495

سوال_سلام کہنے کے مسنون الفاظ کونسے ہیں؟ نیز کیا سلام کے آخر پر کچھ الفاظ کا اضافہ کرنا درست ہے؟جیسے کہ اکثر لوگ آخر پر (ومغفرته، وعافته،ورضوانه) وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-290”
سوال_سلام کہنے کے مسنون الفاظ کونسے ہیں؟ نیز کیا سلام کے آخر پر کچھ الفاظ کا اضافہ کرنا درست ہے؟جیسے کہ اکثر لوگ آخر پر (ومغفرته، وعافته،ورضوانه) وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں؟

Published Date: 30-9-2019

جواب:
الحمدللہ:

*سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہترین تحفہ اور دعا ہے،اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سلام کا جواب اچھے الفاظ میں دیا کرو*

اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں:

📚 القرآن الکریم – سورۃ نمبر 4 النساء ،آیت نمبر 86
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ،
وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞
ترجمہ:
اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو ، یا جواب میں وہی کہہ دو ۔ بیشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔

*اس آیت کر یمہ کا تقاضا یہ ہے کہ سلام کا جواب احسن اور بہتر الفاظ سے دیا جائے احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر کی حدبندی وبرکاتہ کہنے تک ہے اس سے زائد الفاظ مسنون نہیں ہیں*

📚امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آئیت کی تفسیر میں ایک حدیث درج فرماتے ہیں،
ابن جریر میں ہے ’ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا «السلام علیکم یا رسول اللہ» آپ نے فرمایا «وعلیک السلام ورحمتہ اللہ» پھر دوسرا آیا اس نے کہا «السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ» آپ نے جواب دیا «وعلیک السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» پھر ایک صاھب آئے انہوں نے کہا «السلام علیک و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» آپ نے جواب میں فرمایا «وعلیک»( یعنی سلام کے مکمل الفاظ اسی کی طرح دہرا دیے) تو اس نے کہا اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا اور کچھ زیادہ دعائیہ الفاظ کے ساتھ دیا ۔ جو مجھے نہیں دیا آپ نے فرمایا تم نے ہمارے لیے کچھ باقی ہی نہ چھوڑا ،(یعنی مکمل سلام کہا تم نے) اللہ کا فرمان ہے جب تم پر سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا اسی کو لوٹا دو اس لیے ہم نے وہی الفاظ لوٹا دئیے ۔‘
(تفسیر ابن جریر الطبری:10050:ضعیف)
🚫سند ضعیف
(في تفسير الطبري (٨/٥٨٩) وفي إسناده عبد الله بن السري. قال أبو نعيم: “يروى المناكير لا شيء”. لكن تابعه الإمام أحمد في رواية ابن مردويه، فرواه عن هشام به، وهشام بن لاحق مختلف فيه، وروايته عن عاصم الأحول متكلم فيها. قال الإمام أحمد: “رفع عن عاصم أحاديث لم ترفع، أسندها هو إلى سلمان”)
یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے ، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میںنہیں دیکھا «وَاللہُ اَعْلَمُ»

وقال الحافظ ابن كثير – رحمه الله تعالي،
وفي هذا الحديث دلالة علي أنه لا زيادة في السلام علي علي هذه الصفة (( السلام عليكم ورحمة الله وبركاته )) إذ لو شرع أكثر من ذلك لزاده رسول الله صلى الله عليه وسلم . ا هـ
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں ، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے،
( 1/531تفسیر ابن کثیر )

*احادیث میں سلام کے مسنون الفاظ*

📚حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ،
أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، فَقَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں، عائشہ رض فرماتی ہیں،میں نے عرض کیا
«وعليه السلام ورحمة الله وبركاته»
(صحیح البخاری حدیث نمبر-3217)

📚 اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَلْيَقُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
”جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ کہے
«السلام علیکم ورحمة اللہ»
(سنن ترمذی حدیث نمبر-2721) حدیث صحیح

📒اسی طرح امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں باب قائم کیا ہے،
ابي داود/ أبواب السلام
ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب كَيْفَ السَّلاَمُ
باب: سلام کس طرح کیا جائے؟

اور پھر نیچے یہ حدیث ذکر کی ہے،

📚کہ جناب عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ”السلام علیکم“ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ“ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اس کو بیس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ“ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے تیس نیکیاں ملیں“۔
(سنن ابی داود حدیث نمبر :5195 )
(سنن الترمذی/کتاب الاستئذان،ح2689)
حدیث صحیح

_________&_______

*صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی سلام میں اضافی کلمات کو پسند نہیں کرتے تھے اور انکے ہاں بھی سلام کے زیادہ سے زیادہ مسنون الفاظ “وبرکاتہ” تک ہی ہیں*

📚امام مالک رحمہ اللہ ، مؤطا امام مالک میں جید سند کے ساتھ ایک اثر ذکر کرتے ہیں کہ:
كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِكَ أَيْضًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا الْيَمَانِي الَّذِي يَغْشَاكَ. فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَى إِلَى الْبَرَكَةِ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یمن سے ایک آدمی آیا اور سلام کہتے وقت اس نے وبرکاتہ کے بعد کچھ مزید الفاظ کا اضافہ کیا ، اور ابن عباس ان دنوں نابینا ہو چکے تھے تو انہوں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ یمن سے آپکو ملنے آیا ہے پس انہوں نے اسکی پہچان کروائی ،تو ابن عباس رض نے فرمایا کہ بے شک سلام “وبرکاتہ” پر ختم ہو جاتا ہے،
(موطأ مالك | كِتَابٌ : الْجَامِعُ | الْعَمَلُ فِي السَّلَامِ ،حدیث نمبر_2757)
حكم الحديث: إسناده صحيح.

*اور ابن عباس رضی اللہ عنھما کا اسی طرح کا ایک اثر بیھقی کے اندر بھی موجود ہے،*

📚وأخرجه البيهقي في (( الشعب ))( 6/455 ) ، ولفظه :
(( قال محمد بن عمرو بن عطاء : بينا أنا عند ابن عباس وعنده أبنه ، فجاءه سائل فسلم عليه فقال : السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ومغفرته ورضوانه ، وعدد من ذلك . فقال ابن عباس :
ما هذا السلام ؟ وغضب حتى أحمرت وجنتاه .
فقال له ابنه علي :
يا أبتاه : إنه سائل من السؤال .
فقال : (( إن الله حد السلام حداً ، ونهي عما وراء ذلك . ثم قرأ ( رحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ )
ایک سائل ابن عباس رض کے پاس آیا، سلام کیا اور کہا “السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ ورضوانہ” اور کچھ اس طرح کے مزید کلمات کہے،
تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس سے فرمایا، یہ کیسا سلام ہے؟ اور غصے سے انکے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، تو انکو بتایا گیا کہ یہ سائل ہے جو سوال کرنے آیا، تو آپ نے کہا کہ اللہ نے سلام کی حد مقرر کی ہے، اور جو کچھ اسکے علاوہ ہے اس سے منع فرمایا ہے پھر قرآن کی یہ آئیت تلاوت کی رحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ )

📚أخرجه البيهقي في (( الشعب )) عن زهرة بن معبد قال :
قال عمر – رضي الله عنه –
(( انتهي السلام إلى وبركاته ))
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلام کی انتہی “وبرکاته” تک ہے،
(قال الحافظ ابن حجر :
رجاله ثقات ( 11/6 الفتح )

📚أخرجه عبد الرزاق في مصنفه ( 10/390 ) عن معمر ، عن أيوب ، عن نافع أو غيره : أن رجلاً كان يلقى ابن عمر فيسلم عليه فيقول : السلام عليك ، ورحمة الله وبركاته ، ومغفرته ، ومعافاته ، فقال له ابن عمر وعليك مئة مرة ،
لئن عدت إلي هذا لأسوءنك ))
ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنھما سے ملا اور اس نے آپ پر سلام کیا اور کہا السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ، ومغفرتہ و معافتہ،
تو ابن عمر رضی اللہ عنھما نے اس سے فرمایا ،اور تجھ پر سو مرتبہ (سلام) اگر تو نے اب یہ الفاظ دہرائے تو میں تم سے برا پیش آؤں گا یا تمہیں تکلیف پہنچاؤں گا،

📚أخرجه البيهقي في (( الشعب )9 ( 6/456 )
أن رجلاً سلم علي عبد الله بن عمر فقال : سلام عليك ورحمة الله وبركاته ومغفرته
فانتهره ابن عمر وقال :
(( حسبك إذا انتهيت إلي وبركاته ، إلي ما قال الله عز وجل ، وقد ))
ا هـ قلت : يعني بما قال الله تعالي : ( رحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)
(هود: من الآية73)
یعنی ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنھما کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ،
تو ابن عمر رض نے اسے ڈانٹا اور فرمایا،
تجھے یہی کافی تھا کہ تو “وبرکاتہ” تک سلام کہتا، جس طرح اللہ نے قرآن میں سورہ ھود کے اندر اہل بیت پر سلام فرمایا،

📚وفي (( الشعب )) أيضاً ( 6/510 )
عن زهرة بن معبد عن عروة بن الزبير أن رجلاً سلم عليه ، فقال : السلام عليكم ورحمة الله وبركاته .
فقال عروة : (( ما ترك لنا فضلاً ، إن السلام انتهي إلي وبركاته ))
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان پر سلام کیا تو اس نے کہا، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، تو عروہ نے کہا اس نے ہمارے لیے برکت والی کوئی بات نہیں چھوڑی،( یعنی مکمل سلام کہہ دیا)، بے شک سلام “وبرکاته” پر ختم ہو جاتا ہے،
(شعیب الایما ن :16/98)

📚أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَالْغَادِيَاتُ وَالرَّائِحَاتُ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : وَعَلَيْكَ أَلْفًا. ثُمَّ كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے بائیں الفاظ میں سلام کہا، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ والغادیات والرائحات ،
اس کے جواب میں آپ نے فرمایا
(علیک الفا کانہ کرہ ذالک)
تجھ پر ہزار (سلام) ہوں ،گویا کہ آپ نے یہ الفاظ اظہار نا پسندیدگی کے طور پر فرمائے،
(مؤطا امام مالک،کتاب الجامع، حدیث2764)
🚫حكم الحديث: إسناده منقطع بين يحيى وابن عمر.

______&______

📒قال النووي – في باب كيفية السلام – :
يستحب أن يقول المبتدئ بالسلام : “السلام عليكم ورحمة الله وبركاته”۔۔۔۔۔
ويقول المجيب : “وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته”۔۔۔۔۔۔
امام نووی رحمہ اللہ ،سلام کی کیفیت کے باب میں فرماتے ہیں کہ:
مستحب یہ ہے کہ سلام شروع کرنے والا یہ کہے کہ: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اور جواب دینے والا یہ کہے کہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
“رياض الصالحين” (ص 446)

______&______

📒سعودی فتاویٰ کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ
السؤال
أريد أن أسأل عن طريقة السلام ، ورد السلام ، كما ورد عن الرسول الكريم محمد صلى الله عليه وسلم ، وهل ورد هذا الرد : ” وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته ومغفرته ” ؟

سوال:
سلام کہنے اور جواب دینے کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس طرح مروی ہے؟ اور کیا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ کہنا ثابت ہے؟

*تو انکا جواب تھا:*
للمسلم أن يقتصر في إلقاء السلام على قول : (السلام عليكم) وإن زاد : (ورحمة الله) فهو أفضل ، وإن زاد على ذلك : (وبركاته) فهو أفضل وأكثر خيراً،
وأما زيادة “ومغفرته” : فقد جاءت في بعض الأحاديث ، في إلقاء السلام ، وفي رده ، غير أنها لا تصح ، فأكمل صيغة ثبتت في إلقاء السلام : (السلام عليكم ورحمة الله وبركاته) ، وأفضل صيغة في الرد :
(وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته) .
والله أعلم

جواب کا مفہوم یہ ہے کہ،
مسلمان جب مختصر سلام کہے تو السلام علیکم کہے گا، اور اگر وہ زیادہ کرنا چاہے تو السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے گا اور یہ افضل ہے اور اگر اور زیادہ کرنا چاہے تو وہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے گا اور یہ سب سے افضل اور بہت زیادہ خیر والا ہے، اور جو بعض احادیث میں مغفرتہ کا اضافہ آیا ہے وہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں، لہذا سلام کہنے اور جواب دینے میں جو مکمل اور افضل صیغہ ثابت ہے وہ یہی ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

(https://islamqa.info/ar/answers/132956/افضل-صيغ-القاء-السلام-ورده)

_____&______

*اوپر ذکر کردہ تمام احادیث، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال اور محدثین کرام کی وضاحت اور علماء کے فتاویٰ جات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سلام کہنے اور جواب دینے کا افضل اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ سلام کہنے والا زیادہ سے زیادہ کلمات “السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ” کہے گا اور جواب دینے والا بھی زیادہ سے زیادہ کلمات “وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے گا، اس سے زیادہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں اور نا ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وہ الفاظ پسند کیے ہیں*

__________&____________

*نوٹ جن روایات میں سلام کے بعد کچھ الفاظ کا اضافہ ملتا ہے وہ روایات سندا ثابت نہیں ہیں تفصیل ملاحظہ فرمائیں*

حدیث نمبر_1
📒 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ،‏‏‏‏ زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعُونَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ.
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے( پچھلی) حدیث کے مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ“ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-5196)

🚫(تخریج الحدیث:(ضعیف الإسناد) ‏

📒وقد ضَعَّفَ هذا الحديث بزيادة “ومغفرته” : ابن العربي المالكي ، والنووي ، وابن القيم ، وابن حجر ، والألباني ، رحمهم الله
اس حدیث میں مغفرتہ کے اضافے کو
،ابن عربی مالکی، امام نووی ، ابن قیم ،ابن حجر اور البانی رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے،

📒قال ابن القيم رحمه الله :
“ولا يثبت هذا الحديثُ ؛ فإن له ثلاث علل :
إحداها : أنه من رواية أبى مرحوم عبد الرحيم بن ميمون ، ولا يُحتج به .
الثانية : أن فيه أيضاً سهلَ بن معاذ ، وهو أيضا كذلك،
الثالثة : أن سعيد بن أبى مريم أحدَ رواته لم يجزم بالرواية ، بل قال : أظنُّ أنى سمعتُ نافع بن يزيد” انتهى .
(“زاد المعاد في هدي خير العباد”(2/417 ، 418)
ترجمہ:
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اس میں تین علتیں ہیں، پہلی اور دوسری علت یہ ہے کہ اس کی سند میں ابو مرحوم عبد الرحیم بن میمون اور سہل بن معاذ دو راوی ہیں جو کہ دونوں ہی قابل حجت نہیں ہیں،
اور تیسری علت یہ ہے کہ راوی ابن ابی مریم نے نافع سے سماع میں شک کا اظہار کیا،

(مزید دیکھیں”السلسلة الضعيفة”(5433)

_______&________

حدیث نمبر_2
📚 وعن أنس رضي الله عنه قال : كان رجل يمُر بالنبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول : السَّلامُ عَلَيْكَ يا رسول الله ،
فيقولُ له النبيُّ صَلى الله عَليه وسلم : (وَعَلَيْكَ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه وَمَغْفِرَتُه وَرضْوَانُه) فقيل له : يا رسول الله ، تُسَلِّم على هذا سلاماً ما تُسلِّمه على أحدٍ من أصحابك؟ فقال : (ومَا يَمْنَعُني مِنْ ذلِكَ وَهُوَ يَنْصَرِفُ بِأَجْرِ بِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلاً) ، وكَانَ يَرْعَى عَلَى أصْحَابِهِ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا کہ السلام علیکم یا رسول اللہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو جواب دیا کہ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرته ورضوانه ،
پس آپ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے اس شخص پر وہ سلام کہا ہے جو آپ نے اپنے صحابہ پر کبھی نہیں کہا؟
اور مجھے اس سے کون چیز روکتی ہے اور وہ آدمی دس سے زائد بندوں کے اجر ساتھ پھر رہا ہے( یعنی نیکیوں کی تلاش میں یا کوشش میں) اور آپ اپنے صحابہ بارے خیال رکھتے تھے( یعنی جو زیادہ نیکیوں کی تلاش میں رہتا اسے زیادہ دعا دیتے وغیرہ)
(رواه ابن السنِّي في “عمل اليوم والليلة” (235)

تخریج:
🚫 ھذا الحدیث ضعيف جدّاً ،
یہ حدیث بھی سخت ضعیف ہے،

📒(امام النووي (٦٧٦ هـ)، الأذكار ٣٠٩ • إسناده ضعيف • أخرجه ابن ا لسني في «عمل اليوم والليلة» (٢٣٥))

📒(محمد المناوي (٨٠٣ هـ)، تخريج أحاديث المصابيح ٤/١٥٠ • إسناده ضعيف • أخرجه ابن السني في «عمل اليوم والليلة» (٢٣٥) باختلاف يسير.)

📒(ابن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)، الفتوحات الربانية ٥/٢٩٢ • من رواية بقية بن الوليد عن يونس بن أبي كثير عن نوح بن ذكوان عن الحسن عن أنس، وابن أبي كثير وشيخه نسب كل منهما إلى أنه كان يضع الحديث وبقية وإن كان عيب عليه التدليس وصرح بالتحديث في هذا السند فإنه كان يغلب عليه كثرة الرواية عن الضغفاء والمجهولين)

📒(ابن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)،
فتح الباري لابن حجر ١١/٨ • إسناده واهٍ • أخرجه ابن السني في «عمل اليوم والليلة» (٢٣٥) مطولاً)

📒(ابن القيم (٧٥١ هـ)، زاد المعاد ٢/٣٨٢ • ضعيف)

________&_______

📚تیسری حدیث
وعن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال :
(كنَّا إذا سلّم النبي صلى الله عليه وسلم علينا قُلنا :(وعليك السلام ورحمة الله وبركاته ومغفرته)
زید بن أرقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہم پر سلام کہتے تو ہم جواب میں کہتے تھے کہ،
وعلیک السلام ورحمتہ اللہ وبرکاته و مغفرته
(رواه البيهقي في” شُعَب الإيمان 6 /456 )

🚫تخریج:
یہ حدیث بھی ضعیف ہے،

📒(ابن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)،
فتح الباري لابن حجر ١١/٨ • إسناده ضعيف)

📒(ابن عدي (٣٦٥ هـ)، الكامل في الضعفاء ٨/٤٤٠ • [فيه] هارون بن سعد أرجو أنه لا بأس به)

📒واضح رہے اس روایت کو علامہ البانی نے السلسلة الصحيحة ١٤٤٩ • إسناده جيد رجاله ثقات) کہا تھا، اور وہ سلام کے ساتھ مغفرته کے اضافے کے قائل تھے مگر بعد میں انہوں نے اسے صحیح کہنے سے رجوع کر لیا تھا،

📒اس لنک پر شیخ الالبانیؒ کے مشہور شاگرد ثقہ عالم ابو اسحاق الحوینی کا آڈیو بیان سنیں
(https://ar.islamway.net/lesson/28443/أحاديث-مشتهرة-ولكنها-لا-تصح)

📒نیز درج ذیل لنک پر اس معاملہ کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے
تراجع الشیخ البانی
(https://majles.alukah.net/t29383/)

______&______

📚چوتھی حدیث
عن سلمة الهمداني:] أنَّ رسولَ الله صلّى اللهُ عليه وسلَّم كتبَ إلى قيسِ بنِ مالك الأرحبي: باسمك اللهمَّ، مِن محمَّدٍ رَسولِ الله إلى قيسِ بنِ مالك، سلام عليك ورحمةُ الله وبركاته ومَغفِرتُه۔۔۔۔۔۔۔انتہی!
یعنی سلمہ مہدانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیس بن مالک کو خط لکھا تو اس میں سلام کے الفاظ یہ تھے۔۔سلام عليك ورحمةُ الله وبركاته ومَغفِرتُه”

تخریج:
🚫مگر یہ روایت بھی ضعیف ہے،
دیکھیں
الهيثمي (٨٠٧ هـ)، مجمع الزوائد ٣/٨٧)
• فيه عمرو بن يحيى بن سلمة وهو ضعيف‏‏

_______&________

📚پانچویں حدیث
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے ایک روایت میں آتا ہے کہ،
وہ وبرکاتہ کے بعد “طیب صلوۃ “کا اضافہ کرتے تھے ،
🚫مگر یہ روایت بھی ضعیف ہے،
علامہ البانی نے اس اثر کو ضعیف کہا ہے،
[عن سالم مولى عبدالله بن عمرو:] كان ابنُ عَمرو إذا سُلِّمَ عليه فردَّ زاد، فأتيتُه وهو جالسٌ فقلتُ: السلامُ عليك، فقال: السلامُ عليكم ورحمةُ اللهِ، ثم أتيتُه مرةً أخرى فقلتُ: السلامُ عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاتُه، ثم أتيتُه مرةً أخرى فقلتُ: السلامُ عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاتُه، فقال: السلامُ عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاتُه وطَيِّبُ صلواتِه

(الألباني (١٤٢٠ هـ)، ضعيف الأدب المفرد ١٥٩ • ضعيف موقوف)

______&_______

*ہاں البتہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سے ایک حسن درجے کی روایت ملتی ہے،

📚عن أبي الزناد عبدالله بن ذكوان:] بسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرحيمِ، لعَبدِ اللهِ معاويةَ أميرِ المؤمنين، مِن زيدِ بنِ ثابتٍ، سَلامٌ عليك أميرَ المؤمنين ورحمةُ اللهِ؛ فإنِّي أحمدُ إليك اللهَ الَّذي لا إلهَ إلّا هوَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انتہی! والسَّلامُ عليكَ أميرَ المؤمنينَ ورحمةُ اللهِ وبَركاتُه ومغفرتُه
[وطَيّبُ صلواتِه.]
الألباني (١٤٢٠ هـ)، صحيح الأدب المفرد ٨٦١ • إسناده حسن
حضرت زید بن ثا بت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا تو وبرکاتہ کے بعد مغفرتہ و “طیب صلوۃ ” کا اضافہ کیا،
(الادب المفرد :861) سندہ حسن

*اگر یہ روایت ثابت ہے تو بھی اتباع سنت کا تقاضا یہی ہے کہ سلام کرتے وقت “وبرکاتہ” کہنے تک اکتفا کیا جائے،*

📚 کیوں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات
آیت نمبر 1
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىِ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📚پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فر ما ن ہے کہ مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں
(صحیح بخا ری ،2977)

*اس جامعیت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام میں “برکاتہ” تک اضافہ کو برقرار رکھا ہے اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت سے اسی پر ہی عمل ثابت ہے اور ہمیں بھی اس تک ہی محدود رہنا چاہیے اس کے بعد اضافہ کا دروازہ کھولنا کئی ایک خرابیوں کے جنم لینے کا با عث ہے جو کہ اتباع سنت کے منافی ہے، جیسے کہ آج کل لوگوں نے سلام میں “و جنة حلاله و جہنم حرامه” وغیرہ کا اضافہ کر لیا ہے،*

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کی بدعات و خرافات سے محفوظ رکھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنائیں،
آمین یا رب العالمین

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📒مصافحہ کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ مصافحہ ایک سے کرنا چاہیے یا دونوں ہاتھوں سے؟
(( دیکھیں سلسلہ نمبر_146 ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں