنے وفات پائی – اور

📚(البدایہ والنہایۃ (5/224)میں ہے :

ابتدأرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشکواہ الذی قبضہ اللہ فیہ الی ارادہ اللہ من رحمتہ وکرامتہ فی لیال بقین من صفر وفی أول شہر ربیع الاول
رسول ﷺکی اس بیماری کا آغاز جس میں اللہ نے ان کی روح مبارک کو قبض فرمایا تاکہ ان کو اپنی رحمت وکرامت سے نوازے –صفر کی چند راتیں باقی رہ گئی تھیں یا ربیع الاول کی ابتدا میں ہوا

📚تاریخ الکامل (2/215)میں ہے,
ابتدأ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرضہ اواخرصفر رسول ﷺکی اس بیماری کا آغاز صفر کے اواخر میں ہوا

📚سیرت ابن ہشام (5/224) میں ہے :
ابتدأ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشکواہ الذی قبضہ اللہ فیہ الی ارادہ اللہ من رحمتہ وکرامتہ فی لیال بقین من صفر او فی شہر ربیع الاول
رسول ﷺکی اس بیماری کا آغاز جس میں اللہ تعالی نے ان کی روح مبارک کو قبض فرمایا تاکہ ان کو اپنی رحمت وکرامت سے نوازے صفر کی چند راتیں باقی رہ گئیں یار بیع الاول کی ابتداء ہو چکی تھی اسوقت ہوا

📚تاریخ ابن خلدون (2/61) میں ہےکہ:
بدأہ الوجع لیلتین بقیتا من صفر وتحاوی بہ وجعہ
صفرکی دو راتیں باقی رہ گئیں تھیں آپ ﷺکی بیماری شروع ہوئی پھر آپ ﷺبیمار ہی رہے

📚تاریخ طبری (2/161)
بدأ رسول صلی اللہ علیہ وسلم وجعہ لیلتین بقیتا من صفر
رسول ﷺکی بیماری کا آغاز اس وقت ہوا جب صفر کی دوراتیں باقی رہ گئی تھیں

📚علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ
(سیرت النبی 2/172) لکھتے ہیں کہ زیادہ تر روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺکل تیرہ دن بیمار رہے –

اس بنا پر اگریہ تحقیقی طورپر متعین ہوجائے کہ آپ نے کس تاریخ کو وفات پائی تو تاریخ آغاز مرض بھی متعین کی جاسکتی ہے –سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بروایت صحیح آٹھ روز (دوشنبہ تک) بیمار رہے، وہیں وفات ہوئی، اسلئےایام علالت کی مدت آٹھ روزیقینی ہے عام روایت کے رو سے پانچ دن اور چاہئیں، اوریہ قرائن سے بھی معلوم ہوتا ہے اس لئے مدت علالت 13 دن صحیح ہے علالت کے پانچ دن آپ ﷺنے ازواج مطہرات کے حجروں میں بسر فرمائے – اس حساب سے علالت کا آغاز چہارشنبہ سے ہوتا ہے –

بہرحال محققین کے نزدیک آپ ﷺکی بیماری کا آغاز صفر میں آخری بدھ کو ہوا کچھ لوگوں نے دن اورتاریخ میں تھوڑا اختلاف کیا ہے – مگر یہ بات تقریباً متفق علیہ ہے کہ آ پ ﷺکی مرض الموت کی ابتدا صفر کی آخری تاریخوں میں ہوئی – پھر بتائیے کہ مسلمانوں کو یہ کہاں زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے نبی فداہ ابی وامی کی بیماری کے دن خوشیاں منائیں – زیب وزینت کرکے باغوں پارکوں اور سیر گاہوں میں تفریح کے لئے جائیں ،قسم قسم کے کھانے مٹھائیاں اورمیوے وغیرہ کھائیں اور کھلائیں ، خصوصاً عورتیں عیدین سے بڑہ کر خوشیاں منائیں ، اورخوب بن سنور کر سیر کے لئے نکلیں – ذرا غور کیجئے کیا آپ میں کوئی اپنے ماں باپ، بھائی بہن، رشتہ دار،یا عزیز دوست کے مرض میں مبتلا ہونے کی تاریخ کو خوشی منائے گا ؟ اچھے اچھے اورلذیذ کھانوں کا اہتمام کرے گا؟ گھر میں آپ کا کوئی عزیز جاں کنی کی حالت میں ہوتو آپ سیروتفریح کو جائیں گے ؟ جب آپ اپنے ایک عزیز دوست اوررشتہ دار کی بیماری کے دن ایسا نہیں کرسکتے ، تو محمد عربیﷺ کی علالت کے آغاز کے دن کیسے کرسکتے ہیں جن کے بارے میں

📚 فرمان نبوی ﷺ ہے :
لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ و ولدہ والناس أجمعین
( فتح الباری کتاب/الایمان باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان 1/80)
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جبکہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ سے بیٹے سے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

_________&_________

*مستقل فتوی کمیٹی کا اس ماہ کے بدعات کے سلسلے میں جواب*

سوال :ہمارے ملک میں بعض علماء کا خیال ہے کہ اسلام میں ایک ایسی نفل نماز ہے جو ماہ صفر کے آخری بدھ کو چاشت کے وقت ایک ہی سلام کے ذریعہ چاررکعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے جس میں ہررکعت کے اندر 17بار سورہ فاتحہ و کوثر ،50بارسورہ اخلاص اور ایک ایک بارمعوذتین (قل أعوذبرب الفلق وقل أعوذ برب الناس) پڑہی جاتی ہے اوریہ عمل ہررکعت میں کیا جاتا ہے اور سلام پھیر دیا جاتا ہے ، پھر سلام کے فورابعد (اللہ غالب علی أمرہ ولکن أکثر الناس لا یعلمون) کو 360بار پڑھا جاتا ہے ،اسکے بعد جوہرالکمال کو3بار پڑھا جاتا ہے اور پھر سبحان ربک رب العزۃعما یصفون ،وسلام علی المرسلین ،والحمد للہ رب العالمین کے ذریعہ نماز ختم کردی جاتی ہے ۔ پھر فقراء ومسکین میں روٹی وغیرہ کا صدقہ کیا جاتا ہے ، خاص کرکے اس مذکورہ آیت کا صدقہ ،یہ سب ماہ صفرکے آخری بدھ میںنازل ہونے والی مصیبت وپریشانی کو دورکرنے کے اعتقادسے کیاجاتا ہے ۔

اوران کا کہنا کہ ہرسال 3لاکھ بیس ہزار آفتیں نازل ہوتی ہیں اورسب کے سب ماہ صفرکے آخری بدھ کو ہوتی ہیں تو اس اعتبارسے یہ دن سال کا سب سے مشکل دن ہوتا ہے توجوشخص مذکورہ نماز کو اسکے بیان کردہ کیفیت کے ساتھ پڑہےگا تواللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے اس نمازکے ذریعہ اس دن کو تما م نازل ہونے والی پریشانیوں سے محفوظ رکھے گا اور اس سال اس کے گرد کوئی بھی مصیبت وآفت چکّرنہیں لگائے گی ۔۔۔ الخ؟

📒فتاویٰ کمیٹی کا جواب :
اللہ ورسول اوران کے آل وأصحاب پر درود و سلام کے بعد کمیٹی نے کہا کہ سؤال میں مذکورنفل نماز کے بارے میں کتاب وسنت سے ہم کوئی أصل نہیں جانتے اورنہ ہی سلف صالحین اورخلف میں سے کسی سے یہ فعل ثابت ہے بلکہ یہ ناپسندیدہ بدعت ہے ۔

اور نبی ﷺنے فرمایا ہے :
من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہو ردّ وقال من أحدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو ردّ

جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے اور دوسری روایت میں یوں فرمایا کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے

اورجس نے اس نماز اور اسکے ساتھ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اسکی نسبت نبی ﷺیا کسی صحابی کی طرف کی تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا ،اوراللہ کی طرف سے جھوٹے لوگوں کی سزا کا مستحق ہوگا،
(فتاوی اللجنۃ الدائمۃ2/354)

📒اور شیخ محمد عبد السلام شقیری فرماتے ہیں:
کہ جاہلوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ سلام کی آیتوں جیسے سلام علی نوح فی العالمین …الخ۔ کوصفرکے آخری بدھ کو لکھ کرپانی کے برتن میں ڈا لتےہیں پھراس پانی کو پیتے، اوراس سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے کو ہدیہ بھی دیتے ہیں ’اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس سے شراورمصیبتیں دورہوجاتی ہیں ۔جبکہ یہ فاسد اعتقاد اوربری نحوست ہے اور قبیح بدعت ہے جو شخص بھی کسی کویہ عمل کرتا دیکھےاسکے لئے اس سے روکنا ضروری ہے ۔۔
(السنن والمبتدعات :ص/111-112)

________&__________

*ماہ صفرسے متعلق کچھ ضعیف و موضوع روایات*

📚 اس ماہ سے متعلق یہ حدیث مشہور ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی صفر کے مہینہ کے گزرنے کی خوشخبری دے،میں اسکو جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری سناتا ہوں لیکن حدیث صحیح سند سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس ما ہ یا آخری بدھ کے نحوست کے سلسلے میں جتنی بھی حدیثیں ہیں سب ضعیف اورموضوع ہیں
(دیکھئے :الموضوعات لابن الجوزی 3/73-74 )

📚علامہ ابن القیم رحمہ اللہ ضعیف وموضوع روایت کی معرفت کے اصول وقواعد کے ضمن میں لکھتےہیں :

فصل : ان احادیث کے بارے میں جو آنے والی تاریخ سے متعلق ہیں
اسی میں سے یہ کہ : حدیث میں فلاں فلاں تاریخ کا ذکرہو جیسے انکا قول :جب فلاں فلاں سال ہوگا توایسا ایسا ہوگا اورفلاں مہینہ ہوگا تو یہ حادثہ واقع ہوگا

اور اسی طرح سخت جھوٹے کا قول :جب محرّم میں چاند گرہن لگے گا تو مہنگائی ،قتل وغارتگری اوربادشاہ وحکمران کی مشغولیت بڑہ جائیگی اورجب صفر میں چاند گرہن لگے گا توایسا ایساہوگا ، اس طرح اس کذاب نے سال کے ہرماہ کے سلسلے میں کوئی نہ کوئی حدیث گڑھی ۔ اور اس باب میں جتنی بھی حدیثیں بیا ن کی جاتی ہیں سب کے سب موضوع اور جھوٹی ہیں
( دیکھئے المنارالمنیف ص/64)

مذکورہ بالا کتاب وسنت اور علمائے کرام کے اقوال وفتاوی کی روشنی میں یہ بات واضح اور واشگاف ہوگئ کہ دین اسلام میں کوئی دن اورمہینہ منحوس نہیں، نہ ہی ان ایام اور مہینوں کا تقدیر الہی میں کوئی تاثیر ہے اور نہ ہی انکا کسی کی وفات سے کوئی تعلق ہے،

*لہذا ہم تمام راہ راست سے بھٹکے مسلمانوں سے التماس کرتے ہیں کہ وہ ماہ صفر سے متعلق بدعات، اور نحوست و بدشگونی سے توبہ کریں اور صحیح عقیدہ کو اپنا کر، رب کریم اور رسول اکرم ﷺ کی رضا و خوشنودی کا مستحق بنیں، اللہ سے ہماری یہی دعا ہے کہ ہم سب کو ہر طرح کی بدعت و نحوست سے محفوظ رکھے اورسچا مومن بنائے آمین*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں